کہتے ہیں ایک جنگل میں ہزاروں مرغیاں آزاد زندگی گزارتی تھیں۔
انہی میں ایک مرغی ایسی تھی جس کی گود خالی تھی۔ نہ انڈا، نہ بچہ۔
یہ کمی اسے اندر ہی اندر توڑتی رہتی۔
ایک دن مایوسی میں وہ جھنڈ سے دور نکل گئی
اور ایک بڑے درخت کے نیچے سو گئی۔
اسی درخت پر ایک باز کا گھونسلہ تھا۔
اتفاق سے وہاں سے ایک انڈا گرا اور مرغی کے قریب آ کر رک گیا۔
آنکھ کھلی تو انڈا دیکھ کر مرغی خوشی سے بھر گئی۔
اسے لگا یہ اسی کا ہے۔
وہ انڈا اٹھا کر اپنے جھنڈ میں واپس آ گئی۔
کچھ دن بعد انڈا ٹوٹا اور اس میں سے جو نکلا، وہ مرغی جیسا نہیں تھا۔ مگر محبت نے فرق ماننے سے انکار کر دیا۔
مرغی نے اسے وہی سکھایا، جو وہ جانتی تھی۔
زمین پر چلنا، دانہ چگنا، اور سر جھکا کر جینا۔
وہ بچہ ہر شام پوچھتا،
“ماں! آسمان میں اڑنے والے کون ہیں؟”
مرغی کہتی:
“بیٹا! وہ آسمان کے بادشاہ باز ہیں اور تم ایک مرغی ہو۔ اس لیے تم ان کی طرف مت دیکھا کرو، ہم ان کی برابری نہیں کر سکتے۔”
یہ بات اتنی بار دہرائی گئی کہ وہ باز اپنی اصل بھول گیا۔
مرغی کے مرنے کے بعد بھی،وہ خود کو مرغی ہی سمجھتا رہا اور آخرکار، مرغی کی طرح ہی مر گیا۔
#منقول
سبق:
ہمیں بھی زمانہ ساری زندگی یہی سبق دیتا ہے کہ تم یہ نہیں کر سکتے، تم وہ نہیں کر سکتے۔
ساری زندگی ہمیں سر جھکا کر جینا سکھایا جاتا ہے۔ یہی سکھایا جاتا ہے کہ دو وقت کی روٹی کما لو، ایک چھت بنا لو، بچوں کو پال لو۔ بس یہی کافی ہے۔
اگر کامیابی کا گیت بھی سنایا جائے تو فقط یہاں تک ہوتا ہے کہ گاڑی لے لو، بنگلہ بنا لو اور بینک بیلنس اچھا بنا کو، تم کامیاب ہو۔
حالانکہ یہ سب تو ضرورتیں تھیں، جو ہمارے لیے خواب اور حسرت بن گئے۔
ہم مسلمان تو باز تھے، اقبال کے شاہین تھے۔ جن کی پرواز آسمان کی بلندیوں تک تھی لیکن سوچ کو یوں دبایا گیا کہ بس ہم انسان نہ رہے فقط آدمی بن کر رہ گئے۔
ہر انسان کا زندگی میں ایک خاص مقصد ہوتا ہے، جس کے لیے اس کی پیدائش ہوئی، مگر پھر روٹی، چادر اور چار دیواری کے پیچھے ہمیں یوں دھکیلا گیا کہ ہمیں یاد ہی نہ رہا کہ ہم کون تھے؟ کیوں تھے؟
اگر ہم مزاحمت نہیں کریں گے تو ایک دن مرغی بن کر ہی مر جائیں گے۔ ہمارے نشان تک نہ رہیں گے۔
ایک بار خود سے ضرور پوچھیں کہ مجھے اس دنیا میں کیوں بھیجا گیا تھا؟
میرا اس دنیا میں آنے کا مقصد کیا ہے؟
اب یہ مت کہیے گا کہ ہم عبادت کے لیے آئے ہیں۔
عبادت کے لیے تو فرشتے ہی کافی تھے۔ عبادت تو ہماری عاقبت میں نجات کا ذریعہ ہے۔
دنیا میں خدا نے ہمیں ایک خاص مقصد سے بھیجا ہے۔
پوچھیں خود سے… ہر روز… جب جان جائیں… تو اسے ذہن میں یوں بسا لیں کہ ہر وقت بس اسے ہی سوچیں… تھوڑے ہی وقت میں آپ کی زندگی کا مقصد آپ کو اپنی طرف کھینچنا شروع کر دے گا۔
میں جانتا ہوں کہ میں اس دنیا میں کیوں ہوں۔
میں ہوں کیونکہ مجھے بھیجا گیا ہے ایک ایسی نسل کی بنیاد رکھنے کے لیے… جو ایک عظیم لشکر کی بنیاد رکھیں گے… ایسا لشکر جو امام مہدی اور عیسیٰ علیہ السلام کا دجال کے خلاف استقبال کریں گے۔ میں ہی وہ بیج لگانے کے لیے بھیجا گیا مالی ہوں جو ایک عظیم لشکر کا بیج بوئے گا۔
تو بتائیں…
آپ کیوں ہیں اس دنیا میں؟
