زبردستی کا ولی
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ تھا ۔
ایک دن بادشاہ کا بہترین گھوڑا اصطبل سے بھاگ گیا ۔
بادشاہ نے سپاہیوں کو گھوڑا تلاشنے کا حکم دیا ۔
سپاہی گھوڑے کو تلاش کرتے کرتے جنگل میں پہنچ گئے ۔
وہاں ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا لیکن سپاہیوں کو معلوم نہ ہوسکا کہ وہ نماز پڑھ رہا ہے
انہوں نے اس سے پوچھا کہ تم نے یہاں جنگل میں کوئی گھوڑا دیکھا ہے ؟
جواب ندارد ۔
انہوں نے کچھ دیر رک پھر سوال کیا ۔
دوسری جانب سے مکمل خاموشی ۔
سپاہیوں نے جھنجھلا کر تیسری مرتبہ پھر پوچھنے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ اس شخص نے دائیں جانب سلام پھیرا ۔
سپاہی یہ سمجھے ہمیں اشارے سے بتارہا ہے کہ اس جانب دیکھ لو ۔
وہ دائیں جانب گئے تو گھوڑا مل گیا ۔
سپاہی خوش ہوگئے اور انہوں نے اپنی طرف سے اندازہ لگایا کہ یہ شخص کوئی پہنچا ہوا بزرگ ہے جس نے بغیر دیکھے مراقبہ کرکے ہمیں بتایا کہ گھوڑا جنگل میں دائیں جانب گیا ہے 🤔 ۔
کچھ عرصہ مزید گزرا بادشاہ کے سونے کے برتن محل سے چوری ہونا شروع ہوگئے ۔
بادشاہ نے پھر سپاہیوں کی دوڑ لگوائی کہ برتن تلاش کرکے لائیں ۔ اگر ناکامی ہوئی تو سخت سزا ملے گی ۔
سپاہی پریشان ۔
اچانک ایک سپاہی کو جنگل والا آدمی یاد آگیا جس نے گھڑا ڈھونڈنے میں مدد کی تھی ۔
اس نے بادشاہ کو اس شخص سے متعلق بتایا کہ وہ کوئی بہت بڑا ولی ہے اس نے گھوڑے سے متعلق بھی ہماری راہ نمائی کی تھی ۔ اگر وہ چاہے تو آپ کے برتن بھی ڈھونڈ کر دے سکتا ہے ۔
بادشاہ نے اسے پیش کرنے کا حکم دیا
سپاہی اسے دربار میں لے آئے ۔
بادشاہ نے برتنوں کی چوری سے متعلق بتایا اور اسے حکم دیا کہ وہ برتنوں سے متعلق بھی بتائے کہ برتن کون چوری کررہا ہے ؟
اس نے بڑا کہا بادشاہ سے کہ حضور آپکے سپاہیوں کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے میں کوئی ولی نہیں ہوں ایک عام سا آدمی ہوں ۔
سپاہیوں نے اصرار کیا کہ نہیں جناب یہ اپنی ولایت چھپا رہا ہے ۔ اس نے جنگل میں ہماری مدد کی تھی ۔
بادشاہ تو پھر بادشاہ ہوتا ہے اسنے اسے وارننگ دے دی کہ اگر کل صبح تک تم نے برتنوں کی چوری سے متعلق نہ بتایا تو تمہارا سر قلم 😅
وہ شخص بڑا پریشان ہوا
موت کے خوف سے رات کے وقت اسنے اللہ تعالیٰ سے مناجات شروع کردیں کہ یا اللہ مجھ پر رحم فرما اور چور کو سامنے لے آ ۔
چور اصل میں محل کا ایک ملازم تھا ۔ اسنے سوچا کہ دیکھوں تو سہی کہ جس ولی کے ذمے بادشاہ نے چور کو پکڑنے کا کام لگایا وہ کیا کررہا ہے ۔
اسنے دیکھا کہ ولی صاحب اللہ تعالیٰ سے مناجات کررہے ہیں ۔ اسکے دل میں ڈر پیدا ہوگیا کہ یہ شخص مناجات کے ذریعے چور کا پتہ نہ لگالے ۔
وہ فوراً جاکر مناجات کرتے شخص کے پاؤں میں گر گیا کہ محترم آپ اللہ کے ولی ہیں ولیوں کے دل نرم ہوتے ہیں آپ میرے متعلق بادشاہ کو کچھ مت بتائیے گا ۔ برتن میں نے ہی چوری کیے ہیں ۔
اس غیبی مدد کے ملتے ہی ولی صاحب شیر ہوگئے اور چور کا کان پکڑ کر پوچھا کہ بتاؤ کہاں چھپائے ہیں برتن ؟
چور نے بتایا کہ قبرستان میں بوڑھے درخت کے نیچے دفن کیے ہوئے ہیں ۔
صبح ہوتے ہی بادشاہ نے ولی کو دربار میں طلب کیا اور برتنوں سے متعلق پوچھا ۔
ولی صاحب نے بادشاہ کو بتادیا کہ جناب آپکے برتن فلاں جگہ پر دفن ہیں ۔
بادشاہ نے سپاہی بھیجے اور واقعی کچھ دیر کے بعد سپاہی برتن تلاش کرکے لے آئے ۔
بادشاہ نے خوش ہوکر اس شخص کو شاہی ولی کا خطاب دے دیا اور اسے کہا کہ آج سے تم یہیں محل میں رہو گے ۔
شاہی ولی بڑا پریشان ہوا کہ ابھی تو اتفاقاً یہ معاملہ حل ہوگیا ہے آگے جاکر لازمی بادشاہ کو معلوم ہو جائے گا کہ میرے پلے کچھ نہیں ہے ۔
اسی پریشانی میں دن گزرتے رہے ۔
پھر ایک دن بادشاہ کے ہاں پڑوسی ملک کا بادشاہ مہمان ہوا اور بادشاہ نے اسکے سامنے اپنے شاہی ولی کا ذکر کیا اور اسکی بڑی تعریفیں کیں ۔
پڑوسی ملک کا بادشاہ بڑا متاثر ہوا اور اس سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا ۔
بادشاہ نے شاہی ولی کو طلب کرلیا ۔
پڑوسی ملک کے بادشاہ نے ٹہلتے ہوئے شاہی ولی سے بطور امتحان پوچھا کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہم نے کیا چیز پی ہے؟
شاہی ولی صاحب بڑے پریشان ہوئے کہ آج تو کام سے گئے ۔
ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوگئے اور دل ہی دل میں خدا کو یاد کرنا شروع کردیا ۔
پڑوسی ملک کے بادشاہ صاحب ٹہل رہے ہیں اور جواب کا انتظار کر رہے ہیں ۔
اچانک شاہی ولی صاحب نے دیکھا کہ ٹہلتے ٹہلتے پڑوسی ملک کے بادشاہ کا پاؤں سُلگتے ہوئے سگار پر پڑنے لگا ہے ۔
شاہی ولی نے زور زور سے آواز لگائی
حضور سگار ۔ حضور سگار ۔
ولی صاحب نے تو سگار کی آواز اس لیے لگائی کہ بادشاہ کا پاؤں سُلگتے ہوئے سگار پر آکر جل نہ جائے ۔
اور بادشاہ یہ سمجھا کہ اسنے میرے سوال کا جواب دیا ہے ۔ کیونکہ کچھ دیر پہلے دونوں بادشاہ باتیں کرتے ہوئے سگار سے شغل کررہے تھے ۔
بادشاہ نے خوش ہوکر ولی صاحب کو گلے لگایا اور داد دی ۔
پڑوسی ملک کے بادشاہ نے بھی خوش ہوکر اپنے گلے کا ہار تحفے کے طور پر شاہی ولی صاحب کو عنایت کردیا ۔
ولی صاحب اس زبردست اتفاق پر خوش بھی اور پریشان بھی ۔
پریشانی اس بات کی کہ آج تو بچ گئے آئندہ پتہ نہیں کس طرح کے امتحان کا سامنا کرنا پڑے ۔
شاہی ولی صاحب کا ایک ایک دن بڑی پریشانی اور ڈپریشن میں گزرنے لگا کہ کسی بھی وقت بادشاہ کی طرف سے نئی فرمائش نہ آجائے ۔
اسی ڈپریشن میں ایک دن اس نے فیصلہ کیا کہ میں بادشاہ کو بھرے دربار میں تھپڑ مارتا ہوں ۔
یا تو بادشاہ اس بد تمیزی پر مجھے فورا قتل کرنے کا حکم دے دے گا اور یہ روز روز مرنے سے بہتر ہے ۔
یا مجھے اپنے دربار سے نکال دے گا ۔
ولی صاحب گئے اور جاکر بادشاہ کو بھرے دربار میں تھپڑ رسید کردیا ۔
بادشاہ کا تاج 👑 سر سے اتر کر دور جا پڑا ۔
بادشاہ اور درباری حیران کہ یہ کیا ہوا ۔
حیرانی کے لمحات گزرے تو بادشاہ نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اس گستاخ کو پکڑو اور سر قلم کردیا ۔
اتنے میں وزیر جو بادشاہ کا تاج اٹھانے کے لیے جھکا ہوا تھا کی چیختی ہوئی آواز آئی
بادشاہ سلامت ! 🐍 سانپ
بادشاہ وزیر کی طرف متوجہ ہوا تو دیکھا کہ تاج میں سانپ لپٹا ہوا ہے ۔
غصے کی جگہ خوشی نے لے لی ۔
بادشاہ سمجھا کہ ولی نے اصل میں مجھے تھپڑ نہیں مارا بلکہ تاج گرانے کے لیے ہاتھ چلایا تھا تاکہ تاج میں بیٹھا ہوا سانپ مجھے نقصان نہ پہنچائے ۔
بادشاہ نے خوش ہوکر ولی صاحب کو انعام و اکرام سے نوازا اور ولی صاحب اس اتفاق پر مزید پریشان کہ یہ میرے ساتھ کیا ہورہا ہے
مزید کچھ عرصہ گزرا عید قریب آگئی بادشاہ نے سلطنت میں منادی کروادی کہ عید کی نماز شاہی ولی صاحب پڑھائیں گے ۔
ایک بڑے میدان میں انتظامات شروع ہوگئے ۔
شرکاء کو گرمی سے بچانے کے لیے ایک عارضی چھت میدان پر دے دی گئی ۔
عید کا دن آپہنچا ۔
ولی صاحب نے منصوبہ بنایا کہ نماز کے دوران جب تمام لوگ سجدے میں ہوں گے تو میں بھاگ جاؤں گا ۔
نماز شروع ہوگئی
ولی صاحب سجدے میں گئے
پیچھے تمام لوگ بھی سجدے میں چلے گئے
ولی صاحب نے نماز چھوڑی اور بھاگ کھڑے ہوئے
لوگوں کو سجدے میں کافی دیر گزر گئی پریشانی لاحق ہوگئی کہ کہیں حضرت ولی صاحب انتقال تو نہیں کرگئے ۔
پہلی صف میں سے کچھ لوگوں نے سر اٹھا کر دیکھا تو مصلی امامت خالی تھا اور ولی صاحب دور ننگے پاؤں بھاگتے ہوئے دکھائی دیے ۔
لوگوں نے سوچا کہ لازمی اس میں کوئی حکمت ہے انہوں نے بھی ننگے پاؤں ولی صاحب کے پیچھے دوڑ لگادی ۔
ولی صاحب نے دیکھا کہ لوگ پیچھے بھاگے آرہے ہیں
ولی صاحب نے بھی رفتار بڑھا دی ۔
جیسے ہی لوگ عید گاہ سے باہر نکلے تو عید گاہ پر عارضی چھت جو ڈالی گئی تھی وہ دھڑام کی آواز کے ساتھ زمین پر آگری ۔
لوگوں نے سوچا کہ حضرت صاحب کو پہلے سے چھت گرنے کا علم ہوگیا تھا اسی لیے وہ نماز توڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے اور انکے پیچھے بھاگنے سے ہماری بھی جان بچ گئی ۔
کچھ ہی دیر میں لوگ ولی صاحب تک پہنچ گئے اور انکو کندھوں پر اٹھالیا ۔
شاہی ولی صاحب نے سوچا کہ شاید میری قسمت میں شاہی ولی بن کر رہنا لکھا ہوا ہے تو اسی لیے انہوں نے قسمت کا لکھا سمجھ کر اسے قبول کرلیا اور دوبارہ اس عہدے سے بھاگنے کی کوشش نہیں کی
😂😅😂
