ایک مشہور مگر مہنگے ڈاکٹر کے کلینک کے باہر بڑا سا بورڈ لگا تھا۔
پہلی بار آنے کی فیس: 2000 روپے
دوسری بار آنے کی فیس: 500 روپے
ایک دن ایک ایسا کنجوس آدمی وہاں پہنچا جس کے بارے میں محلے والے کہتے تھے کہ اگر مچھر بھی اس کا خون پی لے تو وہ مچھر سے کرایہ مانگ لے!
وہ کافی دنوں سے بیمار تھا، مگر ڈاکٹر کی فیس سن کر اس کی بیماری سے زیادہ اس کا دل کانپ گیا۔
کافی دیر سوچنے کے بعد اس کے دماغ میں ایک “عظیم منصوبہ” آیا۔
وہ سینہ تان کر ڈاکٹر کے کمرے میں داخل ہوا اور بڑی اپنائیت سے بولا:
“السلام علیکم ڈاکٹر صاحب! 😊
کیسے ہیں آپ؟ میں ایک بار پھر آپ کے پاس آگیا ہوں۔ ذرا چیک کریں، اب میری طبیعت کیسی ہے؟”
اس کا خیال تھا کہ ڈاکٹر اسے پرانا مریض سمجھ کر صرف 500 روپے لے گا۔
مگر ڈاکٹر بھی دنیا دیکھ چکا تھا۔ 🧐
اس نے مریض کو غور سے دیکھا، نبض چیک کی، اسٹیتھو اسکوپ لگایا اور پھر مسکرا کر بولا:
“ماشاءاللہ!
آپ کی حالت پہلے سے کافی بہتر لگ رہی ہے۔
بس وہی دوا استعمال کرتے رہیں جو میں نے آپ کو پچھلی بار لکھی تھی، چند دن میں مکمل ٹھیک ہو جائیں گے۔”
یہ سنتے ہی کنجوس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔
اس نے گھبرا کر پوچھا:
“ڈاکٹر صاحب… کون سی دوا؟”
ڈاکٹر نے حیران بن کر کہا:
“ارے بھئی! وہی جو پچھلی ملاقات میں دی تھی!”
اب کنجوس آدمی اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔
کیونکہ وہ پہلی بار آیا تھا، اور اس کے پاس کوئی پرانی دوا تھی ہی نہیں!
آخرکار اسے نہ صرف پوری فیس دینی پڑی بلکہ اپنی چالاکی پر شرمندگی بھی اٹھانی پڑی۔
سبق:
کبھی کبھی چند روپے بچانے کی کوشش انسان کو زیادہ مہنگی پڑ جاتی ہے۔
