بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ سلامت شدید ‘ڈپریشن’ کا شکار ہو گئے۔ وجہ یہ نہیں تھی کہ شاہی خزانہ خالی تھا، بلکہ دکھ اس بات کا تھا کہ رعایا اتنی صابر و شاکر اور ڈھیٹ واقع ہوئی تھی کہ دربار میں کوئی شکایت لے کر آتا ہی نہیں تھا۔ بادشاہ کو اپنا اقتدار بورنگ لگنے لگا کہ بھئی، اگر عوام روئے پیٹے گی نہیں تو ہم تسلیاں دے کر اپنا سیاسی قد کیسے بڑھائیں گے؟ اس نے فوراً اپنے مشیروں کی ہنگامی میٹنگ بلائی اور حکم دیا، “کوئی ایسا جگاڑ لگاؤ کہ عوام کی چیخیں نکلیں اور وہ روتے پیٹتے دربار کا رخ کریں!”
وزیروں نے اپنا روایتی ‘بیوروکریٹک’ دماغ لڑایا اور مشورہ دیا، “حضور! شہر کے اکلوتے پل پر، جہاں سے سب کا روزمرہ کا گزر ہوتا ہے، وہاں 100 روپے فی بندہ ‘گزرگاہ ٹیکس’ لگا دیں۔” بادشاہ نے خوشی خوشی منظوری دے دی۔ کئی دن گزر گئے، عوام چپ چاپ 100 روپے نکال کر پل پار کرتی رہی، دربار میں بدستور سناٹا چھایا رہا۔
بادشاہ کو غصہ آیا، بولا، “ٹیکس سیدھا 200 روپے کر دو!” پھر بھی عوام کے ماتھے پر شکن تک نہ آئی۔
اب بادشاہ کی انا کو چوٹ لگی، اس نے نیا شاہی فرمان جاری کیا: “اب 200 روپے وصولی کے ساتھ، ہر گزرنے والے کو ایک عدد ‘لِتر’ (جوتا) بھی بطور رسید مارا جائے!”
لیکن کمال کی بات یہ ہے کہ عوام نے اس ‘ریلیف پیکیج’ کو بھی بخوشی قبول کر لیا۔ نہ کوئی ہڑتال، نہ کوئی دھرنا۔
آخرکار بادشاہ کا پارہ ہائی ہو گیا۔ اس نے غضب ناک ہو کر حتمی آرڈیننس جاری کیا، “اب 200 روپے بھی پورے لو، اور پل سے گزرنے والے ہر شخص کی ‘تشریف’ پر دو، دو جوتے پوری قوت سے مارے جائیں، پھر اسے آگے جانے دیا جائے!”
یہ نسخہ آخر کار کام کر گیا۔ کچھ دن بعد شہریوں کا ایک ہجوم روتا دھوتا دربار میں پیش ہوا۔ بادشاہ کی باچھیں کھل گئیں، سینہ چوڑا کر کے وزیر سے کہا، “پوچھو اس مظلوم شہری سے، کیا ظلم ہوا ہے اس پر؟”
ایک معزز شہری نے نہایت ادب سے ہاتھ جوڑ کر عرض کیا، “بادشاہ سلامت! باقی سب تو فرسٹ کلاس ہے، آپ کا ٹیکس بھی سر آنکھوں پر اور یہ جو دو جوتے مارنے والی پالیسی ہے، یہ بھی صحت کے لیے لاجواب ہے۔ شکایت بس اتنی ہے کہ آپ نے جوتے مارنے کے لیے پل پر صرف ایک ہی سرکاری ملازم رکھا ہوا ہے، جس کی وجہ سے رش بہت لگ جاتا ہے۔ مہربانی فرما کر جوتے مارنے والے عملے کی تعداد بڑھا دیں تاکہ تیزی سے چھترول ہو سکے اور ہمارا قیمتی وقت ضائع نہ ہو!”
سبق اور موجودہ حالات:
یہ لطیفہ نہیں، دراصل ہماری پیاری پاکستانی عوام کی وہ شاندار نفسیاتی تصویر ہے جس میں اب صرف ‘چھتروں’ کی کمی رہ گئی ہے۔ ہمیں مہنگائی، ٹیکسوں اور ذلالت سے کوئی خاص مسئلہ نہیں، بس ہمیں اس ذلالت کی قطار میں زیادہ دیر کھڑا نہ کیا جائے۔ ہماری بس یہی التجا ہے کہ ہمیں جلدی سے چھتر ماریں تاکہ ہم اپنے کام پر جا سکیں! اور سچی بات تو یہ ہے کہ اب تو شاید چھتروں کی برسات بھی اس قوم کے سوئے ہوئے وجود کو جھنجھوڑنے کے لیے ناکافی ہے۔

یہ تحریر:  سوشل میڈیا سے کاپی ہے

Leave a Reply

NZ's Corner