بلاعنوان

بلاعنوان

ایک پرانی سلطنت تھی جہاں کا بادشاہ اپنی سنگ دلی اور ظلم کی وجہ سے دور دور تک مشہور تھا۔
اس کی آنکھوں میں عجیب سی سختی تھی اور لہجے میں ایسا غرور کہ دربار میں کھڑے لوگ سانس بھی ناپ کر لیتے تھے۔
وہ جب کوئی حکم دیتا، تو خود سے زیادہ اس کے اردگرد بیٹھے وزیر، مشیر اور امراء بے چین ہو جاتے۔

کیونکہ اصل مقابلہ حکم ماننے کا نہیں تھا
بلکہ بادشاہ کی خوشنودی حاصل کرنے کا تھا۔

اگر بادشاہ کہتا:

“ٹیکس بڑھا دو”

تو وزیر سوچتا: “اگر میں نے صرف ٹیکس بڑھایا تو شاید بادشاہ متاثر نہ ہو کیوں نہ دگنا بڑھا دوں؟”

پھر وزیر کے نیچے قاضی، کوتوال اور افسر سوچتے:

“اگر ہم نے صرف وزیر کا حکم مانا تو ہم عام نوکر رہ جائیں گے، کیوں نہ اس سے بھی زیادہ سختی کریں تاکہ وزیر ہم سے خوش ہو جائے؟”

پھر سپاہیوں کی باری آتی۔

وہ سوچتے: “اگر ہم نے رحم کیا تو شاید ہمیں کمزور سمجھا جائے، کیوں نہ اور زیادہ سختی کی جائے؟”

اور یوں ایک حکم، جو اوپر صرف ایک جملہ تھا، نیچے پہنچتے پہنچتے عذاب بن جاتا۔

بادشاہ کہتا: “ٹیکس لو”

اور نیچے والے لوگوں کے برتن تک اٹھا لے جاتے۔

بادشاہ کہتا: “قانون قائم کرو”

اور سپاہی لوگوں کو سڑکوں پر گھسیٹتے پھرتے۔

بادشاہ کہتا: “بغاوت نہ ہو”

اور وزیر ہر خاموش آدمی کو بھی باغی سمجھنے لگتے۔

ریاست میں ظلم صرف اس لیے نہیں پھیل رہا تھا کہ بادشاہ ظالم تھا۔
بلکہ اس کے نیچے پوری ایک زنجیر تھی، جہاں ہر شخص اوپر والے کو خوش کرنے کے لیے نیچے والوں پر اپنی طاقت سے بڑہ کر سختی کرتا تھا۔

سب سے اوپر بادشاہ تھا۔
اس کے نیچے وزیرِاعظم اور بڑے مشیر تھے۔
وزیروں کے نیچے صوبہ دار اور حاکم تھے،
جو پورے پورے علاقوں کے مالک بنے بیٹھے تھے۔

ان کے نیچے قاضی اور کوتوال تھے،
جو قانون اور سزا کے نام پر لوگوں کی زندگیاں تنگ کرتے تھے۔

پھر ان کے نیچے محصول لینے والے اہلکار تھے،
جو ٹیکس کے نام پر غریبوں کے گھروں اور زمینوں تک پر قبضہ کر لیتے تھے۔

ان کے نیچے فوجی افسر تھے،
جو حکم کے نام پر رعایا میں خوف پھیلاتے تھے۔

اور سب سے نیچے عام سپاہی تھے،
جن کے ہاتھوں میں لاٹھیاں تھیں اور دلوں میں ترقی کی خواہش۔

اوپر سے حکم صرف ایک آتا تھا
مگر نیچے ہر شخص اس حکم میں اپنی طرف سے مزید ظلم شامل کر دیتا تھا تاکہ اوپر والا اس سے خوش ہو جائے۔

اور یوں ایک حکم،
جو اوپر صرف الفاظ تھا،
نیچے پہنچتے پہنچتے ظلم کی آگ بن جاتا تھا۔

ریاست میں اصل تباہی صرف بادشاہ نہیں تھا،
بلکہ وہ ہزاروں لوگ تھے جو اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشوں، انعاموں، عہدوں اور ترقیوں کے لیے ظلم کو بڑھاتے چلے جاتے تھے۔

ہر شخص یہ چاہتا تھا کہ:

“بادشاہ مجھ سے خوش ہو جائے”

اور اسی خوشنودی کی دوڑ میں ظلم بڑھتا چلا گیا۔

لوگ تنگ آ گئے۔

بازاروں میں خاموشی رہنے لگی۔
کھیت سنسان ہونے لگے۔
دعائیں بددعاؤں میں بدل گئیں۔

آخر ایک رات پوری ریاست کے لوگوں نے مل کر دعا کی:

“اے خدا! ہمیں اس ظالم بادشاہ سے نجات دے۔

قدرت کو بھی یہی کچھ منظور تھا۔
اگلی صبح خبر پھیلی:

“بادشاہ مر گیا!”

پورے ملک میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

لوگوں نے مٹھائیاں بانٹیں، سجدے کیے، اور سمجھا کہ اب سکون آئے گا۔

لیکن چند دن بعد نیا بادشاہ تخت پر بیٹھا،
اور وہ پہلے سے بھی زیادہ ظالم نکلا۔

اب حکم پہلے سے زیادہ سخت تھے۔
اور نیچے والوں کی چاپلوسی پہلے سے زیادہ خطرناک۔

وزیر سوچتے: “پچھلا بادشاہ تو مر گیا، اب نئے بادشاہ کو نئے سرے سے خوش کرنا پڑے گا۔
اس لیے ظلم پہلے سے دگنا ہو گیا۔

لوگ پھر اکٹھے ہوئے۔
انہوں نے پھر دعا کی:
“یا اللہ! اس بادشاہ سے بھی ہمیں نجات دے۔
خدا تعالی کا کرنا کچھ یوں ہوا کہ اگلے دن دوسرا بادشاہ بھی مر گیا۔

مگر تیسرے بادشاہ کے آنے کے بعد بھی حالات نہ بدلے۔

ظلم وہی تھا۔
چیخیں وہی تھیں۔
سپاہی وہی تھے۔
قاضی وہی تھے۔
وزیر وہی تھے۔

صرف تخت پر بیٹھا چہرہ بدلتا تھا۔

پھر ایک دن ایک بوڑھا درویش بازار میں کھڑا ہوا اور بولا:

“تم لوگ دعا غلط مانگ رہے ہو!”

لوگ حیران ہوئے۔

“کیا مطلب؟”

درویش بولا:

“تم ہر بار بادشاہ کے مرنے کی دعا کرتے ہو،
حالانکہ ظلم صرف بادشاہ نہیں کرتا۔”

“ظلم وہ ہاتھ بھی کرتے ہیں جو اس کے حکم کو بڑھا چڑھا کر نافذ کرتے ہیں۔”

“اگر بادشاہ اکیلا رہ جائے، تو اس کا ظلم اس کے محل کی دیواروں سے باہر نہیں نکل سکتا۔”

“اصل خطرہ وہ لوگ ہیں جو اپنی ترقی، انعام اور خوشنودی کے لیے ظلم کو عبادت بنا لیتے ہیں۔”

لوگ خاموش ہو گئے۔

پھر اس رات پہلی بار لوگوں نے دعا کے الفاظ بدلے۔

انہوں نے کہا:

“اے خدا! ہمیں ظالم بادشاہ سے نہیں، ظلم کے نظام سے نجات دے۔”

کہتے ہیں اگلی صبح عجیب واقعہ ہوا۔

بادشاہ زندہ تھا،
مگر اس کے اردگرد کے اکثریت ظالم وزیر، قاضی، کوتوال اور جابر افسر مر چکے تھے۔

جو باقی بچے، ان میں خوف پیدا ہو گیا۔

اب بادشاہ حکم دیتا تو یہ لوگ ویسے اندھے ہو کر عمل نہ کرتے۔

اگر وہ کہتا: “لوگوں پر سختی کرو”

تو نیچے والے کہتے: “حضور، قانون اجازت نہیں دیتا۔”

اگر وہ کہتا: “سب کچھ چھین لو”
تو قاضی جواب دیتا: “یہ ظلم ہوگا۔”

پہلی بار بادشاہ اکیلا پڑ گیا۔

اور تب لوگوں نے دیکھا کہ ایک اکیلا ظالم اتنا خطرناک نہیں ہوتا،
جتنا خطرناک وہ ہجوم ہوتا ہے جو اس کے ظلم کو اپنے ہاتھوں سے طاقت دیتا ہے۔

کیونکہ ظلم صرف تخت سے پیدا نہیں ہوتا،
وہ ان ہزاروں ہاتھوں سے پھیلتا ہے جو اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشوں، ترقیوں اور خوشنودیوں کے لیے اسے اٹھا لیتے ہیں۔

اور جب وہ ہاتھ رک جائیں،
تو بڑے سے بڑا ظلم بھی الفاظ سے آگے نہیں بڑھ پاتا۔

اخلاقی سبق:

یہ کہانی ہمیں ایک نہایت گہری حقیقت سمجھاتی ہے کہ ظلم صرف اوپر بیٹھا ہوا ایک شخص پیدا نہیں کرتا، بلکہ پورا وہ نظام اسے زندہ رکھتا ہے جو اس کے حکم کو اپنے مفاد کے لیے بڑھا چڑھا کر نافذ کرتا ہے۔

اصل مسئلہ صرف “بادشاہ” نہیں ہوتا، بلکہ وہ ذہنیت ہوتی ہے جو طاقت کے قریب رہ کر انسان کو انصاف کے بجائے خوشنودی کے پیچھے لگا دیتی ہے۔

جب ہر شخص یہ سوچنے لگے کہ “میں نے اوپر والے کو خوش کرنا ہے”، تو انصاف آہستہ آہستہ مر جاتا ہے اور ظلم ایک نظام بن جاتا ہے۔

طاقتور کے حکم کو اندھا دھند بڑھا چڑھا کر نافذ کرنا، دراصل ظلم کو مضبوط کرنا ہے۔
اور سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ: “ظلم کبھی اکیلا نہیں چلتا، اسے چلانے والے ہمیشہ بہت سے ہاتھ ہوتے ہیں۔”

📌 سبق یہ ہے کہ اگر معاشرے میں انصاف قائم کرنا ہے تو صرف حکمران نہیں بدلنے چاہئیں، بلکہ ہر اس فرد کو بدلنا ضروری ہے جو اختیار کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

اور جب ہر سطح پر انسان “خوشنودی” کے بجائے “انصاف” کو ترجیح دینے لگے، تب ہی ایک حقیقی تبدیلی ممکن ہوتی ہے

Leave a Reply

NZ's Corner