ایک شخص کانوں سے بہت بھاری تھا۔ ایک دن اسے خبر ملی کہ اس کا پڑوسی سخت بیمار ہے۔ اس نے سوچا کہ عیادت تو کرنی چاہیے، مگر ایک مشکل تھی: وہ مریض کی بات صحیح سن ہی نہیں سکتا تھا۔
کافی غور و فکر کے بعد اس نے ایک زبردست منصوبہ بنایا۔
اس نے خود سے کہا:
“میں پوچھوں گا: ‘کیسی طبیعت ہے؟’ وہ کہے گا: ‘الحمدللہ بہتر ہے۔’ تو میں جواب دوں گا: ‘اللہ اور صحت دے۔’
پھر پوچھوں گا: ‘کیا کھا رہے ہو؟’ وہ کہے گا: ‘کھچڑی یا دال۔’ تو میں کہوں گا: ‘بہت اچھا، یہی کھاتے رہو۔’
آخر میں پوچھوں گا: ‘علاج کس حکیم سے کروا رہے ہو؟’ وہ کسی اچھے حکیم کا نام لے گا اور میں اس کی تعریف کر دوں گا۔”
یہ منصوبہ ذہن میں بٹھا کر وہ بڑے اطمینان سے بیمار پڑوسی کے گھر پہنچ گیا۔
مگر اتفاق سے مریض کی حالت کافی خراب تھی۔ درد سے اس کا برا حال تھا اور مزاج بھی چڑچڑا ہو چکا تھا۔
بہرے نے مسکراتے ہوئے پوچھا:
“بھائی جان! اب طبیعت کیسی ہے؟”
مریض نے کراہتے ہوئے کہا:
“کیا بتاؤں… بس مرنے کے قریب ہوں!”
بہرے نے فوراً خوش ہو کر کہا:
“الحمدللہ! یہ تو بہت اچھی خبر ہے۔ اللہ اور بہتری عطا فرمائے!”
مریض نے حیرت اور غصے سے اسے گھور کر دیکھا، مگر بہرے کو کچھ خبر نہ ہوئی۔
اس نے دوسرا سوال کر ڈالا:
“اچھا، آج کل کھانے میں کیا لے رہے ہو؟”
مریض غصے سے بولا:
“زہر کھا رہا ہوں… زہر!”
بہرے نے خوشی سے سر ہلاتے ہوئے کہا:
“ماشاءاللہ! یہی کھاتے رہو، خوب طاقت آئے گی!”
اب تو مریض کا خون کھول اٹھا۔ وہ بستر پر اٹھ کر بیٹھ گیا۔
بہرے نے بے فکری سے آخری سوال پوچھا:
“اور علاج کس حکیم سے کروا رہے ہو؟”
مریض نے تپ کر جواب دیا:
“عزرائیل سے!”
بہرے نے فوراً دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا دی:
“سبحان اللہ! بہت نام سنا ہے ان کا۔ بڑے ماہر آدمی ہیں۔ ان کا علاج جاری رکھو، وہ تمہیں بہت جلد وہاں پہنچا دیں گے جہاں تمہیں جانا چاہیے!”
یہ سنتے ہی مریض نے قریب پڑا تکیہ اٹھا کر اس کی طرف دے مارا، جبکہ بہرا یہ سمجھتا ہوا گھر سے نکلا کہ آج اس نے اپنے پڑوسی کی بڑی دلجوئی کی ہے!
دوسروں کی بات سنے بغیر پہلے سے تیار کیے گئے جواب اکثر غلط فہمی اور شرمندگی کا سبب بن جاتے ہیں۔
#urdustories #kahaniyan #MoralStory #urducartoon #storiesبہرے پڑوسی کی یادگار عیادت…. ایک مزاحیہ کہانی
ایک شخص کانوں سے بہت بھاری تھا۔ ایک دن اسے خبر ملی کہ اس کا پڑوسی سخت بیمار ہے۔ اس نے سوچا کہ عیادت تو کرنی چاہیے، مگر ایک مشکل تھی: وہ مریض کی بات صحیح سن ہی نہیں سکتا تھا۔
کافی غور و فکر کے بعد اس نے ایک زبردست منصوبہ بنایا۔
اس نے خود سے کہا:
“میں پوچھوں گا: ‘کیسی طبیعت ہے؟’ وہ کہے گا: ‘الحمدللہ بہتر ہے۔’ تو میں جواب دوں گا: ‘اللہ اور صحت دے۔’
پھر پوچھوں گا: ‘کیا کھا رہے ہو؟’ وہ کہے گا: ‘کھچڑی یا دال۔’ تو میں کہوں گا: ‘بہت اچھا، یہی کھاتے رہو۔’
آخر میں پوچھوں گا: ‘علاج کس حکیم سے کروا رہے ہو؟’ وہ کسی اچھے حکیم کا نام لے گا اور میں اس کی تعریف کر دوں گا۔”
یہ منصوبہ ذہن میں بٹھا کر وہ بڑے اطمینان سے بیمار پڑوسی کے گھر پہنچ گیا۔
مگر اتفاق سے مریض کی حالت کافی خراب تھی۔ درد سے اس کا برا حال تھا اور مزاج بھی چڑچڑا ہو چکا تھا۔
بہرے نے مسکراتے ہوئے پوچھا:
“بھائی جان! اب طبیعت کیسی ہے؟”
مریض نے کراہتے ہوئے کہا:
“کیا بتاؤں… بس مرنے کے قریب ہوں!”
بہرے نے فوراً خوش ہو کر کہا:
“الحمدللہ! یہ تو بہت اچھی خبر ہے۔ اللہ اور بہتری عطا فرمائے!”
مریض نے حیرت اور غصے سے اسے گھور کر دیکھا، مگر بہرے کو کچھ خبر نہ ہوئی۔
اس نے دوسرا سوال کر ڈالا:
“اچھا، آج کل کھانے میں کیا لے رہے ہو؟”
مریض غصے سے بولا:
“زہر کھا رہا ہوں… زہر!”
بہرے نے خوشی سے سر ہلاتے ہوئے کہا:
“ماشاءاللہ! یہی کھاتے رہو، خوب طاقت آئے گی!”
اب تو مریض کا خون کھول اٹھا۔ وہ بستر پر اٹھ کر بیٹھ گیا۔
بہرے نے بے فکری سے آخری سوال پوچھا:
“اور علاج کس حکیم سے کروا رہے ہو؟”
مریض نے تپ کر جواب دیا:
“عزرائیل سے!”
بہرے نے فوراً دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا دی:
“سبحان اللہ! بہت نام سنا ہے ان کا۔ بڑے ماہر آدمی ہیں۔ ان کا علاج جاری رکھو، وہ تمہیں بہت جلد وہاں پہنچا دیں گے جہاں تمہیں جانا چاہیے!”
یہ سنتے ہی مریض نے قریب پڑا تکیہ اٹھا کر اس کی طرف دے مارا، جبکہ بہرا یہ سمجھتا ہوا گھر سے نکلا کہ آج اس نے اپنے پڑوسی کی بڑی دلجوئی کی ہے!
دوسروں کی بات سنے بغیر پہلے سے تیار کیے گئے جواب اکثر غلط فہمی اور شرمندگی کا سبب بن جاتے ہیں۔
#urdustories #kahaniyan #MoralStory #stories
