Tag Archives: #urdustory #urduquotes #MoralStory

حسد نہیں، دعا کیجیے!روایت ہے کہ ایک غریب دیہاتی اپنی معاشی تنگی کی وجہ سے بہت پریشان رہتا تھا۔ کسی خیر خواہ نے اسے مشورہ دیا کہ “تم شہنشاہ اکبر کے پاس جاؤ، اس کے پاس بے شمار دولت ہے اور وہ ہر سائل کی جھولی بھر دیتا ہے۔ وہ تمہیں بھی ضرور کچھ عطا کرے گا اور تمہاری مفلسی دور ہو جائے گی۔”دیہاتی نے برجستہ سوال کیا: “اکبر بادشاہ کو یہ سب کس نے دیا ہے؟”جواب ملا: “اللہ نے!”یہ سن کر دیہاتی کے ایمان کو ایک نئی جلا ملی اور اس نے کہا: “اگر اسے دینے والا اللہ ہے، تو پھر میں براہِ راست اسی سے کیوں نہ مانگوں؟ میں اکبر کے در پر کیوں جاؤں؟”اس کے بعد وہ اپنے گھر سے نکلا اور ایک ویران جنگل کی طرف چل دیا تاکہ یکسوئی سے اپنے رب کو پکار سکے۔ وہاں پہنچ کر اس نے اپنا بوسیدہ سا کپڑا زمین…

Read more

ایک بادشاہ تھا۔ اس کے پاس ساری دولت تھی، سارا لشکر تھا، ساری زمین تھی۔ لوگ اس کے سامنے جھکتے تھے، اس کے حکم پر چلتے تھے، اس کی تعریف کرتے تھے۔ لیکن وہ خوش نہیں تھا۔ وہ راتوں کو جاگتا، دن کو بے چین رہتا۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں اس کی دولت نہ چلی جائے، کہیں اس کا تخت نہ ٹوٹ جائے، کہیں اس کا لشکر نہ بھاگ جائے۔ ایک دن اس نے سنا کہ شہر کے باہر ایک درویش رہتا ہے۔ وہ درویش بہت غریب ہے، لیکن بہت خوش ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس کی آنکھوں میں سکون ہے، اس کے چہرے پر نور ہے، اس کے دل میں اطمینان ہے۔ بادشاہ نے سوچا: “یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ میں بادشاہ ہوں، میرے پاس سب کچھ ہے، پھر میں خوش نہیں ہوں۔ یہ درویش کچھ نہیں رکھتا، پھر خوش کیسے ہے؟” اس نے اپنے وزیر سے…

Read more

یہ کہانی ایک گہرے سبق پر مبنی ہے کہ دوسروں کی نقل کرنا ہمیشہ فائدہ مند نہیں ہوتا، کیونکہ ہر جاندار کی ساخت اور ضرورت مختلف ہے۔دوسروں کی زندگی کی نقل کرنا چھوڑ دو، تمہاری زندگی کا نقشہ مختلف بنایا گیا ہےسوانا (افریقہ کے گھاس کے میدانوں) میں ایک لکڑبگھا رہتا تھا جو صبح سے شام تک جدوجہد کرتا رہتا۔ اس کی پسلیاں نکلی ہوئی تھیں اور آنکھوں میں ایسی تھکن چھائی تھی جسے نیند کبھی دور نہیں کر پاتی تھی۔ وہ جتنی بھی سخت دوڑ لگاتا، جتنا بھی دور نکل جاتا، اس کے پیٹ میں کچھ بھی اتنی دیر نہ ٹکتا کہ اسے سکون مل پائے۔ایک تپتی دوپہر، وہ رک گیا۔گھاس کے اس پار ایک بکری کھڑی تھی: پرسکون، شکم سیر، اور تپش، بھوک یا دنیا کی اس بے ہنگم بھاگ دوڑ سے بے نیاز۔ لکڑبگھے نے ایک طویل لمحے تک اسے دیکھا اور پھر اس کے قریب گیا۔“اے…

Read more

چین کے ایک گاؤں میں ایک بوڑھا پانی بھرنے والا تھا۔ وہ ہر روز دریا سے پانی بھرتا اور گاؤں میں تقسیم کرتا تھا۔ اس کے پاس دو بڑے گھڑے تھے، جو ایک لمبی چھڑی کے دونوں سروں پر لٹکائے جاتے تھے۔ ایک گھڑا بالکل ٹھیک تھا۔ اس میں دریا سے لے کر گاؤں تک سارا پانی سلامت رہتا۔ دوسرے گھڑے میں دراڑ پڑی ہوئی تھی۔ جب بوڑھا پانی بھر کر چلتا تو اس میں سے آدھا پانی راستے میں ٹپک جاتا۔ دو سال تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ بوڑھا ہر روز پانی بھرتا، دو گھڑے لٹکاتا، اور گھر واپس آتا تو ایک گھڑا بھرا ہوتا، دوسرا آدھا خالی۔ ٹھیک گھڑا اپنے کام پر فخر کرتا۔ وہ سمجھتا تھا کہ وہ مکمل ہے، کامل ہے۔ پھٹے ہوئے گھڑے کو بہت شرم آتی۔ وہ اپنی کمزوری پر پچھتانا۔ وہ سوچتا: “میں صرف آدھا پانی لا پاتا ہوں۔ میری وجہ سے بوڑھے…

Read more

ایک غریب کسان تھا۔ اس کے پاس ایک چھوٹا سا کھیت تھا، ایک بوڑھی گائے تھی، اور ایک جھونپڑی تھی۔ وہ اپنی بیوی کے ساتھ رہتا تھا۔ دونوں بہت غریب تھے، لیکن ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے تھے۔ ایک دن کسان کھیت میں کام کر رہا تھا۔ شام ہو رہی تھی، وہ تھک کر واپس جا رہا تھا کہ اس نے راستے میں ایک عجیب سا درخت دیکھا۔ درخت چمک رہا تھا، اس کی شاخوں پر روشنی تھی۔ وہ قریب گیا تو درخت سے ایک آواز آئی: “کسان! میں جادوئی درخت ہوں۔ آج تم نے مجھے دیکھ لیا ہے، اس لیے تمہیں تین خواہشیں پوری کرنے کا حق ملے گا۔” کسان حیران رہ گیا۔ اس نے سوچا: “تین خواہشیں! کتنی بڑی بات ہے!” وہ دوڑتا ہوا گھر گیا اور بیوی کو ساری بات بتائی۔ بیوی بھی بہت خوش ہوئی۔ کسان نے کہا: “سوچو، ہم کیا مانگیں؟ دولت؟ محل؟ زمینیں؟”…

Read more

پرانے وقتوں کی بات ہے، ایک غریب شخص کام کی تلاش میں مختلف شہروں کی خاک چھانتا رہا، مگر اسے کوئی بھی کام نہ مل سکا۔تھک ہار کر وہ چرچ میں چلا گیا اور اونچی آواز میں کہنے لگا:“خداوندا! تو مجھے کب تک غریب رکھے گا؟”پادری نے جب یہ الفاظ سنے تو اسے ڈانٹا کہ ایسے دعا نہیں کرتے۔وہ غریب شخص کہنے لگا: “ٹھیک ہے، پھر آپ مجھے کوئی کام دے دیں، تاکہ میں یہ الفاظ دوبارہ نہ دہراؤں۔”پادری نے کہا: “ٹھیک ہے، مجھے اس چرچ کے لیے ایک کاتب کی ضرورت ہے، جو یہاں آنے جانے والوں کے علاوہ چرچ کے اخراجات کا حساب رکھے۔ تم یہ کام سنبھال لو، ماہانہ پچاس ڈالر کے علاوہ کھانا اور رہائش بھی میری ذمہ ہوگی۔”اس شخص نے فوراً حامی بھر لی۔ پادری نے اسے کھاتہ، رجسٹر اور قلم دے دیا، اور یوں وہ چرچ کا کاتب بن گیا۔وہ روزانہ پادری کو ہر…

Read more

ایک بھائی صاحب اپنے شہ زور ٹرک پر بیٹھ کر شہر کے چوک میں پہنچے اور لگے وہاں بیٹھے مزدوروں کو آوازیں دینے،“کون کون جانا چاہتا ہے میرے ساتھ مزدوری پر، دو دو سو روپے دیہاڑی دوں گا۔” پہلے پہل تو لوگ ان صاحب پر خوب ہنسے، پھر اسے سمجھانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے کہ جناب والا: آج کل مزدور کی دیہاڑی پانچ سو روپے سے کم نہیں ہے۔ کیوں آپ ظلم کرنے پر تُلے ہوئے ہیں، کوئی نہیں جائے گا آپ کے ساتھ۔ نہ بنوائیے اپنا مذاق۔ وہ صاحب اپنے موقف پر ڈٹے رہے اور سُنی ان سُنی کر کے مزدوروں کو اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دیتے رہتے ۔ شور کم ہوا اور بہت سارے مزدور تھک کر واپس جا بیٹھے تو تین ناتواں قسم کے بوڑھے مزدور، جن کے چہروں سے ہی تنگدستی اور مجبوری عیاں تھی۔ ان صاحب کی گاڑی میں ا کر بیٹھ گئے…

Read more

ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﺍﻧﺖ ﭨﻮﭦ ﮐﺮ ﮔﺮ ﭘﮍﮮ ﮨﯿﮟ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺍﯾﮏ ﻣﻔﺴﺮ ﮐﻮ ﺑﻠﻮﺍ ﮐﺮ ﺍُﺳﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺧﻮﺍﺏ ﺳُﻨﺎﯾﺎ –ﻣﻔﺴﺮ ﻧﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ؛ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ , ﺍﺳﮑﯽ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﯾﮧ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭘﮑﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻣﺮﯾﮟ ﮔﮯ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﻏﺼﮧ ﺁﯾﺎ – ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﻔﺴﺮ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﺩﯾﺎ،ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﻣﻔﺴﺮ ﮐﻮ ﺑﻠﻮﺍﯾﺎ ﮔﯿﺎ, ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍُﺱ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺧﻮﺍﺏ ﺳﻨﺎﯾﺎ،ﻣﻔﺴﺮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ؛ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ ﺁﭘﮑﻮ ﻣُﺒﺎﺭ ﮎ ﮨﻮ۔ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﯽ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﯾﮧ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻣﺎﺷﺎﺀ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻟﻤﺒﯽ ﻋﻤﺮ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﻔﺴﺮ ﮐﻮ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﻭ ﺍﮐﺮﺍﻡ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺭﺧﺼﺖ ﮐﯿﺎ —ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﯾﮩﯽ ﻣﻄﻠﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺘﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻟﻤﺒﯽ ﻋﻤﺮ ﭘﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺍُﺳﮑﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ؟ﺟﯽ ﻣﻄﻠﺐ ﺗﻮ…

Read more

جون کی تپتی ہوئی رات تھی، حبس اتنا کہ پنکھا بھی گرم ہوا کے تھپڑے مار رہا تھا۔ اچانک ٹھاہ کی آواز آئی اور پورے محلے کی بجلی ایسے غائب ہوئی جیسے امتحان کے بعد طالب علم کے دماغ سے کتابی باتیں غائب ہو جاتی ہیں۔گھروں کے اندر دم گھٹنے لگا تو باری باری پورا محلہ اپنی اپنی چھتوں پر منتقل ہو گیا۔ تھوڑی ہی دیر میں چھتیں آباد ہو گئیں اور اندھیرے میں صرف سگریٹ کی روشنیاں اور موبائلوں کی ٹارچیں نظر آنے لگیں۔سب سے پہلے آواز چوہدری صاحب کی چھت سے آئی: اوئے شیدے! تیرے گھر کی بھی گئی ہے کیا؟دوسری طرف سے آواز آئی: نہیں چوہدری صاحب! میں نے تو گھر میں سورج پال رکھا ہے، بس ویسے ہی اندھیرے میں تارے گن رہا ہوں!محلے کے لڑکوں نے موقع غنیمت جانا اور چھتوں پر ہی کرکٹ شروع کر دی۔ تایا جی جو نیچے گرمی سے بے حال…

Read more

ایک شہر کی تنگ و تاریک گلیوں میں ایک اندھا آدمی رہتا تھا۔ وہ سادہ دل اور نرم مزاج تھا۔ لوگ اسے جانتے تھے اور اس کی مدد بھی کرتے تھے، مگر وہ اپنی زندگی خود گزارنے کا عادی تھا۔ ایک رات وہ کسی کام سے باہر نکلا۔ جاتے وقت اس کے ایک دوست نے اسے ایک جلتا ہوا چراغ دے دیا۔ اندھے آدمی نے حیران ہو کر پوچھا:“میں تو دیکھ نہیں سکتا، یہ چراغ میرے کس کام کا؟” دوست نے مسکرا کر کہا:“یہ چراغ تمہارے لیے نہیں، بلکہ دوسروں کے لیے ہے… تاکہ وہ تمہیں دیکھ سکیں اور تم سے ٹکرائیں نہیں۔” اندھا آدمی چراغ لے کر چل پڑا۔ وہ آہستہ آہستہ گلیوں میں چل رہا تھا۔ چراغ کی روشنی اس کے اردگرد پھیل رہی تھی۔ لوگ دور سے اسے دیکھ لیتے اور راستہ بدل لیتے۔ کچھ دیر بعد اچانک ایک آدمی اس سے آ کر ٹکرا گیا۔ اندھا…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک سانپ نے ایک جگنو کا پیچھا کرنا شروع کر دیا جو گھاس کے اوپر نیچی پرواز کر رہا تھا۔کچھ دیر بعد، تھکے ہوئے جگنو نے رک کر سانپ سے کہا:“کیا میں آپ سے تین سوال پوچھ سکتا ہوں؟”سانپ نے جواب دیا: “ہاں، پوچھ سکتے ہو۔”جگنو نے پہلا سوال کیا:“کیا میں آپ کی خوراک کا حصہ ہوں (یعنی کیا آپ مجھے اپنی غذا کے لیے کھاتے ہیں)؟”سانپ نے جواب دیا: “نہیں۔”جگنو نے دوسرا سوال کیا:“کیا میں نے کبھی آپ کو کوئی نقصان پہنچایا ہے؟”سانپ نے کہا: “نہیں۔”جگنو نے تیسرا سوال کیا:“پھر آپ مجھے کیوں کھانا چاہتے ہیں؟”سانپ نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے جواب دیا:“کیونکہ میں تمہاری روشنی برداشت نہیں کر سکتا۔”کہانی کا سبق:کبھی کبھی آپ کی روشنی—آپ کی خوشی، آپ کا سکون، آپ کی کامیابی، یا آپ کی فطری خوبصورتی—دوسروں کے لیے چڑ کا باعث بن جاتی ہے۔ اس لیے نہیں کہ آپ نے…

Read more

صرف محنت کافی نہیں: بدلتے حالات اور صحیح مہارتاکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کامیابی کا دارومدار صرف “مزید سخت محنت” پر ہے۔ لیکن کبھی کبھی اصل مسئلہ کچھ اور ہی ہوتا ہے۔اپنی انا اور تکبر کی وجہ سے ذلت آمیز شکست کھانے کے بعد، خرگوش اس ہار کو تسلیم نہ کر سکا۔ اس نے خود کو سب سے الگ تھلگ کر لیا اور دن رات سخت ٹریننگ شروع کر دی۔ وہ اپنی پہلے سے تیز رفتار ٹانگوں کو مزید مضبوط اور توانا بنانے کے لیے جی توڑ محنت کرتا رہا۔ جب اسے لگا کہ اب اسے کوئی نہیں ہرا سکتا، تو وہ کچھوے کے پاس گیا اور اسے دوبارہ مقابلے کا چیلنج دیا۔کچھوا، جو ہمیشہ کی طرح پرسکون اور دانا تھا، مسکرایا اور بولا:“ٹھیک ہے، لیکن تمہاری اس کڑی محنت کا حق ادا کرنے کے لیے، اس بار راستے کا انتخاب میں کروں گا۔”خرگوش اپنی رفتار پر اتنا مغرور…

Read more

جو چیز شروع میں ایک نعمت لگتی ہے، وہ خاموشی سے آپ کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ ✨ایک پرانی لکڑی کی میز پر شہد کا جار اتفاقاً الٹ گیا، جس کی چمکتی ہوئی رنگت اور دلکش خوشبو نے فضا کو بھر دیا۔ مکھیوں کے ایک غول نے فوراً اس مٹھاس کو بھانپ لیا اور اس کی طرف لپکیں۔ شروع میں وہ کنارے پر رہیں اور تھوڑا سا چکھا۔ ذائقہ اتنا لاجواب تھا کہ وہ بار بار مزید کے لیے واپس آتی رہیں۔رفتہ رفتہ، وہ ایک اور گھونٹ کی چاہ میں اس چپکنے والے شہد کے بیچوں بیچ پہنچ گئیں۔لیکن جب وہ بہت زیادہ آگے بڑھ گئیں، تو ان کی ننھی ٹانگیں اب آزاد نہیں رہی تھیں۔ وہ گاڑھے شہد میں دھنس چکی تھیں۔ جب انہیں خطرے کا احساس ہوا اور انہوں نے اڑنے کی کوشش کی، تو ان کے پر شہد سے بھر کر بھاری ہو…

Read more

جس شخص نے بھی یہ تحریر لکھی ہے، اس نے دراصل ایک پڑھے لکھے اور دردِ دل رکھنے والے پاکستانی کے دل کی کیفیت بیان کر دی ہے۔ سنگاپور 1965ء تک ملائیشیا کا ایک انتہائی پسماندہ علاقہ تھا۔زمین دلدلی، ویران اور بنجر تھی۔ لوگ سست، بے کار اور نااہل سمجھے جاتے تھے۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ صرف تین کام کرتے ہیں: بحری جہازوں سے سامان اتارتے ہیں، چوری چکاری کرتے ہیں اور بحری جہازوں سے چوہے پکڑ کر کھاتے ہیں۔ ملائیشیا ان سے بہت تنگ آ چکا تھا۔ ایک مشہور واقعہ ہے کہ تنکو عبد الرحمن کے دور میں جب سنگاپور نے آزادی کا مطالبہ کیا تو پارلیمنٹ کے کل 126 ارکان نے سنگاپور کے حق میں ووٹ دے دیا۔ اس بل کے خلاف ایک بھی ووٹ نہیں تھا۔ پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ ہم ان بے کار لوگوں اور دلدلی زمین کو اپنے پاس رکھ…

Read more

ایک دور افتادہ گاؤں میں ایک بوڑھا کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس ایک نہایت خوبصورت اور تیز رفتار گھوڑا تھا۔ پورے گاؤں میں اس گھوڑے کی مثال دی جاتی تھی۔ ایک دن وہ گھوڑا اچانک بھاگ گیا اور پہاڑوں کی طرف چلا گیا۔ گاؤں والے جمع ہو کر کہنے لگے:“کتنی بڑی بدقسمتی ہے! تمہارا سب سے قیمتی گھوڑا چلا گیا!” بوڑھا کسان سکون سے بولا:“شاید… یہ بدقسمتی ہو، شاید نہ ہو۔” چند دن بعد وہی گھوڑا واپس آیا، مگر اکیلا نہیں — اس کے ساتھ دو جنگلی گھوڑے بھی تھے۔ اب گاؤں والے خوش ہو کر کہنے لگے:“واہ! یہ تو بہت بڑی خوش قسمتی ہے!” بوڑھا پھر مسکرا کر بولا:“شاید… یہ خوش قسمتی ہو، شاید نہ ہو۔” کچھ دن بعد کسان کا بیٹا ان جنگلی گھوڑوں کو قابو کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ گر پڑا اور اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ لوگ افسوس کرتے ہوئے کہنے…

Read more

ایک بار ملا نصیر الدین اپنے ایک دوست کے ساتھ بازار سے گزر رہے تھے۔ راستے میں ایک کسان ملا جو بڑی بڑی پیازیں بیچ رہا تھا۔ ملا کو پیازیں پسند آئیں، اس نے اپنی جیب سے پیسے نکالے اور ایک کلو پیاز خرید لی۔ملا کا دوست جو ذرا مغرور تھا، ہنس کر بولا، “ملا جی! آپ اتنے بڑے عالم ہو کر بھی کسانوں کی طرح پیاز کے تھیلے اٹھا کر چل رہے ہو؟ کیا آپ کو اپنے وزن (وقار) کا خیال نہیں؟”ملا نصیر الدین مسکرائے اور بڑی سنجیدگی سے جواب دیا:“بھائی! تم درست کہہ رہے ہو۔ انسان کو اپنا وزن برقرار رکھنا چاہیے۔ چلو، ذرا پاس ہی والے ترازو پر اپنا وزن کرتے ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ میرے وقار میں کتنا اضافہ ہوا ہے۔”وہ دونوں ایک بڑی دکان کے پاس گئے جہاں ترازو رکھا تھا۔ ملا پہلے ترازو پر چڑھا، اس کا وزن کیا گیا۔ پھر اس…

Read more

پاکستان کے ایک چڑیا گھر میں ایک شیر بہت پریشان ہو گیا۔ کیونکہ اُسے روزانہ صرف ایک کلو گوشت دیا جاتا تھا اور مزید طلب کرنے پر اُسے کہہ دیا جاتا تھا کہ مہنگائی بہت ہے۔ اتنے سے ہی کام چلاؤ۔ جب پاکستان اور دبئی کے درمیان جانوروں کی منتقلی کا منصوبہ فائل ہو گیا تو اُس شیر کو دبئی ٹرانسفر کرنے کے لیے منتخب کر لیا گیا۔ وہ شیر سمجھا کہ میری دعائیں قبول ہو گئی ہیں۔ اب صاف ستھرا چڑیا گھر، اے سی ، اور پیٹ بھر کر کھانا ملے گا۔ دبئی پہنچنے کے بعد پہلے دن اُسے ایک انتہائی خوبصورتی اور مہارت سے سلا ہوا ایک تھیلا ملا۔ شیر بہت خوش ہوا اور جلدی سے اُسے کھولا تو اس میں چند کیلے تھے۔ شیر بہت حیران ہوا۔ پھر اس نے سوچا کہ شاید غلطی سے یہ تھیلا میرے پاس آگیا ہو۔ اس نے کیلے کھائے ، پانی…

Read more

ایک دن بادشاہ اکبر کا موڈ کچھ بدلنے والا تھا، انہوں نے بیربل سے کہا:“بیربل! مجھے لگتا ہے کہ اس سلطنت میں بے شمار بیوقوف لوگ بھرے پڑے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ تم مجھے دنیا کے چھ سب سے بڑے بیوقوف ڈھونڈ کر لاؤ۔”بیربل نے بادشاہ کو سلام کیا اور کہا: “جو حکم جہاں پناہ!”کچھ دن گزرے تو بیربل واپس آیا اور بادشاہ کو بتایا کہ اس نے چھ بیوقوف ڈھونڈ لیے ہیں۔ بادشاہ نے پوچھا: “وہ کہاں ہیں؟”بیربل نے کہا: “حضور، پانچ تو باہر کھڑے ہیں، چھٹا یہ رہا!” اور اس نے اپنی طرف اشارہ کیا۔بادشاہ ہکا بکا رہ گیا اور بولا: “کیا مطلب؟ تم بیوقوف کیسے ہوئے؟”بیربل مسکرا کر بولا: “حضور! جو شخص اپنا ضروری کام چھوڑ کر دنیا میں بیوقوف ڈھونڈنے کا کام کرے، اس سے بڑا بیوقوف اور کون ہو سکتا ہے؟”بادشاہ اکبر لاجواب ہو گئے اور بیربل کی اس حاضر دماغی پر بہت ہنسے۔

تاریخ میں کچھ ایسے واقعات ہوتے ہیں جو صرف جنگی کامیابیاں نہیں بلکہ انسانی ذہانت، عزم اور غیر معمولی قیادت کی مثال بن جاتے ہیں۔ 1453 میں قسطنطنیہ کی فتح بھی ایسا ہی ایک واقعہ تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب صدیوں سے ناقابلِ تسخیر سمجھے جانے والے شہر کی دیواریں ایک نوجوان سلطان کی غیر معمولی سوچ کے سامنے بے بس ہو گئیں۔ قسطنطنیہ، جو بازنطینی سلطنت کا دارالحکومت تھا، جغرافیائی لحاظ سے ایک انتہائی مضبوط شہر تھا۔ اس کے ایک طرف بحیرہ مرمرہ، دوسری طرف باسفورس کی آبنائے اور تیسری جانب گولڈن ہورن کی قدرتی بندرگاہ تھی۔ اس کے علاوہ شہر کے گرد مضبوط فصیلیں تھیں جو کئی صدیوں تک دشمنوں کے حملوں کو ناکام بناتی رہی تھیں۔ جب سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا تو بازنطینیوں نے اپنے دفاع کے لیے ایک خاص انتظام کیا۔ انہوں نے گولڈن ہورن کے داخلی راستے پر ایک بہت…

Read more

*ایک کسان کے پاس ایک گھوڑا اور ایک بکری تھی  ایک دن، گھوڑا بہت بیمار ہو گیا۔کسان نے ویٹنری(جانوروں کے) ڈاکٹر کو بلایا، جنہوں نے کہا، آپ کے گھوڑے کو ایک وائرل بیماری ہے اسے تین دن تک یہ دوائی دینا تیسرے دن میں واپس آؤں گا اگر وہ بہتر نہیں ہوتا. تو اسے مار دیا جائے گا تا کہ وائرس مزید گھوڑوں میں نہ پھیل جائے “قریب ہی بکری نے ان کی گفتگو کو سنا.اگلے دن، کسان نے گھوڑے کو دوا دی اور چھوڑ دیا.بکری گھوڑے کے پاس گئی اور کہا:“دوست ہمت کرو اٹھو ورنہ وہ تمہیں مار دیں گے!”دوسرے دن، کسان نے ایک بار پھر گھوڑے کو دوا دی اور چھوڑ دیا.بکری پھر آئی اور کہا: – “!، دوست چلو اٹھو یا پھر مرنے کے لئے تیار ہو جاو، چلو، میں آپ کو کھڑا ہونے میں مدد کروں”.چلو! ایک، دو، تین … لیکن غریب گھوڑا کھڑا نہ ہو…

Read more

40/88
NZ's Corner