بلاعنوان

بلاعنوان

کہتے ہیں کہ ایک سرسبز جنگل میں ایک معزز الّو خاندان آباد تھا۔ الّو صاحب خود کو نہایت دانشمند سمجھتے تھے، کیونکہ جنگل کی پرانی روایت کے مطابق جس کی آنکھیں بڑی ہوں اور جو کم بولے، اسے عقلمند مان لیا جاتا تھا۔
ان کا ایک جوان بیٹا بھی تھا، جو رات بھر شاخوں پر بیٹھ کر “ہُوں ہُوں” کرتا اور دن چڑھے تک ایسے سوتا رہتا جیسے دنیا میں کوئی کام ہی نہ ہو۔
ایک دن الّو صاحب کے دل میں خیال آیا:
“اب بیٹے کی شادی کر دینی چاہیے۔”
بہت سوچ بچار کے بعد انہوں نے جنگل کے سب سے رنگین اور مشہور خاندان سے رشتہ مانگنے کا فیصلہ کیا یعنی مور کے گھر۔
مور اپنی شان و شوکت، خوبصورت پروں اور خود پسندی کے لیے دور دور تک مشہور تھا۔
چنانچہ الّو صاحب باقاعدہ رشتہ لے کر پہنچے۔
مور نے عزت سے بٹھایا، دانے پیش کیے اور پوچھا:
“فرمائیے، کیسے آنا ہوا؟”
الّو نے گلا صاف کیا۔
“ہم آپ کی صاحبزادی کا رشتہ اپنے فرزند کے لیے چاہتے ہیں۔”
مور نے چونک کر پوچھا:
“وہی جو رات بھر جاگتا ہے اور دن بھر سوتا ہے؟”
“جی ہاں، وہی۔”
مور نے گردن ہلائی اور بولا:
“یہ تو مسئلہ ہے۔”
الّو نے حیرت سے پوچھا:
“کیسا مسئلہ؟”
مور بولا:
“میری بیٹی سورج نکلنے کے بعد اپنی اصل خوبصورتی میں آتی ہے۔ جب دھوپ اس کے پروں پر پڑتی ہے تو رنگوں کی بہار آ جاتی ہے۔ تمہارا بیٹا تو اس وقت سو رہا ہوگا!”
الّو نے ناک سکیڑتے ہوئے جواب دیا:
“اس میں کیا حرج ہے؟ ہمارا پورا خاندان رات کو جاگتا ہے۔ یہ ہماری خاندانی روایت ہے۔”
مور نے کہا:
“مگر رات کے اندھیرے میں میری بیٹی کی خوبصورتی کون دیکھے گا؟”
الّو نے فوراً وار کیا:
“تو مطلب تمہاری بیٹی صرف تعریف سننے کے لیے جیتی ہے؟ یہ تو بڑی خود غرضی ہوئی!”
مور کی گردن کے پر پھول گئے۔
“اور تمہارا بیٹا جو ساری رات ‘ہُوں ہُوں’ کرتا رہتا ہے، اس کا کیا؟ میری بیٹی سوئے گی کب؟”
الّو نے کہا:
“وہ آواز نہیں، خاندانی موسیقی ہے!”
مور نے جواب دیا:
“ہماری نظر میں وہ موسیقی نہیں، رات کا شور ہے!”
یوں بات رشتے سے زیادہ مناظرے میں بدل گئی۔
ایک کہتا:
“تمہاری بیٹی مغرور ہے!”
دوسرا جواب دیتا:
“تمہارا بیٹا سست ہے!”
ایک کہتا:
“ہمارا خاندان رات کا بادشاہ ہے!”
دوسرا کہتا:
“اور ہمارا خاندان دن کی رونق!”
بحث بڑھتی گئی، آوازیں اونچی ہوتی گئیں اور رشتہ دور ہوتا گیا۔
اسی دوران ایک کبوتر وہاں سے گزرا۔
کبوتر جنگل کا غیر سرکاری مشیر اور مفت کا ثالث مشہور تھا۔
اس نے دونوں کو جھگڑتے دیکھا تو پوچھا:
“حضور، مسئلہ کیا ہے؟”
دونوں نے اپنی اپنی شکایت سنائی۔
کبوتر نے کچھ دیر چونچ پر پر مارا، سوچا اور پھر بولا:
“مجھے تو اصل مسئلہ کچھ اور لگتا ہے۔”
“کیا؟” دونوں نے بیک وقت پوچھا۔
کبوتر بولا:
“ایک رات کو جاگتا ہے، دوسرا دن میں۔ شادی کے بعد ملیں گے کب؟”
دونوں خاموش ہو گئے۔
کبوتر نے مزید کہا:
“جب بیوی جاگے گی تو شوہر سو رہا ہوگا، اور جب شوہر جاگے گا تو بیوی خوابوں میں ہوگی۔”
پھر ہنستے ہوئے بولا:
“یہ تو ایسی شادی ہوگی جس میں میاں بیوی کی ملاقات سالانہ تقریب میں ہوا کرے گی!”
مور نے سر ہلایا۔
الّو نے بھی چونچ کھجا لی۔
کبوتر نے آخری تیر چھوڑا:
“اور اگر یہی حال رہا تو طلاق ملاقات سے پہلے ہو جائے گی!”
یہ سن کر دونوں چونک گئے۔
کچھ لمحے خاموشی رہی۔
پھر الّو نے آہ بھری اور کہا:
“شاید تم ٹھیک کہتے ہو۔”
مور نے بھی گردن جھکائی۔
“بہتر یہی ہے کہ ہم اچھے پڑوسی رہیں، رشتہ دار نہ بنیں۔”
یوں شادی کا منصوبہ وہیں ختم ہو گیا، اور جنگل ایک ایسے ازدواجی تجربے سے بچ گیا جس میں شوہر اور بیوی ایک دوسرے کو صرف پیغامات میں دیکھا کرتے۔
کبوتر مسکراتا ہوا اڑ گیا، جبکہ مور اور الّو اپنے اپنے اوقاتِ کار کے مطابق زندگی گزارنے لگے۔
سبق
محبت صرف خوبصورتی یا خاندانی نام سے نہیں چلتی، بلکہ زندگی کے انداز، عادات اور وقت کی ہم آہنگی سے بھی چلتی ہے۔
اور جنگل کی زبان میں:
“اگر ایک سورج کے ساتھ اٹھتا ہو اور دوسرا چاند کے ساتھ، تو شادی سے پہلے گھڑی ضرور ملا لینی چاہیے!”
ورنہ میاں بیوی صرف پیغامات میں “آن لائن” نظر آئیں گے اور ملاقات کے لیے الگ سے وقت مانگنا پڑے گا! 📱💬
#منقول

Leave a Reply

NZ's Corner