بلاعنوان

بلاعنوان

اگر آپ کی بھی گھر میں کوئی عزت نہیں تو یہ  واقع پڑھ کر دل کو تسلی دیں
ایک نہایت جلیلُ القدر بزرگ تھے۔ ان کی خانقاہ پر ہر وقت عقیدت مندوں کا ہجوم رہتا۔ کوئی تعویذ لینے آتا، کوئی استخارہ کروانے، کوئی رزق میں کشادگی کی دعا کے لیے حاضر ہوتا، تو کوئی محض ان کے دستِ مبارک چومنے کو سعادت سمجھتا۔

ان کے مریدین کا حال یہ تھا کہ اگر حضرت ذرا سا کھانس دیتے تو لوگ اس میں بھی کوئی روحانی اشارہ تلاش کر لیتے۔ محفلوں میں ان کی کرامات کے قصے بیان کئے جاتے۔ کسی کے نزدیک حضرت نے ایک اندھے کو بینائی عطا کر دی تھی، کسی کے نزدیک ان کے دم کیے پانی سے بھینس نے دودھ دینا شروع کر دیا تھا، اور بعض خوش عقیدہ افراد تو یہاں تک کہتے تھے کہ حضرت کی دعا سے ایک شخص کا ناکام عشق بھی کامیاب ہو گیا۔

جمعرات کی شب ان کی خانقاہ پر چراغاں ہوتا، دیگیں پکتیں، نیاز تقسیم ہوتی، دھمالی قوال ہوتی اور مریدین وجد میں ایسے جھومتے گویا ابھی کشف و کرامات کا دروازہ کھلنے ہی والا ہو۔ حضرت کے لیے خاص مسند بچھائی جاتی، عطر چھڑکا جاتا، اور لوگ ادب سے دو زانو ہو کر بیٹھتے۔

مگر…

یہ ساری عقیدت، سارا روحانی رعب، ساری ولایت صرف خانقاہ اور باہر کی دنیا تک محدود تھی۔ گھر کے اندر صورتحال یکسر مختلف تھی۔

حضرت کی زوجۂ محترمہ نہایت دبنگ، تیز زبان اور جلالی مزاج خاتون تھیں۔ وہ حضرت کو کسی “قطب الاقطاب” کے بجائے محض ایک عام شوہر یا اس سے بھی کمتر سمجھتی تھی

صبح سویرے ہی ان کی خطابت شروع ہو جاتی:

“او بزرگِ زماں! ذرا یہ ٹوٹی ہوئی چارپائی بھی اپنی ولایت سے ٹھیک کر دو۔  گھر میں آٹا ختم ہو جائے تو تمہیں کشف نہیں ہوتا؟”
کبھی کہتیں:
“لوگوں کو نصیحتیں کرتے پھرتے ہو، اور اپنے موزے تین دن سے صحن میں پڑے ہیں مری ہوئی بلی سے زیادہ بدبو آ رہی ہے ۔ یہ ہے تمہاری روحانیت؟”
اور جب زیادہ غصہ آتا تو
“ہائے اللہ! میں نے بھی کیسا قسمت پھوٹا آدمی پایا ہے۔ باہر لوگ پیر صاحب، پیر صاحب کرتے نہیں تھکتے، ایک نمبر کا آلسی اور کام چور آدمی ہے ۔

حضرت ہر بار خاموشی، صبر اور تبسم سے کام لیتے۔ مریدین سمجھتے تھے کہ حضرت نفس پر کامل غلبہ رکھتے ہیں، مگر حقیقت یہ تھی کہ وہ گھریلو امن و امان برقرار رکھنے کے لیے خاموش رہتے تھے۔

ایک روز حضرت مراقبے میں اس قدر محو ہوئے کہ ان پر حالتِ وجد طاری ہو گئی۔ مریدین نے دیکھا کہ حضرت زمین سے بلند ہو رہے ہیں۔ حاضرین پر ہیبت طاری ہو گئی۔ کسی نے نعرہ لگایا:
“سبحان اللہ! حضرت کو ہوا میں تصرف حاصل ہو گیا!”
حضرت جی ہوا میں اڑنے لگے

اب حضرت کے دل میں بھی ایک ہلکی سی انسانی خواہش جاگی۔ سوچنے لگے:
“آج ذرا گھر کے اوپر سے پرواز کر کے گزرتا ہوں تاکہ بیگم بھی متاثر ہو جائیں۔ شاید آج کے بعد کچھ ادب و احترام میں اضافہ ہو جائے۔”
چنانچہ حضرت نہایت وقار کے ساتھ ہوا میں بلند ہوئے اور محلے کی چھتوں کے اوپر سے گزرنے لگے۔ نیچے مریدین دیوانہ وار نعرے لگا رہے تھے:
“زندہ پیر!”
“حضرت کی کرامت زندہ باد!”
ادھر بیگم صاحبہ آٹے میں پانی ڈال رہی تھیں کہ اچانک کھڑکی سے نظر اوپر گئی۔ ایک شخص ہوا میں محوِ پرواز تھا۔

وہ حیرت سے بولیں:
“ارے واہ! واقعی کوئی اللہ والا معلوم ہوتا ہے۔ دیکھو ذرا کیسے فضا میں اڑ رہا ہے۔ اور ایک میرا یہ ٹٹ پیڑا شوہر ہے جو ہر وقت خود کو بڑا ولی سمجھتا پھرتا ہے۔ آن اس کی  ایسی کلاس لگاتی ہوں کہ ساری ولایت بھول جاتا ہے۔”

اتنے میں حضرت نہایت روحانی وقار کے ساتھ نیچے اترے، داڑھی پر ہاتھ پھیرا، اور مسکراتے ہوئے گھر میں داخل ہوئے۔

بیگم فوراً بولیں:
“سنئے! ابھی ابھی میں نے ایک بہت بڑے ولی اللہ کو دیکھا۔ قسم سے، بندہ ہوا میں اڑ رہا تھا!”
حضرت نے ذرا گردن اکڑا کر، آواز میں تصوف کی مٹھاس گھولتے ہوئے فرمایا:
“اللہ کی بندی… وہ ہم ہی تھے۔”

یہ سنتے ہی بیگم کے چہرے کے تاثرات بدل گئے۔  غصہ، اور پھر وہ مخصوص ازدواجی جلال جو صدیوں سے شوہروں پر قیامت بن کر نازل ہوتا آیا ہے۔
انہوں نے ایک طویل سانس لی، پھر ایسا بھرپور فقرہ ارشاد فرمایا

“اوئے ہاں! اسی لیے الٹا سیدھا اڑ رہا تھا۔ تجھے تو سائیکل سیدھی نہیں چلانی آتی،  شرم نہیں آتی؟ لوگ تجھے ولی سمجھ رہے تھے اور تو اوپر پتنگ کی طرح ہچکولے کھا رہا تھا!”

پھر بھی غصہ ٹھنڈا نہ ہوا، مزید بولیں:
“اور سنو! اگلی بار اگر پھر اڑنے کا شوق چڑھے نا، تو پہلے چھت پر پڑی اینٹیں نیچے اتار دینا۔

Leave a Reply

NZ's Corner