بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

جب بغداد کے امراء محلوں کی آرائش میں مصروف تھے، جابر بن حیان اپنی چھوٹی سی لیبارٹری میں پے در پے تجربات کر رہے تھے۔ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے علمِ کیمیا کو محض “جادو ٹونا” یا “سونا بنانے کے خواب” سے نکال کر ایک باقاعدہ تجرباتی سائنس کی شکل دی۔

روایت ہے کہ ایک بار خلیفہ ہارون الرشید نے جابر بن حیان سے ایسی کتاب لکھنے کی فرمائش کی جو کیمیا کے اسرار پر مبنی ہو۔ جابر نے ایک ایسی کتاب لکھی جس کے حروف سونے کے پانی سے لکھے گئے تھے، لیکن ان کی اصل دولت وہ دریافتیں تھیں جنہوں نے دنیا بدل دی۔

جابر بن حیان نے وہ تیزاب (Acids) دریافت کیے جن کے بغیر آج کی انڈسٹری کا تصور بھی ناممکن ہے:

شورے کا تیزاب (Nitric Acid): جو انہوں نے پہلی بار تیار کیا۔

نمک کا تیزاب (Hydrochloric Acid): ان کی محنت کا نتیجہ تھا۔

آبِ سلطانی (Aqua Regia): ایک ایسا محلول جو سونے کو بھی پگھلا دیتا ہے۔

انہوں نے ایسے طریقے ایجاد کیے جو اس وقت کے لیے کرشمہ تھے:

واٹر پروف کاغذ: انہوں نے ایسا کاغذ تیار کیا جو پانی میں بھیگنے سے خراب نہیں ہوتا تھا۔

زنگ سے بچاؤ: لوہے کو زنگ سے بچانے کے لیے خاص روغن تیار کیا۔

چمڑے کی رنگائی: کپڑے اور چمڑے کو رنگنے کے جدید طریقے وضع کیے۔

جس طرح برامکہ کے زوال نے بغداد کی رونقوں کو گہنا دیا تھا، ویسے ہی جابر بن حیان کی زندگی بھی اس سے متاثر ہوئی۔ چونکہ وہ جعفر برمکی کے انتہائی قریبی دوست اور منظورِ نظر تھے، اس لیے جب برامکہ پر عتاب نازل ہوا تو جابر بن حیان کو بھی اپنی جان بچانے کے لیے بغداد چھوڑنا پڑا۔

وہ روپوش ہو کر اپنے آبائی شہر کوفہ چلے گئے اور وہاں ایک گوشہ نشین زندگی گزاری۔ تاریخ بتاتی ہے کہ برامکہ کے قتلِ عام کے بعد ہارون الرشید نے جابر کی تلاش بھی کروائی، لیکن وہ دوبارہ کبھی دربارِ خلافت کی زینت نہ بنے۔

جابر بن حیان کی وفات کے تقریباً دو سو سال بعد، کوفہ میں ایک پرانے مکان کی مسماری کے دوران ایک خفیہ تہہ خانہ دریافت ہوا۔ وہاں سے جابر بن حیان کی استعمال کردہ سونے کی بنی ہوئی بھٹی (Mortar and Pestle) اور ان کے ہاتھ سے لکھی ہوئی کئی نایاب تحریریں ملیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner