آدھی رات کو اچانک بیوی کی آنکھ کھلی۔
اس نے دیکھا کہ شوہر بستر پر نہیں ہے۔ وہ تشویش کے مارے اٹھی، سیڑھیاں اتر کر کچن میں آئی، تو شوہر کو کافی کا مگ ہاتھ میں لیے، گہری سوچوں میں گم دیوار کو گھورتے پایا۔
بیوی نے جب شوہر کو آنسو پونچھ کر کافی کا گھونٹ لیتے دیکھا تو پریشانی سے بولی:
”کیا ہوا ڈئیر؟ رات کے اس پہر یہاں اکیلے کیا کر رہے ہو؟“
شوہر نے سر اٹھایا، آہ بھری اور دھیرے سے بولا:
”تمہیں یاد ہے بیس سال پہلے، جب تم اٹھارہ سال کی تھی اور ہم چوری چوری ملنے گئے تھے؟“
بیوی مسکرا کر بولی:
”ہاں ڈئیر، وہ لمحہ کیسے بھول سکتی ہوں؟“
شوہر نے نظریں جھکاتے ہوئے کہا:
”اور تمہیں یاد ہے جب تمہارے باپ نے ہمیں پکڑ لیا تھا؟ شاٹ گن تان کر کہا تھا… یا تو میری بیٹی سے شادی کر لو، یا میں تمہیں بیس سال کے لیے جیل بھیج دوں گا؟“
بیوی نے نرمی سے سر ہلایا،
”ہاں، وہ دن بھی یاد ہے۔“
شوہر نے نم آنکھوں سے کافی کا مگ میز پر رکھا، آہستہ سے بولا:
”آج… میں رہا ہو گیا ہوتا۔“
منقول
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اگر کوئی تحریر اچھی لگے تو اسے لائیک اور شیئر ضرور کریں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
