سلطنت کی قیمت

سلطنت کی قیمت

ایک بار ایک مغرور بادشاہ نے سنا کہ اس کی سلطنت کے جنگل میں ایک بہت پہنچے ہوئے درویش رہتے ہیں جن سے ملنے بڑے بڑے لوگ آتے ہیں۔
بادشاہ نے اپنے سپاہیوں کو ساتھ لیا اور ان سے ملنے چل پڑا۔ درویش کی جھونپڑی کے قریب پہنچ کر بادشاہ نے اپنے عام کپڑے پہن لیے اور اکیلا اندر گیا درویش اپنی کٹیا میں خاموشی سے بیٹھے تھے۔
بادشاہ نے جا کر کہا، “میں اس ملک کا بادشاہ ہوں، مجھے کوئی ایسی نصیحت کیجیے جو میری زندگی بدل دے۔”
درویش کی نصیحت: درویش نے بادشاہ کی طرف دیکھا اور کہا، “بادشاہ سلامت! فرض کریں آپ کسی ایسے ریگستان میں پھنس جائیں جہاں دور دور تک پانی نہ ہو اور آپ پیاس سے مر رہے ہوں، تو آپ ایک گلاس پانی کے بدلے کیا دینے کو تیار ہوں گے؟

“بادشاہ کا جواب: بادشاہ نے کہا، “میں اپنی آدھی سلطنت دے دوں گا۔”
دوسرا سوال: درویش نے پھر پوچھا، “اگر وہ پانی پینے کے بعد آپ کے جسم میں رک جائے اور آپ شدید تکلیف میں ہوں،
تو اس بیماری سے نجات کے لیے کیا دیں گے؟” بادشاہ نے کہا، “میں اپنی باقی آدھی سلطنت بھی دے دوں گا۔”
حکمت: درویش مسکرائے اور بولے، “تو پھر اس سلطنت پر کبھی غرور مت کرنا جس کی قیمت صرف ایک گلاس پانی اور ایک بار پیشاب کرنے جتنی ہے۔” بادشاہ کا سارا غرور خاک میں مل گیا اور وہ ایک بدلا ہوا انسان بن کر لوٹا۔

Leave a Reply

NZ's Corner