کسی جنگل کے کنارے ایک فارم ہاؤس تھا، جہاں ایک بوڑھا کتا رہتا تھا۔ وہ سالوں سے اپنے مالک کی بھیڑوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ اسی جنگل میں ایک لومڑی بھی رہتی تھی جو بہت چالاک تھی اور ہمیشہ اس تاک میں رہتی تھی کہ کسی طرح ایک موٹی تازی بھیڑ چرا لے۔
لومڑی کی چال
ایک دن لومڑی کتے کے پاس آئی اور بڑی ہمدردی سے بولی، “ارے دوست! تم کتنے بوڑھے ہو گئے ہو، پھر بھی اتنی سخت ڈیوٹی کرتے ہو۔ تمہارا مالک تو تمہیں صرف ایک خشک روٹی دیتا ہے۔ اگر تم آج رات سو جاؤ اور مجھے صرف ایک بھیڑ لے جانے دو، تو میں تمہیں جنگل سے لذیذ گوشت لا کر دوں گی۔”
کتا سمجھ گیا کہ لومڑی اسے بہلا رہی ہے۔ اس نے فوراً ایک منصوبہ بنایا اور کہا، “ٹھیک ہے لومڑی بہن! میں آج رات فارم کے پچھلے دروازے پر سو جاؤں گا، تم وہاں سے آ جانا۔”
سبق آموز انجام
رات ہوئی تو لومڑی خوشی خوشی پچھلے دروازے پر پہنچی۔ جیسے ہی اس نے اندر قدم رکھا، کتے نے زور سے بھونکنا شروع کر دیا اور لومڑی پر جھپٹ پڑا۔ لومڑی کی جان پر بن آئی اور وہ دم دبا کر جنگل کی طرف بھاگی۔
اگلے دن جب وہ دور سے کتے کو دیکھ رہی تھی، تو کتے نے مسکرا کر کہا:
“لالچ اور دھوکہ دہی کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے۔ وفاداری ہی اصل دولت ہے۔”
کہانی کا نتیجہ: ہمیں کبھی بھی اپنے فرض سے غافل نہیں ہونا چاہیے اور لالچ میں آ کر کسی کا بھروسہ نہیں توڑنا چاہیے۔
#اردو #اردو_کہانیاں #بچوں_کی_کہانی #سبق_آموز #اخلاقی_کہانیاں #اردو_ادب #کہانی #وفاداری #پاکستان
