بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

لوہے کے پنجرے میں قید آسمانی بجلی: سلطان بایزید یلدرم کی داستان

1402ء کا سال… اناطولیہ (انقرہ) کے تپتے ہوئے میدان میں تاریخ کی دو سب سے بڑی طاقتیں آپس میں ٹکرانے والی تھیں۔ ایک طرف وہ عثمانی سلطان تھا جس کی تلوار کی کاٹ اور گھوڑوں کی رفتار دیکھ کر یورپ نے اسے ‘یلدرم’ (آسمانی بجلی) کا خطاب دیا تھا، اور دوسری طرف ایشیا کا لنگڑا لیکن ناقابلِ شکست فاتح، امیر تیمور کھڑا تھا۔ جو عثمانی سلطان ساری زندگی ہواؤں کے دوش پر اڑتا رہا اور جس نے پورے یورپ کو گھٹنوں کے بل جھکا دیا تھا، اس ایک دن کی جنگ اور غرور نے اسے ایسا گرایا کہ تاریخ اسے ایک ‘لوہے کے پنجرے’ میں قید ایک بے بس قیدی کے طور پر یاد رکھتی ہے۔

یہ کہانی عثمانی تاریخ کے سب سے تیز رفتار، جری، لیکن سب سے المناک انجام پانے والے حکمران، سلطان بایزید اول (یلدرم) کی ہے، جو ہمیں بتاتی ہے کہ جب دو طوفان آپس میں ٹکراتے ہیں تو تباہی مقدر بن جاتی ہے۔

آسمانی بجلی کا عروج اور نکوپولس کا میدان
سلطان بایزید اپنے والد سلطان مراد اول کی شہادت (کوسوو کے میدان میں) کے فوراً بعد تخت نشین ہوئے۔ ان کی سب سے بڑی خوبی ان کی حیرت انگیز رفتار تھی۔ وہ اپنی فوج کو اتنی تیزی سے ایک محاذ سے دوسرے محاذ تک لے جاتے تھے کہ دشمن کو ان کے آنے کی خبر تک نہیں ہوتی تھی۔ اسی لیے انہیں ‘یلدرم’ (Thunderbolt) کہا جانے لگا۔

ان کی طاقت کا سب سے بڑا مظاہرہ 1396ء میں ‘نکوپولس کی جنگ’ (Battle of Nicopolis) میں ہوا۔ جب فرانس، ہنگری، جرمنی اور دیگر یورپی ممالک کی ایک عظیم الشان متحدہ صلیبی فوج نے عثمانیوں کو ختم کرنے کے لیے نکوپولس کے قلعے کا محاصرہ کیا، تو انہیں یقین تھا کہ بایزید سینکڑوں میل دور ہے اور اسے پہنچنے میں مہینوں لگیں گے۔ لیکن صلیبیوں کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب محض چند دنوں میں بایزید یلدرم اپنی فوج کے ساتھ ان کے سروں پر آسمانی بجلی بن کر گرا۔ اس جنگ میں یورپ کی سب سے بہترین فوج کا مکمل صفایا ہو گیا اور بایزید کا نام یورپ کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن گیا۔

دو طوفانوں کا ٹکراؤ اور غرور کے خطوط
بایزید کی فتوحات سے عثمانی سلطنت بہت تیزی سے پھیلی، لیکن یہاں ان سے ایک تاریخی غلطی ہوئی۔ انہوں نے ایشیا مائنر کے ان مسلم ترک سرداروں کے علاقے بھی چھین لیے، جو وسطی ایشیا کے عظیم اور بے رحم فاتح ‘امیر تیمور’ کی پناہ میں تھے۔

تیمور نے بایزید کو خط لکھا کہ وہ ان سرداروں کے علاقے واپس کر دے۔ بایزید، جو نکوپولس کی عظیم فتح کے نشے میں چور تھا، اس نے تیمور کو انتہائی توہین آمیز جواب دیا اور اسے جنگ کی دھمکی دی۔ دونوں طرف سے خطوط میں شدید گالیاں اور دھمکیاں دی گئیں (جو آج بھی تاریخ کا حصہ ہیں)۔ تیمور نے یہ توہین برداشت نہ کی اور اپنی ایک بے پناہ اور جدید فوج، جس میں جنگی ہاتھی بھی شامل تھے، لے کر اناطولیہ پر چڑھ دوڑا۔

انقرہ کا میدان: جنگِ عظیم (1402ء)
20 جولائی 1402ء کو انقرہ کے میدان میں یہ ہولناک معرکہ شروع ہوا۔ تیمور ایک انتہائی شاطر جنگجو تھا۔ اس نے جنگ سے پہلے ہی اس علاقے کے پانی کے کنوؤں کا رخ موڑ دیا اور کچھ میں زہر ملا دیا۔

بایزید کی فوج جب گرمی کے موسم میں تھک ہار کر میدان میں پہنچی تو ان کے پاس پینے کا پانی نہیں تھا۔ پھر تیمور نے اپنی صفوں سے بکتر بند ہاتھیوں کو چھوڑ دیا، جنہیں دیکھ کر عثمانی گھوڑے بدک گئے۔ بایزید کے اپنے کئی ترک قبیلے جنگ کے عین بیچ میں دھوکہ دے کر تیمور کی طرف شامل ہو گئے۔ بایزید اپنے چند ہزار وفادار ینی چری سپاہیوں کے ساتھ شام تک خون کے آخری قطرے تک لڑتا رہا، یہاں تک کہ اس کا گھوڑا مارا گیا اور تاریخ کی یہ ‘آسمانی بجلی’ دشمنوں کے گھیرے میں آ کر گرفتار ہو گئی۔

انجام: لوہے کا پنجرہ اور ٹوٹا ہوا دل
امیر تیمور نے شروع میں بایزید کے ساتھ ایک بادشاہ جیسا سلوک کیا، لیکن جب بایزید نے فرار ہونے کی کوشش کی، تو تیمور نے سختی شروع کر دی۔ تاریخ کی کچھ روایات کے مطابق، بایزید کو سفر کے دوران ایک جنگلے دار پالکی (جسے لوہے کا پنجرہ کہا گیا) میں رکھا جانے لگا، تاکہ وہ دوبارہ بھاگ نہ سکے۔

جو شخص ساری زندگی آزاد فضاؤں میں عقاب کی طرح اڑا ہو، اس کے لیے قید اور ذلت کی یہ زندگی ایک زہر تھی۔ اپنی گرفتاری کے محض آٹھ ماہ بعد، 1403ء میں، سلطان بایزید یلدرم اسی قید میں دل ٹوٹنے اور بیماری (کچھ کے مطابق زہر کھانے) کی وجہ سے انتقال کر گئے۔ ان کی موت اور شکست کے بعد سلطنتِ عثمانیہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی اور اسے دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں دہائیاں لگ گئیں۔ بایزید یلدرم کی کہانی آج بھی تکبر، جلد بازی اور دو عظیم طاقتوں کے ٹکراؤ کا سب سے عبرتناک سبق ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner