جھوٹے گواہ

جھوٹے گواہ

بادشاہ سکندر لودھی کے زمانے میں گوالیار کے دو غریب بھائی فوج میں بھرتی ہوئے۔ ایک دن قسمت نے یاوری کی اور کہیں سے انہیں دو قیمتی لعل ہاتھ لگ گئے۔ دونوں بھائیوں نے ایک ایک لعل آپس میں بانٹ لیا۔

لعل ملنے پر چھوٹے بھائی نے خوشی سے کہا:
“اب میں نوکری نہیں کروں گا۔ اس لعل کو بیچ کر تجارت شروع کروں گا اور بچوں کے ساتھ رہوں گا۔”

یہ سن کر بڑے بھائی نے کہا:
“بھیا! میرے حصے کا لعل بھی لیتے جاؤ۔ اپنی بھاوج کو دے دینا۔ میں ابھی نوکری نہیں چھوڑ سکتا۔”

چھوٹا بھائی دونوں لعل لے کر گھر کی طرف روانہ ہو گیا، مگر راستے میں اس کی نیت خراب ہو گئی۔ اس نے بھائی والا لعل بھاوج کو دینے کے بجائے اپنے پاس ہی رکھ لیا اور اپنا کام دھندا شروع کر دیا۔

کچھ دنوں بعد بڑا بھائی چھٹی لے کر گھر آیا۔ اس نے بیوی سے پوچھا:
“میں نے بھیا کے ہاتھ لعل بھیجا تھا، تم نے اس کا کیا کیا؟”

بیوی لعل کا نام سن کر حیران رہ گئی۔ بولی:
“کون سا لعل؟ مجھے تو اس کی خبر تک نہیں۔”

بیوی کے انکار پر بڑا بھائی خاموش رہا، لیکن شام کو جب اس نے چھوٹے بھائی سے پوچھا تو اس نے بےشرمی سے کہا:
“میں نے تو بھابھی کو دے دیا تھا۔ اگر وہ انکار کر رہی ہے تو وہ جھوٹی ہے۔”

یوں جھگڑا بڑھتا گیا اور معاملہ عدالت تک جا پہنچا۔ چھوٹا بھائی بہت چالاک تھا۔ اس نے دو جھوٹے گواہ پیش کر دیے اور مقدمہ جیت لیا۔

بڑے بھائی کی بیوی نے جب یہ حال سنا تو بہت پریشان ہوئی۔ وہ نہ صرف جھوٹی ثابت ہوئی بلکہ لعل بھی ہاتھ سے گیا۔ وہ فوراً راجدھانی آگرہ پہنچی اور بادشاہ کے حضور اپیل دائر کر دی۔

بادشاہ نے دونوں بھائیوں اور گواہوں کو دربار میں بلایا۔ مقدمہ شروع ہوا تو گواہوں نے وہی سکھائی ہوئی جھوٹی باتیں دہرا دیں۔ لیکن سکندر لودھی کو شک ہوا۔ اس نے پوچھا:
“کیا تم نے لعل اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا؟”

گواہوں نے اعتماد سے کہا:
“جی ہاں، دیکھا تھا۔”

بادشاہ نے فوراً موم منگوایا اور دونوں گواہوں کو تھوڑا تھوڑا دے کر کہا:
“تم دونوں الگ الگ جا کر ویسا ہی لعل موم کا بنا لاؤ۔”

گواہ الگ الگ جا بیٹھے، مگر سخت پریشان تھے۔ کیسا لعل بنائیں؟ انہوں نے تو کبھی دیکھا ہی نہیں تھا! لیکن حکمِ بادشاہی تھا، تو دونوں نے اپنی اپنی سمجھ کے مطابق موم کے لعل بنا کر پیش کر دیے۔

بادشاہ نے دونوں مومی لعل جب دیکھے تو فوراً فرق پکڑ لیا۔ دونوں کی شکلیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھیں۔ اب سارا معاملہ کھل گیا۔ بادشاہ نے گواہوں کو ڈانٹا تو انہوں نے سچ اگل دیا۔

آخرکار بادشاہ نے اصل لعل بڑے بھائی کو واپس دلوایا اور چھوٹے بھائی اور دونوں جھوٹے گواہوں کو قید کی سزا سنا دی۔

سچ ہی کہتے ہیں کہ جھوٹ کے پیر نہیں ہوتے۔ جھوٹ کو چاہے جتنی بھی نفاست سے بولا جائے مگر کبھی نا کبھی وہ اپنا آپ خود ہی ظاہر کر دیتا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner