Tag Archives: bloganuary dailyprompt blogs

ایک زمانے میں ایک بادشاہ تھا جسے عجیب و غریب شوق پالنے کا بہت شوق تھا۔ایک دن اُس نے اعلان کیا:“ہم ایک ایسا شاندار تالاب بنوائیں گے جس کی مثال پوری سلطنت میں نہ ملے!”چند ہی دنوں میں محل کے سامنے ایک بہت بڑا اور خوبصورت تالاب تیار ہوگیا۔مگر بادشاہ کی شرارت ابھی باقی تھی۔افتتاح کے دن پورے ملک کے لوگ جمع ہوئے۔وزیر، سپاہی، سوداگر، فقیر، حتیٰ کہ بچے بھی تماشہ دیکھنے آگئے۔پھر بادشاہ نے حکم دیا:“تالاب میں سانپ چھوڑ دو!”“مگرمچھ بھی!”“اور وہ سب خطرناک جانور بھی… جنہیں دیکھ کر انسان کی روح کانپ جائے!”چند لمحوں میں پرسکون پانی خوفناک منظر بن گیا۔کہیں سانپ پھنکار رہے تھے، کہیں مگرمچھ پانی میں غوطے لگا رہے تھے، اور لوگ دور کھڑے کانپ رہے تھے۔بادشاہ تخت پر بیٹھا مسکرایا اور بلند آواز میں بولا:“سن لو میری شرط!جو شخص اس کنارے سے تیر کر دوسرے کنارے تک زندہ پہنچ گیا…میں اُسے منہ مانگا انعام…

Read more

ایک مشہور وکیل تھا جسے شکار اور مچھلی پکڑنے کا بے حد شوق تھا۔ ایک صاف اور خوشگوار ہفتے کی صبح اُس نے سوچا کہ آج کا دن شہر کے شور سے دور جنگل اور جھیل کے کنارے گزارا جائے۔وہ اپنی گاڑی میں بیٹھا اور لمبا سفر طے کرتے ہوئے ایک گھنے جنگل کے قریب واقع خوبصورت جھیل تک پہنچ گیا۔ جھیل کا منظر دلکش تھا، پانی شیشے کی طرح صاف تھا اور ٹھنڈی ہوا ماحول کو مزید حسین بنا رہی تھی۔وکیل نے بڑی امید کے ساتھ کانٹا ڈالا، مگر قسمت اُس کا ساتھ نہ دے سکی۔ کئی گھنٹے گزر گئے لیکن ایک بھی مچھلی ہاتھ نہ آئی۔ تھکا ہارا اور مایوس ہو کر اُس نے سامان سمیٹا اور واپسی کا ارادہ کیا۔اسی دوران اچانک اُس کی نظر قریب جھاڑیوں میں گھومتے ہوئے ایک موٹے تازے خرگوش پر پڑی۔ وکیل کی آنکھوں میں چمک آگئی۔ اُس نے فوراً بندوق سیدھی…

Read more

                       ایک مزاحیہ مگر گہرا سبق آموز واقعہ…! ایک شہر میں ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا۔صبح سویرے لوگوں نے دیکھا کہ قبرستان کے ایک کونے میں تازہ مٹی ڈالی گئی ہے۔تجسس بڑھا تو معلوم ہوا کہ کسی شخص نے اپنے کتے کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دیا ہے۔ یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے شہر میں پھیل گئی۔لوگ غصے سے بھر گئے اور سیدھے قاضی کے دربار جا پہنچے۔“قاضی صاحب! یہ تو قبرستان کی بے حرمتی ہے!”“اگر آج ایک کتا دفن ہوگیا، تو کل نہ جانے کیا ہوگا!”قاضی یہ سن کر آگ بگولہ ہوگیا۔فوراً حکم دیا:“اس گستاخ شخص کو فوراً میرے سامنے پیش کیا جائے!” ⚖️کچھ دیر بعد وہ شخص کانپتا ہوا دربار میں حاضر ہوا۔قاضی نے غصے سے میز پر ہاتھ مارا اور گرج کر بولا:“اے بدبخت! کیا یہ سچ ہے کہ تُو نے اپنے کتے کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا؟”…

Read more

اٹلی کا ایک بادشاہ حکومت اور دولت کے گھمنڈ میں غریب سے بات تک کرنا برا جانتا تھا۔ اس لیے اکثر لوگ اسے پسند نہیں کرتے تھے۔ ایک دن یہ شکار میں کسی جانور کے پیچھے گھوڑا ڈالے اتنی دور نکل گیا کہ نوکر چاکر سب بچھڑ گئے اور بادشاہ اکیلا رہ گیا۔اتنے میں ایک کسان نے بادشاہ کی رکاب پکڑ لی۔ اس کسان کی شکل ہوبہو بادشاہ سے ملتی تھی۔ فرق یہ تھا کہ اس کی پوشاک اور حالت غریبانہ تھی۔ کسان نے عرض کی۔ بادشاہ سلامت! میں تین دن سے حضور کی ڈیوڑھی پر بھوکا پیاسا چلا رہا ہوں مگر کوئی میری فریاد نہیں سنتا۔‘‘بادشاہ نے غریب کے میلے کپڑے دیکھ کر جھٹ ایک کوڑا لگا کر سامنے سے ہٹا دیا۔ کہ چل دور ہو۔ ہم ذلیل آدمیوں سے بات نہیں کر سکتے۔‘‘Alfaz Ki Shararat غریب کسان کوڑا کھا کر ہٹ تو گیا مگر پھر بھی آہستہ آہستہ…

Read more

پرانے زمانے کی بات ہے کہ ایک عظیم بادشاہ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں تھا۔ عمر بھر کی حکومت، فتوحات، خزانے اور رعایا، سب اس کی آنکھوں کے سامنے ایک ایک کر کے دھندلے ہو رہے تھے۔ موت کا وقت قریب تھا، اور اس کے دل میں صرف ایک ہی فکر باقی رہ گئی تھی: “مرنے کے بعد میری کیا حالت ہوگی؟” اس نے سلطنت کے ایک ایسے بزرگ کو بلایا جن کے بارے میں پورے ملک میں یہ یقین پایا جاتا تھا کہ ان کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی۔ جو وہ اللہ سے مانگ لیں، قبولیت کی راہ ضرور نکل آتی ہے۔بادشاہ نے نہایت عاجزی سے کہا: “اے بزرگ! میرے لیے دعا کریں کہ مرنے کے بعد مجھے جنت نصیب ہو۔ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت میں جگہ عطا فرما دے۔”اس بزرگ نے نہایت ادب سے عرض کیا: “حضور! آپ جو بھی حکم فرمائیں، میں کرنے کو…

Read more

ایک پرانی سلطنت تھی جہاں کا بادشاہ اپنی سنگ دلی اور ظلم کی وجہ سے دور دور تک مشہور تھا۔اس کی آنکھوں میں عجیب سی سختی تھی اور لہجے میں ایسا غرور کہ دربار میں کھڑے لوگ سانس بھی ناپ کر لیتے تھے۔وہ جب کوئی حکم دیتا، تو خود سے زیادہ اس کے اردگرد بیٹھے وزیر، مشیر اور امراء بے چین ہو جاتے۔ کیونکہ اصل مقابلہ حکم ماننے کا نہیں تھابلکہ بادشاہ کی خوشنودی حاصل کرنے کا تھا۔ اگر بادشاہ کہتا: “ٹیکس بڑھا دو” تو وزیر سوچتا: “اگر میں نے صرف ٹیکس بڑھایا تو شاید بادشاہ متاثر نہ ہو کیوں نہ دگنا بڑھا دوں؟” پھر وزیر کے نیچے قاضی، کوتوال اور افسر سوچتے: “اگر ہم نے صرف وزیر کا حکم مانا تو ہم عام نوکر رہ جائیں گے، کیوں نہ اس سے بھی زیادہ سختی کریں تاکہ وزیر ہم سے خوش ہو جائے؟” پھر سپاہیوں کی باری آتی۔ وہ سوچتے:…

Read more

بغداد کی عظیم سلطنت…شام ڈھل چکی تھی۔ شاہی محل کے بلند و بالا ستونوں پر سنہری مشعلیں روشن تھیں۔ دربار پوری شان و شوکت کے ساتھ سجا ہوا تھا۔تختِ شاہی پر ایک عظیم بادشاہ جلوہ افروز تھا۔ امیر، وزیر، سپاہی اور درباری ادب سے سر جھکائے کھڑے تھے۔ بادشاہ رعایا کے مقدمات سن رہا تھا کہ اچانک دربار کا چوب دار جھکتا ہوا آگے بڑھا۔“حضور والا! ایک مشہور نجومی بارگاہ میں حاضر ہونے کی اجازت چاہتا ہے۔”بادشاہ کو داناؤں، حکیموں اور نجومیوں سے گفتگو کا بے حد شوق تھا۔ اس نے فوراً حکم دیا:“اُسے فوراً ہمارے سامنے پیش کیا جائے!”چند لمحوں بعد ایک لمبا چوڑا شخص، قیمتی لباس پہنے، ہاتھ میں ستاروں کی کتاب لیے دربار میں داخل ہوا۔ اُس کی آنکھوں میں عجیب غرور اور چہرے پر خود اعتمادی تھی۔ وہ جھک کر بولا:“سلام ہو بادشاہ سلامت پر!”بادشاہ نے گہری نظر سے اُسے دیکھا اور کہا:“اگر تم واقعی علمِ…

Read more

ایک بہت بڑے جنگل میں ایک ظالم شیر رہتا تھا۔ وہ روزانہ کئی بے گناہ جانوروں کا شکار کرتا تھا۔ جنگل کے تمام جانور اس سے خوفزدہ تھے، چنانچہ ایک دن سب نے مل کر شیر سے ایک معاہدہ کیا:“اے جنگل کے راجا! آپ روزانہ اتنے جانور مار دیتے ہیں۔ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم روزانہ خود ایک جانور آپ کے پاس بھیج دیا کریں گے، تاکہ آپ کو شکار کی محنت نہ کرنی پڑے اور ہم بھی سکون سے رہ سکیں۔”شیر مان گیا اور روزانہ ایک جانور اس کی خوراک بننے لگا۔خرگوش کی باریایک دن ایک خرگوش کی باری آئی۔ وہ قد میں چھوٹا تھا لیکن عقل میں بہت تیز۔ اس نے سوچا کہ مرنا تو ہے ہی، کیوں نہ اس ظالم سے چھٹکارا پانے کی کوئی تدبیر کی جائے۔ وہ جان بوجھ کر شیر کے پاس بہت دیر سے پہنچا۔شیر بھوک سے پاگل ہو رہا تھا، اس…

Read more

جنگل کی تاریخ میں یہ پہلی بار نہیں تھا کہ کسی بادشاہ کو اپنی اولاد کی فکر لاحق ہوئی ہو، مگر شیرنی کی پریشانی کچھ الگ تھی۔اسے اپنے بیٹے سے بے حد محبت تھی، اور شاید یہی وجہ تھی کہ وہ اس کی ہر کمزوری کو وقت سے پہلے بھانپ لیتی تھی۔ شیر کا بچہ بہادر تو بہت تھا، مگر پڑھائی کے نام پر اس کی جان نکلتی تھی۔جیسے ہی استاد الو کتاب کھولتا، اس کی نظریں درختوں پر بیٹھے طوطوں کی طرف چلی جاتیں۔جب ریاضی کا سبق شروع ہوتا تو وہ چیونٹیوں کی قطاریں گننے لگ جاتا۔اور جب تاریخ پڑھائی جاتی تو وہ جماہی لے کر زمین پر لیٹ جاتا۔ شیر کو اس سب سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا تھا۔ وہ اکثر ہنستے ہوئے کہتا: “ارے چھوڑو بھی، آخر کو بادشاہ ہی بننا ہے۔تاج پہننے کیلئے ڈگری نہیں، پنجہ چاہیے ہوتا ہے۔ مگر شیرنی ہر بار خاموش ہو…

Read more

ایک دن ایک حکمران اپنے محل کے بلند و بالا کمرے میں آرام فرما رہا تھا کہ باہر سے ایک دیہاتی کی صدا سنائی دی:“سیب لیجیے! تازہ سیب!” حاکم نے کھڑکی سے جھانکا تو دیکھا کہ ایک یمنی کسان — چہرے پر دھوپ سے جھلسی جھریاں، سادہ عمامہ اور گرد آلود چغہ پہنے — اپنے نحیف گدھے پر دونوں طرف دو ٹوکریاں لادے بازار کی طرف جا رہا ہے، جن میں سرخ و رسیلے سیب بھرے ہوئے ہیں۔ بادشاہ کے دل میں سیب کھانے کی خواہش جاگی۔ اُس نے وزیر کو بلایا اور حکم دیا:“خزانے سے پانچ سونے کے سکے لے لو اور میرے لیے ایک بہترین سیب لاؤ!” وزیر نے خزانے سے پانچ سکے نکالے اور اپنے معاون سے کہا:“یہ چار سونے کے سکے لے لو، اور بادشاہ سلامت کے لیے ایک سیب خرید لاؤ۔” معاون نے تین سکے رکھے، باقی محل کے منتظم کو دیے اور کہا:“یہ تین…

Read more

رات کی خاموشی میں، جب ہوا بھی دبے قدموں چل رہی تھی، ایک سیاہ سایہ زمین پر رینگتا ہوا ایک ننھے خرگوش کے بل تک پہنچا…وہ ایک سانپ تھا۔بل کے اندر، معصوم خرگوش ایک دوسرے سے لپٹے بیٹھے تھے۔ اچانک، دروازے پر ہلکی سی سرسراہٹ ہوئی… اور پھر ایک نرم، مگر عجیب سی آواز گونجی:“ڈرو مت… میں تمہیں نقصان نہیں پہنچانا چاہتا…”خرگوشوں کے دل تیزی سے دھڑکنے لگے۔ انہوں نے پہلے کبھی اپنے گھر میں کسی شکاری کو نہیں دیکھا تھا۔سانپ نے اپنی آواز میں اور بھی مٹھاس گھول دی:“میں اکیلا ہوں… بہت اکیلا… اس دنیا میں میرا کوئی نہیں۔ میں صرف تھوڑی سی محبت چاہتا ہوں… تھوڑی سی اپنائیت…”اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں، جیسے اندھیرے میں دو جلتے ہوئے چراغ۔“میرے پاس صدیوں کی حکمت ہے… کہانیاں ہیں… راز ہیں… اگر تم چاہو تو میں تمہیں سب سنا سکتا ہوں…”خرگوش ایک دوسرے کو دیکھنے لگے… خوف اور ہمدردی کے…

Read more

خدا کی کرنی یہ ہوئی کہ چوہے اور مینڈک میں ایک ندی کے کنارے دوستانہ ہوگیا۔ دونوں کے دونوں ہر صبح وقتِ مقررہ پر ایک جگہ جمع ہوجاتے تھے۔ دونوں کا دل باہمی میل جول سے کشادہ ہوتاتھا اور آپس میں ایک دوسرے سے بات چیت اور قصہ بازی ہوتی تھی۔ یہ محبت یہاں تک بڑھی کہ چوہے نے مینڈک سے کہا پیارے دوست میں اس تھوڑے سے مقررہ وقت میں جی بھر کر تجھ سے حکایتیں بیان نہیں کرسکتا۔ نماز تو پانچ وقت کی فرض ہے۔ لیکن عاشقوں کا حال یہ ہے کہ وہ ہمیشہ نماز میں ہیں۔ وہ نشہ پانچ نمازوں سے قائم نہیں رہتا۔ تیرا مکھڑا دیکھے بغیر ایک دم کو بھی چین نہیں۔ یہ عین مروت ہوگی اگر تو مجھے خوش کرےاور وقت بے وقت اپنی مہر بانی سے مجھے یاد کرتا رہے۔ تو نے پورے دن میں صبح سویرے ایک وقت ملنے کا مقرر کیا…

Read more

ایک شخص طبیب کے پاس گیا اور کہا کہ ذرا میری نبض دیکھ دیجئے۔ طبیب نے نبض ہاتھ میں لی اور جان گیا کہ اس مریض کی صحت کی امید نہیں۔ اس سے کہا کہ جو تیرے جی میں آئے وہ کر، تاکہ جسم سے یہ بیماری جاتی رہے۔ اس مرض کے لئے صبر و پرہیز کو نقصان سمجھ اور جس کام کو تیرا دل چاہے وہ ضرور کر۔بیمار نے کہا کہ خدا تجھے اچھا رکھے۔ اے بھائی اب تو میں نہر کے کنارے جاتاہوں۔ نہر کے کنارے ایک صوفی بیٹھا ہاتھ منہ دھو رہاتھا۔ یکایک جو اس مریض کے جی میں آیا اور صوفی کی گدی پر ایک چانٹے کا ہاتھ صاف کیا۔ کیونکہ اس نے سوچا کہ چانٹا لگانے کی رغبت ہے۔ اب اس رغبت کو پورا نہ کروں گا تو طبیب کہہ چکا ہے کہ بیماری بڑھ جائے گی۔ جو نہی اس نے تڑاق سے اسے چانٹا…

Read more

ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺩﺳﺘﺮ ﺧﻮﺍﻥ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ، ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺎﺹ ﻟﻮﮔﻮﮞ کو ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﺩﯼﺟﺐ ﺩﺳﺘﺮﺧﻮﺍﻥ ﻟﮓ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺧﺎﺩﻡ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻨﺪﮬﮯ ﭘﺮ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺭﮐﺎﺑﯽ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﯾﺎ؛ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﻮﺍ ﺗﻮﺍﺱ ﭘﺮ ﮨﯿﺒﺖ ﻃﺎﺭﯼ ﮨﻮگئی، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﭘﺎﺅﮞ ﭘﮭﺴﻞ ﮔﯿﺎﺍﻭﺭ ﺭﮐﺎﺑﯽ ﺳﮯ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﺷﻮﺭﺑﺎ ﮔﺮ ﮐﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭘﺮ ﻟﮓ ﮔﯿﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻏﺼﮯ ﺳﮯ ﺁﮒ ﺑﮕﻮﻟﮧ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ۔ﺍﻭﺭ ﺧﺎﺩﻡ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﮮ ﺩﯾﺎﺧﺎﺩﻡ ﻧﮯ ﺟﺐ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﻃﯿﺶ ﺩﯾﮑﮭﺎﺍﻭﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﻋﺰﻡ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﻭﺍﺿﺢ ﮨﻮﮔﯿﺎ ۔ﺗﻮ ﺭﮐﺎﺑﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺳﺎﺭﺍ ﺷﻮﺭﺑﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺍﻧﮉﯾﻞ ﺩﯾﺎ ۔ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﻏﺮﺍﮐﺮ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ ﺍﺭﮮ ﺗﯿﺮﯼ ﺑﺮﺑﺎﺩﯼ ﮨﻮ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﮨﮯ؟ﺧﺎﺩﻡ ﻧﮯ ﻋﺎﺟﺰﺍﻧﮧ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ:ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ!  ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺣﺮﮐﺖ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﻭﺷﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﻏﯿﺮﺕ ﮐﮯ ﺗﺤﻔﻆ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﯽ ﮨﮯﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﻭﮦ ﮐﯿﺴﮯ؟ ﺧﺎﺩﻡ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ:ﻣﺠﮭﮯ…

Read more

34/34
NZ's Corner