بلاعنوان

بلاعنوان

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک عظیم الشان سلطنت کا نہایت طاقتور بادشاہ اپنے جاہ و جلال، خزانے اور شان و شوکت پر ناز کیا کرتا تھا۔ اس کے محل کی دیواریں سونے سے مزین تھیں، دربار ہیرے جواہرات سے جگمگاتے تھے، اور اس کے ایک اشارے پر ہزاروں خادم حاضر ہو جاتے تھے۔ مگر اس بے پناہ دولت اور طاقت کے باوجود اس کے دل میں ایک انجانی بے چینی بسی رہتی تھی۔

ایک صبح وہ اپنے شاہی لشکر کے ساتھ محل سے باہر نکلا۔ راستے میں ایک بوسیدہ کپڑوں میں ملبوس فقیر درخت کے سائے تلے خاموش بیٹھا تھا۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سکون تھا، ایسا سکون جو بڑے بڑے تاجداروں کے نصیب میں نہیں ہوتا۔

بادشاہ اس کے قریب رکا اور غرور بھرے لہجے میں بولا:

“اے فقیر! مانگ، کیا چاہتا ہے؟”

فقیر نے آہستہ سے سر اٹھایا، مسکرایا، اور بولا:

“کیا واقعی تم میری خواہش پوری کر سکتے ہو؟”

یہ سن کر بادشاہ کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔ اسے اپنی طاقت پر شک کرنا گوارا نہ تھا۔ اس نے بلند آواز میں کہا:

“میں اس سلطنت کا بادشاہ ہوں۔ میرے خزانے بھرے پڑے ہیں۔ ایسی کون سی چیز ہے جو میں تمہیں نہیں دے سکتا؟”

فقیر نے گہری نظر سے اسے دیکھا اور دھیرے سے کہا:

“وعدہ کرنے سے پہلے دو بار سوچ لینا چاہیے، بادشاہ!”

مگر انا کے نشے میں ڈوبا ہوا بادشاہ کہاں رکنے والا تھا۔ اس نے فوراً کہا:

“میں وعدہ کرتا ہوں، تم جو مانگو گے تمہیں ملے گا!”

فقیر نے اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا ایک پرانا کشکول آگے بڑھایا اور بولا:

“میری خواہش بہت معمولی ہے… بس اس کشکول کو بھر دو۔”

بادشاہ ہنس پڑا۔

“بس اتنی سی بات؟”

اس نے اپنے خادم کو حکم دیا:

“اس فقیر کا کشکول اشرفیوں سے بھر دو!”

خادم نے سونے کی مٹھی بھر اشرفیاں کشکول میں ڈالیں… مگر یہ کیا؟ اشرفیاں ڈالتے ہی غائب ہو گئیں، جیسے کشکول نے انہیں نگل لیا ہو۔

خادم نے دوبارہ ڈالیں… پھر دوبارہ… مگر کشکول خالی ہی رہا۔

اب بادشاہ کے چہرے کی مسکراہٹ مدھم پڑنے لگی۔

اس نے حکم دیا:

“خزانے کے صندوق لے آؤ!”

پھر ہیرے ڈالے گئے، جواہرات ڈالے گئے، سونا، چاندی، موتی، یہاں تک کہ شاہی خزانے کی دولت کا انبار اس کشکول میں انڈیل دیا گیا… مگر کشکول ویسے کا ویسا خالی رہا۔

دن ڈھلنے لگا۔ محل میں بے چینی پھیل گئی۔ خزانے ختم ہونے لگے اور بادشاہ کی پیشانی پر پسینہ نمودار ہو گیا۔ پہلی بار اسے اپنی بے بسی کا احساس ہوا۔

آخرکار اس کی انا ٹوٹ گئی۔

وہ فقیر کے قدموں میں گر پڑا اور کپکپاتی آواز میں بولا:

“میں ہار گیا… خدا کے لیے مجھے بتاؤ، یہ کیسا کشکول ہے جو کبھی نہیں بھرتا؟”

فقیر کی آنکھوں میں ہلکی سی شفقت ابھری۔ وہ مسکرایا اور بولا:

“یہ کوئی عام کشکول نہیں… یہ انسان کی خواہشات کا کشکول ہے۔ اسے انسان کی کھوپڑی سے بنایا گیا ہے۔”

بادشاہ حیرت سے اسے دیکھتا رہ گیا۔

فقیر نے بات جاری رکھی:

“انسان کی خواہش کبھی ختم نہیں ہوتی۔ اسے دنیا کی ہر نعمت مل جائے تو بھی وہ مزید چاہتا ہے۔ دولت ملے تو شہرت کی طلب جاگتی ہے، شہرت ملے تو طاقت کی ہوس بڑھتی ہے، اور طاقت مل جائے تو پوری دنیا پر قبضے کا خواب جنم لیتا ہے۔”

وہ لمحہ بھر رکا، پھر نہایت پرسوز لہجے میں بولا:

“خواہش کا یہ پیالہ کبھی نہیں بھرتا… سوائے اس وقت کے، جب انسان قناعت سیکھ لے۔”

یہ الفاظ تیر بن کر بادشاہ کے دل میں اتر گئے۔ اس کی آنکھوں سے غرور کے پردے ہٹ گئے۔ اسے محسوس ہوا کہ وہ ساری عمر دنیا کو جیتنے میں لگا رہا، مگر اپنے نفس سے ہار گیا تھا۔
ااس دن کے بعد بادشاہ بدل گیا۔ اس نے جان لیا کہ حقیقی دولت خزانے نہیں، بلکہ دل کا سکون ہے… اور دل کا سکون صرف قناعت میں پوشیدہ ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner