Tag Archives: messageoftheday bloganuary dailyprompt blogs viral

ایک بادشاہ نے اپنے بیٹے کی تین بار شادی کی کوشش کی وہ  ہر رشتہ سے پہلی گفتگو کے بعد انکار کر دیتا تھا۔  آخر کار، والد نے بیٹے کو تنگ آ کر محل سے نکال دیا۔ بیٹا شہر سے باہر کام کی تلاش میں نکل گیا اور ایک مالدار شخص کے ہاں بکریاں چرانے کا کام ملا۔ وہ شخص نوجوان سے بہت متاثر ہوا۔ اس مالدار شخص کی ایک ہی بیٹی تھی اور اس نے سوچا کہ اسے نوجوان سے شادی کروا دے تاکہ وہ ان کے ساتھ رہے۔ اس نے اپنی بیٹی کو یہ بات بتائی، تو بیٹی نے کہا کہ وہ اس نوجوان سے شادی نہیں کرے گی جب تک کہ وہ اس کے ساتھ سفر نہ کرے اور اس کی حقیقت کو جان نہ لے۔ مالک نے نوجوان سے کہا کہ کل تم بکریاں چرنے نہ لے جاؤ، ہم کچھ دنوں کے لیے سفر کریں گے…

Read more

*ظہیر الدین بابر* کے بارے میں پڑھا تھا اسے ایک بار جسم پر خارش ہوگئی، خارش اتنی شدید تھی کہ اگر کوئی کپڑا اس کے جسم سے چھو بھی جاتا تھا تو اس کے منہ سے چیخ نکل جاتی تھی، اس کے مخالف *شیبانی خان* کو پتا چلا تو وہ عیادت کے بہانے اس کی تکلیف انجوائے کرنے کے لیے آ گیا، بابر کو اطلاع ہوئی تو اس نے سر سے لے کر پائوں تک شاہی لباس پہنا، سر پر تاج رکھا اور دربار میں آ کر اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ شیبانی خان سارا دن اس کے ساتھ بیٹھا رہا، اس نے کھانا بھی اس کے ساتھ کھایا لیکن بابر نے اپنی تکلیف اپنے چہرے اور آواز تک نہیں آنے دی یہاں تک کہ آخر میں شیبانی خان مایوس ہو کر چلا گیا، مہمان جوں ہی محل سے نکلا، بابر نے فوری طور پر اپنا سارا لباس اتار کر…

Read more

کہتے ہیں ایک جنگل میں ہزاروں مرغیاں آزاد زندگی گزارتی تھیں۔انہی میں ایک مرغی ایسی تھی جس کی گود خالی تھی۔ نہ انڈا، نہ بچہ۔یہ کمی اسے اندر ہی اندر توڑتی رہتی۔ ایک دن مایوسی میں وہ جھنڈ سے دور نکل گئیاور ایک بڑے درخت کے نیچے سو گئی۔اسی درخت پر ایک باز کا گھونسلہ تھا۔اتفاق سے وہاں سے ایک انڈا گرا اور مرغی کے قریب آ کر رک گیا۔ آنکھ کھلی تو انڈا دیکھ کر مرغی خوشی سے بھر گئی۔اسے لگا یہ اسی کا ہے۔وہ انڈا اٹھا کر اپنے جھنڈ میں واپس آ گئی۔ کچھ دن بعد انڈا ٹوٹا اور اس میں سے جو نکلا، وہ مرغی جیسا نہیں تھا۔ مگر محبت نے فرق ماننے سے انکار کر دیا۔ مرغی نے اسے وہی سکھایا، جو وہ جانتی تھی۔زمین پر چلنا، دانہ چگنا، اور سر جھکا کر جینا۔ وہ بچہ ہر شام پوچھتا،“ماں! آسمان میں اڑنے والے کون ہیں؟” مرغی…

Read more

شفیق صاحب نے کنڈیکٹر کو کرایہ دینے کے لیے جیب میں ہاتھ ڈال ہی رہے تھے کہ برابر بیٹھے اجنبی نے اچانک ان کی کلائی مضبوطی سے تھام لی۔ “نہیں محترم! کرایہ میں دے دیتا ہوں۔” شفیق صاحب نے حیرت سے دیکھا، انکار کیا، اصرار کیا، مگر اجنبی کی شرافت حد سے بڑھی ہوئی تھی۔ مسکراتے ہوئے اس نے کرایہ ادا کر دیا۔ بابو صاحب نے دل ہی دل میں سوچا،“ابھی بھی دنیا میں اچھے لوگ باقی ہیں۔” اگلے اسٹاپ پر وہ نیک دل اجنبی اتر گیا۔ بس آگے بڑھی تو شفیق صاحب نے دوبارہ جیب میں ہاتھ ڈالا… اور وہیں سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔جیب ہلکی تھی… حد سے زیادہ ہلکی۔نیکی کے ساتھ ساتھ اجنبی جیب بھی صاف کر گیا تھا۔ اگلے دن بازار میں قسمت نے دوبارہ آمنا سامنا کرا دیا۔ بابو صاحب نے چور کو پہچان لیا۔ پکڑا تو وہ روتا ہوا ان کے گلے لگ گیا۔…

Read more

کبوتر کی آنکھیں اور خود فریبی کا میٹھا زہر: کیوں ہم ‘کھٹے انگور’ کھا کر اپنی ناکامی چھپاتے ہیں؟ کیا آپ نے کبھی کبوتر کو خطرے کی حالت میں دیکھا ہے؟ جب ایک بھوکی بلی کبوتر کی تاک میں ہوتی ہے اور فاصلہ مٹ رہا ہوتا ہے، تو کبوتر اڑتا نہیں، نہ پنجے لڑاتا ہے۔ وہ اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ اس کے ننھے سے دماغ میں ایک عجیب کیمیائی عمل ہوتا ہے جو اسے یہ یقین دلاتا ہے کہ “اگر میں خطرے کو نہیں دیکھ رہا، تو خطرہ بھی موجود نہیں ہے۔”ہم اس معصوم پرندے کی سادہ لوحی پر مسکراتے ہیں۔ لیکن ذرا رکیے اور اپنے گریبان میں جھانکیے۔ کیا ہم انسان جو شعور، ادراک اور ‘اشرف المخلوقات’ ہونے کے دعویدار ہیں—اپنی نفسیاتی زندگی میں بالکل اسی کبوتر کی تقلید نہیں کر رہے؟ جب زندگی کے تلخ حقائق، معاشی بحران، رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ یا اپنی نااہلی کا…

Read more

5/5
NZ's Corner