ایک دھوکے باز گدھے کو جنگل کے قریب ایک مری ہوئی شیر کی کھال ملی۔ گدھے کے دماغ میں ایک شرارت سوجھی؛ اس نے وہ کھال اپنے اوپر اوڑھ لی اور ندی کے پانی میں اپنا عکس دیکھا۔ وہ بالکل ایک خوفناک شیر کی طرح لگ رہا تھا۔
گدھا جنگل کی طرف نکلا۔ اسے دیکھ کر تمام جانور، گائے، بھینسیں اور یہاں تک کہ لومڑیاں بھی اپنی جان بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگنے لگیں۔ گدھا یہ دیکھ کر دل ہی دل میں بہت خوش ہوا اور خود کو جنگل کا بادشاہ سمجھنے لگا۔ اب وہ جہاں بھی جاتا، سب جانور ڈر کے مارے اسے راستہ دے دیتے۔ گدھے کی تو جیسے لاٹری نکل آئی تھی، اسے بنا محنت کے ہر جگہ عزت مل رہی تھی۔
ایک دن، وہ اسی طرح شیر کی کھال پہن کر ایک کھیت کے پاس سے گزر رہا تھا۔ وہاں دور کچھ اور گدھے کھڑے تھے، جنہوں نے آسمان کی طرف منہ کر کے بلند آواز میں ہینچنا (braying) شروع کر دیا۔
اپنے بھائیوں کی آواز سن کر یہ گدھا بھی جذباتی ہو گیا۔ وہ بھول گیا کہ اس نے شیر کا روپ دھار رکھا ہے۔ اس نے بھی اپنا منہ کھولا اور پوری طاقت سے “ہیں۔۔۔ ہیں کوں۔۔۔ ہیں کوں۔۔۔” کرنا شروع کر دیا۔
پاس ہی کھڑی ایک چلاق لومڑی نے جب شیر کے منہ سے گدھے کی آواز سنی، تو وہ سارا ماجرا سمجھ گئی۔ لومڑی ہنستے ہوئے بقیہ جانوروں کے پاس گئی اور بولی: “ارے ڈرو مت! یہ کوئی شیر نہیں، بلکہ شیر کے روپ میں ایک بیوقوف گدھا ہے۔”
سب جانوروں کو اپنی حماقت پر غصہ آیا۔ انہوں نے مل کر اس گدھے کو گھیر لیا اور اس کی وہ پٹائی کی کہ گدھے کو نانی یاد آ گئی۔ وہ اپنی جان بچا کر وہاں سے بھاگا اور زندگی بھر دوبارہ شیر بننے کی کوشش نہیں کی۔
——————————
## اخلاقی سبق (Moral of the Story)
* شیر کی کھال پہننے سے کوئی گدھا شیر نہیں بن جاتا۔
* جھوٹ اور دھوکہ دہی کا پردہ ایک نہ ایک دن ضرور فاش ہو جاتا ہے۔
* اپنی اوقات سے بڑھ کر دکھاوا کرنا انسان کو صرف رسوائی دیتا ہے۔
Follow for More Amazing stories
