ایک بوڑھا دانا اپنے پوتے کے ساتھ جنگل کے کنارے بیٹھا تھا۔ شام کا وقت تھا، آسمان پر سورج کی آخری روشنی درختوں کے پتوں سے چھن کر زمین پر پڑ رہی تھی۔ بوڑھے کے چہرے پر سکون اور آنکھوں میں تجربے کی گہری روشنی تھی۔
پوتا کچھ پریشان نظر آ رہا تھا۔ اس نے آہستہ سے اپنے دادا سے کہا:
“دادا جان! میرے دل میں عجیب سی لڑائی چلتی رہتی ہے۔ کبھی میں اچھا بننا چاہتا ہوں، مگر کبھی مجھے غصہ، حسد اور نفرت بھی محسوس ہوتی ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟”
بوڑھا دانا مسکرایا اور کہنے لگا:
“بیٹا، یہ لڑائی صرف تمہارے دل میں نہیں ہوتی، بلکہ ہر انسان کے اندر ہوتی ہے۔”
پوتا حیران ہو کر دادا کی طرف دیکھنے لگا۔
دادا نے بات جاری رکھی:
“ہر انسان کے دل میں دو بھیڑیے رہتے ہیں۔”
پوتے نے پوچھا:
“دو بھیڑیے؟ کیسے؟”
بوڑھے نے کہا:
“پہلا بھیڑیا برائی کی نمائندگی کرتا ہے۔ وہ غصہ، حسد، لالچ، غرور، جھوٹ اور نفرت سے بھرا ہوا ہے۔ وہ انسان کو دوسروں کو نقصان پہنچانے اور غلط راستے پر چلنے کی طرف دھکیلتا ہے۔”
پھر اس نے آہستہ سے کہا:
“دوسرا بھیڑیا اچھائی کی نمائندگی کرتا ہے۔ وہ محبت، صبر، سچائی، ہمدردی، عاجزی اور امید سے بھرا ہوا ہے۔ وہ انسان کو اچھے کام کرنے اور دوسروں کی مدد کرنے کی طرف لے جاتا ہے۔”
پوتا کچھ دیر سوچتا رہا، پھر اس نے سوال کیا:
“دادا جان! اگر دونوں بھیڑیے ہر انسان کے اندر رہتے ہیں… تو آخر جیت کس کی ہوتی ہے؟”
بوڑھے دانا نے مسکرا کر اپنے پوتے کی طرف دیکھا اور آہستہ سے جواب دیا:
“جیت ہمیشہ اسی بھیڑیے کی ہوتی ہے… جسے تم کھانا کھلاتے ہو۔”
پوتا یہ سن کر خاموش ہو گیا، مگر اس کے چہرے پر ایسا تاثر تھا جیسے اسے زندگی کا ایک بڑا راز سمجھ آ گیا ہو۔
اخلاقی سبق
1. ہر انسان کے اندر اچھائی اور برائی دونوں موجود ہوتی ہیں۔
2. انسان کے اعمال طے کرتے ہیں کہ اس کے اندر کون سی قوت مضبوط ہوگی۔
3. اچھے خیالات اور اچھے عمل انسان کی شخصیت کو بہتر بناتے ہیں۔
