بلاعنوان۔۔۔🙂!
یہ ایک انتہائی جذباتی اور سبق آموز کہانی ہے، میٹھا بول اور مہربان ہاتھوہ تین دن تک اسٹور کے دروازے کے گرد گھومتی رہی—ایک چھوٹی سی سفید رنگ کی آوارہ کتیا جس کا ایک کان سرخی مائل تھا۔ اس کے جسم میں مائیکرو چپ (شناختی چپ) تو لگی تھی، مگر پھر بھی وہ کسی بے گھر جانور کی طرح زندگی گزار رہی تھی۔اسٹور میں داخل ہونے والے اکثر لوگ اسے اپنے پاؤں سے ایک طرف دھکیل دیتے۔ وہ کبھی احتجاج نہ کرتی، کیونکہ ہر کسی کو اپنے کام کی جلدی تھی۔ لیکن وہ ہر شخص کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتی—سر جھکائے ہوئے، خاموشی سے التجا کرتی ہوئی۔زیادہ تر لوگ اسے صرف ایک ہی نام سے پکارتے:“دفع ہو جاؤ!”لیکن آج وہ اپنے لیے نہیں مانگ رہی تھی۔ اسٹور کے پیچھے صحن میں اس کا دوست—ایک آوارہ بلا—بیمار تھا۔ اسے سانس لینے میں تکلیف ہو رہی تھی، آنکھوں سے پانی…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
وہ رات جب ڈاکوؤں نے موڑ پر گاڑی روکی، ڈرائیور نے کہا “میاں جی کو اتار دو، میں نے ان کا کرایہ معاف کر دیا تھا” — پھر جو ڈاکوؤں کے سردار نے کہا، وہ کسی قرآن کی آیت سے کم نہ تھا۔ یہ 1985 کا زمانہ ہے۔ پاکستان کی شاہراہوں پہ راتیں لمبی ہوتی تھیں۔ ٹرانسپورٹ کے بس اسٹینڈز پہ چائے کے ڈھابے اور تیل کے لیمپ جلتے تھے۔ لوگ ابھی اتنے جلدی نہیں پہنچتے تھے جتنی جلدی منزلیں تھیں۔ میاں محمد بخش لاہور سے پشاور جا رہے تھے۔ان کی عمر ساٹھ برس تھی۔ سفید داڑھی اور ماتھے پہ نماز کا نشان۔ بدن پہ کرتا تھا اور کندھے پہ پرانا شال، جس میں کئی پیوند لگے تھے۔ ان کے پاس کوئی سامان نہیں تھا۔ نہ بریف کیس، نہ بنڈل۔ بس ایک چھوٹی سی تھیلی جس میں پانی کی لوٹی تھی اور کھجوروں کا ایک پیکٹ۔ وہ نیا کھوکھر سے…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollection #urduquotes #urdustory #urduquotes #MoralStory #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بوڑھا جوڑا رہتا تھا۔ دونوں ہی پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر تھے۔ میاں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ ایک سرجن کے طور پر گزارا تھا، جبکہ اس کی بیوی فیملی فزیشن (معالج) کے طور پر کام کرتی رہی تھی۔بوڑھے سرجن کو کبھی کبھار پینے پلانے کا شوق تھا۔ ویسے بھی… جو لوگ سرجنوں کو جانتے ہیں وہ آپ کو بتائیں گے کہ ان میں سے بہت سے لوگوں کے لیے یہ عادت تقریباً ان کے پیشے کا حصہ بن جاتی ہے۔تاہم، اس کی بیوی کی ایک ایسی عادت تھی جس نے اسے دیوانہ بنا رکھا تھا—جب بھی وہ تھوڑی زیادہ پی لیتا، وہ فوراً پولیس کو فون کر دیتی۔ جیسے ہی وہ اپنے لیے چند گلاس انڈیلتا، وہ فون اٹھاتی اور اس کی رپورٹ کر دیتی۔ ذرا تصور کریں: یہ وہی شخص تھا جس نے اسی پولیس ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں اور ان…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
صدیوں پرانا قصہ ہے کہ بدقسمتی سے کسی گاٶں کے نیم حکیم ایک شادی شدہ عورت کی زلفِ گرہ گیر کے اسیر ہو گئے، جس کے حسن کے چرچے تھے۔ اس کی چشمِ قاتل کے تیکھے ورمے نے حضرت کے لوہے ورگے دل میں سوراخ کر دیا اور آپ اس پر لٹو ہو گئے۔ شادی بیاہ اور میلو ں ٹھیلوں میں ڈھول بجانا عورت کے خاندان کا پیشہ تھا۔ وہ کبھی دوا دارو کے لیے نیم حکیم صاحب کے پاس جاتی تو وہ بڑی دلچسپی اور تفصیل سے اس کی نبض چیک کرتے اور ملفوف الفاظ میں اپنا حالِ دل بھی ضرور سناتے۔ اس کا بچہ بھی جب کبھی حضرت کے سامنے آتا تو وہ اسے چپکے سے کہتے،”تمہاری ماں کا کیا حال ہے؟ اسے میرا سلام کہنا“ خوش شکل خاتون نے بڑا عرصہ سلام برداشت کیے مگر جب اس کی خیریت کے متعلق نیم حکیم ضرورت سے زیادہ فکرمند…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdustory
سکولز بند۔۔۔🙂!
ایک دن بچے سکول گئے… اور اگلے ہی دن سکول بند!کہا گیا: “فیول کم استعمال کریں۔”عجیب بات ہے نا…جب بات بچوں کی تعلیم کی آتی ہے تو سب سے پہلے سکول ہی بند کر دیے جاتے ہیں۔کیا کبھی کسی نے سنا؟کہ شاپنگ مال بند کر دو فیول بچانے کے لیے؟یا شادی ہال بند کر دو؟نہیں۔ہمیشہ آسان حل یہی ہوتا ہے:بچوں کی تعلیم روک دو۔ایک دن سکول کھلتے ہیں،بچے خوشی سے بستے اٹھاتے ہیں،ماں باپ امید باندھتے ہیں…اور اگلے ہی دن اعلان آ جاتا ہے: “سکول بند!”سوال یہ نہیں کہ فیول کیوں بچانا ہے۔سوال یہ ہے کہ ہر بحران میں قربانی صرف تعلیم ہی کیوں دیتی ہے؟یاد رکھیں…جس قوم کے سکول بار بار بند ہوتے ہیں،وہاں جیلیں اور مسائل کھلتے رہتے ہیں۔فیصلے کرنے والوں کو سوچنا ہوگا:اگر آج ہم نے بچوں کی تعلیم کو ہی سب سے آسان قربانی بنا دیا،تو کل ہمیں اس کی قیمت پوری قوم کو ادا کرنی…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
سنہ 1595 میں سلطنت عثمانیہ اپنے عروج پر تھی ۔سلطان مراد سوم کے انتقال پر ان کے بیٹے محمت ثالث کو ملا۔لیکن اس دن کو تاریخ میں سیاہ دن کے نام سے یاد رکھا جاتا ہے۔اس دن استنبول کے شاہی محل سے 19 شہزادوں کے جنازوں نکلے۔ یہ جنازے نئے سلطان محمت سوم کے بھائیوں کے تھے جنھیں سلطنت میں اس وقت رائج بھائیوں کے قتل کی شاہی روایت کے تحت نئے سلطان کے تخت پر بیٹھتے ہی باری باری گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا گیا تھا-یہ قانون سلطان محمت ثانی کی جانب سے بنایا گیا تھا جس میں لکھ تھا کہ اگر سلطنت میں بغاوت کا اندیشہ ہو تو فرمانروا کو اختیار ہے کہ وہ سلطنت کی بھلائی کے لیے اپنے بھائیوں کا خون بہا سکتا ہے۔بعد میں آنے والے کئی معصوم شہزادے اس قانون کا نشانہ بنے۔ ان میں سلطان مراد سوم کے انتقال کے بعد اسکے…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdustory
بلاعنوان۔۔۔!
دو کوے صبح سویرے نکلے،بالکل روزمرہ کی طرح،کھانے کی تلاش میں۔ سارا دن اُڑتے رہے،گلیاں چھان ماریں،کوڑے دانوں کے چکر لگائے،لیکن قسمت ایسی سوئی ہوئی تھیکہ ایک دانہ بھی ہاتھ نہ آیا۔ شام کو دونوں تھکے ہارے واپس لوٹ رہے تھےکہ اچانک اچ شریف کی جامع مسجد کے صحن میںایک منظر نے ان کی آنکھوں میں چمک بھر دی۔ وہاں مولوی جام صاحب بڑے سکون سے بیٹھےروٹی تناول فرما رہے تھے،ایسے اطمینان سے جیسےدنیا میں قحط صرف کوؤں کے لیے آیا ہو۔ دونوں کوے فوراً نیچے اترےاور ذرا فاصلے پر بیٹھ گئے،کچھ دیر وہ روٹی کو گھورتے رہے،بالکل ویسے جیسے ڈاکٹروں کی ٹیمکسی ایکسرے رپورٹ پر مشاورت کر رہی ہو۔ نوجوان کوا آہستہ سے بولا:“جناب ایک بات کہوں؟ہم اس روٹی پر جپٹتے کیوں نہیں؟ویسے بھی یہ تو ہمارا خاندانی پیشہ ہے!”بوڑھے کوے نے فوراً گردن گھما کر اسے دیکھااور آہستہ سے بولا:“ارے نادان!یہ کوئی عام آدمی نہیں،یہ مولوی جام صاحب…
#UrduQuotes #MoralStory #urdustory #urduquotes #MoralStory #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday
بلاعنوان۔۔۔۔🙂!
کہتے ہیں کہ کسی دور دراز علاقے میں ایک بستی آباد تھی۔ بظاہر وہ بستی عام سی تھی، مگر اس کے باسیوں کے چہروں پر ہمیشہ ایک انجانا خوف سایہ کیے رہتا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ ہر سال ایک مخصوص دن ایک خوفناک دیو وہاں آتا، پورے گاؤں کو للکارتا اور یہی سوال دہراتا:“کیا تم میں کوئی مرد ہے جو مجھ سے مقابلہ کر سکے؟ کیا کوئی ہے جو مجھے ہرا سکے؟”اور پھر روایت کے مطابق وہ ہر سال گاؤں کے کسی ایک انسان کو مار ڈالتا۔ یوں خوف اس بستی کی رگ رگ میں بس چکا تھا۔ خوف کا دنآج بھی وہی منحوس دن آن پہنچا تھا۔ گاؤں میں خاموشی تھی، مگر یہ خاموشی سکون کی نہیں بلکہ موت کے انتظار کی تھی۔ لوگ سہمے ہوئے تھے، عورتوں کی آنکھوں میں آنسو تھے اور نوجوانوں کے دل خوف سے کانپ رہے تھے۔ سب جانتے تھے کہ آج پھر…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک آدمی اپنے پیر صاحب کے پاس گیا اور عرض کی کہ مجھے طاقت دیں، اسمِ اعظم عطا کریں۔ اُنہوں نے فرمایا “ آج کا دن سیر و تفریح کر لو، کل دیکھیں گے۔”وہ شخص پھرتا پھراتا جنگل میں چلا گیا۔وہاں اس نے کیا دیکھا کہ ایک لکڑ ہارا لکڑیوں کا گٹھا اُٹھاۓ چلا آ رہا ہے۔ تھکا تھکا آیا۔ وہاں سے شہر کا کوتوال گزرا۔ اس نے کہا” بابا ! یہ لکڑیاں مجھے دے دو، مجھے ضرورت ہے۔” بوڑھے نے اُس سے معاوضہ مانگا۔ کوتوال نے کہا” تو مجھے نہیں جانتا، میں شہر کا کوتوال ہوں۔”بوڑھے نے کہا” کوتوال ضرور ہو گا مگر پیسے تو دو۔”قصہ کوتاہ، کوتوال نے بوڑھے کو مارا، پیسے بھی نہ دیےاور لکڑی بھی لے گیا۔بے چارہ مرید دوسرے دن پیر کے پاس گیا۔ انہوں نے پوچھا”تُم نے کیا دیکھا؟” مرید نے سارا واقعہ کہہ سُنایا ۔ اُنہوں نے دوبارہ فرمایا” اگر تمہارے پاس اَِسمِ…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdustory urdu blog
پرانے وقتوں کی بات ہے کہ ایک مسافر اپنی گھوڑی پر سوار کسی کام کی غرض سے سفر پر نکلا۔ واپسی پر رات ہوگئی تو اس نے بستی کے ایک گھر میں قیام کی درخواست کی۔ وہ گھر “مراثیوں” کا تھا، جنہوں نے مسافر کو اپنا مہمان بنا لیا۔ مسافر نے جاتے وقت تاکید کی کہ اس کی گھوڑی “امید” سے ہے، لہٰذا اس کا خاص خیال رکھا جائے۔اتفاق سے رات کے وقت گھوڑی نے بچے کو جنم دیا۔ صبح ناشتے کے بعد جب مسافر رخصت ہونے لگا اور گھوڑی کے بچے کو ساتھ لے جانے کا ارادہ کیا، تو گھر والے اکٹھے ہوگئے اور کہنے لگے: “میاں! یہ بچہ آپ کا نہیں بلکہ ہماری گائے کا ہے، آپ اسے نہیں لے جا سکتے۔”بات بڑھی تو آدھا گاؤں اکٹھا ہوگیا۔ سب دیہاتی اپنے ہی لوگوں کی طرفداری کرنے لگے۔ بے بس مسافر انصاف کی طلب لیے گاؤں کے “بڑے چوہدری”…
#UrduQuotes #MoralStory #urdustory #urduquotes #MoralStory #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday
بلاعنوان۔۔۔🙂!
بہت عرصہ پہلے کا ذکر ہے، ایک طاقتور بادشاہ رہتا تھا جسے لگتا تھا کہ وہ دنیا کا سب سے ذہین انسان ہے۔ اس کے پاس ہزاروں کتابیں اور سینکڑوں استاد تھے۔ لیکن اتنی معلومات کے باوجود، وہ زندگی کے بارے میں الجھن کا شکار رہتا تھا۔اس نے صحرا میں رہنے والی ایک دانشمند عورت کے بارے میں سنا اور اس سے ملنے گیا۔ بادشاہ نے کہا، “میں وہ سب کچھ جانتا ہوں جو جاننا ممکن ہے، پھر بھی میں خود کو دانشمند کیوں محسوس نہیں کرتا؟”اس عورت نے پہلے تو کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کے بجائے، اس نے چائے کی کیتلی اٹھائی اور بادشاہ کے پیالے میں چائے ڈالنا شروع کر دی۔ پیالہ بھر جانے کے بعد بھی وہ چائے ڈالتی رہی۔ چائے پیالے سے چھلک کر میز اور بادشاہ کے کپڑوں پر گرنے لگی۔بادشاہ چلایا، “رک جائیں! کیا آپ کو نظر نہیں آ رہا کہ پیالہ بھر…
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک عظیم الشان بادشاہ کے محل میں ایک قابلِ اعتماد ساقی رہتا تھا۔ اس کی ذمہ داری سادہ مگر بہت اہم تھی: بادشاہ کے لیے جام بھرنا اور شراب کی پاکیزگی کی حفاظت کرنا۔ ہر جشن، ہر معاہدہ اور ہر تقریب اسی کے ہاتھوں سے گزرتی تھی۔ شروع میں وہ بہت وفادار تھا۔ مے خالص اور بھرپور ہوتی تھی، اور بادشاہ کے مہمان اس کی طاقت اور مٹھاس کی تعریف کرتے تھے۔مگر لالچ ایک خاموش سرگوشی ہے۔ایک رات ساقی نے مٹکوں کی طرف دیکھا اور سوچا، “اگر میں اس میں تھوڑا سا پانی ملا دوں تو کسی کو پتہ نہیں چلے گا۔ میں فالتو شراب بیچ کر امیر ہو سکتا ہوں۔” اس نے بڑی احتیاط سے شاہی مشروب میں پانی ملا دیا۔ رنگ گہرا ہی رہا، خوشبو اب بھی میٹھی تھی۔ وہ اپنی اس “ہوشیاری” پر مسکرایا۔اگلی ضیافت میں اس نے پھر ایسا ہی کیا۔ اور پھر بار بار۔ہر ملاوٹ…
بلاعنوان۔۔۔😄!
جب پپو نے اسکول کی چھٹی کے لیے اپنی ہی وفات کا جھوٹا لیٹر لکھ دیاپپو کا ریاضی یعنی میتھس کا ٹیسٹ تھا جس کی اس نے ایک لفظ بھی تیاری نہیں کی تھی۔ صبح اٹھتے ہی اسے بخار کا بہانہ سوجھا، پھر پیٹ درد کا، لیکن جب امی نے عرقِ گلاب اور کڑوی دوا نکال لی تو پپو نے پینترا بدلا۔ اس نے سوچا کہ کوئی ایسا بڑا بہانہ ہونا چاہیے کہ ٹیچر اسے اگلے ایک ہفتے تک فون بھی نہ کریں۔اس نے بڑی سنجیدگی سے ایک خط لکھا: محترمہ ٹیچر صاحبہ! بڑے افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ آپ کا پیارا اور ذہین طالب علم پپو آج صبح اس دنیا سے رخصت ہو گیا ہے، لہٰذا وہ آج ٹیسٹ دینے نہیں آ سکے گا۔ نیچے اس نے اپنے ابو کے جلی حروف میں دستخط بھی کر دیے۔ اس نے یہ خط اسکول کے چوکیدار کے ہاتھ…
بلاعنوان۔۔۔🧐!
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ نے اپنے شہر میں ایک بہت بڑا تالاب تعمیر کروایا اور پورے شہر میں یہ منادی (اعلان) کروا دی کہ ہر شہری اس تالاب میں روزانہ ایک گلاس دودھ ڈالے گا، تاکہ بعد میں اسے غریبوں اور ضرورت مندوں میں تقسیم کیا جا سکے۔جب رات ہوئی تو ایک شخص نے اپنے گھر والوں سے کہا:“یہ شہر اتنا بڑا ہے اور اس کی آبادی اتنی زیادہ ہے کہ اگر ہر شخص ایک ایک گلاس دودھ ڈالے گا تو تالاب تو بھر ہی جائے گا۔ ایسے میں اگر صرف میں ایک گلاس نہیں ڈالوں گا، تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا اور کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔”حیرت انگیز طور پر، اس رات شہر کے ہر فرد نے بالکل یہی سوچا اور اپنی ذمہ داری سے پہلو تہی کی۔اگلی صبح جب بادشاہ تالاب کے پاس پہنچا تو یہ دیکھ کر حیران…
بلاعنوان۔۔۔🙂!
لکھنو میں ایک استاد بڑی ثقیل قسم کی اردو بولا کرتے تھے اور اپنے شاگردوں کو بھی یہی “نصیحت” کرتے تھے، کہ جب بات کرنی ہو،،،،،، تو تشبیہات، استعارات، محاورات اور ضرب الامثال سے آراستہ پیراستہ اردو زبان استعمال کیا کرو۔ ایک بار “دورانِ تدریس” یہ “استاد صاحب” حقہ پی رہے تھے انھوں نے جو زور سے حقہ گڑگڑایا،،،،، تو اچانک چلم سے ایک چنگاری اڑی،، اور استاد جی کی پگڑی پر جا پڑی۔ ایک شاگرد اجازت لے کر کھڑا ہوا اور بڑے ادب سے گویا ہوا: “حضور والا؛ یہ بندہ “ناچیز” حقیر فقیر، پُر تقصیر، ایک روح فرسا حقیقت،حضور کے “گوش گزار” کرنے کی جسارت کر رہا ہے،،،،،، وہ یہ کہ؛ آپ لگ بھگ نصف گھنٹہ سے حقہ نوشی ادا فرما رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چند ثانیے قبل میری چشم نارسا نے ایک اندوہناک منظر کا مشاہدہ کیا،،،،،، کہ ایک شرارتی آتشی پتنگا آپکی چلم سے افقی سمت میں بلند ہو کر،چند…
چار ملنگ
چار ملنگ شہر سے باہر ایک کٹیا میں رہتے تھے۔۔ایک پولیس کا حوالدار بھی ان کے پاس بھنگ پینے آجاتا۔۔ایک دن تنگ آ کر حوالدار کو “دھتورا ” پلا دیا۔حوالدار مر گیا۔ملنگوں نے اسے چار پائی پر ڈالا اوپر چادر چڑھائی اور چار پائی کے ایک ایک پائے کو کندھا دے دیا۔ دیہاتیوں میں لوگ تعلق کی بنا پر جنازے میں شامل ہوتے ہیں اور شہروں میں لوگ کلمہ شہادت سن کر۔جب ملنگ شہر میں داخل ہوئے تو کلمہ شہادت کا نعرہ لگانے لگے۔شہری مسلمان جنازے کو کندھا دینے لگے۔ جب ملنگوں نے دیکھا کہ کافی لوگ جنازے کے ساتھ چل رہے ہیں تو وہ کھسک گئے۔جنازہ قبرستان پہنچا تو نہ کوئی والی وارث اور نہ ہی قبر کھدی ہوئی۔ پولیس کو اطلاع کی گئی۔پولیس والوں نے جب میت کے چہرے سے چادر ہٹائی تو اپنا ہی حوالدار نکلا۔۔۔کلمہ شہادت کہنے والوں کو دس دس ہزار دے کر جان چھڑانا…
جنگِ الارک 1195ء
اندلس کی فضاؤں میں اُس شام ایک عجیب سی اداسی گھلی ہوئی تھی۔سرخ آسمان، جیسے کسی آنے والے طوفان کی خبر دے رہا ہو۔ قرطبہ کی گلیوں میں لوگ خاموش تھے، مسجدوں میں دعائیں تھیں، اور دلوں میں ایک ہی سوال:کیا اسلام کی یہ سرزمین محفوظ رہ پائے گی؟شمال میں کاسٹائل کا بادشاہ الفانسو ہشتم اپنی فوجیں جمع کر چکا تھا۔ صلیبوں سے سجے جھنڈے، فولادی زرہیں، اور تکبر سے بھری آنکھیں—وہ سمجھ رہا تھا کہ یہ اندلس پر آخری وار ہوگا۔مگر وہ یہ بھول چکا تھا کہ جب زمین پر مومن سجدے میں گر جائیں، تو آسمان فیصلہ بدل دیتا ہے۔مراکش میں، ایک خیمے کے اندر، چراغ کی مدھم روشنی میں ایک شخص خاموش بیٹھا تھا۔یہ خلیفہ ابو یوسف یعقوب المنصور تھے—موحدین کے امیر، مگر دل سے ایک عاجز بندۂ خدا۔وہ نقشے نہیں دیکھ رہے تھے وہ امت کا حال دیکھ رہے تھے۔انہوں نے سر اٹھایا، آسمان کی طرف…
بلاعنوان
ایک پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ ایک بلند و بالا اور دشوار گزار پہاڑ پر ایک نہایت خوفناک اور ظالم دیو رہا کرتا تھا۔ اس کا معمول تھا کہ وہ روزانہ آس پاس کی بستیوں پر دھاوا بولتا، وہاں سے انسانوں کو پکڑ کر لاتا اور اپنی خوراک بنا لیتا۔ گرد و نواح کے لوگ دیو کے ان لرزہ خیز مظالم سے عاجز آ چکے تھے اور ہر قیمت پر اس عذاب سے چھٹکارا چاہتے تھے۔ مگر دیو کی ہیبت ان کے دلوں پر اس قدر مسلط تھی کہ وہ کبھی آزادی کے اس خواب کو عملی جامہ پہنانے کی جرات نہ کر سکے۔ جب پانی سر سے گزر گیا اور دیو کا ظلم و ستم حد سے بڑھا، تو رفتہ رفتہ لوگوں کے دلوں میں دبی چنگاری شعلہ بننے لگی اور نفرت پروان چڑھنے لگی۔ آخرکار، یہی نفرت علمِ بغاوت بلند کرنے کا پیش خیمہ بنی۔ بستیوں کے…
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک بادشاہ کی عدالت میں ایک ملزم کو پیش کیا گیا۔مقدمہ سننے کے بعد بادشاہ نے اشارہ کیا کہ اسے قتل کر دیا جائے۔حکم ملتے ہی سپاہی اسے قتل گاہ کی طرف لے چلے۔اب چونکہ اسے سب سے بڑی سزا سنائی جا چکی تھی، اس لیے اس کے دل سے خوف نکل چکا تھا۔وہ چلتے چلتے بادشاہ کو بُرا بھلا کہنے لگا، کیونکہ اس کے نزدیک اب اس سے بڑھ کر کوئی سزا باقی نہ تھی۔بادشاہ نے دیکھا کہ قیدی کچھ کہہ رہا ہے تو اس نے وزیر سے پوچھا:“یہ کیا کہہ رہا ہے؟”بادشاہ کا یہ وزیر نہایت نیک دل تھا۔اس نے سوچا، اگر سچ سچ بتا دیا گیا تو بادشاہ غصے میں آ کر قتل سے پہلے بھی قیدی کو اذیت دے سکتا ہے۔چنانچہ اس نے عرض کیا:“حضور! یہ کہہ رہا ہے کہ اللہ اُن لوگوں کو پسند کرتا ہے جو غصہ ضبط کرتے ہیں اور لوگوں کے ساتھ…
بلاعنوان۔۔۔😁!
کسی گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا۔وہ سارا دن اپنے کھیت میں کام کرتا اور مشکل سے اتنا کما پاتا کہ دو وقت کا کھانا کھا سکے۔وہ خود بھی بہت سیدھا سادا تھا،مگر اس کو جو بیوی ملی وہ حد درجہ بے وقوف تھی۔ ان کی شادی کو کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا۔ایک دن صبح سویرے جب کسان کھیتوں پر جانے کو تیار ہوا تو اپنی بیوی سے کہنے لگا:”آج کھیت میں سارا دن ہل چلانا پڑے گا جس سے بہت تھکاوٹ ہو جائے گی اور بھوک بھی بہت لگے گی،اس لئے تم میری واپسی تک اچھا اور لذیذ کھانا بنا کر رکھنا اور ساتھ ایک گلاس سرکہ بھی جو میں پچھلے سال خرید کر لایا تھا۔ “یہ کہہ کر وہ اپنے کام پر چلا گیا۔ جب کسان کی واپسی کا وقت قریب آیا تو بیوی نے کھانا تیار کرنا شروع کیا۔ اپنے شوہر کو خوش کرنے کے لئے…