یتیم لڑکے کی ایسی بات کہ بادشاہ خاموش رہ گیا
ایک نیک دل اور رحم دل بادشاہ تھا۔ اُس کے دل میں غریبوں، یتیموں اور بے آسرا لوگوں کے لیے بے پناہ محبت تھی۔
ایک دن اُس نے ایک یتیم اور نہایت غریب لڑکے کو دیکھا، جس کی آنکھوں میں محرومی تو تھی، مگر دل میں عجیب سی شرافت اور عاجزی تھی۔ بادشاہ اُس بچے کی معصومیت سے اتنا متاثر ہوا کہ اُسے اپنے محل میں جگہ دے دی۔
وقت گزرتا گیا…
لڑکا محل میں رہنے لگا، مگر اُس کی عاجزی اور ادب میں کبھی فرق نہ آیا۔ وہ ہر وقت بادشاہ کے احسانات کو یاد رکھتا اور دل ہی دل میں اُس کے لیے دعائیں کرتا رہتا۔
بادشاہ کی ایک عادت تھی…
جب بھی اُس کے سامنے کوئی خاص کھانا، قیمتی پھل یا لذیذ نعمت پیش کی جاتی، وہ سب سے پہلے اُس لڑکے کو دیتا، پھر خود کھاتا۔
محل کے لوگ اکثر حیران ہوتے کہ بادشاہ اُس معمولی لڑکے سے اتنی محبت کیوں کرتا ہے، مگر بادشاہ صرف مسکرا دیتا۔
ایک دن دربار میں ایک نایاب پھل پیش کیا گیا۔
پھل دیکھنے میں نہایت خوبصورت اور خوشبودار تھا۔ بادشاہ نے حسبِ معمول اُس پھل کا ایک ٹکڑا کاٹا اور محبت سے لڑکے کی طرف بڑھا دیا۔
لڑکے نے ادب سے سر جھکایا اور خاموشی سے پھل کھانے لگا۔
اُس کے چہرے پر نہ ناگواری تھی، نہ شکایت… بلکہ وہ سکون سے ہر لقمہ کھاتا رہا۔
بادشاہ نے مسکراتے ہوئے پوچھا:
“بیٹا! پھل کیسا ہے؟”
لڑکے نے فوراً جواب دیا:
“حضور! بہت مزیدار ہے۔”
بادشاہ اُس کے اطمینان کو دیکھ کر خوش ہوا۔
جب لڑکا پورا پھل کھا چکا تو بادشاہ نے خود ایک ٹکڑا منہ میں رکھا۔
مگر جونہی پھل زبان کو لگا، اُس کا چہرہ بدل گیا۔
اُس نے فوراً پھل تھوک دیا اور بے اختیار بولا:
“توبہ توبہ! یہ تو حد سے زیادہ کڑوا ہے!”
پھر حیرت اور تعجب سے اُس لڑکے کی طرف دیکھا اور کہا:
“بیٹا! یہ پھل تو اتنا کڑوا ہے کہ کھایا نہیں جا رہا…
تم نے اسے مزے سے کیسے کھا لیا؟
اور اوپر سے یہ بھی کہا کہ یہ بہت مزیدار ہے!”
لڑکے نے ادب سے نظریں جھکا لیں۔
چند لمحے خاموش رہا، پھر اُس کی آنکھوں میں نمی اُتر آئی۔
وہ دھیمی آواز میں بولا:
“حضور…
آپ نے مجھے ہمیشہ محبت دی…
بہترین کھانے کھلائے…
میٹھے پھل عطا کیے…
عزت دی… سہارا دیا…
حالانکہ میں اِس قابل بھی نہیں تھا۔”
لڑکے کی آواز بھرّا گئی۔
پھر اُس نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا:
“اگر آپ کے ہاتھ سے ایک دن کڑوا پھل بھی مل گیا…
تو مجھے شکایت کیسے ہو سکتی ہے؟
میں نے سوچا… جس ہاتھ سے ہمیشہ مٹھاس ملی ہو، اُس کی ایک کڑواہٹ بھی رحمت ہی ہوتی ہے۔”
یہ الفاظ سن کر دربار پر خاموشی چھا گئی۔
بادشاہ کی آنکھیں نم ہو گئیں، اور وہ دیر تک اُس لڑکے کو دیکھتا رہا۔
دوستو…
ذرا ایک لمحے کے لیے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں…
اللہ تعالیٰ نے ہمیں کتنی بے شمار نعمتیں عطا کر رکھی ہیں۔
سانس، صحت، رزق، خاندان، محبت، سکون…
ہم ہر روز اُس کی رحمتوں سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔
مگر جب زندگی میں ایک آزمائش، ایک تکلیف یا ایک پریشانی آتی ہے…
تو کیا ہم اُسے بھی اُسی رب کی رضا سمجھ کر صبر سے قبول کرتے ہیں؟
یا فوراً شکوہ، ناشکری اور بے صبری شروع کر دیتے ہیں؟
یاد رکھیں…
جس رب نے ہمیں ہزاروں خوشیاں دی ہیں، اگر وہ ایک آزمائش دے دے،
تو شاید اُس میں بھی ہماری بھلائی، تربیت اور کامیابی چھپی ہو۔
