بہت زمانہ پہلے ایک ایسی سلطنت تھی جہاں لوگ خوشحال اور مطمئن زندگی گزارتے تھے۔ ان کا بادشاہ انصاف پسند اور اپنی رعایا سے محبت کرنے والا تھا۔ وہ اکثر سوچتا رہتا کہ اپنے لوگوں کے لیے مزید کیا کیا جائے تاکہ ان کی زندگی اور بہتر ہو سکے۔
ایک دن بادشاہ نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی سلطنت کے دور دراز علاقوں کا خود جائزہ لے گا۔ اس نے شاہی سواری اور پروٹوکول کے بجائے پیدل سفر کو ترجیح دی تاکہ وہ عوام کے حالات کو قریب سے دیکھ سکے۔
سفر کئی ہفتوں تک جاری رہا۔ بادشاہ نے خوبصورت وادیاں دیکھیں، تاریخی مقامات کی سیر کی اور مختلف دیہات کے لوگوں سے ملاقات کی۔ رعایا اپنے بادشاہ کو اپنے درمیان پا کر بے حد خوش ہوئی۔
مگر اس طویل سفر کا ایک ناخوشگوار نتیجہ بھی نکلا۔
واپسی پر بادشاہ کے پاؤں بری طرح زخمی ہو چکے تھے۔ پتھریلی اور کھردری سڑکوں پر مسلسل چلنے کی وجہ سے اس کے قدموں میں شدید درد تھا۔ وہ تکلیف سے بے چین تھا۔
اس نے دربار میں اپنے وزیروں کو بلایا اور غصے سے بولا:
“ہماری سلطنت کی سڑکیں بہت خراب ہیں۔ اگر مجھے اتنی تکلیف ہوئی ہے تو عام لوگوں کا کیا حال ہوتا ہوگا؟ میں حکم دیتا ہوں
کہ پورے ملک کی تمام سڑکوں پر نرم چمڑا بچھا دیا جائے تاکہ کسی کو تکلیف نہ ہو۔”
وزیر ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ وہ جانتے تھے کہ یہ کام تقریباً ناممکن ہے۔ اس کے لیے بے شمار جانوروں کی کھالیں درکار ہوتیں اور خزانے کا بڑا حصہ خرچ ہو جاتا۔
کافی دیر خاموشی رہی، پھر ایک بوڑھا اور دانا وزیر ادب سے آگے بڑھا۔
“حضور، اگر اجازت ہو تو ایک عرض کروں؟”
بادشاہ نے کہا: “بولو، کیا کہنا چاہتے ہو؟”
وزیر نے نہایت احترام سے جواب دیا:
“جہاں پناہ! پوری دنیا کو نرم بنانے کے بجائے، کیوں نہ آپ اپنے پاؤں کو محفوظ کر لیں؟ اگر چمڑے کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا آپ کے قدموں کے مطابق ڈھال کر آپ کے پاؤں پر پہنایا جائے تو نہ صرف آپ آرام سے چل سکیں گے بلکہ خزانے کا خرچ بھی بچے گا۔”
دربار میں خاموشی چھا گئی۔
بادشاہ چند لمحے سوچتا رہا، پھر اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔
“واقعی، میں پوری دنیا بدلنے چلا تھا، جبکہ مسئلہ صرف میرے پاؤں کا تھا!”
اس نے فوراً اپنے لیے چمڑے کے جوتے بنانے کا حکم دیا۔ جلد ہی وہ آرام سے چلنے لگا۔ پھر اس نے اپنی رعایا کو بھی جوتے پہننے کی ترغیب دی تاکہ وہ بھی سفر میں آسانی محسوس کریں۔
اس دن بادشاہ نے ایک ایسا سبق سیکھا جو ساری زندگی اس کے کام آیا۔
زندگی میں اکثر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا ہماری مرضی کے مطابق بدل جائے، لیکن حقیقی دانشمندی یہ ہے کہ ہم خود کو بہتر بنائیں۔ جب ہم اپنی سوچ، رویے اور طریقے بدل لیتے ہیں تو بہت سی مشکلات خود بخود آسان ہو جاتی ہیں۔
دنیا کو بدلنے کی کوشش کرنے سے پہلے خود کو بدلنا سیکھیں۔
