جنگل کی تاریخ میں یہ پہلی بار نہیں تھا کہ کسی بادشاہ کو اپنی اولاد کی فکر لاحق ہوئی ہو، مگر شیرنی کی پریشانی کچھ الگ تھی۔
اسے اپنے بیٹے سے بے حد محبت تھی، اور شاید یہی وجہ تھی کہ وہ اس کی ہر کمزوری کو وقت سے پہلے بھانپ لیتی تھی۔
شیر کا بچہ بہادر تو بہت تھا، مگر پڑھائی کے نام پر اس کی جان نکلتی تھی۔
جیسے ہی استاد الو کتاب کھولتا، اس کی نظریں درختوں پر بیٹھے طوطوں کی طرف چلی جاتیں۔
جب ریاضی کا سبق شروع ہوتا تو وہ چیونٹیوں کی قطاریں گننے لگ جاتا۔
اور جب تاریخ پڑھائی جاتی تو وہ جماہی لے کر زمین پر لیٹ جاتا۔
شیر کو اس سب سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا تھا۔
وہ اکثر ہنستے ہوئے کہتا:
“ارے چھوڑو بھی، آخر کو بادشاہ ہی بننا ہے۔
تاج پہننے کیلئے ڈگری نہیں، پنجہ چاہیے ہوتا ہے۔
مگر شیرنی ہر بار خاموش ہو جاتی۔
وہ جانتی تھی کہ دنیا اب پہلے جیسی نہیں رہی۔
صرف طاقت کافی نہیں ہوتی، عقل بھی چاہیے ہوتی ہے۔
ورنہ ایک دن کوئی چالاک لومڑی یا مکار بھیڑیا اس کے بیٹے کو بہلا پھسلا کر پورا جنگل اس کے ہاتھوں سے لے جائے گا۔
اس نے بہت کوششیں کیں۔
کبھی پیار سے سمجھایا۔
کبھی غصہ کیا۔
کبھی انعام رکھے۔
کبھی ڈرایا۔
مگر شیر کا بچہ دو دن پڑھتا، تیسرے دن پھر غائب۔
آخرکار ایک دن شیرنی نے ایک عجیب ترکیب سوچی۔
جنگل کے شمالی کنارے پر ایک بہت اونچی چٹان تھی۔
اتنی اونچی کہ وہاں بیٹھا جانور پورے جنگل کو دیکھ سکتا تھا۔
اور اس چٹان پر برسوں سے ایک بندر بیٹھا دکھائی دیتا تھا۔
وہ ہر صبح سورج نکلنے سے پہلے وہاں آ جاتا۔
ٹانگیں لٹکائے، دم ہلاتے، کبھی درختوں کو دیکھتا، کبھی آسمان کو۔
پورا دن وہیں گزارتا اور شام ہوتے ہی خاموشی سے جنگل میں کہیں غائب ہو جاتا۔
جنگل کے اکثر جانور اسے پاگل سمجھتے تھے۔
کچھ کہتے وہ فقیر ہے۔
کچھ کہتے کسی زمانے میں بڑا عالم تھا۔
اور کچھ تو یہاں تک کہتے کہ اس پر دیوتاؤں کا سایہ ہے۔
شیرنی نے ایک دن اپنے بچے کو چٹان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
“وہ بندر دیکھ رہے ہو؟”
شیر کے بچے نے ڈرتے ڈرتے سر ہلایا۔
شیرنی نے آہستہ آواز میں کہا:
“یہ عام بندر نہیں ہے۔
یہ دیوتاؤں کی طرف سے مقرر کیا گیا نگران ہے۔
پورے جنگل پر نظر رکھتا ہے۔
اور خاص طور پر اُن بچوں پر، جو پڑھائی نہیں کرتے۔”
شیر کے بچے کی آنکھیں پھیل گئیں۔
“پھر وہ کیا کرتا ہے؟”
شیرنی نے معنی خیز خاموشی کے بعد کہا:
“ایسے بچوں کو اٹھا لے جاتا ہے”
اس دن کے بعد پہلی بار شیر کا بچہ خود وقت پر پڑھنے جانے لگا۔
اب وہ صبح جلدی اٹھتا۔
راستے میں بار بار چٹان کی طرف دیکھتا۔
اور جب بھی بندر کو اپنی طرف دیکھتے پاتا، فوراً کتاب کھول لیتا۔
وقت گزرتا رہا۔
دن مہینوں میں، مہینے برسوں میں بدل گئے۔
پھر ایک دن شیرنی اس دنیا سے رخصت ہو گئی۔
جنگل کئی دن سوگ میں ڈوبا رہا۔
مگر وقت، دکھ سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔
وہ سب کو آگے دھکیل دیتا ہے۔
شیر کا بچہ جوان ہوا۔
اور پھر ایک دن پورے جنگل کا بادشاہ بن گیا۔
مگر بادشاہ بنتے ہی اسے احساس ہوا کہ تاج پہننا آسان ہے، سنبھالنا نہیں۔
جنگل میں مسائل بڑھنے لگے۔
کہیں پانی کا جھگڑا۔
کہیں خوراک کی کمی۔
کہیں سرحدی خطرات۔
کہیں بغاوت کی سرگوشیاں۔
وزیر لومڑی ہر وقت پریشان رہتی۔
بھیڑیے مشورے دیتے دیتے خود الجھ جاتے۔
ہاتھی فوج بڑھانے کا کہتے۔
گینڈے حملے کا مشورہ دیتے۔
مگر مسائل تھے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتے تھے۔
ایک دن بادشاہ شیر دربار سے واپس آ رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر اُس پرانی چٹان پر پڑی۔
اور وہ چونک گیا۔
وہی بندر،
اب بوڑھا ہو چکا تھا۔
بال سفید ہو گئے تھے۔
چہرے پر جھریاں تھیں۔
مگر وہ اب بھی ویسے ہی بیٹھا تھا۔
اسی سکون سے۔
اسی خاموشی سے۔
شیر کچھ لمحے اسے دیکھتا رہا۔
پھر اچانک اسے اپنی ماں کی بات یاد آ گئی۔
“یہ دیوتاؤں کی طرف سے مقرر کیا گیا جنگل کا نگران ہے”
شیر کے دل میں ایک عجیب سا یقین پیدا ہوا۔
اس نے سوچا:
“اگر یہ واقعی دیوتاؤں سے رابطہ رکھتا ہے، تو شاید یہی ہمارے مسائل حل کر سکتا ہے۔”
اسی وقت اس نے سپاہیوں کو حکم دیا:
“فوراً انہیں دربار میں لایا جائے۔
اگلے دن پورا دربار حیرت میں ڈوبا ہوا تھا۔
وہی بوڑھا بندر آہستہ آہستہ چلتا ہوا اندر داخل ہوا۔
وزیر، مشیر، سپاہی، سب اسے حیرت سے دیکھ رہے تھے۔
شیر خود تخت سے نیچے اترا اور احترام سے اسے اپنے قریب بٹھایا۔
پھر بولا:
“ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہماری حکومت میں شامل ہو جائیں۔”
پورا دربار دنگ رہ گیا۔
لومڑی وزیر نے حیرت سے شیر کو دیکھا، مگر خاموش رہی۔
بندر نے تھوڑی دیر سوچنے کے بعد کہا:
“میں ایک شرط پر مانوں گا۔”
“کیسی شرط؟” شیر نے فوراً پوچھا۔
“میں رات کو کوئی کام نہیں کروں گا۔
جیسے ہی اندھیرا ہوگا، میں سب چھوڑ کر چلا جاؤں گا۔”
شیر نے فوراً ہامی بھر لی۔
اسے یقین تھا کہ بڑے لوگ اکثر عجیب شرطیں رکھتے ہیں۔
مگر اصل حیرت تو اگلے دن ہوئی۔
شام ہونے سے پہلے خبر آئی کہ پڑوسی جنگل کی فوجیں حملے کیلئے روانہ ہو چکی ہیں۔
ان کی تعداد اس جنگل سے کئی گنا زیادہ تھی۔
دربار میں خوف پھیل گیا۔
لومڑی وزیر گھبرا کر شیر کے پاس آئی:
“حضور! دشمن سر پر کھڑا ہے۔
مگر شیر حیرت انگیز طور پر پرسکون تھا۔
وہ بولا:
“فکر نہ کرو، صبح ہونے دو۔
بندر آئے گا تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔”
لومڑی حیران رہ گئی۔
پوری رات دربار میں بے چینی رہی۔
مگر شیر اطمینان سے سو گیا۔
اگلی صبح سب دربار میں جمع تھے۔
ہر کسی کی نظریں دروازے پر تھیں۔
آخرکار بندر اندر داخل ہوا۔
شیر خوشی سے اٹھ کھڑا ہوا۔
اسے قریب بٹھایا۔
اور پوری صورتحال تفصیل سے بیان کر دی۔
سب خاموش ہو گئے۔
دربار میں ایسا سکوت چھا گیا جیسے ہر کوئی کسی معجزے کا انتظار کر رہا ہو۔
بندر نے سر کھجانا شروع کیا۔
جس پر لومبڑی بولی حضور کچھ کیجئے دشمن سر پر کھڑا ہے۔
جس پر بندر اچانک اٹھا،
اور دوڑنے لگا۔
کبھی ایک ستون پر چڑھتا۔
کبھی دوسرے پر کودتا۔
کبھی درخت کی شاخ پر لٹکتا۔
کبھی قلابازیاں کھاتا۔
پہلے تو سب خاموشی سے دیکھتے رہے۔
کچھ دیر بعد لومڑی نے آہستہ سے کہا:
“شاید کوئی روحانی عمل ہو رہا ہے”
ہاتھی نے سر ہلایا:
“بڑے لوگ عجیب انداز رکھتے ہیں”
مگر جب آدھا گھنٹہ گزر گیا اور بندر اب بھی اچھل کود میں مصروف تھا تو شیر نے حیران ہو کر پوچھا:
“حضور، آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟”
بندر رکا۔
ہانپتے ہوئے بولا:
“جو میں کر سکتا ہوں، وہی کچھ تو کر رہا ہوں۔”
شیر نے حیرت سے کہا:
“مگر آپ کا دیوتاؤں سے رابطہ؟
آپ تو ان سے مدد مانگ سکتے ہیں، جنگ کیلئے۔
بندر چند لمحے خاموش رہا۔
پھر اس نے حیرانی سے پوچھا:
“دیوتاؤں سے رابطہ؟ یہ آپ کو کس نے کہا؟”
شیر نے پوری کہانی سنا دی۔
اپنی ماں کی باتیں
بچپن کا خوف
اور برسوں کا یقین۔
کہانی ختم ہوئی تو بندر زور زور سے ہنسنے لگا۔
اتنا ہنسا کہ اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔
پھر اس نے بمشکل خود کو سنبھالتے ہوئے کہا:
“حضور، حقیقت یہ ہے کہ میرا کوئی دیوتاؤں سے رابطہ نہیں۔”
شیر نے پھر پوچھا:
“پھر آپ برسوں سے اُس اونچی چٹان پر کیوں بیٹھتے رہے؟”
بندر نے لمبی سانس لی، پھر ہلکا سا ہنس کر بولا:
“حضور، سچ پوچھیں تو میرے پاس کرنے کو کوئی خاص کام تھا ہی نہیں۔
نہ میرا کوئی خاندان تھا، نہ کوئی ذمہ داری۔
شروع شروع میں ایک دن یونہی جا کر اُس چٹان پر بیٹھ گیا تھا۔
وہ جگہ اونچی تھی، وہاں ٹھنڈی ہوا چلتی تھی، پورا جنگل دکھائی دیتا تھا، تو دل کو سکون ملتا تھا۔”
وہ چند لمحے رکا، پھر مسکرا کر بولا:
“پھر آہستہ آہستہ عادت بن گئی۔
میں ہر صبح وہاں جا کر بیٹھ جاتا، درختوں کو دیکھتا، پرندوں کی آوازیں سنتا، سورج نکلتا دیکھتا اور شام ہونے پر واپس چلا جاتا۔
بس، پوری کہانی یہی ہے۔”
دربار میں خاموشی پھیل گئی۔
بندر نے شیر کی طرف دیکھتے ہوئے مزید کہا:
“مگر انسان ہو یا جانور، جب وہ کسی چیز کو سمجھ نہیں پاتا تو خود ہی اس کے گرد کہانیاں بنا لیتا ہے۔
کسی نے کہا میں فقیر ہوں، کسی نے کہا دیوتاؤں کا نمائندہ۔
اور شاید آپ کی والدہ نے بھی آپ کو پڑھائی کی طرف لانے کیلئے اسی کہانی کا سہارا لیا۔”
شیر کچھ دیر خاموش رہا۔
پھر اس کی نگاہیں جھک گئیں۔
اسے پہلی بار احساس ہوا کہ وہ برسوں جس شخصیت کو معجزہ سمجھتا رہا تھا وہ دراصل ایک فارغ بندر تھا، جو صرف سکون کیلئے ایک اونچی جگہ پر بیٹھا کرتا تھا۔
اور اصل دانائی بندر میں نہیں،
اس کی ماں میں تھی۔
اخلاقی سبق:
اکثر دنیا میں لوگ بالخصوص ہمارے برصغیر میں حقیقت سے زیادہ اپنے ذہنوں کی بنائی ہوئی کہانیوں سے متاثر ہوتے ہیں۔
بعض اوقات عام لوگ بھی صرف ہمارے تصورات کی وجہ سے غیر معمولی نظر آنے لگتے ہیں۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک عام سا بندر، جسے خود بھی نہیں معلوم ہوتا کہ لوگ اسے کیا سمجھ رہے ہیں، لوگوں کے ذہنوں میں “بزرگ”، “نجومی”، “نجات دہندہ” یا “دیوتاؤں کا نمائندہ” بن جاتا ہے۔
پھر لوگ اس کی خاموشی میں حکمت، اس کی بے ربط باتوں میں راز، اور اس کی عام حرکتوں میں کرامتیں ڈھونڈنے لگتے ہیں۔
اصل طاقت کبھی کبھی اُس بندر میں نہیں ہوتی، بلکہ اُن ذہنوں میں ہوتی ہے جو بغیر سوچے سمجھے کسی کو غیر معمولی بنا دیتے ہیں۔
ہمارے معاشروں میں بھی اکثر ایسا ہی ہوتا ہے۔ بعض لوگ صرف اس لیے “روحانی شخصیت” بن جاتے ہیں کیونکہ لوگوں نے ان کے گرد کہانیاں بُن لی ہوتی ہیں۔ پھر آہستہ آہستہ سوال ختم ہو جاتے ہیں، سوچنا ختم ہو جاتا ہے، اور عقیدت عقل پر غالب آ جاتی ہے۔
حالانکہ ہر اونچی جگہ پر بیٹھا ہوا شخص دانا نہیں ہوتا، کبھی کبھی وہ صرف ایک فارغ بندر ہوتا ہے، جسے لوگوں نے اپنے وہموں سے بزرگ بنا دیا ہوتا ہے۔
اور شاید اسی لیے اصل دانائی کسی کے قدم چومنے میں نہیں، بلکہ سچ کو پہچاننے میں ہے۔
