بغداد کی ایک پُرسکون رات تھی۔ ایک گلی سے اللہ کے ایک نیک بندے اپنے چند عقیدت مندوں کے ساتھ گزر رہے تھے۔ ایک تنگ موڑ سے گزرتے ہوئے اُن کی نظر ایک شخص پر پڑی جو دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ وہ نشے میں تھا۔
بال بکھرے ہوئے، کپڑے میلے، آنکھوں میں غصہ بھی تھا اور گہری بے بسی بھی۔
عقیدت مندوں نے اسے دیکھا تو ناگواری سے رخ پھیر لیا۔
اچانک اُس شخص نے سر اٹھایا اور اس کی نظر سیدھی اس نیک بندے پر جا ٹھہری۔ چہرہ دیکھتے ہی اونچی آواز میں پکارا:
اے اللہ کے ولی 💚
قادر اَم غیر قادر؟
کیا میرا رب میری حالت بدلنے پر قادر ہے یا نہیں؟
نیک بندے کے قدم فوراً رک گئے۔ وہ اس کے قریب زمین پر بیٹھ گئے اور نرمی سے فرمایا:
قادر… اور قدرت صرف اسی کی ہے۔
وہ شخص دوبارہ بولا:
اے اللہ کے ولی 💚
قادر اَم غیر قادر؟
کیا میرا رب میری حالت بدلنے پر قادر ہے یا نہیں؟
اس بار نیک بندے کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ انہوں نے فرمایا:
ہاں… وہی قادرِ مطلق ہے اور دلوں کو پلٹنے والا بھی وہی ہے۔
عقیدت مند حیران تھے اور سمجھ رہے تھے کہ شاید یہ گستاخی ہے۔
پھر تیسری مرتبہ وہ شخص لرزتی ہوئی آواز میں بولا:
اے اللہ کے ولی 💚
قادر اَم غیر قادر؟
اب نیک بندے نے اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام لیا اور زار و قطار رونے لگے۔
ایک عقیدت مند نے دھیمی آواز میں پوچھا:
حضور! آپ کیوں رو رہے ہیں؟ اس شخص کے الفاظ میں رونے والی تو کوئی بات نہیں۔
نیک بندے نے فرمایا:
تم اس کے سوال کو سمجھ نہیں سکے۔
پہلی بار وہ پوچھ رہا تھا:
کیا میرا رب مجھے اس حال سے نکال سکتا ہے؟
اور میں نے کہا: ہاں۔
دوسری بار وہ پوچھ رہا تھا:
کیا میرا رب اسی لمحے میرا دل بدل سکتا ہے؟
اور میں نے کہا: ہاں۔
اور تیسری بار اس نے وہ سوال کیا جس نے میرے دل کو ہلا دیا۔
وہ پوچھ رہا تھا:
کیا میرا رب ہماری حالتیں بدل سکتا ہے؟
کیا وہ مجھے تمہاری جگہ اور تمہیں میری جگہ رکھ سکتا ہے؟
میں اس لیے رو پڑا کہ اگر ہمارا خالق و مالک چاہتا…
تو نہ میں یہاں کھڑا ہوتا
اور نہ تم اس حال میں ہوتے۔
ہدایت تو صرف اللہ کا فضل ہے، اس کی عطا ہے اور اسی کی توفیق ہے۔ وہ جب چاہے اور جسے چاہے بلند مقام عطا فرما دے۔
یہ جواب سن کر اُس شخص کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ وہ اونچی آواز میں رونے لگا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وقت تھم گیا ہو اور دلوں میں ایک نور اتر رہا ہو۔
اب اس کی زبان پر صرف ایک ہی جملہ تھا:
میرا مالک جب چاہے… سب کچھ بدل دیتا ہے۔
دوستو!
اللہ کے برگزیدہ بندوں کی ایک نشانی یہ بھی ہوتی ہے کہ ان کے دل نرم اور عاجز ہوتے ہیں۔ وہ گناہ سے نفرت کرتے ہیں، گنہگار سے نہیں۔ وہ کسی کو حقارت سے نہیں دیکھتے۔ وہ دلوں کو توڑتے نہیں بلکہ انہیں اس ذات کی طرف لوٹا دیتے ہیں جو دلوں کو جوڑنے والی ہے۔
