ایک شہری بابو اپنی شادی کے بعد پہلی بار گاؤں اپنی سسرال گیا۔ سسر جی نے داماد صاحب کی بہت خاطر تواضع کی اور شام کو اسے اپنا ڈیرہ دکھانے لے گئے۔ وہاں ایک بہت بڑی اور تگڑی بھینس بندھی ہوئی تھی۔
سسر جی بڑے فخر سے بولے: “داماد جی! یہ ہماری سب سے مہنگی بھینس ہے، بڑا خالص دودھ دیتی ہے۔”
داماد صاحب، جو اپنی “شہری عقل” جھاڑنا چاہتے تھے، بھینس کو غور سے دیکھنے لگے۔ اچانک ان کے دماغ میں ایک “سائنس” آئی اور وہ بولے:
“ابو جی! آپ کی یہ بھینس بہت خطرناک ہے، اس کا ایک بہت بڑا ‘ڈیفیکٹ’ (نقص) میں نے پکڑ لیا ہے۔”
سسر جی پریشان ہو گئے: “خیر تو ہے داماد جی؟ کیا ہوا؟”
داماد صاحب بڑے رعب سے بولے: “ابو جی! دیکھیں، اس بھینس کے ‘سینگ’ (Horns) نہیں ہیں۔ یہ تو کسی بھی وقت آپ کو دھوکہ دے سکتی ہے یا اسے کوئی بیماری ہو سکتی ہے جس سے اس کے سینگ جھڑ گئے ہیں۔”
سسر جی نے ایک لمبی آہ بھری، سر جھکایا اور بڑی سنجیدگی سے بولے:
“بیٹا! بھینس کے سینگ نہ ہونے کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ کبھی کبھی یہ پیدائشی نہیں ہوتے، کبھی کسی لڑائی میں ٹوٹ جاتے ہیں، اور کبھی کبھی ہم خود انہیں کٹوا دیتے ہیں۔”
داماد صاحب مسکرا کر بولے: “تو پھر اس بھینس کے سینگ کیوں نہیں ہیں؟”
سسر جی نے تھوڑا قریب جا کر داماد کے کان میں کہا:
“بیٹا! اس کے سینگ اس لیے نہیں ہیں کیونکہ جسے تم ‘بھینس’ سمجھ کر رعب جھاڑ رہے ہو، وہ بیچارہ ‘گدھا’ ہے! 🤣😂🤣😂
منقول
