Tag Archives: #urdustory #urduquotes #MoralStory

کہا جاتا ہے کہ کسی بادشاہ کا گزر اپنی سلطنت کے  ایک ایسے علاقے  سے ہوا جہاں کے لوگ سیدھا  نہر سے  ہی پانی لیکر پیتے تھے۔  بادشاہ نے حکم دیا کہ عوام الناس کی سہولت کیلیئے یہاں ایک گھڑا  بھر کر رکھ دیا جائے تو زیادہ بہتر رہے گا اور ہر چھوٹا بڑا  سہولت کے ساتھ پانی  پی سکے گا۔ بادشاہ یہ کہتے ہوئے اپنی باقی کے سفر پر آگے کی طرف بڑھ گیا۔ شاہی حکم پر ایک گھڑا خرید کر نہر کے کنارے رکھا  جانے لگا تو ایک اہلکار نے مشورہ دیا یہ گھڑا عوامی دولت سے خرید کر شاہی حکم پر یہاں نصب کیا جا رہا ہے۔ ضروری ہے کہ اس کی حفاظت کا بندوبست کیا جائے اور  ایک سنتری کو چوکیداری کیلیئے مقرر کیا جائے۔ سنتری کی تعیناتی کا حکم ملنے پر یہ قباحت بھی سامنے آئی کہ گھڑا بھر نے کیلیئے کسی ماشکی کا ہونا…

Read more

کچھوا اور خرگوش کی نئی دوستیخرگوش اور کچھوے کی پرانی دشمنی اب دوستی میں بدل چکی تھی۔ ایک دن انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ مل کر ایک بہت دور والے شہر جائیں گے۔ راستے میں ایک بہت بڑی اور تیز لہروں والی ندی آگئی۔ خرگوش وہاں رک گیا کیونکہ اسے تیرنا نہیں آتا تھا اور کچھوا تیز لہروں میں اکیلا پار نہیں جا سکتا تھا۔دونوں نے ایک ترکیب سوچی۔ خشکی پر خرگوش نے کچھوے کو اپنی پیٹھ پر بٹھایا اور تیزی سے دوڑتا رہا۔ جب ندی آئی تو خرگوش کچھوے کی پیٹھ پر سوار ہو گیا اور کچھوے نے اسے باآسانی ندی پار کرا دی۔ اس طرح دونوں نے مل کر اپنا سفر بہت جلد اور کامیابی سے مکمل کر لیا۔سبق: انفرادی قابلیت اپنی جگہ اہم ہے لیکن ٹیم ورک اور مل جل کر کام کرنے سے ناممکن کام بھی ممکن ہو جاتے ہیں۔

ایک مرتبہ جنگل میں بادشاہت کے خاتمے کا اعلان ہوا اور طے پایا کہ اب “جمہوریت” آئے گی، یعنی جانور خود اپنا لیڈر چنیں گے۔ پورے جنگل میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ اب ان کی تقدیر بدلے گی۔امیدواروں میں ایک طرف ایک محنتی بیل تھا جو سارا دن ہل چلاتا تھا اور دوسری طرف ایک چرب زبان کتا تھا جو لومڑیوں اور بھیڑیوں کا منظورِ نظر تھا۔الیکشن سے چند دن پہلے، کتے نے لومڑی کے مشورے پر ایک عجیب چال چلی۔ اس نے جنگل کے غریب ترین علاقوں (چوہوں، خرگوشوں اور بکریوں کے علاقوں) میں جا کر “مفت ہڈیاں” اور “ایک ایک دن کی گھاس” بانٹنا شروع کر دی جو اس نے بڑے بڑے شکاریوں سے ادھار لی تھی۔بندروں نے (جو میڈیا کا کردار ادا کر رہے تھے) شور مچا دیا: “دیکھو! کتا کتنا سخی ہے، وہ تو اپنے پاس سے سب کو کھانا کھلا رہا ہے۔ بیل…

Read more

ایک عورت نے شیطان سے کہا: کیا تم اس شخص کو دیکھ رہے ہو جو درزی کا کام کرتا ہے؟کیا تم اسے اپنی بیوی کو طلاق دینے کیلئے آمادہ کر سکتے ہو ؟ ۔۔۔۔شیطان نے کہا ہاں ، یہ کون سا مشکل کام ھے۔ میں اسے آمادہ کر لوں گا۔… تو شیطان درزی کے پاس گیا اور اسے مختلف سمتوں سے ورغلایا ۔۔۔۔ لیکن درزی اپنی بیوی سے بیحد پیار کرتا تھا، لہذا وہ شیطان کی باتوں میں نہیں آیا اور اس نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بارے میں سوچا تک نہیں۔شیطان واپس آیا اور اس نے عورت کے سامنے  ہار مان لی ۔عورت نے کہا: اب دیکھو کیا ہوتا ہے!وہ عورت درزی کے پاس گئی اور اس سے کہا کہ میرا بیٹا اپنی محبوبہ کو خوبصورت سوٹ گفٹ کرنا چاہتا ھے جس کیلئے مجھے کپڑے کا ایک خوبصورت ٹکڑا چاہیئے۔ درزی نے اسے ایک کپڑے کا ٹکڑا…

Read more

دولتِ عباسیہ کا تاجدار مامون الرشید، جس نے شیرِ عدل اور حاتم کی سخاوت کو فراموش کر دیا تھا، سلطنتِ بغداد پر حکمرانی کر رہا تھا۔ اس کا بیٹا، شہزادہ عباس، طائفۃ النمل کے قریب شکار میں مصروف تھا۔غروبِ آفتاب کی روشنی میں دریا کے کنارے، ایک حسین عورت پانی کا گھڑا بھر رہی تھی۔ عباس نے اسے دیکھا اور پوچھا:“تم کون ہو؟ اور کس خاندان سے تعلق رکھتی ہو؟ کیا یہاں بھی حسن جنم لے سکتا ہے؟”عورت نے غصے سے جواب دیا اور آگے بڑھ گئی۔ عباس نے حکم دیا کہ اس کا حسب و نسب معلوم کیا جائے اور نکاح کا پیغام بھیجا جائے۔لیکن معلوم ہوا کہ یہ عورت خاندانِ برامکہ کی بیوہ مغیرہ بنت ازدار تھی، دو بچوں کی ماں اور اپنے خاندان کی بربادی کا غم لئے ہوئی۔ نکاح کا پیغام سن کر وہ بے قابو ہو گئی اور فرمایا:“ہارون ہماری جانیں تباہ کر چکا، اب…

Read more

یہ کہانی ایک ایسے شہر کی ہے جس کا نام گرد پا تھا اور یہ ایک عجیب و غریب راز اپنے اندر چھپائے ہوئے تھا۔ اس شہر کے باشندے نسلوں سے اس بات کے عادی تھے کہ ان کی زمین کبھی ساکن نہیں رہتی تھی۔ ہر صبح جب وہ بیدار ہوتے تو ان کے گھروں کے باہر کا منظر بالکل بدل چکا ہوتا تھا۔ کبھی سامنے برفانی چوٹیاں ہوتیں تو کبھی تپتا ہوا ریگستان نظر آتا۔آریان اس شہر کا ایک ایسا نوجوان تھا جس کے دل میں سوالات کا طوفان رہتا تھا۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ یہ شہر روزانہ اپنی جگہ کیسے بدل لیتا ہے۔ ایک رات جب پورا شہر گہری نیند سو رہا تھا، آریان خاموشی سے شہر کی آخری فصیل کی طرف نکل گیا۔ وہاں پہنچ کر اس نے ایک ایسی چیز دیکھی جس نے اس کے ہوش اڑا دیے۔اس نے دیکھا کہ شہر کی بنیادیں مٹی…

Read more

کسی دور دراز گاؤں میں “رحمت” نامی ایک غریب کسان رہتا تھا۔ رحمت کے پاس زمین کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا تھا، جو بہت بنجر اور پتھریلا تھا۔ گاؤں کے باقی کسان اسے مشورہ دیتے کہ وہ یہ زمین چھوڑ کر شہر چلا جائے، لیکن رحمت کہتا، “مٹی سونا اگلتی ہے، بس اسے پسینے کی ضرورت ہوتی ہے۔”ایک تپتی دوپہر، جب رحمت اپنے کھیت میں سخت پتھر ہٹانے کی کوشش کر رہا تھا، اس کا بیلچہ کسی دھاتی چیز سے ٹکرایا۔ اس نے تجسس میں گڑھا کھودا تو وہاں سے ایک پرانا، مٹی سے اٹا ہوا “تانبے کا گھڑا” نکلا۔رحمت نے سوچا کہ شاید اس میں ہیرے جواہرات ہوں گے، لیکن جب اس نے ڈھکن کھولا تو وہ خالی تھا۔ رحمت نے مسکرا کر کہا، “چلو، کچھ نہیں تو پانی پینے کے کام آئے گا۔” اس نے اپنا تولیہ گھڑے کے اوپر رکھا اور درخت کے سائے میں آرام کرنے…

Read more

ایک عورت نے ایک بزرگ ریڑی والے سے پوچھا:” انڈے کتنے روپے درجن ہیں؟”بوڑھے نے ادب سے جواب دیا:“بی بی، تیس روپے فی انڈہ۔”عورت بولی:“میں چھ انڈے 150 روپے میں لوں گی، ورنہ چلی جاؤں گی۔”بوڑھا آدمی نرمی سے مسکرایا:“بی بی، جیسے آپ چاہیں ویسے لے لیں۔ میرے لیے تو یہ اچھی شروعات ہے۔ آج ابھی تک ایک بھی انڈہ نہیں بِکا، اور مجھے اسی سے گزارا کرنا ہے۔”عورت اپنے خیال میں بہترین سودے پر خوش ہو کر وہاں سے چلی گئی۔کچھ دیر بعد وہ اپنی لگژری کار میں بیٹھ کر ایک مہنگے ریسٹورنٹ پہنچی، جہاں اپنی دوست کے ساتھ کھانا کھایا۔ دونوں نے بے جھجھک آرڈر کیا، کھانے کو مشکل سے ہاتھ بھی لگایا، اور جب 4500 روپے کا بل آیا تو 5000 ادا کر کے مالک سے کہا کہ باقی رکھ لو، یہ ٹِپ ہے۔ ریسٹورنٹ کے لیے یہ سخاوت عام بات ہوگی،لیکن انڈے بیچنے والے کے لیے…

Read more

88/88
NZ's Corner