Tag Archives: urdustory

موت کی کھائی میں چھلانگ اور چنگیز خان کا خراجِ تحسین: تاریخ کا سب سے نڈر اور تنہا جنگجو 1221ء کی ایک خونی دوپہر… دریائے سندھ کی بپھری ہوئی لہریں اور اس کے کنارے پر کھڑی دنیا کی سب سے خوفناک اور سفاک فوج۔ چنگیز خان کے منگولوں نے ایک تنہا جنگجو کو تین طرف سے گھیر رکھا تھا۔ پیچھے خونخوار دشمن اور آگے موت جیسی گہری کھائی اور دریا۔ اس جنگجو کے تمام ساتھی مارے جا چکے تھے اور بچنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ اس نے خون میں لت پت اپنی تلوار نیام میں ڈالی، اپنی ڈھال کو پیٹھ پر باندھا، اور اپنے تھکے ہوئے گھوڑے کو ایڑ لگا کر درجنوں فٹ اونچی چٹان سے دریائے سندھ کی بپھری ہوئی موجوں میں چھلانگ لگا دی۔ چنگیز خان، جس کے نام سے آدھی دنیا کانپتی تھی، یہ منظر دیکھ کر حیرت سے اپنے گھوڑے سے اترا۔ اس نے فوراً…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک زہریلا سانپ ایک بھاری چٹان کے نیچے پھنس گیا۔ وہ تڑپ رہا تھا، پھنکار رہا تھا اور مدد کے لیے پکار رہا تھا۔ وہاں سے گزرتی ہوئی ایک عورت نے اس کی یہ حالت دیکھی اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے چٹان کو ایک طرف دھکیل دیا۔جیسے ہی سانپ آزاد ہوا، وہ اس کی طرف مڑا اور بڑی بے رخی سے بولا:’’میں نے قسم کھا رکھی ہے کہ جو بھی میری مدد کے لیے ہاتھ بڑھائے گا، میں اسے ڈس لوں گا۔‘‘عورت حیرت سے سن رہ گئی۔’’لیکن میں نے تو ابھی تمہاری جان بچائی ہے۔ تم میری نیکی کا بدلہ برائی سے کیسے دے سکتے ہو؟‘‘سانپ نے سکون سے جواب دیا: ’’میں تمہیں پھر بھی ڈسوں گا، کیونکہ یہ میری فطرت ہے، اور فطرت کبھی نہیں بدلتی، چاہے کچھ بھی ہو جائے۔‘‘عورت نے اپنا حوصلہ برقرار رکھتے ہوئے کہا:’’چلو تھوڑا آگے چلتے ہیں اور…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے کہ ایک گھنے جنگل میں ایک بوڑھا شیر رہتا تھا، جسے سب جانور دل ہی دل میں اپنا بادشاہ تسلیم کرتے تھے۔ اگرچہ اس کی جسمانی طاقت پہلے جیسی نہ رہی تھی، مگر اس کی ہیبت اور وقار بدستور قائم تھا۔ اب وہ شکار کے بجائے دربار لگاتا اور جانوروں کے درمیان انصاف کے فیصلے کیا کرتا تھا۔ روزانہ جنگل کے مختلف جانور اس کے دربار میں حاضر ہوتے، ادب سے سلام پیش کرتے اور اس کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے۔ خصوصاً لومڑیاں ہر وقت اس کے گرد منڈلاتیں اور نہایت خوشامدانہ انداز میں کہتیں: “حضور، آپ جیسا عادل حکمران زمانے نے نہیں دیکھا۔” “آپ کی دانائی تو مثال سے بالاتر ہے۔” شیر ان باتوں سے خوش ہوتا اور ان چاپلوسوں کو اپنے قریب رکھتا۔ ایک دن ایک کمزور سا ہرن، لنگڑاتا ہوا دربار میں حاضر ہوا۔ اس کی آنکھوں میں…

Read more

14ویں صدی کا اوائل… تصور کریں ایک 100 سال سے زائد عمر کا انتہائی ضعیف لیکن دیوہیکل جنگجو، جس کی سفید داڑھی ہوا میں اڑ رہی ہے، لیکن اس کے ہاتھوں میں اب بھی ایک ایسا بھاری بھرکم کلہاڑا (Axe) ہے جسے اٹھانا عام جوانوں کے بس کی بات نہیں۔ اس شخص نے ارطغرل غازی کے ساتھ خانہ بدوشی کے خیمے گاڑے، عثمان غازی کو انگلی پکڑ کر جنگ کرنا سکھایا اور سلطنت کی بنیاد رکھی، اور پھر اورہان غازی کے ساتھ مل کر بازنطینی قلعوں کو فتح کیا۔ یہ تاریخ کے ان چند گنے چنے جنگجوؤں میں سے ایک، ترگت الپ (Turgut Alp) کی سچی کہانی ہے، جنہوں نے ایک قبیلے کو سلطنت بنتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور سلطنتِ عثمانیہ کے تین عظیم حکمرانوں (ارطغرل، عثمان، اور اورہان) کی تلوار بن کر خدمت کی۔ یہ کہانی بتاتی ہے کہ وفاداری اور بہادری کی عمر کتنی طویل ہو…

Read more

‏یورپ کی بہترین فوج کا بادشاہ صلاح الدین ایوبی کے خلاف صلیبی جنگ لڑنے نکلا لیکن دریا میں ڈوب کر مر گیا ،یہ 12ویں صدی عیسوی کا طاقتور جرمن بادشاہ فریڈرک باربروسہ تھا بابروسہ کا مطلب ہوتا ہے سرخ داڑھی والا اس نے آپس میں لڑتی جھگڑتی جرمن ریاستوں کو طاقت کے زور پر متحد کیا پھر پولینڈ کو فتح کیا اس کے بعد اٹلی پر حملہ کر کے روم جا پہنچا وہاں سے کیتھولک پوپ سے زبردستی اپنے فتح کردہ علاقوں کو Holy Roman Empire قرار دے کر اپنے آپ کو شہنشاہ تسلیم کروایا،جب سلطان صلاح الدین ایوبی کے بیت المقدس فتح کرنے کی خبر یورپ پہنچی تو تیسری صلیبی جنگ کی تیاری کی گئی ان میں سب سے مضبوط فوج باربروسہ کی تھی فرانس اور انگلینڈ کی فوجیں فلپ اور رچرڈ کی قیادت میں سمندری راستے سے فلسطین پہنچیں ،لیکن بابروسہ نے زمینی راستہ منتخب کیا لیکن ایشیائے…

Read more

ایک جنگل میں ایک بڑا زبردست اور طاقتور ہاتھی رہا کرتا تھا ۔ اور اُسی جنگل میں بہت سے گیدڑ بھی رہا کرتے تھے۔ ایک دن ایک گیدڑ نے کہا۔ خدا نے اس ہاتھی کو کتنا بڑا جسم دیا ہے ۔ اگر ہم بھی اتنے بڑے ہوتے ۔ تو جنگل پر ہمارا ہی راج ہوتا ۔ یہ سن کر ایک بڑھے گیدڑ نے جواب دیا ۔ میاں یہ کیا کہہ رہے ہو۔ خدا نے جسم موٹا تازہ ہاتھی کو دیا ہے مگر عقل کی دولت تو ہماری ہی قوم کو ملی ہے ۔ چاہیں تو اس ہاتھی کو ایک دن میں مار دیں ۔ نوجوان گیدڑ نے حیران ہوکر پوچھا ۔ بڑے میاں کیا یہ سچ مچ ہو سکتا ہے ۔ میرا تو خیال ہے ۔ کہ ہم جنگل کے سارے گیدڑ مل جائیں ۔ تب بھی ہاتھی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔ ذرا سوچھ تو سہی ہماری اوقات…

Read more

تاریخ کی کتابوں میں ایک واقعہ درج ہے کہ ایک بدو کی دلہن کو جس گھوڑے پر بٹھا کر لوگ لائے تھے ۔ دلہن کے گھوڑے سے اترتے ہی اس بدو نے اس گھوڑے کی تلوار سے گردن الگ کردی ۔ لوگوں نے اس سے ایسا کرنے کی وجہ پوچھی تو کہنے لگا کہ میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ میری بیوی کے اترنے کے فوراً بعد ہی کوئی اور اس کی پیٹھ پر بیٹھ جائے اور دلہن کی سواری کی وجہ سے تاحال گھوڑے کی پیٹھ گرم ہو اور کوئی غیر مرد اس حرارت کو محسوس کر لے ۔ اسی طرح ایک اور واقعہ ہے کہ ایک عورت نے اپنے شوہر کے خلاف عدالت میں کیس دائر کیا کہ اس کے ذمہ میرے حق مہر کے ۵۰۰ دینار ہیںعدالت نے شوہر کو بلا کر پوچھا تو اس نے انکار کر دیا ۔عدالت نے گواہوں کو طلب کیا اور…

Read more

کہتے ہیں کسی ملک میں  ایک سال سخت قحط پڑا ۔ لوگ  بھوکے مرنے لگے ۔ ملک کے بادشاہ نے اپنے تمام اراکین سلطنت کو جمع کر کے اُن سے مشورہ کیا کہ اب کیا کرنا چاہئے اور رعایا کی جان کس طرح بچائی جائے : تمام امرا ، وزرا ، نے بہت غور و خوض کے بعد یہ رائے دی کہ ان تمام لوگوں کو قتل کر دیا جائے جو ساٹھ سال سے زیادہ عمر کے ہوں کیونکہ ملک کو اُن کی چنداں ضرورت نہیں اور اس طرح اناج کی جو مقدار کثیر اُن کی خوراک پر خرچ ہوتی ہے وہ بچے گی – اور یہ مفت کا خرچ  کم ہو کر جوانوں کے کام آئے گا۔ بادشاہ نے جو بالکل بے وقوف تھا ۔ اس تجویز کو بہت پسند کیا اور اپنے جنگی سپاہیوں کے  نام حکم جاری کر دیا کہ وہ بوڑھوں کے قتل عام پر آمادہ…

Read more

یہ کہانی شام میں پیش آئی، جسے ایک درزی کے مالک نے بیان کیا ہے:کہانی کے راوی کہتے ہیں: میں ایک درزی کے کارخانے کا مالک تھا، اور میری ایک ہمسائی تھی جس کا شوہر فوت ہو چکا تھا اور اس نے تین یتیم بچے چھوڑے تھے۔ ایک دن وہ میرے کارخانے میں آئی اور کہنے لگی: “اے فلاں، میرے پاس ایک سلائی مشین ہے جس پر میرا شوہر کام کرتا تھا، اور ہم اس پر کام کرنا نہیں جانتے۔ میں چاہتی ہوں کہ ان یتیم بچوں کی کفالت کروں، کیا میں اس مشین کو آپ کے کارخانے میں لا کر آپ کو کرایہ پر دے سکتی ہوں تاکہ مجھے کچھ آمدنی ہو اور میں اپنے خاندان کا پیٹ پال سکوں؟” میں اس کی بات سن کر شرمندہ ہو گیا (اور شرم کبھی بھی برائی کی طرف نہیں لے جاتی)۔ میں نے کہا: “بہن، بالکل! آپ اسے میرے پاس بھیج…

Read more

لوہے کے پنجرے میں قید آسمانی بجلی: سلطان بایزید یلدرم کی داستان 1402ء کا سال… اناطولیہ (انقرہ) کے تپتے ہوئے میدان میں تاریخ کی دو سب سے بڑی طاقتیں آپس میں ٹکرانے والی تھیں۔ ایک طرف وہ عثمانی سلطان تھا جس کی تلوار کی کاٹ اور گھوڑوں کی رفتار دیکھ کر یورپ نے اسے ‘یلدرم’ (آسمانی بجلی) کا خطاب دیا تھا، اور دوسری طرف ایشیا کا لنگڑا لیکن ناقابلِ شکست فاتح، امیر تیمور کھڑا تھا۔ جو عثمانی سلطان ساری زندگی ہواؤں کے دوش پر اڑتا رہا اور جس نے پورے یورپ کو گھٹنوں کے بل جھکا دیا تھا، اس ایک دن کی جنگ اور غرور نے اسے ایسا گرایا کہ تاریخ اسے ایک ‘لوہے کے پنجرے’ میں قید ایک بے بس قیدی کے طور پر یاد رکھتی ہے۔ یہ کہانی عثمانی تاریخ کے سب سے تیز رفتار، جری، لیکن سب سے المناک انجام پانے والے حکمران، سلطان بایزید اول (یلدرم)…

Read more

شیر چاہے کتنا ہی لمبا عرصہ  حکمرانی کرے، سب سے بڑا شیر بھی آخر کار ایک خاموش اور بے بس انجام کو پہنچتا ہے۔ یہی اس دنیا کی حقیقت ہے۔اپنے عروج پر شہر جنگل کی بادشاہی کرتا ہے — تعاقب کرتا، فتح پاتا،اپنے شکار کو نگل جاتا، اور صرف ہڈیوں کے ٹکڑے پیچھے چھوڑتا ہے۔ طاقت اس کی پہچان ہوتی ہے۔اقتدار اسے گھیرے رکھتا ہے۔ خوف اس کے پیچھے چلتا ہے۔مگر وقت بڑا تیزی سے گزرتا ہے۔عمر اسے کمزور کر دیتی ہے جو کبھی ناقابلِ تسخیر لگتا تھا۔ وہی شیر جو ایک زمانے میں بآسانی شکار کرتا تھا، اب نہ تعاقب کر سکتا ہے، نہ لڑ سکتا ہے، نہ اپنا دفاع کر سکتا ہے۔ وہ ادھر ادھر بھٹکتا پھرتا ہے، خالی پن میں دھاڑتا رہتا ہے، یہاں تک کہ قسمت اسے آ دھرتی ہے۔ جنہیں اس نے ایک زمانے میں نظر انداز کر دیا تھا، آج وہی اسے گھیر لیتے…

Read more

ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺩﺳﺘﺮ ﺧﻮﺍﻥ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ، ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺎﺹ ﻟﻮﮔﻮﮞ کو ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﺩﯼﺟﺐ ﺩﺳﺘﺮﺧﻮﺍﻥ ﻟﮓ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺧﺎﺩﻡ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻨﺪﮬﮯ ﭘﺮ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺭﮐﺎﺑﯽ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﯾﺎ؛ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﻮﺍ ﺗﻮﺍﺱ ﭘﺮ ﮨﯿﺒﺖ ﻃﺎﺭﯼ ﮨﻮگئی، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﭘﺎﺅﮞ ﭘﮭﺴﻞ ﮔﯿﺎﺍﻭﺭ ﺭﮐﺎﺑﯽ ﺳﮯ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﺷﻮﺭﺑﺎ ﮔﺮ ﮐﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭘﺮ ﻟﮓ ﮔﯿﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻏﺼﮯ ﺳﮯ ﺁﮒ ﺑﮕﻮﻟﮧ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ۔ﺍﻭﺭ ﺧﺎﺩﻡ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﮮ ﺩﯾﺎﺧﺎﺩﻡ ﻧﮯ ﺟﺐ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﻃﯿﺶ ﺩﯾﮑﮭﺎﺍﻭﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﻋﺰﻡ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﻭﺍﺿﺢ ﮨﻮﮔﯿﺎ ۔ﺗﻮ ﺭﮐﺎﺑﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺳﺎﺭﺍ ﺷﻮﺭﺑﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺍﻧﮉﯾﻞ ﺩﯾﺎ ۔ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﻏﺮﺍﮐﺮ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ ﺍﺭﮮ ﺗﯿﺮﯼ ﺑﺮﺑﺎﺩﯼ ﮨﻮ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﮨﮯ؟ﺧﺎﺩﻡ ﻧﮯ ﻋﺎﺟﺰﺍﻧﮧ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ:ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ!  ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺣﺮﮐﺖ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﻭﺷﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﻏﯿﺮﺕ ﮐﮯ ﺗﺤﻔﻆ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﯽ ﮨﮯﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﻭﮦ ﮐﯿﺴﮯ؟ ﺧﺎﺩﻡ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ:ﻣﺠﮭﮯ…

Read more

ایک آدمی کا گزر ایک جنگل سے ہوا جہاں شدید آگ لگی ہوئی تھی۔ اس نے دیکھا کہ جھاڑیوں کے درمیان ایک سانپ آگ کے حصار میں پھنسا اپنی جان بچانے کی تگ و دو کر رہا ہے۔ آدمی کو ترس آگیا؛ اس نے فوراً ہاتھ بڑھا کر سانپ کو آگ سے نکالا اور اسے محفوظ مقام پر پہنچا دیا۔جیسے ہی سانپ کی جان میں جان آئی، وہ بولا: “اب میں تمہیں ڈسوں گا۔”آدمی حیرت سے بولا: “یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے تو تمہارے ساتھ نیکی کی اور تمہیں موت کے منہ سے نکالا، کیا نیکی کا یہی صلہ ہے؟”سانپ نے سرد مہری سے جواب دیا: “میرے پاس تو نیکی کا یہی صلہ ہے۔”آدمی نے تجویز دی: “اگر تم یہی سمجھتے ہو تو چلو کسی تیسرے سے فیصلہ کروا لیتے ہیں۔” سانپ مان گیا۔ وہ کچھ آگے بڑھے تو انہیں ایک بھینس چربی ہوئی ملی۔ آدمی نے…

Read more

تیزی ہمیشہ دانشمندی نہیں ہوتیرفتار متاثر کن ضرور لگتی ہے، لیکن بقا اکثر اس کا مقدر بنتی ہے جو خطرے کو سب سے پہلے بھانپ لے۔تپتے ہوئے صحرا کے وسیع و عریض ٹیلوں کے درمیان، اونٹوں کا ایک قافلہ چلچلاتی دھوپ میں آگے بڑھ رہا تھا۔ قافلے کے سب سے آگے ایک نوجوان اونٹ تھا، جو طاقتور، توانا، لمبی ٹانگوں اور پر اعتماد قدموں والا تھا۔ جبکہ سب سے پیچھے ایک بوڑھا اونٹ تھا، جس کا ڈھانچہ دبلا پتلا اور رفتار سست تھی۔ وہ کبھی کبھار رک کر افق کی جانب نظریں جما لیتا یا اردگرد کی خشک ہوا کا جائزہ لیتا۔نوجوان اونٹ نے پیچھے مڑ کر اس کا مذاق اڑایا:“تم اب بوڑھے ہو چکے ہو۔ تمہاری ٹانگیں کمزور اور آنکھیں تھک گئی ہیں، اسی لیے تم اتنا آہستہ چلتے ہو۔ اگر تم یونہی رک کر ادھر ادھر دیکھتے رہے تو ہم نخلستان کب پہنچیں گے؟ مجھے دیکھو، رفتار ہی…

Read more

معصوم اور مہربان لوگ زندگی میں آسانی سے دھوکا کھا جاتے ہیں (یا انہیں تکلیف پہنچتی ہے) کیونکہ وہ غلط لوگوں پر بھروسہ کر لیتے ہیں… اس لیے احتیاط کریں کہ آپ اپنا وقت کن لوگوں کے ساتھ گزارتے ہیں۔تفصیلی وضاحتاس تصویر اور تحریر کے ذریعے زندگی کی ایک کڑوی حقیقت بیان کی گئی ہے:فطرت کا فرق: تصویر میں ایک ننھا چوزہ اور ایک سانپ آمنے سامنے ہیں۔ چوزہ معصومیت کی علامت ہے جو سانپ کو بھی اپنا دوست سمجھ کر اس کے قریب جا رہا ہے، جبکہ سانپ اپنی فطرت کے مطابق شکاری ہے اور کسی بھی وقت نقصان پہنچا سکتا ہے۔بھروسہ اور سادگی: نیک دل لوگ اکثر دوسروں کو بھی اپنے جیسا ہی مخلص سمجھتے ہیں۔ وہ سامنے والے کے ظاہری رویے سے دھوکا کھا جاتے ہیں اور یہ نہیں دیکھ پاتے کہ دوسرے کے دل میں کیا چھپا ہے۔غلط صحبت کا اثر: تحریر ہمیں خبردار کرتی ہے…

Read more

ہندوستان کا بادشاہ جنگل میں تنہا گھوڑا دوڑا رہا تھا۔ تیز رفتار گھوڑے پر سوار، ہرن کے تعاقب میں اپنے ساتھیوں سے بہت دور نکل گیا تھا۔ کئی میل تک گھوڑے نے برق رفتار ہرن کا تعاقب کیا، لیکن آخرکار وہ گھنی جھاڑیوں میں غائب ہو گیا۔ سخت گرمی کا زمانہ تھا، دوپہر کا وقت تھا۔ گرم ہوا سے جسم جھلس رہا تھا، پیاس کی شدت سے ہونٹ خشک تھے اور حلق میں کانٹے چبھ رہے تھے۔ شاہجہاں نے گھوڑا روک کر جسم سے پسینہ پونچھا اور سوچنے لگا کہ اب پانی کی تلاش میں کدھر جائے۔ گھوڑا بھی گرمی کی شدت سے ہانپ رہا تھا۔ کئی میل چلنے کے بعد کسی بستی کے آثار نظر نہ آئے، البتہ بہت دور کچھ جانور چرتے نظر پڑے اور بانسری کی آواز بھی تیز جھونکوں کے ساتھ محسوس ہوئی۔ بادشاہ نے اسی سمت اپنے گھوڑے کی باگ موڑ دی۔ چند میل چلنے…

Read more

ایک بادشاہ تھا، اس کا ایک پیر و مرشد تھا جن کے بے شمار مرید اور عقیدت مند تھے۔ ایک دن بادشاہ نے خوش ہو کر اپنے مرشد سے کہا:آپ بہت خوش نصیب انسان ہیں، آپ کے ماننے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ گنی بھی نہیں جا سکتی۔ مرشد مسکرائے اور فرمانے لگے:ان میں سے صرف ڈیڑھ آدمی ایسا ہے جو واقعی میرا سچا ماننے والا ہے، جو مجھ پر جان نچھاور کر سکتا ہے، باقی صرف نام کے مرید ہیں۔ بادشاہ یہ سن کر حیران رہ گیا اور عرض کیا:پچاس ہزار میں سے صرف ڈیڑھ؟ مرشد نے فرمایا:اگر ان کے نفس کا امتحان لیا جائے تو حقیقت سامنے آ جائے گی۔ چنانچہ ایک ٹیلے پر فوراً ایک جھونپڑی بنوائی گئی۔ مرشد نے اس جھونپڑی میں خفیہ طور پر دو بکرے باندھ دیے، کسی کو اس بات کا علم نہ تھا۔ پھر مرشد باہر آئے اور بلند آواز…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ سلامت شدید ‘ڈپریشن’ کا شکار ہو گئے۔ وجہ یہ نہیں تھی کہ شاہی خزانہ خالی تھا، بلکہ دکھ اس بات کا تھا کہ رعایا اتنی صابر و شاکر اور ڈھیٹ واقع ہوئی تھی کہ دربار میں کوئی شکایت لے کر آتا ہی نہیں تھا۔ بادشاہ کو اپنا اقتدار بورنگ لگنے لگا کہ بھئی، اگر عوام روئے پیٹے گی نہیں تو ہم تسلیاں دے کر اپنا سیاسی قد کیسے بڑھائیں گے؟ اس نے فوراً اپنے مشیروں کی ہنگامی میٹنگ بلائی اور حکم دیا، “کوئی ایسا جگاڑ لگاؤ کہ عوام کی چیخیں نکلیں اور وہ روتے پیٹتے دربار کا رخ کریں!”وزیروں نے اپنا روایتی ‘بیوروکریٹک’ دماغ لڑایا اور مشورہ دیا، “حضور! شہر کے اکلوتے پل پر، جہاں سے سب کا روزمرہ کا گزر ہوتا ہے، وہاں 100 روپے فی بندہ ‘گزرگاہ ٹیکس’ لگا دیں۔” بادشاہ نے خوشی خوشی منظوری دے دی۔ کئی دن گزر…

Read more

قارون حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چچا یصہر کا بیٹا تھا۔وہ نہایت شکیل اور خوبصورت انسان تھا، اسی وجہ سے لوگ اُس کے حسن و جمال سے متاثر ہو کر اسے “منور” کہا کرتے تھے۔صرف یہی نہیں، بلکہ وہ بنی اسرائیل میں تورات کا بڑا عالم، نہایت ملنسار اور بااخلاق شخصیت کا مالک بھی تھا، اسی لیے لوگ اس کا بے حد ادب و احترام کرتے تھے۔ لیکن جب بے شمار دولت اس کے ہاتھ آئیتو اس کی زندگی یکسر بدل گئی۔وہ سامری کی طرح منافق ہو گیا،حضرت موسیٰ علیہ السلام کا سخت دشمن بن گیااور تکبر و غرور میں ڈوب گیا۔ جب زکوٰۃ کا حکم نازل ہواتو اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے وعدہ کیاکہ وہ اپنے مال کا ہزارواں حصہ زکوٰۃ میں دے گا۔مگر جب اس نے اپنے مال کا حساب لگایاتو زکوٰۃ کی رقم بہت زیادہ نکلی۔ یہ دیکھ کر اس پر حرص اور بخل…

Read more

خاموشی ہمیشہ تاخیر نہیں ہوتیایک دھوپ سے بھرے باغ میں، ایک چھوٹی چیونٹی کو اپنی مصروفیت پر بڑا ناز تھا۔ وہ روزانہ اپنے جسم سے بڑے ٹکڑے اٹھائے ادھر ادھر دوڑتی رہتی۔ چیونٹی کے نزدیک حرکت ہی ترقی تھی اور بھاگ دوڑ ہی زندگی کا مقصد۔ اس کا ماننا تھا کہ اگر کوئی چیز حرکت میں نہیں ہے، تو وہ پیچھے رہ گئی ہے۔ایک دوپہر، ایک گلابی پتے کے نیچے، چیونٹی کی نظر ایک خاکستری رنگ کے ککون (خول) پر پڑی جو خاموشی سے ٹہنی کے ساتھ لٹکا ہوا تھا۔ وہ خشک، بے آواز اور بالکل عام سا دکھائی دے رہا تھا۔ نہ کوئی حرکت، نہ زندگی کا کوئی نشان۔ چیونٹی قریب آئی اور حقارت سے بولی:“اپنی حالت تو دیکھو! میں سفر کر رہی ہوں، کام کر رہی ہوں اور نتائج حاصل کر رہی ہوں، جبکہ تم یہاں بس بیکار لٹکے ہوئے ہو۔ کتنی ضائع شدہ زندگی ہے تمہاری۔”ککون خاموش…

Read more

40/460
NZ's Corner