Tag Archives: ” “Holiday encouragement”

خواجے دا گواہ ڈڈو ۔ آپ اکثر یہ کہاوت سنتے ہیں تو چلیں آپ کو اس کہاوت کی تاریخ اور پس منظر بتاتے ہیں۔کسی گاؤں میں ایک شخص رہتا تھا جسے لوگ خواجہ کہہ کر پکارتے تھے۔ خواجہ صاحب اپنی چالاکیوں اور لمبی لمبی چھوڑنے کی عادت کی وجہ سے پورے علاقے میں مشہور تھے۔ ایک بار خواجہ کا اپنے ایک پڑوسی کے ساتھ پیسوں کے لین دین پر جھگڑا ہو گیا۔ معاملہ اتنا بڑھا کہ پنچایت بلانی پڑ گئی۔پنچایت کا منظرگاؤں کے چوپال میں پنچایت لگی، بڑے بوڑھے حقے پی رہے تھے اور سب اس انتظار میں تھے کہ دیکھیں خواجہ اپنے دعوے کو کیسے سچ ثابت کرتا ہے۔ پنچایت کے مکھیا نے خواجہ سے پوچھا:“خواجہ جی! آپ کہہ رہے ہیں کہ آپ نے پڑوسی کو رقم دی تھی، لیکن اس کے پاس کوئی تحریر نہیں ہے۔ کیا آپ کے پاس کوئی گواہ ہے جس نے رقم دیتے ہوئے…

Read more

ایک ریٹائرڈ پولیس کمشنر، جو پہلے اپنے سرکاری بنگلے میں رہا کرتے تھے، اب کالونی کے اپنے ذاتی مکان میں آ کر رہنے لگے۔ اُنہیں اپنی حیثیت پر بہت فخر تھا۔ روز شام کو وہ کالونی کے پارک میں چہل قدمی کے لیے آتے، لیکن وہاں آنے والے کسی سے بات نہ کرتے، نہ ہی کسی کی طرف دیکھتے۔ اُنہیں لگتا تھا: “یہ لوگ میرے لیول کے نہیں ہیں!” ایک دن وہ بینچ پر بیٹھے تھے، تب ایک بوڑھا شخص آ کر ان کے ساتھ بیٹھا اور ہلکی پھلکی باتیں کرنے لگا۔ لیکن کمشنر صاحب نے اس کی باتوں پر کوئی توجہ نہ دی۔ وہ صرف اپنے بارے میں ہی بولتے رہے – کہ وہ کتنے بڑے عہدے پر تھے، ان کی کتنی عزت تھی، اور وہ کتنے اہم شخص ہیں…وہ کہنے لگے، “میں یہاں اس لیے رہتا ہوں کیونکہ یہ میرا ذاتی گھر ہے!” کچھ دن یہی ہوتا رہا۔…

Read more

آپ نے بہادری کے بڑے قصے سنے ہونگے 🔥❤️آئیں یہ بھی پڑھیں کائنات میں کوئی شخصحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ بہادر نہیں۔ابیّ بن خلف دنیا کے بدترین انسانوں سے ایک ہے جوجہنم کے شدید ترین عذاب میں مبتلا ہو گا۔یہ قریش کے نمایاں افراد میں سے ایک تھا جنگ بدر میں قیدی بنا لیکن اسے رہاکردیا گیا ۔اس احسان کا بدلہ اس نے یہ دیاکہ قسم اُٹھائی کہ میں اپنے قیمتی گھوڑے” العُود “کو روزانہ اتنے سیر مکئی کا دانہ کھلایا کروں گا اور پھر اس پر سوار ہوکر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )کو قتل کردوں گا۔اسکی یہ بڑجب حضور کے گوشِ انور تک پہنچی تو آپ نے فرمایا”وہ نہیں بلکہ میں اسے موت کے گھاٹ اتاروں گا،انشاءاللہ“ ۔ اُحد کے دن وہ اپنے اسی گھوڑے پر سوار ہوکر شریک ہوا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے فرمایا ”خیال رکھنا ،مباداکہ ابّی بن…

Read more

ایک شخص بازار میں صدا لگا رہا تھا، “گدھا لے لو! ایک اشرفی میں گدھا لے لو! گدھا نہایت کمزور اور لاغر تھا۔اتفاق سے اسی وقت بادشاہ اپنے وزیر کے ساتھ وہاں سے گزرا۔بادشاہ اس گدھے کے پاس رکا اور پوچھا،“کتنے میں بیچ رہے ہو؟” تگڑا گاہک دیکھتے ہی مالک نے فوراً گدھے کے دام بڑھا دیئے۔وہ فوراً بولا،“عالی جاہ! دو تھیلی سونے کی اشرفیاں قیمت ہے۔” بادشاہ حیران رہ گیا۔“اتنا مہنگا گدھا؟ اس میں آخر ایسی کیا خاص بات ہے؟” گدھے والے نے ادب سے کہا،“حضور! جو اس پر بیٹھتا ہے اُسے مکہ اور مدینہ دکھائی دینے لگتے ہیں۔” بادشاہ کو یقین نہ آیا۔“اگر تمہاری بات سچ ہوئی تو ہم پانچ تھیلی سونے کی اشرفیاں دیں گے۔لیکن اگر جھوٹ نکلا تو تمہارا سر اُڑا دیا جائے گا۔” پھر اُس نے وزیر کو حکم دیا،“اس پر بیٹھو اور بتاؤ، کیا نظر آتا ہے؟” وزیر گدھے پر بیٹھنے ہی لگا تھا…

Read more

حضرت ابراہیم بن ادھمؒ جو وقت کے بادشاہ تھے مگر سب چھوڑ کر اللہ کی راہ میں نکل پڑے تھے کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: حضرت! میں گناہوں سے بچنا چاہتا ہوں مگر نفس قابو میں نہیں آتا، مجھے کوئی ایسی نصیحت کریں کہ میں گناہ چھوڑ دوں۔آپؒ نے مسکرا کر فرمایا: بھائی! اگر تم نے گناہ کرنا ہی ہے تو یہ پانچ شرطیں پوری کر لو، پھر جو چاہو کرو:جب گناہ کرو تو اللہ کا دیا ہوا رزق مت کھاؤ۔جب گناہ کرنا ہو تو اللہ کی بنائی ہوئی زمین سے باہر نکل جاؤ۔گناہ ایسی جگہ کرو جہاں اللہ تمہیں دیکھ نہ رہا ہو۔جب موت کا فرشتہ حضرت عزرائیلؑ آئے تو اسے کہنا کہ مجھے تھوڑی مہلت دے دو۔جب کل قیامت کو فرشتے تمہیں جہنم کی طرف لے جانے لگیں تو ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دینا۔وہ شخص تڑپ اٹھا اور کہنے لگا: حضرت! یہ…

Read more

عام خیال کے مطابق 1517 میں خلافتِ عثمانیہ کا آغاز ہوا تھا۔ اس بات کے 500 سال مکمل ہونے کےموقعے پر یہ خصوصی تحریر لکھی گئی تھی) ظہیر الدین بابر کو اچھی طرح احساس تھا کہ اس کی فوج دشمن کے مقابلے پر آٹھ گنا کم ہے، اس لیے اس نے ایک ایسی چال چلی جو ابراہیم لودھی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی۔ اس نے پانی پت کے میدان میں عثمانی ترکوں کا جنگی حربہ استعمال کرتے ہوئے چمڑے کے رسوں سے سات سو بیل گاڑیاں ایک ساتھ باندھ دیں۔ ان کے پیچھے اس کے توپچی اور بندوق بردار آڑ لیے ہوئے تھے۔ اس زمانے میں توپوں کا نشانہ کچھ زیادہ اچھا نہیں ہوا کرتا تھا لیکن جب انھوں نے اندھا دھند گولہ باری شروع کی تو کان پھاڑ دینے والے دھماکوں اور بدبودار دھویں نے افغان فوج کو حواس باختہ کر دیا اور اس ناگہانی آفت…

Read more

*حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ ایک بار دریا کے کنارے بیٹھے تھے کہ انہوں نے دیکھا کہ ایک بچھو تیزی سے پانی کی طرف جا رہا ہے۔* اچانک ایک کچھوا ظاہر ہوا، بچھو اس کی پیٹھ پر بیٹھا اور وہ اسے دوسرے کنارے لے گیا۔ آپ حیران ہوئے کہ اللہ نے اس زہریلے جانور کے لیے یہ انتظام کیوں کیا؟ آپ بھی پیچھے گئے۔دوسرے کنارے پر ایک نوجوان درخت کے نیچے سو رہا تھا اور ایک کالا سانپ اسے ڈسنے کے لیے قریب آ رہا تھا۔ اتنے میں بچھو وہاں پہنچا اور سانپ کو ڈنک مارا جس سے سانپ مر گیا۔ بچھو واپس چلا گیا۔ جب وہ نوجوان بیدار ہوا تو آپ نے اسے پورا واقعہ سنایا۔ وہ شخص رو پڑا اور کہنے لگا کہ اے میرے رب میں سویا ہوا تیری نافرمانی کر رہا تھا اور تو میری حفاظت کے لیے بچھوؤں کو بھیج رہا تھا۔ وہ نوجوان…

Read more

بہت پہلے ایک بزرگ حضرتِ شَمْعُون رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ تھے ، جنہوں نے ہزار مہینے یا ہزار سال اس طرح عِبادت کی کہ رات کو عبادت کرتے، دن میں روزہ بھی رکھتے اور اللہ پاک کے دین کو عام کرنے کے لیے ،غیر مسلموں سے جہاد (بھی)کرتے(یعنی لڑتے)، طاقتور اتنے تھے کہ لوہے(iron) کو اپنے ہاتھوں سے توڑ ڈالتے تھے۔ غیر مسلموں نے آپ کو شہید (یعنی قتل)کرنے کی بہت کوشش کی مگروہ قتل نہ کر سکے تو انہوں نے بہت سے مال (wealth)کا لالچ دے کر آپ کی بیوی کو کہا کہ جب یہ سو جائیں تو اُن کو باندھ کرہمیں بتا دینا۔جب آپ سو گئے تو بیوی نے رسیوں سے آپ کو باندھ دیا، آپ کی آنکھ کھلی، آپ نے اپنے جسم کو ہلایا تو ساری رسیّاں ٹوٹ گئیں۔ پھر اپنی بیوی سےپوچھا: مجھے کِس نے باندھ دیا تھا؟ کہنے لگی کہ میں تو آپ کی طاقت دیکھ…

Read more

وہ زمانہ جب پہاڑ، ریگزار اور عظمت کی گونج تھی… ایک دور تھا، ہزاروں سال پہلے، جب زمین پر ایسے لوگ بستے تھے جن کی کہانیاں آج بھی ہواؤں میں سرگوشیوں کی مانند گردش کرتی ہیں۔ ان میں دو قومیں ایسی تھیں جن کی شان و شوکت، طاقت اور ثقافت نے اپنے وقت کے لاکھوں دلوں کو حیرت میں ڈال دیا — قومِ عاد اور قومِ ثمود۔ قومِ عاد: عظمت کی وہ مثال جب دنیا ابھی نئی نئی تشکیل پا رہی تھی، ایک عظیم قوم نے اپنے قدم مضبوطی سے زمین پر جما لیے تھے۔ یہ تھے قومِ عاد — ایک ایسا قبیلہ جو اپنی قوت، ہمت، اور پیداواری صلاحیتوں کے سبب دور دور تک مشہور تھا۔ ان کے بارے میں لوگ کیا کہتے تھے؟لوگ کہتے تھے کہ عاد کے لوگ پہاڑوں جیسے مضبوط، اونچے قد، چوڑے کندھوں اور شاندار جسموں کے مالک تھے۔ ان کے گھوڑے تیز، اونٹ طاقتور…

Read more

‏ایک چھوٹا لڑکا بھاگتا ھوا “شیوانا” (قبل از اسلام ایران کا ایک مفکّر) کے پاس آیا اور کہنے لگا.. “میری ماں نے فیصلہ کیا ھے کہ معبد کے کاھن کے کہنے پر عظیم بُت کے قدموں پر میری چھوٹی معصوم سی بہن کو قربان کر دے.. آپ مہربانی کرکے اُس کی جان بچا دیں..” شیوانا لڑکے کے ساتھ فوراً معبد میں پہنچا اور کیا دیکھتا ھے کہ عورت نے بچی کے ھاتھ پاؤں رسیوں سے جکڑ لیے ھیں اور چھری ھاتھ میں پکڑے آنکھ بند کئے کچھ پڑھ رھی ھے.. بہت سے لوگ اُس عورت کے گرد جمع تھے . اور بُت خانے کا کاھن بڑے فخر سے بُت کے قریب ایک بڑے پتّھر پر بیٹھا یہ سب دیکھ رھا تھا.. شیوانا جب عورت کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ اُسے اپنی بیٹی سے بے پناہ محبّت ھے اور وہ بار بار اُس کو گلے لگا کر والہانہ چوم رھی…

Read more

ایک نامی گرامی شاعر گزرا ہے۔ جو پہلے درجہ کا فیاض اور رحمدل انسان تھا ۔ ایک دن کا ذکر ہے ۔ کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ شہر سے باہر کسی سبزہ زار کی سیر کر رہا تھا ۔ دفعتہ ایک ہٹا کٹا آدمی بڑی تیزی کے ساتھ ایک جھاڑی سے نکلا اور شاعر کے سامنے پستول تان کر کھڑا ہو گیا بولا یہ جو کچھ جمع جتھا تمہارے پاس ہے ۔ یہاں رکھ دو ورنہ ابھی فائر کرتا ہوں ۔ شاعر اس آدمی کو دیکھ کر گھبرا گیا اور اُس کی بیوی ڈر کے مارے بیہوش ہو کر گر پڑی ۔ شاعر نے اپنی جیب سے روپیوں کی تھیلی نکالی اور ڈاکو کی طرف پھینک دی اُس آدمی نے تھیلی اٹھائی اور شاعر کی طرف احسان مندا نہ نگاہوں سے دیکھتا ہوتا تیزی سے ایک طرف کو چلا گیا اتفاقاً جب ڈاکو بھاگ رہا تھا اُسی وقت شاعر…

Read more

‏حجاج بن یوسف حافظ قرآن تھاوہ تہجدکی ایک رکعت میں 10 سپاروں کی تلاوت کرتاتھا، باجماعت نماز پڑھاتاتھااور شراب و زناسےدور بھاگتاتھالیکن انتہائی ظالم تھاجب اسکی موت آئی توانتہائی عبرتناک موت آئی،حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ جوکے ایک تابعی بزرگ تھے ایک دن منبر پر بیٹھے ھوۓ یہ الفاظ ادا کیےکہ “حجاج ایک ظالم شخص ھے” حجاج کو پتہ چلا دربار میں بلا کر پوچھا۔ کیا تم نے کہتے ہو؟ تو آپ نے فرمایا ھاں یہ سن کر حجاج کا رنگ غصے سے سرخ ھو گیا اورقتل کے احکامات جاری کر دیے۔جب آپ کو قتل کیلیے دربار سے باہر لے کر جانے لگے تو آپ مسکرا دیے۔ حجاج کو ناگوار گزرا اسنے پوچھا کیوں مسکراتے ھو تو آپ نے جواب دیا تیری بے وقوفی پر اور جو اللہ تجھے ڈھیل دے رھا ھے اس پر مسکراتا ھوں۔ حجاج نے پھر حکم دیا کہ اسے میرے سامنے زبح کر…

Read more

ایک نورانی چہرے والے بزرگ بابا جی ایک گاؤں سے گزرے تو لوگوں نے سمجھا کہ کوئی ولی اللہ ہیں۔ ایک عورت نے انہیں گھیر لیا اور التجا کی،“بابا جی! میری شادی کو 12 سال ہوگئے ہیں، مگر بدقسمتی سے میری کوئی اولاد نہیں ہے۔” پہلے پہل تو بابا جی جان چھڑاتے رہے کہ اولاد تو خدا کی نعمت ہے، اس سے بہتری کی امید رکھو مگر عورت نے جان نہ چھوڑی اور بضد رہی کہ اولاد کے لیے کوئی تعویز دیں۔ بابا جی نے جان چھڑانے کے لیے کہا،“اچھا ٹھیک ہے۔ تو فکر نا کر بیٹی… میں مزار پہ جا کر تیرے نام سے دیا جلاؤں گا۔” وہاں سے نکلے اور پھر یاد ہی نہ رہا کہ عورت سے کوئی وعدہ بھی کیا تھا۔ 11 سال گزر گئے اور پھر ایک دن اتفاقاً بابا جی کا اسی گاؤں سے گزر ہوا تو بزرگ کو اس عورت کا خیال آیا۔…

Read more

1260ء کا موسم گرما تھا۔مصر میں ہوا تک خوف اور بے یقینی کے جال پھیلے ہوئے تھے۔ منگولوں کی برق رفتار پیش قدمی نے پورے مشرق کو لرزا دیا تھا۔ بغداد کی تباہی کے بعد اب شام بھی ان کے پنجوں میں تھا۔ ہر طرف یہی خبریں تھیں: “منگول آ رہے ہیں، اور وہ کسی کو زندہ نہیں چھوڑتے۔”مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے قلعے میں ایک اضطرابی فضا تھی۔ نوجوان سلطان سیف الدین قطز اپنے امیروں کے ساتھ مشاورت میں مصروف تھے۔ ایک طرف سفیروں کے ذریعے ہلاکو خان کی ڈراؤنی اطاعت کی درخواست پڑی تھی، تو دوسری طرف شام سے آئے ہوئے مہاجرین کے چہروں پر تباہی کے آثار تھے۔ایک روز دربار میں ایک طویل خاموشی کے بعد قطز نے اٹھ کر اعلان کیا:”میں کسی غلام کی طرح منگولوں کی اطاعت نہیں کروں گا۔ ہم جنگ کریں گے۔ فتح یا شہادت!”ان کے ایک جرنیل، ظہیر بیبرس، جن کی آنکھوں…

Read more

ایک مولوی صاحب نے چرسی کو مسجد میں وضو کرتے دیکھا تو پوچھا:“اوئے چرسی تو یہاں کیا کر رہا ہے؟” چرسی جھٹ سے بولا:“مرچیں تو تجھے تب لگیں گی جب جنت میں دیکھو گے۔” بظاہر یہ لطیفہ ہے لیکن اس نے ایک لمحے کو ہوش اڑا دیئے۔ وہ لوگ جنہیں ہم نے حقیر جانا، جنہیں ہم گناہ گار کہتے رہے، جن پر ہم عمر بھر لعن طعن کرتے رہے، طرح طرح کے فتویٰ لگاتے رہے۔کیا ہو اگر کل بروزِ حشر وہ خدا کے مقبول بندوں میں نکل آئے؟ کیا ہو اگر کہ ہم اسے خوش فہمی میں مارے گئے کہ ہم نے خدا کو راضی کیا اور خدا کو ہماری نیت ہی بھلی نہ لگی ہو۔کیا ہو اگر کہ جنہیں ہم جہنمی اور بدکار کہتے رہے ہوں اور وہ جنت کے دروازے پر مسکراتے ملیں اور ہمیں جنت کی ہوا بھی نصیب نہ ہو۔خدا بہتر جانتا ہے کہ کس کا…

Read more

غور کے پہاڑوں میں برفانی ہوائیں چل رہی تھیں۔ سردی ہڈیوں میں اتر چکی تھی اور آسمان پر چھائے بادل یوں محسوس ہوتے تھے جیسے کسی بڑے طوفان کی آمد کی خبر دے رہے ہوں۔ اسی سرد سرزمین میں ایک کم سن غلام آنکھیں کھول رہا تھا، جسے اس وقت یہ معلوم نہ تھا کہ آنے والا وقت اس کے نام کو تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف سے رقم کرے گا۔ یہی غلام آگے چل کر قطب الدین ایبک کہلایا، وہی شخص جس نے غلامی کی زنجیروں کو اقتدار کے تاج میں بدل دیا۔قطب الدین ایبک ترک نژاد تھا۔ بچپن ہی میں والدین سے جدا ہو گیا۔ بازارِ غلاماں میں اس کی آنکھوں میں خوف، حیرت اور سوالات تھے۔ ہر بولی لگانے والا اسے ایک شے کی طرح دیکھتا، مگر اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی، جیسے کوئی چھپا ہوا چراغ ہو جو صحیح وقت پر…

Read more

”چیونٹی“ ہر روز صبح سویرے اپنے کام پر جاتی تھی، فوراً ہی اپنا کام شروع کر دیتی تھی۔ ”چیونٹی“ بہت محنت سے کام کرتی تھی، اسکی پروڈکشن بھی بہت زیادہ تھی اور وہ اپنے کام سے خوش بھی تھی۔ جنگل کا بادشاہ ”شیر“، ”چیونٹی“ کے کام سے بہت حیران تھا، کیونکہ وہ بغیر کسی آفیسر کے کام کرتی تھی۔ ”شیر“ نے سوچا، اگر ”چیونٹی“ بغیر کسی آفیسر کے، اتنی زیادہ پیداوار حاصل کررہی ہے تواگر وہ کسی آفیسر، کی ماتحتی میں کام کرے تو اس کی پروڈکشن اس سے کئی گنا زیادہ ہوجائے گی۔ اس لیئے ”شیر“ نے ایک ”لال بیگ“، کو جو کہ آفس کا تجربہ رکھتا تھا اور رپورٹ لکھنے میں بہت مشہور تھا، ”چیونٹی“ پر آفیسر کے عنوان سے تعینات کر دیا۔ ”لال بیگ“ نے ”چیونٹی“ پر کنٹرول رکھنے کی خاطر، کام کی جگہ پر اسکے آنے اور جانے کے وقت کو نوٹ کرنے والا ایک بورڈ…

Read more

ایک دن ایک کتا جنگل میں بھٹک گیاتبھی اس نے دیکھا کہ ایک شیر اس کی طرف آ رہا ہےکتے کی سانس رک گئیآج_تو_کام_تمام_میراپھر اس نے اپنے سامنے کچھ ہڈیاں پڑی دیکھیں، وہ آتے ہوئے شیر کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھ گیا اور ایک سوکھی ہڈی کو چوسنے لگا، اور زور زور سے بولنے لگاواہ_شیر_کو_کھانے_کا_مزہ_ہی_کچھ_اور_ہے….ایک اور مل جائے تو پوری دعوت ہو جائے، اور اس نے زور سے ڈکار ماری، اس بار شیر سوچ میں پڑ گیا،اس نے سوچایہ کتا تو شیر کا شکار کرتا ہے جان بچا کر بھاگنے میں ہی بھلائی ہے، اور شیر وہاں سے جان بچا کر بھاگ گیا، درخت پر بیٹھا ایک بندر یہ سب تماشہ دیکھ رہا تھا، اس نے سوچا یہ اچھا موقع ہے، شیر کو پوری کہانی بتا دیتا ہوں، شیر سے دوستی بھی ہو جائے گی اور اس سے زندگی بھر کے لیے جان کا خطرہ بھی دور ہو جائے…

Read more

اگر مچھلی پانی سے نکل کر تمہیں یہ بتائے کہ مگرمچھ بیمار ہے، تو اس کی بات پر یقین کرو۔یہ مثال صرف سمجھدار لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں۔ یہ جملہ بظاہر ایک عام سی مثال لگتا ہے، لیکن اس کے اندر بہت گہری حکمت چھپی ہوئی ہے۔آئیے اس کے مختلف پہلوؤں کو کھول کر سمجھتے ہیں: 1. مچھلی کی بات پر کیوں یقین؟ مچھلی اپنی پوری زندگی پانی میں گزارتی ہے۔ وہ پانی کے ہر بدلتے موسم، ہر خطرے، ہر حرکت اور ہر جاندار کو دوسروں سے زیادہ جانتی ہے۔اگر وہ پانی چھوڑ کر باہر آ جائے، تو اس کا باہر آنا ہی ایک غیر معمولی واقعہ ہوتا ہے۔اور جب وہ باہر آ کر یہ کہے کہ مگرمچھ بیمار ہے، تو یہ معمولی بات نہیں — یہ اس ماحول کی اندرونی حقیقت ہے جس تک دوسروں کی رسائی نہیں۔ پیغام:جو شخص کسی معاملے کے اندر سے ہو، اس کی معلومات…

Read more

نر بھیڑے نے اپنی مادہ کو ساتھ لیا اور Onon دریا کے کنارے آ کر آباد ہو گیا یہی وہ جگہ تھی جہاں منگول پیدا ہوئے یہ لوگ اس بے آب و گیاں علاقے میں موجود تھوڑے بہت وسائل کیلئے آپس میں لڑتے رہتے سرسبز ہریالی پانی اور مویشی کیلئے لڑائیاں جاری رہتیں لیکن پھر ان میں ایک ذہین لیکن خطرناک آدمی تموجن نمودار ہوا جس نے منگول قبائل کے سرداروں کو اکٹھا کر کے کہا “ہم جنگجو لوگ ہیں اگر ہم اپنی توانائیاں ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے کی بجائے متحد ہو جائیں تو دنیا کے خزانے ہمارے قدموں میں آ سکتے ہیں” کسی نے سوال کیا کہ ہم خیموں میں رہنے والے لوگ کیسے بڑی بڑی سلطنتوں کا سامنا کر سکیں گے تموجن نے جواب دیا “ہماری کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ ہم سب منگول قبائل کا کامن دشمن ہو جس کے خلاف ہم سب متحد ہو کر…

Read more

40/94
NZ's Corner