بلاعنوان۔۔۔😁!
دیہاتی اپنے خچر (گدھے جیسا جانور) سے بہت پریشان تھا۔ وہ خچر اتنا سست تھا کہ ایک قدم چلتا اور دس منٹ رک جاتا۔دیہاتی اسے کھینچ کھینچ کر تھک گیا، آخر کار وہ اسے لے کر گاؤں کے ایک مشہور “حکیم” کے پاس گیا۔ دیہاتی نے کہا:“حکیم صاحب! میرا یہ جانور بہت کام چور اور سست ہو گیا ہے۔ یہ بالکل نہیں چلتا۔ کوئی ایسی دوا دیں کہ اس میں بجلی جیسی پھرتی آ جائے۔” حکیم بہت تجربہ کار تھا۔ اس نے اپنی پڑیا میں سے تھوڑی سی “لال مرچ” نکالی، خچر کی دم اٹھائی اور وہ مرچ وہاں لگا دی جہاں نہیں لگانی چاہیے تھی۔ 🌶️🔥 مرچ لگتے ہی خچر نے ایک فلک شگاف چیخ ماری اور ہوا سے باتیں کرتا ہوا، گولی کی رفتار سے سیدھا بھاگ کھڑا ہوا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ دیہاتی یہ دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وہ سر پکڑ…
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک سلطنت پر ایک ظالم اور مغرور بادشاہ حکومت کرتا تھا جس کی رعایا پروری صرف لگان وصول کرنے تک محدود تھی۔ اسی شہر میں ایک غریب کسان رہتا تھا جو قرض کے بوجھ تلے اتنا دبا ہوا تھا کہ ہر گزرتے سانس پر اس کا سود بڑھ رہا تھا۔ مایوس ہو کر وہ بادشاہ کے پاس فریاد لے کر گیا، مگر بے رحم بادشاہ نے اسے مدد دینے کے بجائے یہ کہہ کر دھتکار دیا کہ “غربت ایک ذہنی حالت ہے، جاؤ جا کر محنت کرو۔” وہ شخص بھوکا پیاسا جنگل کی طرف نکل گیا تاکہ قدرت کے لنگر (پھل وغیرہ) سے پیٹ بھر سکے۔ وہاں اس نے دیکھا کہ ایک کبوتر کا گھونسلہ آندھی سے گرنے والا ہے، اس نے ہمدردی میں اسے سہارا دے کر مضبوط ٹہنی پر ٹکا دیا۔وہیں قریب ایک ہرن شکاری جال میں تڑپ رہا تھا، غریب آدمی نے اس پر بھی ترس کھایا…
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک گاؤں میں ایک بار سردیوں کی کالی رات میں ایک چور چوری کی نیت سے چوہدری صاحب کے ڈیرے میں داخل ہوا۔ بدقسمتی سے ابھی وہ تالا توڑنے ہی والا تھا کہ چوہدری کے کتے بھونکنے لگے اور ملازم جاگ گئے۔چور کی جان پر بن آئی، وہ بھاگ کر قریبی قبرستان میں گھس گیا۔ وہاں ایک پرانی ٹوٹی ہوئی قبر کے پاس سفید چادر پڑی تھی۔ اس نے سوچا کہ اگر پکڑا گیا تو کٹ لگے گی، اس لیے اس نے فوراً وہ چادر اوڑھی اور ایک کتبے کے پاس آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا اور آنکھیں بند کر لیں۔اتنے میں ملازم ٹارچیں لیے وہاں پہنچ گئے۔ جب انہوں نے اندھیرے میں سفید چادر پوش ہستی کو دیکھا تو ان کی سٹی پٹی گم ہوگئی۔ ایک ملازم تھر تھر کانپتے ہوئے بولا کہ بھائیو یہ تو کوئی پہنچے ہوئے بزرگ لگ رہے ہیں جو اس وقت عبادت میں…
#UrduQuotes #MoralStory #urdustory #urduquotes #MoralStory #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday
بلاعنوان۔۔۔🙂!
مصر کے ایک شہر میں ایک نوجوان کا چرچا تھا۔ نہ وہ عالمِ دین کے طور پر مشہور تھا، نہ خطیب تھا، نہ امیر۔ مگر اس کے نام کا سکہ زبانِ عام پر اس وجہ سے تھا کہ وہ ایک ہی رات میں اکیلا مسجد تعمیر کر دیتا تھا۔لوگ حیران تھے۔دن بھر مسجد کا میدان خالی ہوتا، اینٹیں الگ پڑی ہوتیں، لکڑی، مٹی، چونا اپنی جگہ۔ مگر فجر کے وقت جب لوگ آتے تو مسجد کھڑی ہوتی—دیواریں، محراب، حتیٰ کہ وضو کا انتظام بھی۔سب سے عجیب بات یہ تھی کہ وہ نوجوان کام کے دوران کسی کو قریب آنے نہیں دیتا تھا۔ اگر کوئی قدموں کی آہٹ بھی سن لیتا تو کام چھوڑ دیتا، جیسے سایہ بن کر غائب ہو جاتا۔لوگ کہتے: “یہ انسان نہیں، کوئی جن ہے!” کوئی کہتا: “یہ جادو جانتا ہے!” کوئی کہتا: “یہ کوئی اللہ کا ولی ہے!”مگر نوجوان خاموش رہتا۔نہ تعریف قبول کرتا،نہ اپنا نام…
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک کوا ایک ہنس کو جھیل میں سکون سے تیرتے دیکھ کر بہت متاثر ہوا۔ اس نے سوچا کہ اگر وہ بھی ہنس کی طرح پانی میں رہے گا تو اس کے پر بھی سفید اور چمکدار ہو جائیں گے۔ کوے نے ہنس کی طرح پانی میں غوطے لگانا اور مچھلیاں پکڑنا شروع کر دیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کوا نہ تو اپنی سیاہی بدل سکا اور نہ ہی اسے کائیں کائیں والی خوراک ملی۔ سردی اور پانی کی وجہ سے وہ بیمار ہو کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔سبق: اللہ نے ہر جاندار کو الگ خصوصیات دی ہیں، اپنی اصلیت بدلنے کی کوشش جان لیوا ہو سکتی ہے۔
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک بار کا ذکر ہے…تھر کے سنسان ریگستان میں، ایک چھوٹے سے گاؤں کے قریب ایک بوڑھا شخص بشیر اپنے اونٹ لالو کے ساتھ زندگی گزار رہا تھا۔لالو اس کے لیے محض ایک جانور نہیں تھا، بلکہ دوست، ساتھی اور جینے کا واحد سہارا تھا۔ بچپن سے اُس نے لالو کو پالا تھا۔ برسوں کا ساتھ تھا—چاہے گرمی کی جھلسا دینے والی دھوپ ہو یا سرد راتوں کی خاموشی، دونوں ایک دوسرے کے ہمسفر تھے۔بشیر کے پاس دولت نہیں تھی، مگر قناعت تھی۔ وہ لالو پر سوار ہو کر گاؤں گاؤں سبزیاں اور دودھ بیچتا، اور اسی معمولی کمائی میں زندگی گزار لیتا۔گاؤں کے بچے لالو سے بےحد محبت کرتے تھے۔ وہ اپنی ناک سے بچوں کو ہلکا سا دھکا دیتا تو ہنسی پورے گاؤں میں گونج اٹھتی۔ایک دن بشیر شدید بیمار پڑ گیا۔ بخار نے اسے چارپائی سے لگا دیا۔لالو اُس کے اردگرد چکر لگاتا رہا، کبھی سونگھتا، کبھی…
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک جنگل میں بہت بڑا سیلاب آیا جس سے تمام چھوٹے جانوروں کے گھر بہہ گئے۔ شیر بادشاہ نے اعلان کیا کہ تمام متاثرہ جانوروں کو “امداد” دی جائے گی۔ اس کام کے لیے ایک عقاب کو افسر مقرر کیا گیا کیونکہ وہ بہت بلندی سے سب کچھ دیکھ سکتا تھا۔ایک بوڑھا کچھوا، جس کا گھر مکمل تباہ ہو چکا تھا، امداد کی درخواست لے کر عقاب کے دفتر پہنچا۔ عقاب نے ایک لمبی فہرست دکھائی اور کہا:“پہلے لومڑی سے تصدیق کرواؤ کہ تم واقعی کچھوے ہو، پھر الو سے لکھوا کر لاؤ کہ تمہارا گھر واقعی پانی میں بہا ہے، اور آخر میں بندر سے اس فائل پر مہر لگواؤ۔”بیچارہ کچھوا اپنی دھیمی رفتار سے ایک دفتر سے دوسرے دفتر گھومتا رہا۔ ہر بار جب وہ فائل لے کر پہنچتا، کوئی نہ کوئی نیا اعتراض لگا دیا جاتا۔• لومڑی نے کہا: “تمہاری تصویر میں تمہاری پیٹھ کا خول صاف…
لارنس آف عریبیا۔۔۔!
لارنس آف عربیہ: سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف برطانوی سازشوں، جاسوسی، دھوکہ دہی، عرب بغاوت اور مسلمانوں کی تاریخ کی سب سے بڑی غداری کی مکمل داستان مشاہیر عالم میں بعض اوقات نیک نام کے ساتھ بدنام بھی شامل ہوتے ہیں۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے: “ہم طالبِ شہرت ہیں، ہمیں ننگ سے کیا کام، بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا؟” انہی بدنام کرداروں میں تھامس ایڈورڈ لارنس، جسے “لارنس آف عربیہ” کہا جاتا ہے، ایک نمایاں مثال ہے۔ وہ ایک انگریز جاسوس تھا جس نے بہروپ بدل کر عربوں اور ترکوں (عثمانی مسلمانوں) کے درمیان نفرت کے بیج بوئے اور بالآخر سلطنتِ عثمانیہ کو پارہ پارہ کر کے چھوڑ دیا۔ یہ داستان نہ صرف تاریخی حقائق پر مبنی ہے بلکہ برطانوی سامراج کی “divide and rule” پالیسی، جھوٹے وعدوں اور مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کی سازشوں کی مکمل تصویر پیش کرتی ہے۔ یہ مضمون لارنس کی زندگی،…
بلاعنوان۔۔۔🙂!
کہا جاتا ہے کہ کسی بادشاہ کا گزر اپنی سلطنت کے ایک ایسے علاقے سے ہوا جہاں کے لوگ سیدھا نہر سے ہی پانی لیکر پیتے تھے۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ عوام الناس کی سہولت کیلیئے یہاں ایک گھڑا بھر کر رکھ دیا جائے تو زیادہ بہتر رہے گا اور ہر چھوٹا بڑا سہولت کے ساتھ پانی پی سکے گا۔ بادشاہ یہ کہتے ہوئے اپنی باقی کے سفر پر آگے کی طرف بڑھ گیا۔ شاہی حکم پر ایک گھڑا خرید کر نہر کے کنارے رکھا جانے لگا تو ایک اہلکار نے مشورہ دیا یہ گھڑا عوامی دولت سے خرید کر شاہی حکم پر یہاں نصب کیا جا رہا ہے۔ ضروری ہے کہ اس کی حفاظت کا بندوبست کیا جائے اور ایک سنتری کو چوکیداری کیلیئے مقرر کیا جائے۔ سنتری کی تعیناتی کا حکم ملنے پر یہ قباحت بھی سامنے آئی کہ گھڑا بھر نے کیلیئے کسی ماشکی کا ہونا…
بلاعنوان۔۔۔🙂!
کچھوا اور خرگوش کی نئی دوستیخرگوش اور کچھوے کی پرانی دشمنی اب دوستی میں بدل چکی تھی۔ ایک دن انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ مل کر ایک بہت دور والے شہر جائیں گے۔ راستے میں ایک بہت بڑی اور تیز لہروں والی ندی آگئی۔ خرگوش وہاں رک گیا کیونکہ اسے تیرنا نہیں آتا تھا اور کچھوا تیز لہروں میں اکیلا پار نہیں جا سکتا تھا۔دونوں نے ایک ترکیب سوچی۔ خشکی پر خرگوش نے کچھوے کو اپنی پیٹھ پر بٹھایا اور تیزی سے دوڑتا رہا۔ جب ندی آئی تو خرگوش کچھوے کی پیٹھ پر سوار ہو گیا اور کچھوے نے اسے باآسانی ندی پار کرا دی۔ اس طرح دونوں نے مل کر اپنا سفر بہت جلد اور کامیابی سے مکمل کر لیا۔سبق: انفرادی قابلیت اپنی جگہ اہم ہے لیکن ٹیم ورک اور مل جل کر کام کرنے سے ناممکن کام بھی ممکن ہو جاتے ہیں۔
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک مرتبہ جنگل میں بادشاہت کے خاتمے کا اعلان ہوا اور طے پایا کہ اب “جمہوریت” آئے گی، یعنی جانور خود اپنا لیڈر چنیں گے۔ پورے جنگل میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ اب ان کی تقدیر بدلے گی۔امیدواروں میں ایک طرف ایک محنتی بیل تھا جو سارا دن ہل چلاتا تھا اور دوسری طرف ایک چرب زبان کتا تھا جو لومڑیوں اور بھیڑیوں کا منظورِ نظر تھا۔الیکشن سے چند دن پہلے، کتے نے لومڑی کے مشورے پر ایک عجیب چال چلی۔ اس نے جنگل کے غریب ترین علاقوں (چوہوں، خرگوشوں اور بکریوں کے علاقوں) میں جا کر “مفت ہڈیاں” اور “ایک ایک دن کی گھاس” بانٹنا شروع کر دی جو اس نے بڑے بڑے شکاریوں سے ادھار لی تھی۔بندروں نے (جو میڈیا کا کردار ادا کر رہے تھے) شور مچا دیا: “دیکھو! کتا کتنا سخی ہے، وہ تو اپنے پاس سے سب کو کھانا کھلا رہا ہے۔ بیل…
بلاعنوان۔۔۔😂🙏!
ایک عورت نے شیطان سے کہا: کیا تم اس شخص کو دیکھ رہے ہو جو درزی کا کام کرتا ہے؟کیا تم اسے اپنی بیوی کو طلاق دینے کیلئے آمادہ کر سکتے ہو ؟ ۔۔۔۔شیطان نے کہا ہاں ، یہ کون سا مشکل کام ھے۔ میں اسے آمادہ کر لوں گا۔… تو شیطان درزی کے پاس گیا اور اسے مختلف سمتوں سے ورغلایا ۔۔۔۔ لیکن درزی اپنی بیوی سے بیحد پیار کرتا تھا، لہذا وہ شیطان کی باتوں میں نہیں آیا اور اس نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بارے میں سوچا تک نہیں۔شیطان واپس آیا اور اس نے عورت کے سامنے ہار مان لی ۔عورت نے کہا: اب دیکھو کیا ہوتا ہے!وہ عورت درزی کے پاس گئی اور اس سے کہا کہ میرا بیٹا اپنی محبوبہ کو خوبصورت سوٹ گفٹ کرنا چاہتا ھے جس کیلئے مجھے کپڑے کا ایک خوبصورت ٹکڑا چاہیئے۔ درزی نے اسے ایک کپڑے کا ٹکڑا…
ایک بڑھیا کا عجیب اور عبرت انگیز واقعہ
دولتِ عباسیہ کا تاجدار مامون الرشید، جس نے شیرِ عدل اور حاتم کی سخاوت کو فراموش کر دیا تھا، سلطنتِ بغداد پر حکمرانی کر رہا تھا۔ اس کا بیٹا، شہزادہ عباس، طائفۃ النمل کے قریب شکار میں مصروف تھا۔غروبِ آفتاب کی روشنی میں دریا کے کنارے، ایک حسین عورت پانی کا گھڑا بھر رہی تھی۔ عباس نے اسے دیکھا اور پوچھا:“تم کون ہو؟ اور کس خاندان سے تعلق رکھتی ہو؟ کیا یہاں بھی حسن جنم لے سکتا ہے؟”عورت نے غصے سے جواب دیا اور آگے بڑھ گئی۔ عباس نے حکم دیا کہ اس کا حسب و نسب معلوم کیا جائے اور نکاح کا پیغام بھیجا جائے۔لیکن معلوم ہوا کہ یہ عورت خاندانِ برامکہ کی بیوہ مغیرہ بنت ازدار تھی، دو بچوں کی ماں اور اپنے خاندان کی بربادی کا غم لئے ہوئی۔ نکاح کا پیغام سن کر وہ بے قابو ہو گئی اور فرمایا:“ہارون ہماری جانیں تباہ کر چکا، اب…
دلچسپ و عجیب کہانی》وہ شہر جو کہ چلتا تھا😱۔
یہ کہانی ایک ایسے شہر کی ہے جس کا نام گرد پا تھا اور یہ ایک عجیب و غریب راز اپنے اندر چھپائے ہوئے تھا۔ اس شہر کے باشندے نسلوں سے اس بات کے عادی تھے کہ ان کی زمین کبھی ساکن نہیں رہتی تھی۔ ہر صبح جب وہ بیدار ہوتے تو ان کے گھروں کے باہر کا منظر بالکل بدل چکا ہوتا تھا۔ کبھی سامنے برفانی چوٹیاں ہوتیں تو کبھی تپتا ہوا ریگستان نظر آتا۔آریان اس شہر کا ایک ایسا نوجوان تھا جس کے دل میں سوالات کا طوفان رہتا تھا۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ یہ شہر روزانہ اپنی جگہ کیسے بدل لیتا ہے۔ ایک رات جب پورا شہر گہری نیند سو رہا تھا، آریان خاموشی سے شہر کی آخری فصیل کی طرف نکل گیا۔ وہاں پہنچ کر اس نے ایک ایسی چیز دیکھی جس نے اس کے ہوش اڑا دیے۔اس نے دیکھا کہ شہر کی بنیادیں مٹی…
جادوئی گھڑا۔۔۔🙂!
کسی دور دراز گاؤں میں “رحمت” نامی ایک غریب کسان رہتا تھا۔ رحمت کے پاس زمین کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا تھا، جو بہت بنجر اور پتھریلا تھا۔ گاؤں کے باقی کسان اسے مشورہ دیتے کہ وہ یہ زمین چھوڑ کر شہر چلا جائے، لیکن رحمت کہتا، “مٹی سونا اگلتی ہے، بس اسے پسینے کی ضرورت ہوتی ہے۔”ایک تپتی دوپہر، جب رحمت اپنے کھیت میں سخت پتھر ہٹانے کی کوشش کر رہا تھا، اس کا بیلچہ کسی دھاتی چیز سے ٹکرایا۔ اس نے تجسس میں گڑھا کھودا تو وہاں سے ایک پرانا، مٹی سے اٹا ہوا “تانبے کا گھڑا” نکلا۔رحمت نے سوچا کہ شاید اس میں ہیرے جواہرات ہوں گے، لیکن جب اس نے ڈھکن کھولا تو وہ خالی تھا۔ رحمت نے مسکرا کر کہا، “چلو، کچھ نہیں تو پانی پینے کے کام آئے گا۔” اس نے اپنا تولیہ گھڑے کے اوپر رکھا اور درخت کے سائے میں آرام کرنے…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #InspirationalQuotes #NZEECollection #MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday messageoftheday messages #urdustory #urduquotes #MoralStory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک عورت نے ایک بزرگ ریڑی والے سے پوچھا:” انڈے کتنے روپے درجن ہیں؟”بوڑھے نے ادب سے جواب دیا:“بی بی، تیس روپے فی انڈہ۔”عورت بولی:“میں چھ انڈے 150 روپے میں لوں گی، ورنہ چلی جاؤں گی۔”بوڑھا آدمی نرمی سے مسکرایا:“بی بی، جیسے آپ چاہیں ویسے لے لیں۔ میرے لیے تو یہ اچھی شروعات ہے۔ آج ابھی تک ایک بھی انڈہ نہیں بِکا، اور مجھے اسی سے گزارا کرنا ہے۔”عورت اپنے خیال میں بہترین سودے پر خوش ہو کر وہاں سے چلی گئی۔کچھ دیر بعد وہ اپنی لگژری کار میں بیٹھ کر ایک مہنگے ریسٹورنٹ پہنچی، جہاں اپنی دوست کے ساتھ کھانا کھایا۔ دونوں نے بے جھجھک آرڈر کیا، کھانے کو مشکل سے ہاتھ بھی لگایا، اور جب 4500 روپے کا بل آیا تو 5000 ادا کر کے مالک سے کہا کہ باقی رکھ لو، یہ ٹِپ ہے۔ ریسٹورنٹ کے لیے یہ سخاوت عام بات ہوگی،لیکن انڈے بیچنے والے کے لیے…