بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

ایک عقل مند آدمی کسی جنگل سے گزر رہا تھا۔ راستے میں اس نے دو آدمیوں کو دیکھا جو پریشانی کے عالم میں ادھر ادھر کچھ تلاش کر رہے تھے۔ اس آدمی نے ان کے قریب جا کر پوچھا، ”کیا آپ لوگوں کا اونٹ گم ہو گیا ہے؟“
ایک آدمی نے فوراً جواب دیا، ”ہاں بھائی! ہمارا اونٹ گم ہو گیا ہے۔ ہم کافی دیر سے اسے ڈھونڈ رہے ہیں مگر نہ جانے وہ کہاں چلا گیا ہے۔ کیا تم نے اسے کہیں دیکھا ہے؟“
عقل مند آدمی نے ان سے پوچھا، ”کیا تمہارا اونٹ ایک آنکھ سے کانا (اندھا) تھا؟“
دونوں آدمی یک زبان ہو کر بولے، ”ہاں، ہاں! بالکل۔“
اس نے پھر پوچھا، ”کیا وہ بائیں پاؤں سے لنگڑاتا تھا؟“
انہوں نے تصدیق کی، ”ہاں، وہ لنگڑا بھی ہے۔“
آدمی نے ایک اور سوال کیا، ”کیا اس کا کوئی آگے کا دانت ٹوٹا ہوا تھا؟“
اونٹ والوں نے حیرت سے کہا، ”ہاں… اس کا ایک دانت ٹوٹا ہوا ہے۔“
آخر میں اس عقل مند آدمی نے پوچھا، ”کیا اس پر ایک طرف شہد اور دوسری طرف گندم لدی ہوئی تھی؟“
دونوں خوشی سے چلائے، ”ہاں! بالکل ٹھیک۔ وہی ہمارا اونٹ ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ تم نے اسے دیکھا ہے، جلدی بتاؤ وہ کہاں ہے؟“
عقل مند آدمی نے بڑے اطمینان سے جواب دیا، ”میں نے کوئی اونٹ نہیں دیکھا۔“
یہ سن کر وہ دونوں غصے میں آ گئے اور اس سے الجھنے لگے۔ ”کم بخت چور! تم نے ضرور ہمارا اونٹ چھپایا ہے یا اسے دیکھا ہے، ورنہ تمہیں ان ساری نشانیوں کا اتنی درستی سے کیسے پتہ چلا؟ سچ سچ بتاؤ وہ کہاں ہے؟“
اس شخص نے قسم کھا کر کہا، ”بھائیو! یقین جانو میں نے واقعی تمہارا اونٹ نہیں دیکھا۔“
مگر اونٹ والوں کو اس کی بات پر یقین نہ آیا اور وہ اسے پکڑ کر کوتوال کے پاس لے گئے۔ کوتوال نے پورا واقعہ تفصیل سے سنا اور اس شخص سے پوچھا، ”اگر تم نے اونٹ کو دیکھا ہی نہیں، تو پھر تمہیں اس کے بارے میں اتنی باتیں کیسے معلوم ہوئیں؟“
عقل مند آدمی نے ادب سے جواب دیا، ”جناب! ریت پر اونٹ کے پاؤں کے نشانات موجود تھے، جن میں سے ایک پاؤں کا نشان بہت ہلکا تھا، اس لیے میں سمجھ گیا کہ وہ ایک پاؤں سے لنگڑاتا ہے۔ راستے میں اونٹ نے صرف ایک ہی طرف کی گھاس کھائی تھی، جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ اس کی دوسری آنکھ خراب ہے۔ اس کے علاوہ، کھائی ہوئی گھاس کے درمیان جگہ جگہ سے گھاس چھوٹی ہوئی تھی، جس سے میں نے اندازہ لگایا کہ اس کا کوئی دانت ٹوٹا ہوا ہے۔ مزید یہ کہ راستے میں ایک طرف کچھ دور تک گندم گری ہوئی تھی اور دوسری طرف مکھیاں اکٹھی ہو رہی تھیں، جس سے مجھے معلوم ہوا کہ اونٹ پر ایک طرف گندم اور دوسری طرف شہد لدا ہوا ہے۔“
کوتوال اس شخص کی فراست اور کمالِ مشاہدہ سے بہت متاثر ہوا اور اسے باعزت رہا کر دیا۔ اونٹ والوں کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہوا، انہوں نے اس سے معافی مانگی اور وہاں سے چلے گئے۔
سبق: سچ ہے کہ اگر انسان اپنی عقل اور مشاہدے کا درست استعمال کرے، تو وہ بہت سی ان دیکھی باتوں کا بھی بخوبی پتہ چلا سکتا ہے۔

منقول

Leave a Reply

NZ's Corner