Tag Archives: #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ  ایک گاؤں میں ایک مشہور ڈاکو رہتا تھا۔وہ اپنا قصہ بیان کرتے ہوئے بتاتا ہے، ایک بار میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ ڈاکہ ڈالنے جا رہا تھا۔راستے میں ہم ایک جگہ کچھ دیر آرام کرنے بیٹھے تو وہاں ہم نے دیکھا کہ کھجور کے تین درخت ہیں۔جن میں سے دو پر تو خوب پھل لگے ہے جبکہ تیسرا بالکل خشک ہے۔ ایک چڑیا بار بار آتی ہے اور پھل دار درختوں پر سے تر و تازہ کھجور اپنی چونچ میں لے کر خشک درخت پر چلی جاتی ہے۔ہمیں یہ دیکھ کر بڑا تعجب ہوا، میں نے دس مرتبہ چڑیا کو کھجور لے جاتے ہوئے دیکھا تو مجھے جاننے کا تجسس ہوا کہ آخر اس خشک درخت پر ایسا کیا ہے جو یہ چڑیا بار بار پھل اُتار کر وہاں پہنچاتی ہے۔یہی سوچ کر میں نے ارادہ کیا کہ کیوں نہ اس درخت پر چڑھ…

Read more

ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﮔﺎﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﯿﻨﺲ ﭼﻮﺭ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﮈﺍﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﻗﺎﺗﻞ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ۔ ﺑﮩﺖ ﺟﺮﺍﺋﻢ ﮐﯿﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﭘﻮﻟﯿﺲ ﮐﯽ ﻣﻠﯽ ﺑﮭﮕﺖ ﺳﮯ ﺑﭻ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﻘﺪﻣﮧ ﻗﺘﻞ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮨﻮﺍ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺳﺰﺍ ﺳﭙﺮﯾﻢ ﮐﻮﺭﭦ ﺗﮏ ﻧﮧ ﭨﻮﭨﯽ۔ ﺁﺧﺮﯼ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﺎﮞ ﻣﻠﻨﮯ ﮔﺌﯽ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ، “ﻣﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﻗﺴﻢ ﮐﮭﺎ ﮐﮯ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﯾﮧ ﻗﺘﻞ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ۔ ” ﻣﺎﮞ ایک ﺩﺭﻭﯾﺶ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺭﯼ ﺑﺎﺕ ﮐﮩﮧ ﺳﻨﺎﺋﯽ۔ ﺩﺭﻭﯾﺶ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺳﺮ ﺟﮭﮑﺎﺋﮯ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺭﮨﺎ ﭘﮭﺮ ﻧﮕﺎﮦ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ، “ﺟﺎ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﮩﮧ ﺩﮮ، ﺑﮭﯿﻨﺲ ﻣﻌﺎﻑ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ۔” ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﺟﯿﻞ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮯ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﯾﮧ ﺑﮭﯿﻨﺲ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﻗﺼﮧ ﮨﮯ؟؟ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﺑﮩﺘﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ، “ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮔﺎﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﯿﻨﺲ ﭼﻮﺭﯼ ﮐﺮ ﻧﮯ ﮔﯿﺎ، ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺑﭽﮭﮍﺍ ﺑﮭﯽ ﺁ ﺭﮨﺎ…

Read more

آدھی رات کو اچانک بیوی کی آنکھ کھلی۔اس نے دیکھا کہ شوہر بستر پر نہیں ہے۔ وہ تشویش کے مارے اٹھی، سیڑھیاں اتر کر کچن میں آئی، تو شوہر کو کافی کا مگ ہاتھ میں لیے، گہری سوچوں میں گم دیوار کو گھورتے پایا۔ بیوی نے جب شوہر کو آنسو پونچھ کر کافی کا گھونٹ لیتے دیکھا تو پریشانی سے بولی:”کیا ہوا ڈئیر؟ رات کے اس پہر یہاں اکیلے کیا کر رہے ہو؟“ شوہر نے سر اٹھایا، آہ بھری اور دھیرے سے بولا:”تمہیں یاد ہے بیس سال پہلے، جب تم اٹھارہ سال کی تھی اور ہم چوری چوری ملنے گئے تھے؟“ بیوی مسکرا کر بولی:”ہاں ڈئیر، وہ لمحہ کیسے بھول سکتی ہوں؟“ شوہر نے نظریں جھکاتے ہوئے کہا:”اور تمہیں یاد ہے جب تمہارے باپ نے ہمیں پکڑ لیا تھا؟ شاٹ گن تان کر کہا تھا… یا تو میری بیٹی سے شادی کر لو، یا میں تمہیں بیس سال کے لیے…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں کے قریب ایک چڑیا گھر تھا۔ ایک دن نہ جانے کیسے پنجرے کا دروازہ کھلا رہ گیا اور ایک شیر وہاں سے نکل بھاگا۔ جونہی یہ خبر گاؤں میں پہنچی کہ “شیر آ گیا! شیر آ گیا!” تو پورے گاؤں میں قیامت برپا ہو گئی۔ جو جہاں تھا وہیں سے دوڑ لگا دی۔ کوئی چھت پر چڑھ گیا، کوئی چارپائی کے نیچے گھس گیا، کوئی دروازے بند کرنے لگا اور کچھ ایسے بھی تھے جو خوف کے مارے یہ بھول گئے کہ آخر دوڑ کس طرف رہے ہیں۔ اسی بستی میں ایک چرسی رہتا تھا۔ اس کی زندگی کا واحد مقصد اداکاری کرنا تھا۔ نہ اسے دنیا کی خبر تھی اور نہ زمانے کی۔ اس کی کل کائنات ایک بڑا سا آئینہ تھا جو وہ ہر وقت اپنے ساتھ رکھتا تھا۔ باقی جو کچھ اس کے پاس ہوتا، وقت کے ساتھ بیچ…

Read more

پرانے وقــتوں كـى بات ہے كہ ايک بادشاه كے دربار ميں ايک اجنبى حاضر هوا اور بادشاه سے نوكرى كا طلبگار هوا – بادشاه نے جب اسكى قابليت دريافت كى تو اسنے بتايا كہ وه سياسى (عربى مين سياسى كا مطلب هوتا هى كه افهام و تفهيم سى مسئلى كا حل نكالنى والا اور معامله فهم آدمى) ہے – بادشاه كے پاس پہلے ہى سياستدانوں كى لمبی قطار تهى ليكن اتفاق سے اسكے اصطبل كا مسئول يا ذمه دار فوت هو چكا تها چنانچہ بادشاه نے اسے اپنے خاص اصطبل كا مسئول بنا ديا-كچھ دن بعد بادشاه نے اس شخص سے اپنے سب سے عزیز گهوڑے كے بارے ميں دريافت كيا تو اس نے كہا كہ يه گهوڑا نسلی نہیں ہے – بادشاه نے وه گهوڑا بڑا مہنگا خريدا تها چنانچہ بادشاه نے اس شخص كو حاضر كرنے كا حكم صادر كيا جو دور كہيں جنگل ميں گهوڑے سدهانے اور…

Read more

ایک بادشاہ کا ایک غلام تھا جو نہایت کم عقل اور حد سے زیادہ لالچی تھا۔ وہ اپنے فرائض میں بھی غفلت برتتا تھا۔ بادشاہ نے اس کی کوتاہیوں کو دیکھتے ہوئے حکم دیا کہ اس کا وظیفہ کم کر دیا جائے، اور اگر وہ جھگڑا کرے تو اسے غلاموں کی فہرست سے خارج کر دیا جائے۔جیسے ہی اس کا وظیفہ کم ہوا، غلام ناراض اور گستاخ ہو گیا۔ اگر وہ سمجھ دار ہوتا تو اپنی غلطیوں پر غور کرتا، اپنے قصور کو پہچانتا اور معافی مانگ لیتا، لیکن اس کے غرور نے اسے اندھا کر رکھا تھا۔ اس نے بادشاہ کے نام شکایت بھری عرضی لکھنے کا ارادہ کیا۔یہی حال انسان کا بھی ہے۔ اس کا اپنا وجود ہی ایک ایسی عرضی ہے جو ہر وقت ربِ حقیقی کے حضور پیش ہوتی رہتی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ پہلے اپنے اعمال اور کردار کو دیکھے، پھر کوئی شکایت کرے۔غلام…

Read more

تم نے نہیں سنا کہ کوئی شیریں گفتار ایک رات یاروں میں بیٹھا درزیوں کی شکایت کر رہاتھا اور لوگوں کو اس گروہ کی چوریوں کے قصّے سنا رہاتھا۔ اس نے اچھا خاصا درزی نامہ پڑھ ڈالا اور خلقت اس کے اطراف جمع ہوکر سنتی رہی۔ سننے والوں کو جس قدر دلچسپی ہو رہی تھی اسی قدر وہ بھی مزے لے لے کر بیان کر رہا تھا بلکہ سراپا حکایت بن گیا تھا۔ جب اس نے درزیوں کی بہت سی چوریوں کے حالات سنائے کہ یہ مکّار کس کس طرح لوگوں کو ٹھگتے اور نقصان پہنچاتے ہیں تو سننے والوں میں سے ملکِ خطا کا ایک ترک ان کی بدمعاشیوں پر بالکل آپے سے باہر ہوگیا۔اس نے پوچھا کہ اے داستان گو! یہ تو بتا کہ تمہارے شہر میں کون سا درزی مکر و دغا میں سب کا استاد ہے؟ اس نے کہا کہ ایک درزی پورشش نامی بڑا زہر…

Read more

ایک شہر کی بلی تھی۔ عمر بھر اس نے گلیوں، محلّوں اور صحنوں میں زندگی گزاری تھی۔ اس کے دن بڑے مزے سے گزرتے تھے۔ کہیں دودھ کا پیالہ مل جاتا، کہیں روٹی کا ٹکڑا، اور اگر قسمت زیادہ مہربان ہوتی تو کوئی موٹا تازہ چوہا بھی ہاتھ آ جاتا۔ مگر ایک دن شہر بھر میں عجیب مصیبت آ گئی۔چوہے جیسے زمین کھا گئی ہو۔نہ کسی گودام میں آواز، نہ کسی دیوار کے سوراخ میں جنبش، نہ رات کے اندھیرے میں دوڑتے قدموں کی چاپ۔ بلی پریشان ہو گئی۔پہلے ایک دن انتظار کیا، پھر دوسرا، پھر تیسرا۔آخر اس نے سوچا:“اگر رزق شہر میں ختم ہو گیا ہے تو کیوں نہ جنگل کا رخ کیا جائے؟ سنا ہے وہاں چوہوں کی بھرمار ہے۔” یہ سوچ کر وہ جنگل کی طرف چل پڑی۔ جنگل پہنچ کر اس کی آنکھیں خوشی سے پھیل گئیں۔واقعی چوہے ہی چوہے تھے۔جھاڑیوں میں، درختوں کی جڑوں کے…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا جو اپنی کنجوسی کی وجہ سے دور دور تک مشہور تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ اگر اس کے گھر سے ایک دانہ گندم بھی کم ہو جائے تو وہ آدھا دن اس کے حساب میں گزار دیتا ہے۔ اس کے گھر میں ایک مرغا تھا جو ہر صبح اذانِ سحر کی طرح بانگ دیتا اور پورے گھر کو جگا دیتا تھا۔ کسان کو اس مرغے سے عجیب قسم کی محبت تھی، مگر گاؤں والے جانتے تھے کہ یہ محبت مرغے سے زیادہ اس فائدے سے تھی جو اسے مفت میں حاصل ہو رہا تھا کہ مرغا ان کو ٹائم سے جگا دیتا تھا۔ایک دن اچانک مرغا مر گیا۔ کسان نے جب اپنے صحن میں مرغے کو بے جان پڑا دیکھا تو اس کا چہرہ اتر گیا۔ وہ ایک کونے میں بیٹھ گیا، سر جھکا لیا اور گہری…

Read more

کہتے ہیں کہ مشرقی افریقہ کے کسی قدیم ملک میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ ایک روز دربار کی سازشوں، درباریوں کی چاپلوسی اور وزیروں کی مکاریوں سے تنگ آ کر اس نے گہری سانس لی اور بولا:“انسان عجیب مخلوق ہے؛ زبان پر شہد، دل میں زہر۔ جھوٹ، فریب اور لالچ اس کی گھٹی میں پڑا ہے۔ کیوں نہ کسی ایسے جانور کو وزیر بنا دوں جو کم از کم منافقت سے پاک ہو؟”یہ کہہ کر اس نے شاہی اصطبل سے ایک گدھا منگوایا اور فرمان جاری کر دیا:“آج سے یہ ہمارا وزیر ہے!”فرمان کیا تھا، شہر بھر میں قہقہوں کا طوفان آ گیا۔ چوک، بازار، گلیاں اور قہوہ خانے سب اسی قصے سے گونج اٹھے۔ لوگ کہتے:“دیکھو بھئی! اب سلطنت کے معاملات عقل سے نہیں، ڈھینچوں سے چلیں گے!”بادشاہ کو مگر اپنی دانائی پر بڑا ناز تھا۔چند دن بعد ملکہ نے مسکراتے ہوئے بادشاہ سے پوچھا:“جہاں پناہ! ایک بات…

Read more

بہت زمانہ پہلے ایک ایسی سلطنت تھی جہاں لوگ خوشحال اور مطمئن زندگی گزارتے تھے۔ ان کا بادشاہ انصاف پسند اور اپنی رعایا سے محبت کرنے والا تھا۔ وہ اکثر سوچتا رہتا کہ اپنے لوگوں کے لیے مزید کیا کیا جائے تاکہ ان کی زندگی اور بہتر ہو سکے۔ایک دن بادشاہ نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی سلطنت کے دور دراز علاقوں کا خود جائزہ لے گا۔ اس نے شاہی سواری اور پروٹوکول کے بجائے پیدل سفر کو ترجیح دی تاکہ وہ عوام کے حالات کو قریب سے دیکھ سکے۔سفر کئی ہفتوں تک جاری رہا۔ بادشاہ نے خوبصورت وادیاں دیکھیں، تاریخی مقامات کی سیر کی اور مختلف دیہات کے لوگوں سے ملاقات کی۔ رعایا اپنے بادشاہ کو اپنے درمیان پا کر بے حد خوش ہوئی۔مگر اس طویل سفر کا ایک ناخوشگوار نتیجہ بھی نکلا۔واپسی پر بادشاہ کے پاؤں بری طرح زخمی ہو چکے تھے۔ پتھریلی اور کھردری سڑکوں پر مسلسل…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے، ایک بہت ہی سخی اور رحم دل بادشاہ رہتا تھا۔ اسے پرندوں اور جانوروں سے بہت لگاؤ تھا، اور اس نے اپنی سلطنت میں ایک بہت بڑی پرندوں کی پناہ گاہ بنوا رکھی تھی۔ وہ جانوروں اور پرندوں کو تکلیف دینا پسند نہیں کرتا تھا۔ وہ انہیں گوشت کے لیے بھی نہیں مارتا تھا۔ پرندوں کے ساتھ اس کی سخاوت اور مہربانی سے خوش ہو کر، ایک تاجر نے بادشاہ کو دو خوبصورت شاہین تحفے میں دیے۔ وہ دونوں شاہین مختلف آب و ہوا کے عادی تھے۔ بادشاہ نے تاجر کا شکریہ ادا کیا اور پرندوں کے نگرانِ اعلیٰ کو حکم دیا کہ ان خوبصورت شاہینوں کو تمام سہولیات فراہم کرے اور انہیں اپنے ملک میں آرام دہ محسوس کرائے۔ نگران نے پرندوں کا بہت خیال رکھا۔ آہستہ آہستہ، پرندے ملک کی آب و ہوا کے عادی ہو گئے۔ ایک دن، بادشاہ نے شاہینوں کو…

Read more

ایک سرسبز جنگل کے بیچوں بیچ ایک پرانا، تناور درخت کھڑا تھا۔ اس کی شاخوں پر درجنوں پرندے اپنے گھونسلے بنائے رہتے تھے۔ صبح ہوتی تو چہچہاہٹ کا ایسا سماں بندھتا کہ لگتا ہوا خود نغمے گنگنا رہی ہے۔اسی جنگل میں ایک بلی بھی رہتی تھی۔وہ عام بلیوں جیسی نہیں تھی۔ اس کے پنجے نرم، قدم خاموش اور دماغ خاصا تیز تھا۔ شکار سے زیادہ اسے چالاکی پر بھروسا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ طاقت سے زیادہ فائدہ اکثر فریب دیتا ہے۔ایک دن اس نے درخت پر نظر ڈالی اور سوچا:“آج تو ناشتے کا انتظام یہیں سے ہوگا!”چنانچہ وہ آہستہ آہستہ درخت پر چڑھنے لگی۔جیسے ہی پرندوں نے اسے دیکھا، پورا درخت شور سے گونج اٹھا۔“بلی! بلی! بچاؤ!”“اپنے بچوں کو سنبھالو!”“یہ ہمیں کھانے آئی ہے!”بلی نے فوراً اپنا لہجہ بدل لیا اور نہایت نرم آواز میں بولی:“ارے ارے! تم لوگ غلط سمجھ رہے ہو۔”پرندے حیران ہوئے۔“پھر تم کیوں آئی ہو؟”بلی…

Read more

کہتے ہیں کہ ایک گھنا جنگل تھا، جہاں درختوں کی شاخیں آسمان سے راز کی باتیں کرتی تھیں اور ہوا پتوں کے درمیان سرگوشیوں کی طرح بہتی تھی۔ اسی جنگل کے ایک سنسان گوشے میں ایک فقیر درخت کے نیچے آلتی پالتی مارے مراقبے میں بیٹھا تھا۔اس کے چہرے پر ایسی طمانیت تھی جیسے دنیا کے تمام جھگڑے اور خواہشیں اس کے دل سے رخصت ہو چکی ہوں۔اتنے میں تین چور وہاں آن پہنچے۔ان کے کپڑے گرد آلود، آنکھیں لالچی اور نیت ایسی ٹیڑھی تھی جیسے بارش میں بھیگتی ہوئی بوسیدہ چھت۔ایک چور آگے بڑھا اور غرایا:“او فقیر! جو کچھ تیرے پاس ہے، نکال دے، ورنہ ابھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا!”فقیر نے آہستہ سے آنکھ کھولی، تینوں کو دیکھا اور بے فکری سے بولا:“بھائیو! میرے پاس تو اپنی جان کے سوا کچھ بھی نہیں۔”چوروں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور ہنس پڑے۔“ہمیں بیوقوف سمجھتا ہے؟”دوسرا چور بولا:“یہ فقیر…

Read more

کہتے ہیں کہ ایک سرسبز جنگل میں ایک معزز الّو خاندان آباد تھا۔ الّو صاحب خود کو نہایت دانشمند سمجھتے تھے، کیونکہ جنگل کی پرانی روایت کے مطابق جس کی آنکھیں بڑی ہوں اور جو کم بولے، اسے عقلمند مان لیا جاتا تھا۔ان کا ایک جوان بیٹا بھی تھا، جو رات بھر شاخوں پر بیٹھ کر “ہُوں ہُوں” کرتا اور دن چڑھے تک ایسے سوتا رہتا جیسے دنیا میں کوئی کام ہی نہ ہو۔ایک دن الّو صاحب کے دل میں خیال آیا:“اب بیٹے کی شادی کر دینی چاہیے۔”بہت سوچ بچار کے بعد انہوں نے جنگل کے سب سے رنگین اور مشہور خاندان سے رشتہ مانگنے کا فیصلہ کیا یعنی مور کے گھر۔مور اپنی شان و شوکت، خوبصورت پروں اور خود پسندی کے لیے دور دور تک مشہور تھا۔چنانچہ الّو صاحب باقاعدہ رشتہ لے کر پہنچے۔مور نے عزت سے بٹھایا، دانے پیش کیے اور پوچھا:“فرمائیے، کیسے آنا ہوا؟”الّو نے گلا صاف…

Read more

ایک دن، ایک جنگلی سور کے ساتھ ہولناک لڑائی میں ایک سانپ بری طرح زخمی ہو گیا۔ وہ بمشکل گھسٹتے ہوئے اپنی غار تک پہنچا اور کئی دنوں تک وہیں پڑا رہا۔ وہ اس قدر کمزور ہو چکا تھا کہ شکار نہیں کر سکتا تھا اور شدید بھوک کی وجہ سے تڑپ رہا تھا۔ اس کی تکلیف اتنی بڑھ گئی تھی کہ اب برداشت سے باہر تھی۔مایوسی کی حالت میں، آنکھوں میں آنسو لیے، اس نے پاس سے گزرتے ہوئے ایک ہمنگ برڈ (شکر خورے) کو آواز دی:“ہمنگ برڈ، خدا کے لیے جلدی کرو… میں مر رہا ہوں اور میں اپنے ظالمانہ ماضی کے گناہوں کا بھاری بوجھ لے کر قبر میں نہیں جانا چاہتا۔ جاؤ اور مینڈک کو ڈھونڈو، مجھے اس کے بھائی کو کھانے پر اس سے معافی مانگنی ہے۔ چھیچھرے (کرکٹ) کو بھی ڈھونڈ لاؤ، مجھے اس کے ماں باپ کو کھانے پر اس سے معذرت کرنی…

Read more

بہت زمانہ پہلے کی بات ہے۔ ایک وسیع و عریض سلطنت پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کے دربار میں تین غلام تھے۔ ان تینوں کے ایک ایک بیٹے تھے، اور اتفاق سے ان کے نام بھی بڑے انوکھے تھے:پہلا “نظر نہ آنے والا”، دوسرا “خدا کا تحفہ” اور تیسرا “بادشاہ سے زیادہ عقلمند” کہلاتا تھا۔بادشاہ کو تیسرے لڑکے کا نام ہمیشہ کھٹکتا تھا۔ وہ دل ہی دل میں سوچتا:“ایک غلام کا بیٹا اور دعویٰ ایسا کہ بادشاہ سے زیادہ عقلمند! اس کی عقل کا گھمنڈ توڑنا ضروری ہے۔”ایک دن اس نے تینوں نوجوانوں کو دربار میں بلایا۔پہلے دو کو اس نے ایک ایک باندھا جو (جو کا گٹھا) دیا اور فرمایا:“اسے بو دو، اگلے سال تین سو باندھا جو لے کر آنا۔”پھر اس نے تیسرے نوجوان کو بھی صرف ایک باندھا جو دیا اور وہی حکم سنایا، مگر لہجے میں طنز گھلا ہوا تھا۔نوجوان نے ادب سے سر…

Read more

ایک بادشاہ کو کسی نے دو شاہین کے بچّے تحفے میں پیش کئے۔ بادشاہ نے دونوں کو اپنی شاہینوں کی تربیت کرنے والوں کے سپرد کر دیا تاکہ وہ اُن دونوں کو تربیت دیں کہ وہ شکار پر لے جائیں جا سکیں۔ ایک مہینے کے بعد وہ ملازم بادشاہ کے پاس حاضر ہوا اور کہا کہ ایک شاہین تو مکمّل تربیت یافتہ ہو چکا ہے اور شکار کے لئے بالکل تیّار ہے لیکن دوسرے کے ساتھ پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے کہ پہلے دن سے ایک ٹہنی پر بیٹھا ہے اور کوششوں کے باوجود ہلنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اس بات سے بادشاہ کا تجسّس بڑھا اور اس نے درباری حکیموں اور جانوروں اور پرندوں کے ماہرین سے کہا کہ پتہ لگائیں آخر وجہ کیا ہے؟ وہ بھی کوشش کر کے دیکھ چکے لیکن کوئی نتیجہ معلوم نہ کر سکے۔ پھر بادشاہ نے پورے ملک میں منادی کروا…

Read more

ایک بار ایک مغرور بادشاہ نے سنا کہ اس کی سلطنت کے جنگل میں ایک بہت پہنچے ہوئے درویش رہتے ہیں جن سے ملنے بڑے بڑے لوگ آتے ہیں۔ بادشاہ نے اپنے سپاہیوں کو ساتھ لیا اور ان سے ملنے چل پڑا۔ درویش کی جھونپڑی کے قریب پہنچ کر بادشاہ نے اپنے عام کپڑے پہن لیے اور اکیلا اندر گیا درویش اپنی کٹیا میں خاموشی سے بیٹھے تھے۔ بادشاہ نے جا کر کہا، “میں اس ملک کا بادشاہ ہوں، مجھے کوئی ایسی نصیحت کیجیے جو میری زندگی بدل دے۔”درویش کی نصیحت: درویش نے بادشاہ کی طرف دیکھا اور کہا، “بادشاہ سلامت! فرض کریں آپ کسی ایسے ریگستان میں پھنس جائیں جہاں دور دور تک پانی نہ ہو اور آپ پیاس سے مر رہے ہوں، تو آپ ایک گلاس پانی کے بدلے کیا دینے کو تیار ہوں گے؟ “بادشاہ کا جواب: بادشاہ نے کہا، “میں اپنی آدھی سلطنت دے دوں گا۔”دوسرا…

Read more

ایک شخص کانوں سے بہت بھاری تھا۔ ایک دن اسے خبر ملی کہ اس کا پڑوسی سخت بیمار ہے۔ اس نے سوچا کہ عیادت تو کرنی چاہیے، مگر ایک مشکل تھی: وہ مریض کی بات صحیح سن ہی نہیں سکتا تھا۔ کافی غور و فکر کے بعد اس نے ایک زبردست منصوبہ بنایا۔ اس نے خود سے کہا: “میں پوچھوں گا: ‘کیسی طبیعت ہے؟’ وہ کہے گا: ‘الحمدللہ بہتر ہے۔’ تو میں جواب دوں گا: ‘اللہ اور صحت دے۔’ پھر پوچھوں گا: ‘کیا کھا رہے ہو؟’ وہ کہے گا: ‘کھچڑی یا دال۔’ تو میں کہوں گا: ‘بہت اچھا، یہی کھاتے رہو۔’ آخر میں پوچھوں گا: ‘علاج کس حکیم سے کروا رہے ہو؟’ وہ کسی اچھے حکیم کا نام لے گا اور میں اس کی تعریف کر دوں گا۔” یہ منصوبہ ذہن میں بٹھا کر وہ بڑے اطمینان سے بیمار پڑوسی کے گھر پہنچ گیا۔ مگر اتفاق سے مریض کی حالت…

Read more

40/612
NZ's Corner