بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

چنگیز خان جلال الدین خوارزمی کی عزت کرتا تھا اس نے اس میں ایک بہادر اور دلیر دشمن دیکھا اس پر قدم رکھتے ہوئے اس نے اپنی زندگی کا سب سے سنگین اعتراف کیا کہ

“وہ ابھرتے ہوئے سورج کی طرح ہے” 

منگولوں کے ایک بڑے لشکر کو جلال الدین نے Battle of Parwan میں شکست دی اس جنگ میں منگولوں کا کمانڈر Shigi Qutuqu تھا لیکن سوشل میڈیا پر کافی عرصے سے ایک پوسٹ بہت وائرل ہوتی رہی ہے کہ جلال الدین نے چنگیز خان کو شکست دی لوگوں نے تحقیق کے بغیر بہت شیئر کی لیکن میں نے اس وقت بھی ایک الگ سے پوسٹ میں واضح کیا تھا کہ Battle of Parwan میں جلال الدین کو جو فتح حاصل ہوئی اس میں مدمقابل منگول کمانڈر Shigi Qutuqu تھا 

منگولوں کی ابتدائی فتوحات کے دور میں یہ واحد ایک بڑی شکست تھی جس سے آپ جلال الدین الخوارزم شاہ کی قائدانہ صلاحیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں اس شکست کے بعد چنگیز خان خود بہت بڑی فوج لے کر جلال الدین کے تعاقب میں آیا اور پھر Battle of Indus کی مشہور لڑائی میں چنگیز خان کی فوج کا پلڑا بھاری رہا یہی وہ جنگ تھی جس میں منگول Horse Achers اپنے قائد چنگیز خان کے ساتھ جلال الدین کا پیچھا کرتے ہوئے چٹان کے آخری کنارے تک پہنچے جہاں جلال الدین نے اپنے گھوڑے سمیت دریائے سندھ میں چھلانگ لگا دی چنگیز خان جلال الدین کی بہادری سے بہت متاثر ہوا اس نے اپنے گھڑ سواروں کو مذید تعاقب کرنے سے روک دیا  اور مشہور فقرہ کہا

“عظیم ہے وہ ماں جس نے اس جیسا شہسوار جنم دیا”

بدقسمتی سے ہندوستان کے مسلم حکمرانوں نے جلال الدین کی مدد نہ کی اور نہ ہی بغداد سے کوئی مدد آئی اگر اس انتہائی قابل نوجوان ترک النسل جرنیل کو اردگرد کے مسلم حکمرانوں سے مدد مل جاتی تو شاید منگولوں کا طوفان ادھر ہی تھم جاتا لیکن باقی مسلم حکمران کو خوف تھا کہ اگر انہوں نے جلال الدین کی مدد کی تو چنگیز خان کی فوجوں کا رخ ان کی طرف ہو سکتا ہے

آخر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اگر جلال الدین الخوارزم شاہ پرآشوب دور کا ایک عظیم جرنیل تھا۔

Video clip generated and music added by Admin: History of Wars and Peace

پوسٹ پسند آئے تو شئیر ضرور کریں۔ شکریہ

Leave a Reply

NZ's Corner