ایک قدیم شہر کی خاموش گلیوں میں ایک دانا استاد رہتا تھا، جس کے گرد شاگردوں کا ہجوم رہتا۔ ہر کوئی اس کی حکمت، بصیرت اور دانائی کا معترف تھا۔ مگر انہی شاگردوں میں سے ایک نہایت ذہین مگر قدرے مغرور نوجوان کے دل میں ایک سوال نے جنم لیا:
“کیا واقعی ایسا کوئی سوال نہیں جس کا جواب ہمارے استاد نہ دے سکیں؟”
ایک دن وہ نوجوان شہر سے باہر ایک سرسبز و شاداب میدان میں گیا، جہاں رنگ برنگے پھول ہوا کے ساتھ جھوم رہے تھے۔ اسی دوران اس کی نظر ایک نہایت خوبصورت تتلی پر پڑی، جس کے پر قوسِ قزح کی طرح چمک رہے تھے۔ اس نے خاموشی سے اسے پکڑ لیا اور اپنے ہاتھوں کی اوٹ میں چھپا لیا۔
تتلی اس کی ہتھیلیوں میں پھڑپھڑانے لگی، اس کے ننھے پروں کی لرزش اس کے دل کی دھڑکن کے ساتھ ہم آہنگ ہو گئی۔ نوجوان کے لبوں پر ایک پراسرار مسکراہٹ ابھری۔
وہ استاد کے پاس پہنچا، اس کی آنکھوں میں چیلنج کی چمک تھی۔
اس نے کہا:
“استاد محترم! بتائیے، میرے ہاتھوں میں جو تتلی ہے… کیا وہ زندہ ہے یا مردہ؟”
اس نے اپنی مٹھی کو مضبوطی سے بھینچ رکھا تھا۔ اس کے ذہن میں ایک خطرناک کھیل چل رہا تھا—
اگر استاد کہتے “زندہ ہے”، تو وہ فوراً اسے مسل دیتا…
اور اگر کہتے “مردہ ہے”، تو وہ اسے آزاد کر دیتا۔
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ تمام شاگرد سانس روکے اس لمحے کا انتظار کرنے لگے۔
استاد نے نہ تو تتلی کو دیکھا، نہ ہی نوجوان کے ہاتھوں کی طرف نگاہ اٹھائی۔ وہ بس مسکرائے… ایک گہری، پُرسکون مسکراہٹ کے ساتھ۔
پھر آہستگی سے بولے:
“بیٹا… یہ سب تمہارے اپنے ہاتھ میں ہے۔”
اس ایک جملے نے نوجوان کے غرور کو چکنا چور کر دیا۔
اور اسی لمحے، اسے احساس ہوا کہ بعض سوالوں کے جواب علم سے نہیں…
بلکہ انسان کے اپنے انتخاب سے جڑے ہوتے ہیں۔
