Tag Archives: #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday

ایک بادشاہ کے دور میں ایک شخص نے اپنی دیوار کے نیچے خزانہ چھپا ہوا پایا۔جب بادشاہ کو خبر ہوئی تو اس نے اسے بلا کر کہا:“میں نے سنا ہے کہ تمہیں خزانہ ملا ہے! مجھے کیوں نہ بتایا؟”اس شخص نے جواب دیا:“یہ مکان اور اس کا مال میری ملکیت اور میراث ہے، اور آپ عادل ہیں، زبردستی کرنے کی ضرورت نہیں۔”بادشاہ نے کہا:“اچھا، اسے ہمارے سامنے لے آؤ، دیکھیں کس قدر ہے۔”وہ شخص تھوڑا سا خزانہ لے آیا، بادشاہ نے دیکھا اور اسے بخش دیا۔کچھ درباریوں نے کہا:“حضور، یہ تو اس کا چند حصہ بھی نہیں لایا، باقی سب چھپا رکھا ہے!”بادشاہ نے فرمایا:“خاموش رہو! مال اس کا ہے، چاہے چھپائے یا ظاہر کرے۔”اسی بادشاہ کے دور میں ایک اور شخص نے حویلی خریدی، اور مرمت کے دوران وہاں خزانہ ملا۔اس نے اسے مالکِ حویلی کے پاس واپس کرنے کی کوشش کی، لیکن مالک نے کہا:“میں نے حویلی بیچی…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ شیخ صاحب اپنے دس گدھوں کو لے کر شہر کے بازار میں بیچنے جا رہے تھے۔ راستہ لمبا تھا اور دھوپ تیز تھی، اس لیے شیخ صاحب تھک گئے اور اپنے ایک گدھے پر سوار ہو گئے۔ باقی نو (9) گدھے ان کے آگے آگے چل رہے تھے۔چلتے چلتے شیخ صاحب کو خیال آیا کہ کہیں کوئی گدھا ادھر ادھر نہ ہو گیا ہو، تو انہوں نے گدھے گننے کا فیصلہ کیا۔گدھے کی پیٹھ پر بیٹھے بیٹھے انہوں نے انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے گنتی شروع کی: “ایک، دو، تین، چار… آٹھ، نو۔”شیخ صاحب پریشان ہو گئے! “ارے! یہ کیا؟ میرے تو دس گدھے تھے، یہ نو کیسے رہ گئے؟”وہ گھبرا کر فوراً گدھے سے نیچے اترے۔ انہوں نے ادھر ادھر دیکھا، جھاڑیوں کے پیچھے جھانکا، مگر کوئی گدھا نظر نہیں آیا۔ پھر انہوں نے اطمینان کے لیے کھڑے ہو کر دوبارہ گنتی کی:…

Read more

میں نے اپنے 87 سالہ والد کو کچن میں پایا، ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے اور وہ پتیلی سے براہِ راست جما ہوا دلیا کھرچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہوں نے چولہا نہیں جلایا تھا۔ انہیں ڈر تھا کہ کہیں وہ گیس بند کرنا نہ بھول جائیں—اور مجھے انہیں “شہر” کے کسی اولڈ ہوم  میں منتقل کرنے کا ایک اور بہانہ مل جائے۔میں نے ان کے ہاتھ سے پتیلی لے لی۔میں نے ضرورت سے زیادہ سختی سے کہا، “ابو، آپ نے اسے گرم کیوں نہیں کر لیا؟ میں نے آپ کو مائیکرو ویو خرید کر دیا تھا!”شہر سے یہاں تک کا سفر ٹریفک کی وجہ سے چار گھنٹے طویل ہو گیا تھا، اور میرا صبر پہلے ہی جواب دے چکا تھا۔انہوں نے میری طرف نہیں دیکھا۔ وہ بس فرش کی اس پرانی لینولیم (شیٹ) کو گھورتے رہے جو انہوں نے اس وقت خود بچھائی تھی جب میں پرائمری…

Read more

شیخ چلی کا شمار گاؤں کے سب سے زیادہ خواب دیکھنے والے انسانوں میں ہوتا تھا۔ وہ دن رات کچھ نہ کچھ انوکھا سوچتے رہتے، اور اُس سوچ کی بنیاد پر بڑے بڑے منصوبے بناتے۔ گاؤں والوں کو اُن کے خوابوں پر ہنسی آتی، لیکن شیخ چلی کو اپنے ہر خواب پر کامل یقین ہوتا۔ ایک دن وہ منڈی سے آٹے کی بوری خرید کر گدھے پر لاد کر گھر واپس آ رہے تھے۔ راستے میں ان کے ذہن میں ایک زبردست خیال آیا۔ “اگر میں یہ آٹا بیچ دوں، تو اس سے جو پیسے آئیں گے اُن سے دو بکریاں خرید لوں گا۔ پھر ان بکریوں کے بچے ہوں گے۔ بچے بڑے ہوں گے، دودھ دیں گے، اور میں دودھ بیچ کر گائے خرید لوں گا۔ پھر گائے سے دودھ، دہی، مکھن، گھی۔۔۔ واہ واہ! میں تو امیر ہو جاؤں گا!” وہ خود کلامی کر رہے تھے۔اسی خواب میں…

Read more

ایک کمہار کی بیگم حد درجہ لڑاکا تھی، ذرا سی بات ہوتی اور وہ روٹھ کر میکے سدھار جاتی۔ غریب کمہار ہر بار شرافت اور محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر اسے منا لاتا۔ ایک بار پھر بیگم صاحبہ روٹھیں اور میکے جا بیٹھیں۔ اس بار کمہار نے بھی منانے نہ جانے کی ٹھان لی۔ جب کئی دن بیت گئے اور شوہر نہ پہنچا تو بیگم کی ہمت جواب دے گئی اور وہ خود ہی گھر کی طرف چل دیں۔اب مسئلہ انا کا تھا کہ بغیر منائے واپس جانے پر جگ ہنسائی ہوگی۔ ابھی وہ گلی کی نکڑ پر پہنچی ہی تھیں کہ سامنے سے کمہار کا گدھا آتا دکھائی دیا۔ بیگم کو فوراً ایک ترکیب سوجھی؛ انہوں نے لپک کر گدھے کی دم تھام لی اور اس کے پیچھے کھنچی چلی آئیں۔ گھر پہنچ کر شوہر کو جتاتے ہوئے بولیں: “اجی شکریہ ادا کرو اس گدھے کا جو مجھے…

Read more

“مجھے خبر ملی ہے کہ اُن ننگے بھوکے عربوں نے تجھے شکست دیدی اور تیرے بیٹے کو بھی مار ڈالا ہے؟”دروان شہنشاہِ روم ہرقل کا خط پڑھ رہے تھے، جو حضرت خالد بن ولید ؓ سے شکست کے بعد موصول ہوا تھا۔ “اگر میں تمہاری ہمت اور طاقت کا عینی گواہ نہ ہوتا تو اسی وقت تمہاری گردن اتار دیتا۔”یہ الفاظ سن کر دروان کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔ خوف کے باوجود اس نے اپنا سامانِ جنگ تیار کیا اور ساتھیوں کے ساتھ اجنادین روانہ ہو گیا۔ اجنادین پہنچ کر اس نے دیکھا کہ پورا علاقہ سپاہیوں سے بھرا ہوا ہے۔ شہنشاہ روم نے اسے تمام افواج کا سپہ سالار مقرر کیا تھا۔ دروان نے سب سپاہیوں کو ہتھیار تیار کرنے کا حکم دیا اور لشکر لڑائی کے لیے تیار ہو گیا۔ حضرت خالد بن ولید ؓ کے سپاہیوں کو خبر ملی کہ نوے ہزار رومی لشکر اجنادین کی…

Read more

پیرس کے ایک چھوٹے سے محلے میں ایک مصور رہتا تھا جس کا نام مونیئے تھا۔ مونیئے خود کو دنیا کا عظیم ترین فنکار سمجھتا تھا، حالانکہ اس کی پینٹنگز مشکل سے ہی کوئی خریدتا تھا۔ اس کی سب سے بڑی مشکل اس کا پڑوسی مسٹر پونشارڈ تھا، جو ایک ریٹائرڈ سرکاری افسر تھا اور ہر چیز میں نقص نکالنے کا ماہر تھا۔ ایک دن مونیئے نے تنگ آکر اعلان کیا: “میں ایک ایسا شاہکار بناؤں گا جسے دیکھ کر پونشارڈ کی زبان گنگ ہو جائے گی!”تین مہینے تک مونیئے نے خود کو کمرے میں بند رکھا۔ محلے میں چرچا ہو گیا کہ کوئی بہت ہی عظیم فن پارہ تیار ہو رہا ہے۔ آخر کار، نمائش کا دن آ گیا۔ مونیئے نے ایک بڑی کینوس کو مخملی پردے سے ڈھانپ رکھا تھا۔ پونشارڈ اپنی عینک درست کرتے ہوئے سامنے آیا۔ مونیئے نے بڑے فخر سے پردہ ہٹایا۔سامنے کینوس بالکل خالی…

Read more

صاحبزادے جب انگلستان کی یونیورسٹی سے “علمِ منطق” (Logic) کی ڈگری لے کر وطن لوٹے، تو ان کے اندازِ گفتگو میں ارسطو کی جھلک اور چال ڈھال میں افلاطون کی شان تھی۔ ابھی گھر پہنچے ایک دن ہی ہوا تھا کہ ناشتے کی میز پر علمی مباحثے کا بازار گرم ہو گیا۔والد صاحب نے سادگی سے پوچھا، “بیٹا! اتنے سال ولایت میں رہے، وہاں سے آخر سیکھ کر کیا آئے ہو؟”بیٹے نے عینک کے پیچھے سے ایک پراسرار نظر اپنے والد پر ڈالی اور بڑے فخر سے کہا، “قبلہ والد صاحب! میں نے وہ علم حاصل کیا ہے جو عقل کو دنگ کر دے۔ میں نے ‘علمِ منطق’ پڑھا ہے، جس کے ذریعے انسان ناممکن کو ممکن اور ایک کو دو ثابت کر سکتا ہے۔”والد صاحب نے چائے کا گھونٹ بھرا اور حیرت سے پوچھا، “بھئی، اس کا عملی زندگی میں فائدہ کیا ہے؟”بیٹے کو اپنی قابلیت ثابت کرنے کا…

Read more

ایک ملنگ درویش بارش کے پانی میں عشق و مستی سے لبریز چلا جارہا تھا کہ اُس درویش نے ایک مٹھائی فروش کو دِیکھا جو ایک کڑھائی میں گرما گرم دودھ اُبال رہا تھا تُو موسم کی مُناسبت سے دوسری کڑھائی میں گرما گرم جلیبیاں تیار کررہا تھا ملنگ کچھ لمحوں کیلئے وہاں رُک گیا شائد بھوک کا احساس تھا یا موسم کا اثر تھا۔ ملنگ حلوائی کی بھٹی کو بڑے غور سے دیکھنے لَگا ملنگ کُچھ کھانا چاہتا تھا لیکن ملنگ کی جیب ہی نہیں تھی تو پیسے بھلا کیا ہُوتے ۔ ملنگ چند لمحے بھٹی سے ہاتھ سینکنے کے بعد چَلا ہی چاہتا تھا کہ نیک دِل حَلوائی سے رَہا نہ گیا اور ایک پیالہ گرما گرم دودھ اور چند جلیبیاں ملنگ کو پیش کردِیں ملنگ نے گرما گَرم جلیبیاں گَرما گرم دودھ کیساتھ نُوش کی اور پھر ہاتھوں کو اُوپر کی جانب اُٹھا کر حَلوائی کو دُعا…

Read more

“جج صاحب بیوی کو پہچاننے سے قاصر، تاجر مسکرا رہا تھا، گواہ ثابت قدم تھے، پھر سلطان نے کتے اور کتیا کو عدالت میں بٹھایا، اور اس کے بعد جو کچھ ہوا اس نے انصاف کی نئی تعریف لکھ دیشادی کے دوسرے مہینے شوہر نے بیوی کو گھر سے نکال دیا، سلطان کے سامنے پیشی پر قاضی اور تین گواہ جھوٹی گواہی دے گئے، لیکن کتے نے عدالت میں ایسا کیا کہ سب کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔ بصرہ شہر کی گلیاں اس وقت سلطان عبدالعزیز کے نام سے آشنا تھیں جب عدالتی فیصلے تلوار سے نہیں، دانائی سے ہوا کرتے تھے۔ سلطان کی عدالت میں انصاف کی ایسی دھاک تھی کہ امیر سے امیر تاجر اور غریب سے غریب مسافر دونوں برابر کھڑے نظر آتے تھے۔ مگر انصاف کی اس دیوار میں بھی شاید ایک شگاف تھا—وہ شگاف جسے رشوت کی انگلیاں بڑی خاموشی سے چوڑا کر…

Read more

یہ ایک بہت سبق آموز کہانی ہے جو انسانی فطرت کے ایک تلخ پہلو کی عکاسی کرتی ہے۔ ایک رحم دل اور کھلے دل والی مرغی جو بلا پوچھے دوسروں کی مدد کرنے کی عادی تھی—اسے ایک بار گھاس میں ایک ننھا سا زخمی سانپ ملا۔ وہ مرنے کے قریب تھا، اکیلا اور کانپ رہا تھا۔ سب کو یہی توقع تھی کہ مرغی اسے اپنی چونچ مار مار کر ختم کر دے گی۔لیکن اس نے اس کے برعکس کیا۔اس نے اسے نرمی سے اٹھایا۔اپنے گھونسلے میں لے آئی۔اسے اپنے چوزوں کے ساتھ لٹایا۔اسے گرم رکھنے کے لیے اپنے پروں میں چھپا لیا۔اور اسے کھانا کھلایا—تب بھی جب خوراک کی کمی تھی۔دوسرے جانوروں نے اسے خبردار کیا:“یاد رکھو، یہ ایک سانپ ہے!”مگر اس نے جواب دیا:“اگر میں اسے محبت سے پالوں گی، تو یہ محبت کرنا سیکھ جائے گا۔”اور یہی اس کی سب سے بڑی غلطی تھی۔کیونکہ آپ کسی کو تپش…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک غریب اور ناخوش آدمی ایک خستہ حال جھونپڑی میں رہتا تھا۔ اس کی گھر کی حالت بھی اس کے مزاج جیسی تھی—ہر طرف گندگی، مکڑی کے جالے اور چوہوں کا بسیرا تھا۔ لوگ اس کے گھر جانے سے کتراتے تھے، کیونکہ کوئی بھلا دوسرے کی پریشانی اور گندگی میں کیوں قدم رکھتا؟وہ آدمی سمجھتا تھا کہ اس کی تمام تر بدبختی کی وجہ اس کی غربت ہے۔ وہ اکثر سوچتا، “یہ میری قسمت ہے، میں کچھ نہیں کر سکتا۔”ایک دن اس کی ملاقات ایک پُراسرار مسافر سے ہوئی، جس کی شخصیت سے دانائی چھلکتی تھی۔ غریب آدمی نے اس کے سامنے اپنی زندگی کا رونا رویا۔ مسافر نے خاموشی سے اس کی بات سنی اور اسے ایک نہایت خوبصورت گلدان تحفے میں دیا۔مسافر نے کہا: “یہ گلدان تمہیں غربت سے نجات دلائے گا۔”آدمی گلدان گھر لے آیا۔ اس کا ارادہ تھا کہ وہ…

Read more

وہ جوان شیر جس نے بزرگوں کی بات نہ مانیبہت عرصہ پہلے کی بات ہے، جب تپتے سورج تلے گھاس کے میدانوں میں لمبی اور سنہری گھاس اگی ہوئی تھی، وہاں کیرون نامی ایک جوان شیر رہتا تھا۔ اس کی گردن کے بال ابھی گھنے ہونا شروع ہوئے تھے اور اس کا سینہ فخر سے چوڑا رہتا تھا۔کیرون طاقتور تھا—اپنی عمر کے بہت سے دوسرے شیروں سے زیادہ طاقتور—اور وہ یہ بات اچھی طرح جانتا تھا۔ہر شام، بوڑھے شیر ببول کے چوڑے درخت کے نیچے جمع ہوتے اور پرانے طریقوں کی باتیں کرتے: شکار کب کرنا ہے، آرام کب کرنا ہے، اور کون سے راستے خطرناک ہیں۔ تمام چھوٹے شیر بڑے غور سے سنتے تھے۔مگر کیرون نہیں سنتا تھا۔وہ اپنی دم ہلاتا اور کہتا: “میں یہ پرانی کہانیاں کیوں سنوں؟ میری ٹانگیں تیز ہیں، میرے دانت نوکیلے ہیں۔ میں اپنا راستہ خود بناؤں گا۔”بزرگ شیروں نے خاموشی سے ایک دوسرے…

Read more

‏ایک دانا شخص کی گاڑی گاؤں کے قریب خراب ہو گئی۔ اس نے سوچا کہ کیوں نہ گاؤں والوں سے مدد طلب کی جائے۔ وہ جیسے ہی بستی میں داخل ہوا تو اس کی نظر ایک بوڑھے شخص پر پڑی جو چارپائی پر بیٹھا تھا اور اس کے قریب مرغیاں دانہ چگ رہی تھیں۔ ان مرغیوں میں ایک باز کا بچہ بھی تھا جو بالکل ان ہی کی طرح زمین سے دانہ چن رہا تھا۔دانا شخص یہ دیکھ کر حیران رہ گیا اور اپنی گاڑی کی خرابی بھول کر اس بوڑھے سے پوچھنے لگا: “یہ قدرت کے خلاف کیسے ممکن ہوا کہ ایک شاہین کا بچہ مرغیوں کے ساتھ زمین پر دانہ چگ رہا ہے؟”بوڑھے نے جواب دیا: “دراصل یہ بچہ جب صرف ایک دن کا تھا، تب مجھے پہاڑ سے گرا ہوا ملا۔ میں اسے اٹھا لایا، یہ زخمی تھا۔ میں نے اس کی مرہم پٹی کی اور اسے…

Read more

کسی گاؤں میں ایک شخص رہتا تھا جس کے تین بیٹے تھے اور اتفاق سے تینوں کا نام “طیب” تھا۔ جب اس شخص کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو بلا کر وصیت کی: “میری جائیداد میں سے ایک طیب کو حصہ نہیں ملے گا۔” یہ کہہ کر وہ فوت ہو گیا۔باپ کے انتقال کے بعد تینوں طیب پریشان ہو گئے کہ آخر وہ کون سا طیب ہے جسے وراثت سے محروم رکھا گیا ہے۔ اس الجھن کو سلجھانے کے لیے انہوں نے دور دراز کے ایک بادشاہ کے پاس جانے کا ارادہ کیا جو اپنے دانشمندانہ فیصلوں کے لیے مشہور تھا۔اگلے دن جب وہ سفر پر تھے تو راستے میں انہیں ایک شخص ملا جس کا اونٹ گم ہو چکا تھا۔ اس نے پوچھا: “کیا آپ لوگوں نے میرا اونٹ دیکھا ہے؟”پہلا طیب بولا: “کیا تمہارا اونٹ لنگڑا تھا؟” مالک نے کہا: “جی ہاں!”…

Read more

ایک بادشاہ جنگل میں سفر کر رہا تھا کہ اچانک ایک سانپ نے اسے ڈس لیا۔ شاہی طبیب اپنی تمام کوششوں کے باوجود زہر کے پھیلاؤ کو روک نہ پایا، اور بادشاہ زارو قطار رونے لگے۔اتنے میں ایک درویش نما شخص وہاں آیا۔ اس نے بادشاہ کو زہر کے درد میں تڑپتے دیکھا، تو بادشاہ کی ٹانگ پر جہاں سانپ نے کاٹا تھا، تھوک دیا اور چل دیا۔بادشاہ کے ساتھی درویش کے پیچھے جانے کی ہمت نہ کر سکے کیونکہ وہ سب بادشاہ کی فکر میں تھے۔شاہی طبیب نے بادشاہ کی نیلی پڑتی ٹانگ سے تھوک صاف کرنے کے لیے رومال پکڑا، مگر پھر حیران ہو کر رُک گیا۔ اس نے تھوک کو سانپ کے ڈسے ہوئے مقام سے اچھی طرح ملا دیا، اور فوراً زہر کا اثر ختم ہو گیا۔بادشاہ ہوش میں آیا اور جب اسے درویش کے قصے کا علم ہوا، تو اس نے فوراً حکم دیا کہ…

Read more

یہ ایک پرانے شہر کی بات ہے جہاں گلیاں تنگ تھیں مگر دل کشادہ۔ ایک مسلمان شخص رہتا تھا جس کی سب سے نمایاں عادت یہ تھی کہ وہ ہر تھوڑی دیر بعد محبت اور یقین سے کہتا:“حضرت محمد ﷺ پر درود شریف بھیجنے سے ہر دعا قبول ہوتی ہے اور ہر حاجت پوری ہوتی ہے۔”وہ یہ جملہ دکھاوے کے لیے نہیں کہتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں سچائی اور دل میں کامل یقین ہوتا تھا۔ وہ دکان پر ہو، گھر میں ہو یا راستے میں چل رہا ہو — زبان پر درودِ پاک جاری رہتا۔اسی کے ساتھ والی دیوار کے پار ایک یہودی تاجر رہتا تھا۔ وہ ذہین تھا مگر دل میں حسد کی آگ رکھتا تھا۔ اسے اپنے مسلمان پڑوسی کی یہ باتیں کھٹکتی تھیں۔ اسے لگتا تھا کہ یہ شخص لوگوں کو سادہ لوح بنا رہا ہے۔ایک دن اس نے دل میں سوچا:“میں اس کے یقین کو…

Read more

کئی جہاز بحرِ اوقیانوس کو چاقو کی طرح چیرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ ان کے اگلے حصوں پر بنے ڈریگن ایسے لگتے تھے جیسے افق کو ہی کاٹ لینا چاہتے ہوں۔ چار ہزار نارویجن حملہ آور—جو طوفانوں، بھوک اور جنگ میں سخت ہو چکے تھے—اپنے لوگوں سے کہیں زیادہ دور جنوب کی طرف جا رہے تھے جتنا کسی نے پہلے کبھی ہمت نہیں کی تھی۔ وہ سفارتکار بن کر نہیں آئے تھے۔ وہ شکاری بن کر آئے تھے۔ اور وہ سمجھتے تھے کہ بحیرۂ روم ان کے لیے ایک دعوت ثابت ہوگا۔ اس مہم کی قیادت دو ایسے نام کر رہے تھے جو خود ان کی دنیا میں بھی افسانہ لگتے تھے: ہاستین، ایک تجربہ کار حکمت عملی بنانے والا، اور بیورن آئرن سائیڈ—جوان، بے رحم، اور ایک عظیم وراثت کے بوجھ تلے دبا ہوا۔ کہا جاتا تھا کہ وہ راگنار کا بیٹا تھا، اور یہ اس کے لیے…

Read more

ایک شیر شکار پر نکلا اور اپنے ساتھ ریچھ اور لومڑی کو لے گیا۔ تین شکار ہوئے ایک گائے، ایک ہرن اور ایک خرگوش۔ واپسی پر ریچھ اپنے حصے پر فخر کرنے لگا۔ شیر نے کہا بتاؤ کیسے تقسیم کرو گے؟ریچھ بولا گائے آپ کی کیونکہ آپ بادشاہ ہیں، ہرن میرا کیونکہ میں درمیانہ ہوں اور خرگوش لومڑی کا۔ شیر نے فوراً پنجہ مار کر ریچھ کو ختم کر دیا۔ اب شیر نے لومڑی سے پوچھا تم کیسے حصہ کرو گی؟لومڑی نے کہا حضور خرگوش صبح کے ناشتے میں، گائے دوپہر کے کھانے میں اور ہرن رات کے کھانے میں تناول فرمائیں۔ شیر خوش ہوا اور پوچھا یہ تقسیم کہاں سے سیکھی؟لومڑی نے جواب دیا ریچھ کی موت سے۔ سبقعقلمند وہ نہیں جو صرف بولنا جانتا ہوعقلمند وہ ہے جو دوسروں کے انجام سے سبق سیکھ لے ہم روز جنازے دیکھتے ہیںقبرستان جاتے ہیںاپنوں کو مٹی میں اترتے دیکھتے ہیںلیکن…

Read more

ایک چور محل میں چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ بادشاہ نے اسے سزائے موت سنانے کا فیصلہ کیا۔ چور بہت چالاک تھا، اس نے کہا کہ بادشاہ سلامت مجھے مارنے سے پہلے ایک بار میری بات سن لیں، میں ایک ایسا ہنر جانتا ہوں جس سے مٹی کو سونا بنایا جا سکتا ہے، اگر میں مر گیا تو یہ ہنر ختم ہو جائے گا۔بادشاہ لالچ میں آ گیا اور اسے ایک موقع دیا۔ چور نے ایک مٹی کی ڈلی اٹھائی اور کہا کہ اسے سونا بنانے کے لیے شرط یہ ہے کہ اسے وہ آدمی ہاتھ لگائے جس نے زندگی میں کبھی جھوٹ نہ بولا ہو اور کبھی چوری نہ کی ہو۔پہلے وزیر کی باری آئی، وہ پیچھے ہٹ گیا کہ بچپن میں ایک بار جھوٹ بولا تھا۔ پھر بادشاہ کی باری آئی، وہ بھی ہچکچایا۔چور مسکرایا اور بولا کہ عجیب بات ہے، ہم سب گناہ گار ہیں، میں نے…

Read more

400/455
NZ's Corner