ایک نورانی چہرے والے بزرگ بابا جی ایک گاؤں سے گزرے تو لوگوں نے سمجھا کہ کوئی ولی اللہ ہیں۔
ایک عورت نے انہیں گھیر لیا اور التجا کی،
“بابا جی! میری شادی کو 12 سال ہوگئے ہیں، مگر بدقسمتی سے میری کوئی اولاد نہیں ہے۔”
پہلے پہل تو بابا جی جان چھڑاتے رہے کہ اولاد تو خدا کی نعمت ہے، اس سے بہتری کی امید رکھو مگر عورت نے جان نہ چھوڑی اور بضد رہی کہ اولاد کے لیے کوئی تعویز دیں۔
بابا جی نے جان چھڑانے کے لیے کہا،
“اچھا ٹھیک ہے۔ تو فکر نا کر بیٹی… میں مزار پہ جا کر تیرے نام سے دیا جلاؤں گا۔”
وہاں سے نکلے اور پھر یاد ہی نہ رہا کہ عورت سے کوئی وعدہ بھی کیا تھا۔
11 سال گزر گئے اور پھر ایک دن اتفاقاً بابا جی کا اسی گاؤں سے گزر ہوا تو بزرگ کو اس عورت کا خیال آیا۔
لوگوں سے اس کے گھر کا پتہ معلوم کر کے، اس کے گھر تشریف لے گئے وہاں پہنچ کے دیکھا تو گھر میں ہر طرف رونق لگی ہوئی ہے۔
ہر طرف ننھے منے معصوم بچے کھیل کود میں مگن ہیں۔
سامنے وہی عورت گود میں بچہ لئے کھڑی ہے
بابا جی کو خوشی بھی ہوئی اور حیرت بھی۔
“بیٹی یہ بچے کس کے ہیں؟”
عورت بولی،
“بابا یہ میرے بچے ہیں۔”
بابا: کتنے بچے ہیں؟
عورت: 8 لڑکے 6 لڑکیاں
بابا: ماشااللہ ماشااللہ! بچوں کے والد کہاں ہیں؟”
عورت: وہ مزار ڈھونڈ کر دیا بُجھانے گئے ہیں 😃🤣😅😅😅😅
