یہ جنگل عام جنگل نہیں تھا۔
یہاں طاقت صرف دانتوں یا پنجوں سے نہیں ناپی جاتی تھی،
بلکہ فیصلوں، وقت پر حرکت، اور خاموش حکمت سے ناپی جاتی تھی۔
جنگل کا بادشاہ شیر تھا،
طاقتور، خوفناک، مگر اب بوڑھا ہو چکا تھا۔
وہ روز ایک ہی راستے سے شکار پر جاتا،
ایک ہی وقت پر، ایک ہی انداز میں۔
جنگل کے سب جانور یہ جانتے تھے—
اور جنگل یہ بھی جانتا تھا کہ
جو نہیں بدلتا، وہ مٹ جاتا ہے۔
اسی جنگل میں ایک دبلا پتلا بھیڑیا رہتا تھا۔
نہ سب سے طاقتور،
نہ سب سے تیز،
نہ سب سے بڑا۔
مگر وہ مشاہدہ کرتا تھا۔
وہ دیکھتا تھا کہ کون سا درخت کب سایہ دیتا ہے،
کون سا جانور کب لاپرواہ ہوتا ہے،
اور کب شور مچانا موت کو دعوت دینا ہوتا ہے۔
ایک دن شدید قحط پڑا۔
شکار کم ہو گیا۔
طاقتور جانور ایک دوسرے سے لڑنے لگے۔
شیر نے غصے میں اپنی طاقت دکھائی—
مگر کمزور جسم نے ساتھ نہ دیا۔
چیتا تیز تھا،
مگر صبر نہ کر سکا۔
ہاتھی بڑا تھا،
مگر بھوک نے اس کی طاقت توڑ دی۔
اور بھیڑیا؟
وہ انتظار کرتا رہا۔
کم کھایا، کم بولا، کم دکھائی دیا۔
جب سب تھک گئے،
جب شور ختم ہو گیا،
جب جنگل خالی سا لگنے لگا—
تب بھیڑیا ابھرا۔
نہ جنگل کا بادشاہ بنا،
نہ کسی کو مارا،
بس بچ گیا۔
اور جنگل میں ایک ہی قانون بچا:
جو ہر وقت طاقت دکھاتا ہے، وہ سب سے پہلے گرتا ہے۔
اور جو خود پر قابو رکھتا ہے، وہ آخر تک کھڑا رہتا ہے۔
