ایک زمانے میں ایک بادشاہ تھا جسے عجیب و غریب شوق پالنے کا بہت شوق تھا۔
ایک دن اُس نے اعلان کیا:
“ہم ایک ایسا شاندار تالاب بنوائیں گے جس کی مثال پوری سلطنت میں نہ ملے!”
چند ہی دنوں میں محل کے سامنے ایک بہت بڑا اور خوبصورت تالاب تیار ہوگیا۔
مگر بادشاہ کی شرارت ابھی باقی تھی۔
افتتاح کے دن پورے ملک کے لوگ جمع ہوئے۔
وزیر، سپاہی، سوداگر، فقیر، حتیٰ کہ بچے بھی تماشہ دیکھنے آگئے۔
پھر بادشاہ نے حکم دیا:
“تالاب میں سانپ چھوڑ دو!”
“مگرمچھ بھی!”
“اور وہ سب خطرناک جانور بھی… جنہیں دیکھ کر انسان کی روح کانپ جائے!”
چند لمحوں میں پرسکون پانی خوفناک منظر بن گیا۔
کہیں سانپ پھنکار رہے تھے، کہیں مگرمچھ پانی میں غوطے لگا رہے تھے، اور لوگ دور کھڑے کانپ رہے تھے۔
بادشاہ تخت پر بیٹھا مسکرایا اور بلند آواز میں بولا:
“سن لو میری شرط!
جو شخص اس کنارے سے تیر کر دوسرے کنارے تک زندہ پہنچ گیا…
میں اُسے منہ مانگا انعام دوں گا!”
یہ سنتے ہی پورے مجمع پر خاموشی چھا گئی۔
لوگ ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔
ایک آدمی نے تو ڈرتے ہوئے کہا:
“حضور! انعام بعد میں دے دیجیے گا… پہلے کفن کا انتظام کروا دیں!”
پورا مجمع ہنس پڑا۔
اتنے میں اچانک…
چھپاک!!!
ایک شخص سیدھا تالاب میں جا گرا!
لوگوں کی چیخیں نکل گئیں۔
وہ بیچارہ کبھی سانپ سے بچتا، کبھی مگرمچھ سے، کبھی ہاتھ پاؤں مارتا، کبھی پانی نگلتا۔
ایسے تیر رہا تھا جیسے زندگی اور موت کے درمیان آخری مقابلہ چل رہا ہو۔
لوگ حیرت سے چلا رہے تھے:
“واہ! کیا بہادری ہے!”
“یہ تو سلطنت کا شیر نکلا!”
“اسے تو وزیر بنا دینا چاہیے!”
ادھر وہ آدمی دل میں سوچ رہا تھا:
“یا اللہ! آج بچا لے… آئندہ نہانا بھی چھوڑ دوں گا!”
آخرکار وہ کسی معجزے کی طرح دوسرے کنارے پہنچ گیا۔
لوگ خوشی سے پاگل ہوگئے۔
کسی نے اسے کندھوں پر اٹھا لیا، کسی نے تالیاں بجائیں، کوئی اُس کی بہادری کے نعرے لگا رہا تھا۔
بادشاہ خود تخت سے اُتر کر اُس کے پاس آیا اور بولا:
“شاباش جوان!
مانگو… کیا چاہتے ہو؟
سونا؟
چاندی؟
محل؟
آدھی سلطنت؟”
یہ سنتے ہی وہ آدمی زور زور سے رونے لگا۔
بادشاہ حیران ہوا:
“ارے! تم رو کیوں رہے ہو؟”
وہ ہچکیاں لیتے ہوئے بولا:
“حضور… مجھے نہ سونا چاہیے… نہ چاندی… نہ سلطنت…”
بادشاہ نے پوچھا:
“پھر کیا چاہتے ہو؟”
وہ غصے سے دانت پیستے ہوئے بولا:
“بس مجھے وہ بندہ ڈھونڈ دیں…
جس نے مجھے پیچھے سے دھکا دیا تھا!!!”
یہ سنتے ہی پورا مجمع قہقہوں سے گونج اٹھا…
اور بادشاہ بھی ہنستے ہنستے تخت پر گر پڑا۔
