Tag Archives: #urdustory #urduquotes #MoralStory

ایک بوڑھا دانا اپنے پوتے کے ساتھ جنگل کے کنارے بیٹھا تھا۔ شام کا وقت تھا، آسمان پر سورج کی آخری روشنی درختوں کے پتوں سے چھن کر زمین پر پڑ رہی تھی۔ بوڑھے کے چہرے پر سکون اور آنکھوں میں تجربے کی گہری روشنی تھی۔ پوتا کچھ پریشان نظر آ رہا تھا۔ اس نے آہستہ سے اپنے دادا سے کہا: “دادا جان! میرے دل میں عجیب سی لڑائی چلتی رہتی ہے۔ کبھی میں اچھا بننا چاہتا ہوں، مگر کبھی مجھے غصہ، حسد اور نفرت بھی محسوس ہوتی ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟” بوڑھا دانا مسکرایا اور کہنے لگا: “بیٹا، یہ لڑائی صرف تمہارے دل میں نہیں ہوتی، بلکہ ہر انسان کے اندر ہوتی ہے۔” پوتا حیران ہو کر دادا کی طرف دیکھنے لگا۔ دادا نے بات جاری رکھی: “ہر انسان کے دل میں دو بھیڑیے رہتے ہیں۔” پوتے نے پوچھا:“دو بھیڑیے؟ کیسے؟” بوڑھے نے کہا: “پہلا بھیڑیا برائی کی…

Read more

ایک گھنے افریقی جنگل میں ایک شیر رہتا تھا۔ شیر طاقتور اور خوفناک تھا اور جنگل کے تمام جانور اس کے سامنے لرزتے تھے۔ وہ ہر دن شکار کرتا اور جنگل کے سب جانوروں کو ڈراتا۔ اسی جنگل میں ایک چھوٹا مگر چالاک خرگوش بھی رہتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ شیر کے سامنے جسمانی طاقت کے زور پر کچھ نہیں کیا جا سکتا، اس لیے ہمیشہ عقل اور چالاکی سے کام لیتا۔ ایک دن شیر نے فیصلہ کیا کہ وہ سب جانوروں کو ڈرانے کے لیے ایک بڑا شکار کرے گا۔ وہ جنگل کے درمیان آیا اور زور سے دھاڑ کر سب جانوروں کو ڈرایا۔ جانور سب خوف کے مارے چھپ گئے، مگر خرگوش نے اپنے ذہن سے سوچا: “میں شیر کی طاقتور جسمانی قوت کے مقابلے میں نہیں جا سکتا۔ مگر اگر میں چالاکی سے کام لوں تو اپنی جان بچا سکتا ہوں۔” خرگوش نے شیر کے پاس…

Read more

ایک دفعہ ایک بوڑھی عورت شہر کے سب سے بڑے بینک میں گئی۔ وہاں جا کر اس نے بینک مینیجر سے کہا:“میں اپنے اکاؤنٹ میں کچھ پیسے جمع کروانا چاہتی ہوں۔”مینیجر نے پوچھا:“کتنے پیسے ہیں؟”بوڑھی عورت نے جواب دیا:“تقریباً دس لاکھ روپے ہیں۔”مینیجر حیران ہو کر بولا:“واہ! تمہارے پاس تو بہت پیسے ہیں، تم کیا کام کرتی ہو؟”بوڑھی عورت نے کہا:“میں شرطیں لگاتی ہوں۔”مینیجر نے کہا:“واہ! شرطیں لگا لگا کر اتنے پیسے جمع کر لیے؟”بوڑھی عورت بولی:“جی ہاں۔ اگر یقین نہیں تو تم میرے ساتھ ایک لاکھ روپے کی شرط لگا لو۔ مجھے لگتا ہے تم نے وِگ (نقلی بال) لگائی ہوئی ہے۔”مینیجر فوراً بولا:“نہیں، یہ میرے اصلی بال ہیں، میں ابھی جوان ہوں!”بوڑھی عورت نے کہا:“چلو پھر ایک لاکھ کی شرط لگا لو۔”مینیجر نے دل میں سوچا کہ بوڑھی عورت پاگل ہو گئی ہے، ویسے ہی ایک لاکھ روپے ہار جائے گی۔ اس نے کہا:“ٹھیک ہے، میں شرط مان…

Read more

ایک عقل مند آدمی کسی جنگل سے گزر رہا تھا۔ راستے میں اس نے دو آدمیوں کو دیکھا جو پریشانی کے عالم میں ادھر ادھر کچھ تلاش کر رہے تھے۔ اس آدمی نے ان کے قریب جا کر پوچھا، ”کیا آپ لوگوں کا اونٹ گم ہو گیا ہے؟“ایک آدمی نے فوراً جواب دیا، ”ہاں بھائی! ہمارا اونٹ گم ہو گیا ہے۔ ہم کافی دیر سے اسے ڈھونڈ رہے ہیں مگر نہ جانے وہ کہاں چلا گیا ہے۔ کیا تم نے اسے کہیں دیکھا ہے؟“عقل مند آدمی نے ان سے پوچھا، ”کیا تمہارا اونٹ ایک آنکھ سے کانا (اندھا) تھا؟“دونوں آدمی یک زبان ہو کر بولے، ”ہاں، ہاں! بالکل۔“اس نے پھر پوچھا، ”کیا وہ بائیں پاؤں سے لنگڑاتا تھا؟“انہوں نے تصدیق کی، ”ہاں، وہ لنگڑا بھی ہے۔“آدمی نے ایک اور سوال کیا، ”کیا اس کا کوئی آگے کا دانت ٹوٹا ہوا تھا؟“اونٹ والوں نے حیرت سے کہا، ”ہاں… اس کا ایک…

Read more

یہ سچا واقعہ پڑھیے اور دیکھیے آج بھی کیسے کیسے المیے لکھے جا رہے ہیں اور ہمارا قانون نہ تو انھیں روک سکا ہے نہ ظالموں کا کچھ بگاڑ سکا ہے۔۔۔۔۔ مرنے والوں کا کہاں خبر ہوتی ہے کہ ان کی نسلوں کا کیا حشر ہو گا۔ ایسا ہی ایک باپ اپنے بچوں کے لیے ہزاروں کنال زمین چھوڑ کر مرا تھا۔ اس کا ایک بیٹا تھا اور ایک بیٹی، جب وہ مرا تو اس کے بچوں کے لیے اتنی دولت موجود تھی کہ وہ ساری عمر مالی مسائل کا شکار نہ ہوتے لیکن وہ کروڑوں کی جائیداد کے مالک بچے بھوک سے تڑپتے رہے ،کھانے کو ترستے رہے۔ باپ امیر تھا ، کروڑوں کا مالک ، ہزاروں کنال زمین کا مالک لیکن موت نے آ لیا، ماں پہلے ہی خدا کو پیاری ہو چکی تھی ۔ جب باپ بھی گیا تو ان دونوں بہن بھائی کے ماموں زاد نے…

Read more

‏ایک عرب شیخ دبئی کے ایک پرتعیش ریستوراں میں بیٹھا دوپہر کا کھانا کھا رہا تھا کہ ایک خستہ حال بے گھر آدمی اندر داخل ہوا اور اس کے برابر میں بیٹھ گیا۔ اس آدمی نے کہا، “میرے پاس ایک سنہری لائٹر ہے۔ تم اسے خریدنا چاہو گے، لیکن میں تمہیں پہلے ہی خبردار کر دوں کہ اس کی قیمت دس لاکھ ڈالر ہے۔”عرب ہنسا اور بولا، “بوڑھے آدمی، کیا تمہارا دماغ چل گیا ہے؟ دس لاکھ ڈالر؟ یہ لائٹر تو ایک ڈالر کے لائق بھی نہیں ہے!”وہ بے گھر شخص خاموشی سے سنہری لائٹر جلاتا ہے۔ اچانک، ایک جن باہر نکلتا ہے اور کہتا ہے، “جناب، آپ کی کیا خواہش ہے؟”پورا ریستوراں خاموش ہو جاتا ہے جب وہ آدمی جن سے کہتا ہے، “میرے لیے چینی والی چائے کا ایک کپ لاؤ۔” جن تالی بجاتا ہے اور—پھک!—آگ کے ایک شعلے کے ساتھ، ٹرے میں رکھی چائے کا گلاس، چینی…

Read more

یہ ایک بہت خوبصورت اور سبق آموز کہانی ہے۔ ایک زوردار طوفان کے دوران، ایک کوا آسمان سے ٹوٹ کر گرا۔ وہ زمین پر اتنی زور سے گرا کہ وہیں بے بس ہو کر رہ گیا۔ اس نے خود کو گھسیٹنے کی کوشش کی، لیکن درد ناقابلِ برداشت تھا۔ آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے، اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور اس نے دبی آواز میں التجا کی:“مدد… میں اڑ نہیں سکتا… براہِ کرم میری مدد کرو…”قریب ہی ایک شاخ پر بیٹھے ایک نیل کنٹھ (Blue Jay) نے اسے دیکھا اور تمسخر اڑاتے ہوئے بولا:“تمہارے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے تھا! تم ہمیشہ ہم سب سے اونچا اڑتے تھے، جیسے پورا آسمان تمہاری ملکیت ہو۔ اب اپنی حالت دیکھو—کتنے بے بس ہو!”دیگر پرندے بھی اوپر منڈلاتے رہے، لیکن سب بے حس اور لاپرواہ تھے۔ کوے نے اپنا سر جھکا لیا۔ وہ بھوکا، زخمی اور بالکل اکیلا تھا۔ اس کی…

Read more

ایک گاؤں میں ایک نیک آدمی رہتا تھا، جو اللہ تعالی کی بہت عبادت کرتا اور کفر و شرک کو ناپسند کرتا تھا۔ اسی گاؤں میں ایک درخت تھا جس کی پوجا کچھ لوگ کرتے تھے۔ جب یہ آدمی اس بات سے آگاہ ہوا تو وہ بہت غصے میں آیا اور درخت کو کاٹنے نکل پڑا۔ راستے میں اس کی ملاقات ایک انسان کی شکل میں شیطان سے ہوئی۔ شیطان نے کہا:“ارے میاں! کہاں جا رہے ہو؟” آدمی نے بتایا کہ وہ درخت کاٹنے جا رہا ہے کیونکہ لوگ اس کی پوجا کرتے ہیں۔ شیطان نے اسے بہکانے کی کوشش کی:“بھائی! تم تو اس کی پوجا نہیں کرتے، تمہارا کیا نقصان؟ اسے مت کاٹو۔” لیکن آدمی نے کہا:“میں ضرور کاٹوں گا!” لڑائی کے دوران آدمی نے شیطان کو زمین پر پٹخ دیا۔ شیطان بولا:“تم مجھے چھوڑ دو، میں تمہیں ایک بات بتانا چاہتا ہوں۔” شیطان نے کہا کہ درخت کاٹنے…

Read more

ایک مرتبہ تین آدمیوں میں سترہ اونٹوں کی تقسیم پر جھگڑا ہو گیا وہ انصاف پر مبنی فیصلہ کروانے کے لئے حضرت علیؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنا مسئلہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ”ہمارے پاس 17 اونٹ ہیں جس میں سے ایک کا حصہ کل اونٹوں کا آدھا ( 1 / 2 ) ہے جبکہ دوسرے کا حصہ تہائی ( 1 / 3 ) اور تیسرے کا کل اونٹوں کا نواں حصہ ( 1 / 9 ) بنتا ہے، اگر اونٹوں کو ذبح کر کے تقسیم کیا گیا تو کوئی فائدہ نہیں ہو گا اس لئے آپؓ کوئی ایسی تدبیر بتا دیں کہ اونٹ ذبح کیے بغیر ہمارے درمیان تقسیم ہوجائیں اور ہمارا آپس کا جھگڑا ختم ہو جائے۔ “ حضرت علی ؓ نے ان تینوں کی بات سننے کے بعد بیت المال سے ایک اونٹ منگوایا اور ان 17 اونٹوں میں شامل کر دیا، اب اونٹوں…

Read more

آج ہی کے دن (23 رمضان) فارس کے آخری کسریٰ یزدجرد ثالث پندرہ سال تک مسلسل فرار اور شکستوں کے بعد قتل کر دیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«إذا هلك كسرى فلا كسرى بعده، وإذا هلك قيصر فلا قيصر بعده، فوالذي نفسي بيده لتنفقن كنوزهما في سبيل الله»یعنی:“جب کسریٰ ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں ہوگا، اور جب قیصر ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں ہوگا۔ اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ان دونوں کے خزانے ضرور اللہ کی راہ میں خرچ کیے جائیں گے۔”(روایت: مسلم) یزدجرد بن شہریار، جسے یزدجرد ثالث کہا جاتا ہے، ساسانی سلطنت میں فارس کا آخری بادشاہ تھا۔ اس کی حکومت 632ء سے 651ء تک قائم رہی۔ اسی دوران اسلام کی فوجیں فارس میں داخل ہوئیں۔ دونوں فریقوں کے درمیان شدید معرکے ہوئے، یہاں تک کہ مسلمانوں نے…

Read more

تاریخِ اسلام میں بعض اوقات ایسے واقعات پیش آئے جنہوں نے پوری امت کو ہلا کر رکھ دیا۔ انہی میں سے ایک واقعہ تیمور لنگ کا ظہور تھا، جو ابھرتی ہوئی سلطنت عثمانیہ کے لیے ایک بڑی مصیبت ثابت ہوا۔اس زمانے میں عثمانی سلطنت کا ستارہ تیزی سے بلند ہو رہا تھا اور اس کی قیادت عظیم مجاہد سلطان بایزید اول کے ہاتھ میں تھی، جنہیں ان کی برق رفتار جنگی مہمات کی وجہ سے “یلدرم” (بجلی) کہا جاتا تھا۔ انہوں نے یورپ کی متحدہ عیسائی افواج کو جنگ نیکوپولس ۱۳۹۶ء میں شکست دے کر اسلامی قوت کا لوہا منوا لیا تھا۔لیکن اسی دوران مشرق میں ایک نیا فاتح ابھرا، جسے تاریخ تیمور لنگ کے نام سے جانتی ہے۔ تیمور لنگ نے ایک بہت بڑی فوجی طاقت کے ذریعے ایک وسیع سلطنت قائم کی۔ اس کی حکومت ماوراءالنہر، خراسان، ایران، شام، ہندوستان کے بعض حصوں اور روس و اناطولیہ کے…

Read more

قبطی کا قتل اور موسیٰ علیہ السلام کی ہجرت. حضرت موسیٰ علیہ السلام بچپن ہی سے فرعون کے محل میں پلے بڑھے، مگر جب جوان ہو گئے تو فرعون اور اس کی قوم قبطیوں کے مظالم دیکھ کر بیزار ہو گئے اور فرعونیوں کے خلاف آواز بلند کرنے لگے۔ اس پر فرعون اور اس کی قوم جو قبطی کہلاتے تھے آپ کے دشمن بن گئے اور آپ فرعون کا محل بلکہ اس کا شہر چھوڑ کر اطراف میں چھپ کر رہنے لگے۔ ایک دن جب شہر والے دوپہر میں قیلولہ کر رہے تھے تو آپ چپکے سے شہر میں داخل ہو گئے۔ اس شہر کا نام “منف” تھا جو مصر کی حدود میں واقع ہے اور “منف” دراصل “مافہ” تھا جو عربی میں “منف” ہو گیا، اور بعض کا قول ہے کہ یہ شہر فسطاط تھا، اور بعض مفسرین نے کہا: یہ شہر حامین تھا جو مصر سے دو کوس…

Read more

یہ ایک انتہائی جذباتی اور سبق آموز کہانی ہے، میٹھا بول اور مہربان ہاتھوہ تین دن تک اسٹور کے دروازے کے گرد گھومتی رہی—ایک چھوٹی سی سفید رنگ کی آوارہ کتیا جس کا ایک کان سرخی مائل تھا۔ اس کے جسم میں مائیکرو چپ (شناختی چپ) تو لگی تھی، مگر پھر بھی وہ کسی بے گھر جانور کی طرح زندگی گزار رہی تھی۔اسٹور میں داخل ہونے والے اکثر لوگ اسے اپنے پاؤں سے ایک طرف دھکیل دیتے۔ وہ کبھی احتجاج نہ کرتی، کیونکہ ہر کسی کو اپنے کام کی جلدی تھی۔ لیکن وہ ہر شخص کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتی—سر جھکائے ہوئے، خاموشی سے التجا کرتی ہوئی۔زیادہ تر لوگ اسے صرف ایک ہی نام سے پکارتے:“دفع ہو جاؤ!”لیکن آج وہ اپنے لیے نہیں مانگ رہی تھی۔ اسٹور کے پیچھے صحن میں اس کا دوست—ایک آوارہ بلا—بیمار تھا۔ اسے سانس لینے میں تکلیف ہو رہی تھی، آنکھوں سے پانی…

Read more

وہ رات جب ڈاکوؤں نے موڑ پر گاڑی روکی، ڈرائیور نے کہا “میاں جی کو اتار دو، میں نے ان کا کرایہ معاف کر دیا تھا” — پھر جو ڈاکوؤں کے سردار نے کہا، وہ کسی قرآن کی آیت سے کم نہ تھا۔ یہ 1985 کا زمانہ ہے۔ پاکستان کی شاہراہوں پہ راتیں لمبی ہوتی تھیں۔ ٹرانسپورٹ کے بس اسٹینڈز پہ چائے کے ڈھابے اور تیل کے لیمپ جلتے تھے۔ لوگ ابھی اتنے جلدی نہیں پہنچتے تھے جتنی جلدی منزلیں تھیں۔ میاں محمد بخش لاہور سے پشاور جا رہے تھے۔ان کی عمر ساٹھ برس تھی۔ سفید داڑھی اور ماتھے پہ نماز کا نشان۔ بدن پہ کرتا تھا اور کندھے پہ پرانا شال، جس میں کئی پیوند لگے تھے۔ ان کے پاس کوئی سامان نہیں تھا۔ نہ بریف کیس، نہ بنڈل۔ بس ایک چھوٹی سی تھیلی جس میں پانی کی لوٹی تھی اور کھجوروں کا ایک پیکٹ۔ وہ نیا کھوکھر سے…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بوڑھا جوڑا رہتا تھا۔ دونوں ہی پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر تھے۔ میاں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ ایک سرجن کے طور پر گزارا تھا، جبکہ اس کی بیوی فیملی فزیشن (معالج) کے طور پر کام کرتی رہی تھی۔بوڑھے سرجن کو کبھی کبھار پینے پلانے کا شوق تھا۔ ویسے بھی… جو لوگ سرجنوں کو جانتے ہیں وہ آپ کو بتائیں گے کہ ان میں سے بہت سے لوگوں کے لیے یہ عادت تقریباً ان کے پیشے کا حصہ بن جاتی ہے۔تاہم، اس کی بیوی کی ایک ایسی عادت تھی جس نے اسے دیوانہ بنا رکھا تھا—جب بھی وہ تھوڑی زیادہ پی لیتا، وہ فوراً پولیس کو فون کر دیتی۔ جیسے ہی وہ اپنے لیے چند گلاس انڈیلتا، وہ فون اٹھاتی اور اس کی رپورٹ کر دیتی۔ ذرا تصور کریں: یہ وہی شخص تھا جس نے اسی پولیس ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں اور ان…

Read more

صدیوں پرانا قصہ ہے کہ بدقسمتی سے کسی گاٶں کے نیم حکیم ایک شادی شدہ عورت کی زلفِ گرہ گیر کے اسیر ہو گئے، جس کے حسن کے چرچے تھے۔ اس کی چشمِ قاتل کے تیکھے ورمے نے حضرت کے لوہے ورگے دل میں سوراخ کر دیا اور آپ اس پر لٹو ہو گئے۔ شادی بیاہ اور میلو ں ٹھیلوں میں ڈھول بجانا عورت کے خاندان کا پیشہ تھا۔ وہ کبھی دوا دارو کے لیے نیم حکیم صاحب کے پاس جاتی تو وہ بڑی دلچسپی اور تفصیل سے اس کی نبض چیک کرتے اور ملفوف الفاظ میں اپنا حالِ دل بھی ضرور سناتے۔ اس کا بچہ بھی جب کبھی حضرت کے سامنے آتا تو وہ اسے چپکے سے کہتے،”تمہاری ماں کا کیا حال ہے؟ اسے میرا سلام کہنا“ خوش شکل خاتون نے بڑا عرصہ سلام برداشت کیے مگر جب اس کی خیریت کے متعلق نیم حکیم ضرورت سے زیادہ فکرمند…

Read more

ایک دن بچے سکول گئے… اور اگلے ہی دن سکول بند!کہا گیا: “فیول کم استعمال کریں۔”عجیب بات ہے نا…جب بات بچوں کی تعلیم کی آتی ہے تو سب سے پہلے سکول ہی بند کر دیے جاتے ہیں۔کیا کبھی کسی نے سنا؟کہ شاپنگ مال بند کر دو فیول بچانے کے لیے؟یا شادی ہال بند کر دو؟نہیں۔ہمیشہ آسان حل یہی ہوتا ہے:بچوں کی تعلیم روک دو۔ایک دن سکول کھلتے ہیں،بچے خوشی سے بستے اٹھاتے ہیں،ماں باپ امید باندھتے ہیں…اور اگلے ہی دن اعلان آ جاتا ہے: “سکول بند!”سوال یہ نہیں کہ فیول کیوں بچانا ہے۔سوال یہ ہے کہ ہر بحران میں قربانی صرف تعلیم ہی کیوں دیتی ہے؟یاد رکھیں…جس قوم کے سکول بار بار بند ہوتے ہیں،وہاں جیلیں اور مسائل کھلتے رہتے ہیں۔فیصلے کرنے والوں کو سوچنا ہوگا:اگر آج ہم نے بچوں کی تعلیم کو ہی سب سے آسان قربانی بنا دیا،تو کل ہمیں اس کی قیمت پوری قوم کو ادا کرنی…

Read more

سنہ 1595 میں سلطنت عثمانیہ اپنے عروج پر تھی ۔سلطان مراد سوم کے انتقال پر ان کے بیٹے محمت ثالث کو ملا۔لیکن اس دن کو تاریخ میں سیاہ دن کے نام سے یاد رکھا جاتا ہے۔اس دن استنبول کے شاہی محل سے 19 شہزادوں کے جنازوں نکلے۔ یہ جنازے نئے سلطان محمت سوم کے بھائیوں کے تھے جنھیں سلطنت میں اس وقت رائج بھائیوں کے قتل کی شاہی روایت کے تحت نئے سلطان کے تخت پر بیٹھتے ہی باری باری گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا گیا تھا-یہ قانون سلطان محمت ثانی کی جانب سے بنایا گیا تھا جس میں لکھ تھا کہ اگر سلطنت میں بغاوت کا اندیشہ ہو تو فرمانروا کو اختیار ہے کہ وہ سلطنت کی بھلائی کے لیے اپنے بھائیوں کا خون بہا سکتا ہے۔بعد میں آنے والے کئی معصوم شہزادے اس قانون کا نشانہ بنے۔ ان میں سلطان مراد سوم کے انتقال کے بعد اسکے…

Read more

دو کوے صبح سویرے نکلے،بالکل روزمرہ کی طرح،کھانے کی تلاش میں۔ سارا دن اُڑتے رہے،گلیاں چھان ماریں،کوڑے دانوں کے چکر لگائے،لیکن قسمت ایسی سوئی ہوئی تھیکہ ایک دانہ بھی ہاتھ نہ آیا۔ شام کو دونوں تھکے ہارے واپس لوٹ رہے تھےکہ اچانک اچ شریف کی جامع مسجد کے صحن میںایک منظر نے ان کی آنکھوں میں چمک بھر دی۔ وہاں مولوی جام صاحب بڑے سکون سے بیٹھےروٹی تناول فرما رہے تھے،ایسے اطمینان سے جیسےدنیا میں قحط صرف کوؤں کے لیے آیا ہو۔ دونوں کوے فوراً نیچے اترےاور ذرا فاصلے پر بیٹھ گئے،کچھ دیر وہ روٹی کو گھورتے رہے،بالکل ویسے جیسے ڈاکٹروں کی ٹیمکسی ایکسرے رپورٹ پر مشاورت کر رہی ہو۔ نوجوان کوا آہستہ سے بولا:“جناب ایک بات کہوں؟ہم اس روٹی پر جپٹتے کیوں نہیں؟ویسے بھی یہ تو ہمارا خاندانی پیشہ ہے!”بوڑھے کوے نے فوراً گردن گھما کر اسے دیکھااور آہستہ سے بولا:“ارے نادان!یہ کوئی عام آدمی نہیں،یہ مولوی جام صاحب…

Read more

کہتے ہیں کہ کسی دور دراز علاقے میں ایک بستی آباد تھی۔ بظاہر وہ بستی عام سی تھی، مگر اس کے باسیوں کے چہروں پر ہمیشہ ایک انجانا خوف سایہ کیے رہتا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ ہر سال ایک مخصوص دن ایک خوفناک دیو وہاں آتا، پورے گاؤں کو للکارتا اور یہی سوال دہراتا:“کیا تم میں کوئی مرد ہے جو مجھ سے مقابلہ کر سکے؟ کیا کوئی ہے جو مجھے ہرا سکے؟”اور پھر روایت کے مطابق وہ ہر سال گاؤں کے کسی ایک انسان کو مار ڈالتا۔ یوں خوف اس بستی کی رگ رگ میں بس چکا تھا۔ خوف کا دنآج بھی وہی منحوس دن آن پہنچا تھا۔ گاؤں میں خاموشی تھی، مگر یہ خاموشی سکون کی نہیں بلکہ موت کے انتظار کی تھی۔ لوگ سہمے ہوئے تھے، عورتوں کی آنکھوں میں آنسو تھے اور نوجوانوں کے دل خوف سے کانپ رہے تھے۔ سب جانتے تھے کہ آج پھر…

Read more

60/88
NZ's Corner