پرانے وقتوں کی بات ہے کہ ایک مسافر اپنی گھوڑی پر سوار کسی کام کی غرض سے سفر پر نکلا۔ واپسی پر رات ہوگئی تو اس نے بستی کے ایک گھر میں قیام کی درخواست کی۔ وہ گھر “مراثیوں” کا تھا، جنہوں نے مسافر کو اپنا مہمان بنا لیا۔ مسافر نے جاتے وقت تاکید کی کہ اس کی گھوڑی “امید” سے ہے، لہٰذا اس کا خاص خیال رکھا جائے۔
اتفاق سے رات کے وقت گھوڑی نے بچے کو جنم دیا۔ صبح ناشتے کے بعد جب مسافر رخصت ہونے لگا اور گھوڑی کے بچے کو ساتھ لے جانے کا ارادہ کیا، تو گھر والے اکٹھے ہوگئے اور کہنے لگے: “میاں! یہ بچہ آپ کا نہیں بلکہ ہماری گائے کا ہے، آپ اسے نہیں لے جا سکتے۔”
بات بڑھی تو آدھا گاؤں اکٹھا ہوگیا۔ سب دیہاتی اپنے ہی لوگوں کی طرفداری کرنے لگے۔ بے بس مسافر انصاف کی طلب لیے گاؤں کے “بڑے چوہدری” کے پاس پہنچا اور سارا ماجرا سنایا۔ چوہدری نے فریقین کو بلایا۔ گھر والے اپنی بات پر اڑے رہے کہ بچہ گائے کا ہی ہے۔ چوہدری صاحب نے کچھ دیر سوچ بچار کی اور پھر ایک نہایت “عجیب” فیصلہ سنایا۔
چوہدری بولا: “میرے دادا جی بڑے بزرگ تھے، انہوں نے ایک بار پیش گوئی کی تھی کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب مراثیوں کی گائے گھوڑی جیسا بچہ دے گی۔ لہٰذا یہ بچہ انہی کا ہے۔”
مسافر یہ مضحکہ خیز فیصلہ سن کر ہکا بکا رہ گیا اور اپنی بے بسی پر کڑھتا ہوا وہاں سے روانہ ہوگیا۔ اس کے جانے کے بعد وہ لوگ دھاڑیں مار کر رونے لگے۔ چوہدری حیران ہوا اور پوچھا: “اب کیوں روتے ہو؟ میں نے تو گھوڑی کا بچہ بھی تمہیں دلوا دیا!”
وہ بولے: “چوہدری صاحب! ہم اس بات پر رو رہے ہیں کہ جب آپ مر جائیں گے تو اتنے ‘اعلیٰ ظرف’ اور ‘انصاف پسند’ فیصلے کون کرے گا؟”
جب معاشرے کے بڑوں کے فیصلے مصلحت اور جھوٹ پر مبنی ہوں، تو جاہل طبقہ اسے اپنی جیت سمجھ کر جشن مناتا ہے، حالانکہ وہ زوال کی نشانی ہوتی ہے۔
اللہ رب العزت ہمارے پاکستان سے کرپٹ عناصر کا خاتمہ کرے اور ہمارے ملکِ عزیز کو تاقیامت قائم و دائم رکھے۔
