ایک مولوی صاحب تھے۔ بڑے نیک اور عبادت گزار انسان۔ ان کے گھر میں دو طوطے بھی تھے، اور کمال کی بات یہ تھی کہ دونوں طوطے بھی بڑے نیک مزاج تھے۔
ایک طوطا تو زیادہ تر وقت سجدے کی حالت میں رہتا تھا، جیسے عبادت کر رہا ہو۔
اور دوسرا طوطا ہر وقت بیٹھا تسبیح پڑھتا رہتا تھا:
“سبحان اللہ… سبحان اللہ…”
محلے والے بھی اکثر حیران ہوتے تھے کہ مولوی صاحب کے طوطے بھی کتنے نیک ہیں۔
ایک دن مولوی صاحب کا ہمسایہ ان کے پاس آیا اور بولا:
“مولوی صاحب! میرے پاس ایک طوطی ہے، مگر وہ مجھے بہت تنگ کرتی ہے۔ شور مچاتی رہتی ہے، سکون نہیں لینے دیتی۔ کوئی حل بتائیں۔”
مولوی صاحب نے مسکرا کر کہا:
“ایسا کریں، آپ اپنی طوطی میرے پاس چھوڑ جائیں۔ میرے پاس دو نیک طوطے ہیں۔ ان کے ساتھ رہے گی تو شاید سدھر جائے، اور اگر قسمت ہوئی تو بچے بھی دے دے گی۔”
ہمسایہ خوش ہو گیا اور اگلے دن اپنی طوطی لے آیا۔
مولوی صاحب نے وہ طوطی پکڑی اور آہستہ سے دونوں طوطوں کے پنجرے میں چھوڑ دی۔
ابھی طوطی اندر پہنچی ہی تھی کہ جو طوطا تسبیح پڑھ رہا تھا اس نے اچانک سجدے والے طوطے کو آواز دی:
“اوٹھ خان صاحب! مبارک ہو… آپ کا سجدہ قبول ہو گیا لگتا ہے!” 😄
#منقول
