بلاعنوان

بلاعنوان

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا جو اپنی کنجوسی کی وجہ سے دور دور تک مشہور تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ اگر اس کے گھر سے ایک دانہ گندم بھی کم ہو جائے تو وہ آدھا دن اس کے حساب میں گزار دیتا ہے۔ اس کے گھر میں ایک مرغا تھا جو ہر صبح اذانِ سحر کی طرح بانگ دیتا اور پورے گھر کو جگا دیتا تھا۔ کسان کو اس مرغے سے عجیب قسم کی محبت تھی، مگر گاؤں والے جانتے تھے کہ یہ محبت مرغے سے زیادہ اس فائدے سے تھی جو اسے مفت میں حاصل ہو رہا تھا کہ مرغا ان کو ٹائم سے جگا دیتا تھا۔
ایک دن اچانک مرغا مر گیا۔ کسان نے جب اپنے صحن میں مرغے کو بے جان پڑا دیکھا تو اس کا چہرہ اتر گیا۔ وہ ایک کونے میں بیٹھ گیا، سر جھکا لیا اور گہری گہری آہیں بھرنے لگا۔ جو شخص بھی اسے دیکھتا، یہی سمجھتا کہ شاید اس پر کوئی بہت بڑی مصیبت آ گئی ہے۔ خبر پھیلی تو چند لوگ تعزیت کے لیے آ گئے۔ انہوں نے کسان کو اس حال میں دیکھا تو حیران ہوئے، کیونکہ جن لوگوں نے اسے برسوں سے جانا تھا، وہ جانتے تھے کہ اس کے چہرے پر اس قدر افسردگی شاذ و نادر ہی دیکھی گئی تھی۔

آخر ایک بزرگ نے پوچھ ہی لیا:

“بھائی، آخر اتنا غم کس بات کا ہے؟ ایک مرغا ہی تو مرا ہے۔”

کسان نے ایک طویل آہ بھری،  اور بوجھل آواز میں بولا:

“مجھے مرغے کے مرنے کا افسوس نہیں ہے۔”
“غم تو اس بات کا ہے کہ کل سے میرے گھر میں اذان دینے والا کوئی نہیں رہے گا۔”

یہ سن کر وہاں موجود لوگ اس کی دینداری کے قائل ہونے لگے۔
یہ بات قریب بندھا ہوا گدھا بھی سن رہا تھا۔
گدھا ویسے ہی اپنے مالک سے بڑی محبت کرتا تھا۔ جب اس نے مالک کی آواز میں درد محسوس کیا تو اس کا دل بھر آیا۔ اس نے بھی یہی سمجھا کہ اس کا مالک واقعی اذان کا کتنا قدر دان ہے۔ ساری رات وہ اسی سوچ میں ڈوبا رہا کہ اگر مالک کو اذان دینے والے کی کمی کا اتنا غم ہے تو کیوں نہ وہ خود یہ ذمہ داری سنبھال لے۔

رات آدھی ہی گزری تھی اور ابھی اندھیرا پوری طرح چھٹا بھی نہ تھا کہ گدھے نے اپنی پوری طاقت جمع کی اور صحن میں کھڑے ہو کر زور زور سے رینکنا شروع کر دیا۔ اس کی آواز نے نہ صرف گھر بلکہ آس پاس کے کئی گھروں کی نیند بھی توڑ دی۔

ادھر کسان کئی راتوں سے پریشانی کی وجہ سے ٹھیک سے سو نہیں سکا تھا۔ بڑی مشکل سے اس کی آنکھ لگی تھی کہ اچانک اس شور سے وہ چونک کر اٹھ بیٹھا۔ پہلے تو اسے سمجھ نہ آئی کہ ماجرا کیا ہے، مگر جب آواز مسلسل آنے لگی تو وہ غصے سے بھر گیا۔ لاٹھی اٹھائی اور صحن کی طرف لپکا۔
گدھے نے جب مالک کو اپنی طرف آتے دیکھا تو وہ خوش ہوا۔ اسے لگا کہ مالک اس کی خدمت سے خوش ہو کر اس کی تعریف کرنے آ رہا ہے۔ چنانچہ اس نے پہلے سے بھی زیادہ جوش کے ساتھ آواز نکالنی شروع کر دی۔
مگر اگلے ہی لمحے کسان کی لاٹھی اس کی پشت پر پڑی۔
گدھا حیران رہ گیا۔
وہ سمجھ نہ سکا کہ جس شخص نے کل اذان دینے والے کی کمی پر آنسو بہائے تھے، آج وہ اسی کام پر سزا کیوں دے رہا ہے اور پھر مار کہا کہ خاموش ہوگیا۔
اور کسان؟ وہ اگلے ہی دن بازار گیا اور ایک نیا مرغا خرید لایا، کیونکہ اسے گدھے کے آدھی رات کے شور کی ضرورت نہیں تھی بلکہ اسے مرغے کی صبح کی اذان سے مطلب تھا۔ سچ ہے کہ جس کا کام اسی کو ساجے۔

اخلاقی سبق:

ہر اچھا ارادہ اچھا نتیجہ نہیں دیتا۔ بعض اوقات مدد کرنے سے پہلے یہ سمجھ لینا ضروری ہوتا ہے کہ سامنے والے کو واقعی کس چیز کی ضرورت ہے اور کیا آپ اس کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے بھی ہو یا نہیں ۔

Leave a Reply

NZ's Corner