بغداد شہر اپنی رونقوں میں مگن تھا۔ دریائے دجلہ کے کنارے آباد اس شہرِ خوشحال کی گلیاں علم و ادب کی خوشبو سے مہک رہی تھیں۔ دور دور سے تاجر، عالم اور سیاح اس دارالخلافہ کی سیر کو آتے۔ لیکن آج کا دن خاص تھا۔ شہر کی مرکزی سڑک پر قالین بچھے تھے، کنگلے پھولوں سے سجے تھے اور فوجیں پر شکوہ انداز میں قطار در قطار کھڑی تھیں۔ ہر طرف خلیفہ ہارون الرشید کے گذرنے کی خبر پھیلی ہوئی تھی۔
امیر المومنین اپنے شاہی جلوس کے ساتھ شہر کا معائنہ کرتے ہوئے گذر رہے تھے۔ سونے چاندی کے زیورات سے لدی ہوئی سواریاں، ہاتھیوں پر سوار نقارچی جو اپنی تھاپ سے فضا کو گونجائے دے رہے تھے، اور ہزاروں سپاہی پرچم لہراتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ لوگ اپنے خلیفہ کا دیدار کرنے کے لیے راستے کے دونوں کنارے کھڑے تھے۔ بچے خوشی سے نعرے لگا رہے تھے اور عورتیں چھتوں سے پھول نچھاور کر رہی تھیں۔
جلوس آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا تھا کہ اچانک ہجوم میں سے ایک بوڑھی عورت نکل کر سڑک پر آ گئی۔ اس کے چہرے پر جھریاں تھیں، لیکن آنکھوں میں عزم و استقلال چمک رہا تھا۔ اس نے اپنی سوکھی ہوئی مگر مضبوط ہاتھ آگے بڑھا دیا اور سپاہیوں کی صفوں کو چیرتی ہوئی خلیفہ کی سواری کے قریب آ گئی۔
“رکو! امیر المومنین کا جلوس روکو!” اس کی آواز میں وہ گہرائی تھی جو صدیوں کی مصیبتوں نے عطا کی تھی۔
شاہی محافظ دوڑے کہ اس عورت کو ہٹا دیں، لیکن پردہ نشیں سواری سے ایک باوقار آواز آئی: “اسے میرے قریب آنے دو۔” ہارون الرشید نے خود حکم دیا تھا۔ وہ خلیفہ جو راتوں کو بھیس بدل کر اپنی رعایا کے دکھ سننے نکلتا تھا ، دن کی روشنی میں بھی انصاف سے منہ نہیں موڑ سکتا تھا۔
بوڑھی عورت نے سواری کے قریب آ کر آخری سانس کی طاقت سے کہا: “اے امیر المومنین، انصاف کرو! میری فریاد سنو!”
خلیفہ نے حکم دیا کہ جلوس رک جائے۔ اس کی سواری سے اتر کر خود اس عورت کے پاس آیا۔ وہ ایک عام عورت تھی، پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس، لیکن اس کی آنکھوں میں بادشاہوں والی شان تھی۔
“بول، اے ماں، تیری حاجت کیا ہے؟” ہارون الرشید نے نرمی سے پوچھا۔
عورت نے سینہ تان کر کہا: “اے امیر المومنین! میری زمین زبردستی چھین لی گئی ہے۔ ظالم نے مجھے بے گھر کر دیا ہے۔ میں نے قاضی کے پاس فریاد کی، لیکن اس نے میری نہ سنی۔ میں نے حاکم شہر کے پاس جاکر داد مانگی، لیکن اس نے مجھے دروازے سے نکال دیا۔ اب میں تیرے پاس آئی ہوں، کیونکہ میں نے سنا ہے کہ اس شہر میں ایک بادشاہ ہے جو راتوں کو بھیس بدل کر غریبوں کے دکھ سنتا ہے ۔ میں نے سنا ہے کہ وہ انصاف کرتا ہے، چاہے اس کے اپنے بیٹے پر ہی کیوں نہ ہو۔”
خلیفہ کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوئی۔ اس نے پوچھا: “وہ ظالم کون ہے جس نے تیری زمین چھینی؟”
بوڑھی عورت نے انگلی اٹھائی اور سیدھا خلیفہ کے وزیر اعظم کی طرف اشارہ کر دیا جو ابھی تک سواری پر سوار تھا۔ نہیں، وہ وزیر کی طرف نہیں، بلکہ خلیفہ کے اپنے بیٹے کی طرف اشارہ کر رہی تھی، جو شاہی جلوس میں اپنے باپ کے شانہ بشانہ چل رہا تھا۔
ہر طرف خاموشی چھا گئی۔ سپاہیوں کے ہاتھوں میں تلواروں کی چمک کم پڑ گئی۔ لوگوں کی سانسیں رک گئیں۔ کسی کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ اس بوڑھی عورت نے خلیفہ کے اپنے بیٹے پر ظلم کا الزام لگایا ہے۔
لیکن ہارون الرشید کے چہرے پر کوئی تبدیلی نہ آئی۔ اس نے فوراً حکم دیا: “قاضی القضاہ ابویوسف کو فوراً بلایا جائے ۔ عدالت لگائی جائے، یہاں اور ابھی۔”
عدالتِ انصاف
قاضی ابویوسف، جو خود امام ابوحنیفہ کے شاگرد تھے اور خلیفہ کے حکم سے پورے سلطنت کے چیف جج مقرر کیے گئے تھے ، فوراً موقع پر پہنچ گئے۔ ان کے ساتھ منصفین اور علماء کا ایک گروہ بھی تھا۔ شاہی جلوس سڑک پر ہی رک گیا اور فوراً عدالت قائم کر دی گئی۔
خلیفہ نے خود اپنے بیٹے سے کہا: “اٹھ اور اس عورت کے ساتھ کھڑا ہو جا۔ عدالت میں امیر اور غریب برابر ہیں ۔”
شہزادہ عباس، جس پر الزام تھا، سر جھکائے بوڑھی عورت کے پہلو میں کھڑا ہو گیا۔ دونوں کے درمیان زمین پر ایک لکیر کھینچ دی گئی کہ کوئی اپنی جگہ سے آگے نہ بڑھے۔
قاضی ابویوسف نے بوڑھی عورت سے کہا: “اے ماں، اپنی فریاد بیان کرو۔”
عورت نے بلا جھجھک کہنا شروع کیا: “یہ شہزادہ، خلیفہ کا بیٹا، میری وہ زمین چھین کر لے گیا ہے جو میرے باپ دادا کی میراث تھی۔ میں نے اسے بہت سمجھایا کہ یہ میری ملکیت ہے، مجھے اس زمین پر حق ہے، لیکن اس نے نہ صرف میری نہ سنی بلکہ میرے بیٹے کو کوڑے لگوا کر جیل میں ڈال دیا۔”
اس کی آواز میں درد تھا مگر کپکپاہٹ نہ تھی۔ اس نے سیدھی آنکھوں میں شہزادے کو دیکھ کر بات کی۔
جب شہزادے سے پوچھا گیا تو وہ ہکلاتے ہوئے بولا، اس کی آواز میں وہ وزن نہ تھا جو سچائی دیتی ہے۔ وزیر نے بوڑھی عورت کو ڈانٹا کہ خلیفہ کے سامنے آواز بلند نہ کرے، لیکن ہارون الرشید نے فوراً مداخلت کی: “نہیں، اسے پوری آزادی سے بولنے دو۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ ہر فریق اپنی بات بے خوف ہو کر کہے ۔”
قاضی ابویوسف نے گواہ طلب کیے۔ بوڑھی عورت کے پڑوسی آئے اور انہوں نے تصدیق کی کہ زمین واقعی اس عورت کی تھی۔ دستاویزات پیش کی گئیں جن پر پرانے عہدے داروں کے دستخط تھے۔ شہزادہ عباس کے پاس کوئی ثبوت نہ تھا، صرف اپنے باپ کے نام کا سہارا تھا۔
فیصلہ صاف تھا۔ قاضی ابویوسف نے اٹھ کر کہا: “اے امیر المومنین، عدالت کا فیصلہ ہے کہ زمین بوڑھی عورت کو واپس کی جائے، اور شہزادے کو اس سے معافی مانگنی ہوگی۔ نیز جو جرمانہ مقرر ہو، وہ اس عورت کو بطور تلافی ادا کیا جائے۔”
ہارون الرشید نے فوراً سر ہلا دیا۔ “عدالت کا فیصلہ مان لیا گیا۔ شہزادے سے کہو کہ فوراً زمین واپس کرے اور جرمانہ ادا کرے۔”
لیکن خلیفہ نے یہاں نہیں رکنا تھا۔ اس نے اپنے بیٹے کی طرف دیکھ کر کہا: “اے عباس، تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ خلافت میری جاگیر نہیں، یہ اللہ کی امانت ہے۔ میں نے تجھے شہزادہ بنا کر نہیں، بلکہ مسلمانوں کا خادم بنا کر پالا تھا۔ آج تو نے ثابت کر دیا کہ تو اس قابل نہیں۔”
ہمارے فیس بک پیج کو لائک کریں مزید ایسی تاریخی کہانیاں پڑھنے کے لیے۔
خلیفہ نے فوراً حکم دیا کہ شہزادے کو اس کے عہدے سے ہٹا دیا جائے اور ایک ماہ کے لیے محل میں نظر بند رکھا جائے۔ یہ اس کے اپنے بیٹے کے لیے سب سے بڑی سزا تھی۔
بوڑھی عورت کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ وہ رونے لگی، لیکن اب یہ غم کے آنسو نہیں تھے، بلکہ خوشی اور حیرت کے آنسو تھے۔ اس نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی: “اے اللہ، اس بادشاہ کو سلامت رکھ جو اپنی رعایا کے دکھ سنتا ہے اور انصاف کرتا ہے۔”
ہارون الرشید نے خود اس عورت کو اس کی زمین تک پہنچانے کا حکم دیا اور مزید کہا کہ شہزادے کے جرمانے کی رقم سے اس کے گھر کی مرمت کرائی جائے۔
رات کی سیر
اس واقعے کے کچھ دن بعد، خلیفہ نے رات کو اپنے وزیر جعفر برمکی اور تلوار بردار مسرور کو ساتھ لیا اور بھیس بدل کر شہر میں نکل گیا ۔ وہ اکثر ایسا کیا کرتا تھا کہ لوگوں کی حقیقی حالت دیکھ سکے۔
اسی رات وہ بوڑھی عورت کی گلی میں پہنچا۔ اس نے دیکھا کہ عورت کے گھر کے باہر بیٹھ کر کئی پڑوسی جمع ہیں اور خلیفہ کی تعریف کر رہے ہیں۔ ایک شخص کہہ رہا تھا: “ہمارا بادشاہ حقیقی معنوں میں امیر المومنین ہے۔ اس نے ثابت کر دیا کہ انصاف کی ترازو میں امیر اور غریب برابر ہیں ۔”
خلیفہ نے وزیر جعفر سے کہا: “جعفر، کیا تم جانتے ہو کہ اس عورت نے مجھے سبق دیا ہے؟ اس نے مجھے یاد دلایا کہ بادشاہ صرف اس وقت تک بادشاہ ہے جب تک وہ اپنی رعایا کے دکھ سنتا ہے۔”
تاریخ کے اوراق سے
یہ واقعہ تاریخ طبری اور الفخری جیسی معروف کتب میں بھی موجود ہے۔ مورخین لکھتے ہیں کہ ہارون الرشید نے اپنے دورِ خلافت میں قاضی القضاۃ کا عہدہ قائم کیا تاکہ عدلیہ کو انتظامیہ سے علیحدہ کیا جا سکے ۔ وہ پہلا خلیفہ تھا جس نے قاضیوں کے لیے علیحدہ وردی مقرر کی اور انہیں خود مختاری دی کہ وہ خلیفہ اور اس کے خاندان کے خلاف بھی فیصلہ دے سکیں ۔
قاضی ابویوسف، جنہوں نے اس عدالت کی صدارت کی، وہ پہلے شخص تھے جنہیں “قاضی القضاۃ” کا منصب ملا۔ انہوں نے امام ابوحنیفہ سے علم حاصل کیا تھا اور بعد میں “کتاب الخراج” جیسی مشہور کتاب لکھی جو ٹیکسیشن اور مالیاتی نظام پر تھی ۔
کیا آپ کو معلوم تھا؟
• ہارون الرشید وہ پہلا عباسی خلیفہ تھا جس نے عدلیہ کو مکمل طور پر خود مختار بنایا۔ اس سے پہلے گورنر ہی قاضی کے فیصلوں کو تبدیل کر سکتے تھے، لیکن ہارون الرشید نے قاضی القضاۃ کا عہدہ بنا کر اسے ختم کر دیا ۔
• اس کے دور میں بغداد میں ہر شخص، چاہے وہ خلیفہ کا بیٹا ہو یا کوئی غریب عورت، عدالت میں پیش ہو سکتا تھا۔ امیر اور غریب کے لیے ایک ہی قانون تھا ۔
• قاضی ابویوسف نے عدالت میں “بیان المدعی” (مدعی کا بیان) اور “بیان المدعی علیہ” (مدعا علیہ کا بیان) کے اصول وضع کیے جو آج بھی جدید عدالتوں میں استعمال ہوتے ہیں ۔
• خلیفہ ہارون الرشید راتوں کو بھیس بدل کر شہر کی سیر کرتا تھا تاکہ خود دیکھ سکے کہ اس کی رعایا کیسی زندگی گزار رہی ہے۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اکثر درویش یا تاجر کا بھیس بدل کر غریبوں کی بستیوں میں چلا جاتا تھا ۔
• ایک اور مشہور واقعے میں، ایک عورت نے خلیفہ کے سامنے برمکی خاندان کی تباہی پر شکایت کی اور خلیفہ نے اس کی بھی سنی اور اسے مالی معاوضہ دیا ۔
آج کا دور
سوچنے کی بات ہے کہ آج اگر کسی غریب عورت کی زمین کوئی بااثر شخص چھین لے، تو کیا وہ خلیفہ کے پاس جا سکتی ہے؟ آج کے دور میں جہاں بااختیار لوگوں کے خلاف بولنا بھی جرم سمجھا جاتا ہے، کیا کوئی بادشاہ، صدر یا وزیر اعظم اپنے بیٹے کو اس طرح عدالت میں کھڑا کرے گا؟
ہارون الرشید نے چودہ سو سال پہلے وہ کر دکھایا جو آج کی نام نہاد جمہوریتیں کرنے سے قاصر ہیں۔ اس نے ثابت کیا کہ انصاف اندھا ہوتا ہے، یعنی وہ امیر اور غریب میں فرق نہیں کرتا۔
بوڑھی عورت نے ایک بادشاہ کو للکارا اور انصاف پا کر دکھایا۔ لیکن کیا آج کی عورت، جو اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہے، کسی حکمران کو اس طرح للکار سکتی ہے؟ کیا آج کے حکمران اتنا حوصلہ رکھتے ہیں کہ اپنے بیٹے کو عدالت میں کھڑا کر دیں؟
یہ وہ سوال ہیں جو ہر باشعور انسان کو کرنے چاہئیں۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کمنٹس میں ضرور بتائیں اور شیئر کریں تاکہ اور لوگ بھی تاریخ کے اس سنہری باب سے روشناس ہو سکیں۔
