فرعونوں کی تاریخ پڑھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اپنے وقت میں ان کے پاس کتنی طاقت تھی۔
وہ کوئی عام بادشاہ نہیں تھے، بلکہ اپنے دور کے “خدا” سمجھے جاتے تھے۔ ان کی باقاعدہ پرستش ہوتی تھی۔
ان کے غلاموں کے ساتھ انسانوں جیسا سلوک تو دور کی بات، جانوروں جیسا بھی نہیں ہوتا تھا۔
ان کا کھانا بھی ایک خاص نظام کے تحت تیار ہوتا تھا۔ شاہی باورچی اور پجاری اسے مخصوص طریقے سے بناتے تھے۔ پھر کھانے کو چکھا جاتا، اس کی نگرانی ہوتی، اور سخت پروٹوکول کے بعد فرعون تک پہنچایا جاتا۔
زیادہ تر وہ اپنے ہاتھ سے کھانا نہیں کھاتے تھے، کیونکہ انہیں خدا سمجھا جاتا تھا ۔ اس لیے کھانا کھلانے سے لے کر ان کے ہاتھ اور منہ صاف کرنے تک سب کام غلام کرتے تھے (واش روم کے بارے میں پتہ نہیں کیا صورتحال تھی 😜)
صرف یہی نہیں
کھانے کے دوران اگر کوئی مکھیاں یا کیڑے مکوڑے ان کی طرف آنے کا خدشہ ہوتا، تو بعض روایات کے مطابق غلاموں کے جسم پر شہد لگا کر انہیں پاس کھڑا کر دیا جاتا تاکہ مکھیاں ان کی طرف جائیں۔
اسی طرح جب ان جھوٹے خداؤں کے سونے کا وقت ہوتا تو بھی غلاموں کے جسموں پہ شہد لگا کے ساری رات ان کے پاس کھڑا کیا جاتا تاکہ کیڑے مکوڑے فرعون کی طرف نہ جائے
اور غلاموں کو اپنی جگہ سے ایک انچ ہلنے کی بھی اجازت نہیں ہوتی تھی اگر وہ ہلتے تو ان کو سخت ترین سزائیں دی جاتی مطلب وہ اپنا جسم کھجا بھی نہیں سکتے تھے جب ان کے اوپر مکھیاں بیٹھتی
خود کو ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیے وہ اپنی زندگی میں ہی “ہمیشہ کی زندگی” کی تیاری شروع کر دیتے تھے۔ جب کوئی فرعون یا اس کا قریبی مر جاتا تو ان کے جسم کو ممی بنا کر محفوظ کیا جاتا، کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ روح دوبارہ جسم میں واپس آتی ہے، اور اگر جسم ضائع ہو جائے تو ہمیشہ کی زندگی ختم ہو جاتی ہے۔
کچھ فرعون کے مرنے پر اس کے ساتھ ان کے خاص خادموں کو بھی دفن کر دیا جاتا تاکہ وہ اگلی زندگی میں بھی اس کی خدمت کریں۔ ساتھ ہی سونا، زیورات، کھانا اور ہر قسم کی آسائش کا سامان بھی دفن کیا جاتا تھا۔
فرعونوں کو کیونکہ سورج کا بیٹا سمجھا جاتا ہے اس لیے وہ باقی لوگوں کے لیے مقدس ترین ہستیاں تھیں اور اپنی جھوٹی خدائی اور بادشاہت کو قائم رکھنے کے لیے فرعون صرف خاندان میں ہی شادیاں کرتے تھے تاکہ ان کا خون پاک رہے اور اس میں کسی قسم کی ملاوٹ نہ ہو یہاں تک جب خاندان میں کوئی اور لڑکی نہ ہوتی تو پھر انہوں نے اپنی بہنوں سے شادیاں کی اس کا نتیجہ اہستہ یہ ہوا بہت ساری جنیاتی بیماریوں نے جنم لینا شروع کر دیا
ایک مشہور فرعون توتنخامن جو کہ جسمانی معذوری کے ساتھ پیدا ہوا تھا کیونکہ اس کے ماں باپ بہن بھائی تھے ۔
یہ فرعون 9 سال کی عمر میں بادشاہ بنا اور 19 سال کی عمر میں دنیا سے دنیا سے رخصت ہو گیا
جب اس کا اہرام دریافت ہوا تو تو وہ اج تک دریافت ہونے والے سب فرعونوں کے مقبروں سے زیادہ خزانہ تھا اس میں
اس فرعون کی شہرت کی وجہ بھی اس کی بادشاہت نہیں بلکہ اس کے مقبرے کی حالت تھی جب کثیر قسم کے سونے کی اور قیمتی ایشیاء اس کے مقبرے سے برامد ہوئی جو دنیا کو حیران کرنے کے لیے کافی تھی
اور اس کے ساتھ ڈھیر ساری لاٹھیاں بھی کیونکہ وہ معذور تھا تو لاٹھیوں کے ساتھ اس کے دفن کیا گیا کہ مرنے کے بعد بھی اس کو اس کی ضرورت پڑے گی
فرعونوں کے جانوروں کو بھی ان کی رعایا سے زیادہ پروٹوکول ملتا تھا جانوروں کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ بلیوں کے لیے خاص کھانا، ان کی حفاظت، اور مرنے کے بعد ان کے لیے مقبرے تک بنائے جاتے تھے ان کو سونے کے تابوتوں میں دفن کیا جاتا ۔۔
یہ تھے وہ لوگ…
جو اپنے وقت کے خدا بنے بیٹھے تھے، طاقت کے نشے میں گم۔
جن کی اجازت کے بغیر کوئی انہیں چھو بھی نہیں سکتا تھا یہاں تک کہ ان کی رعایا میں سے کسی کو اجازت نہیں تھی کہ نظریں اٹھا کے ان کی طرف دیکھ لے لیکن اج ان ہی کی لاشوں پہ مختلف تجربات ہو رہے ہیں ان کی مرضی کے بغیر کبھی ایک جگہ سے دوسری جگہ ان کو شفٹ کیا جاتا ہے اور اب وہ ایک ملک کی قدیم تاریخ کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔۔۔
کیونکہ ہمیشہ رہنے والی ذات اور بادشاہت صرف اور صرف اللہ کی ہے ۔۔
اسی طرح اج سے 100 سال بعد تک اس روئے زمین پر موجود ہر ذی روح فنا ہو جائے گی چاہے کوئی نیک ہے یا بد زمانے کا ولی ہے یا وقت کا فرعون سب مٹ جائیں گے
دنیا کی طاقت دولت ہر چیز کو زوال ہے
باقی رہنے والا کوئی ہے تو وہ میرا رب
كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍﭕ(26) وَّ یَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِۚ
زمین پر جتنی مخلوق ہے سب فنا ہونے والی ہے۔ اور تمہارے رب کی عظمت اور بزرگی والی ذات باقی رہے گی۔
