ایک دن ایک مرغا درخت کی ایک اونچی شاخ پر بیٹھا، ککڑوکوں ککڑوکوں کر رہا تھا۔ اتفاق سے ایک لومڑی درخت کے نیچے سے گزری اور مرغے کی آواز سن کر اوپر دیکھنے لگی۔
درخت پر ایک تازہ اور موٹا نوجوان مرغا نظر آیا تو لومڑی کے منہ میں پانی بھر آیا۔ وہ دل ہی دل میں سوچنے لگی:
“یہ شکار تو بہت عمدہ ہے، مگر اسے نیچے کیسے بلاؤں؟”
کچھ دیر سوچنے کے بعد لومڑی نے بات چیت شروع کی:
“کہو میاں مرغے، کیسا حال ہے؟”
مرغے نے جواب دیا:
“مہربانی! سناؤ تمہارا مزاج کیسا ہے؟”
لومڑی مسکرا کر بولی:
“تمہاری دعا سے سب ٹھیک ہے۔ ہاں، میں نے آج ایک بہت اچھی خبر سنی ہے۔ تمہیں معلوم ہے کیا؟”
مرغے نے کہا:
“کیسی خبر؟ مجھے تو کچھ پتہ نہیں۔”
لومڑی نے محسوس کیا کہ مرغا اس کی چکنی اور عقل مند باتوں میں پھنسنے کے لیے تیار ہے۔ وہ مسکرا کر بولی:
“ارے! تمہیں ابھی تک اطلاع نہیں ملی؟ جنگل کے سب جانوروں نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ ایک دوسرے کو نقصان نہ پہنچائیں اور سب آپس میں مل جل کر رہیں۔ اب تمہیں مجھ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ آؤ، اس درخت کی ٹھنڈی چھاؤں میں بیٹھ کر کچھ باتیں کریں۔”
مرغے نے ہنستے ہوئے کہا:
“واہ! یہ تو بہت خوش کن خبر ہے۔ مگر دیکھو سامنے کون آرہا ہے؟”
لومڑی گھبرا کر پوچھی:
“کون ہے؟”
مرغے نے کہا:
“وہ شکاری کتے ہیں۔ اچھا ہوا یہ بھی آگئے۔ اب سب مل کر باتیں کریں گے۔”
لومڑی نے کتوں کا نام سن کر گھبرا کر ایک طرف بھاگنے کی کوشش کی۔
مرغے نے مسکرا کر کہا:
“بی لومڑی، بھاگنے کی کیا جلدی ہے؟ تھوڑی دیر ٹھہرو، میں نیچے آتا ہوں۔ وہ کتے بھی آ گئے، اب ہمیں ایک دوسرے سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ آؤ بیٹھ کر باتیں کریں۔”
لومڑی بولی:
“نہیں نہیں، ہو سکتا ہے کہ ان کتوں نے بھی یہ خبر نہ سنی ہو۔ اچھا، میں پھر کبھی آؤں گی۔ خدا حافظ۔” اور وہ وہاں سے روانہ ہو گئی۔
مرغے نے مسکرا کر دوبارہ ککڑوکوں کرنا شروع کیا۔
✨ سبق:
یہ کہانی یاد دلاتی ہے کہ شراکت، بات چیت اور اعتماد کے ذریعے خوف اور غلط فہمیوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔ کبھی کبھی صرف صبر، سمجھداری اور خوش اخلاقی سے ہی سب مسائل حل ہو جاتے ہیں۔
اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں۔
