Tag Archives: #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday

ایک دھوکے باز گدھے کو جنگل کے قریب ایک مری ہوئی شیر کی کھال ملی۔ گدھے کے دماغ میں ایک شرارت سوجھی؛ اس نے وہ کھال اپنے اوپر اوڑھ لی اور ندی کے پانی میں اپنا عکس دیکھا۔ وہ بالکل ایک خوفناک شیر کی طرح لگ رہا تھا۔گدھا جنگل کی طرف نکلا۔ اسے دیکھ کر تمام جانور، گائے، بھینسیں اور یہاں تک کہ لومڑیاں بھی اپنی جان بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگنے لگیں۔ گدھا یہ دیکھ کر دل ہی دل میں بہت خوش ہوا اور خود کو جنگل کا بادشاہ سمجھنے لگا۔ اب وہ جہاں بھی جاتا، سب جانور ڈر کے مارے اسے راستہ دے دیتے۔ گدھے کی تو جیسے لاٹری نکل آئی تھی، اسے بنا محنت کے ہر جگہ عزت مل رہی تھی۔ایک دن، وہ اسی طرح شیر کی کھال پہن کر ایک کھیت کے پاس سے گزر رہا تھا۔ وہاں دور کچھ اور گدھے کھڑے تھے، جنہوں…

Read more

ایک عورت کا بچہ گم ہوگیا بڑی ٹینشن میں تھی ، اس کے گھر کے قریب ہی عامل صاحب کا گھر تھا عامل صاحب رات کو 1 بجے  تھکے ہوئے  گھر واپس آئے۔ عورت نے ان کا دروازہ زور سے کھٹکھٹایا عامل صاحب نے دروازہ کھولا عورت بولی میرا بچہ صبح سے گم ہے اسے ڈھونڈنے کے لیے کوئی وظیفہ وغیرہ بتائیں عامل صاحب بولے محترمہ رات 1 بجے کا ٹائم ہے اور میں تھکا ہوا آرہا ہوں۔ یہ سونے کا ٹائم ہے صبح آنا عورت بولی میرا بچہ گم ہے اور، تجھے اپنی نیند کی پڑی ہےعامل نے سوچا کہ اس عورت نے میری جان نہیں چھوڑنی اس عامل نے اخبار لے کر اس کا ایک کونا پھاڑ کر سپیشل سی بتی بنا کر تعویذ کی صورت میں اسے دے دیا اور کہا جاؤ یہ اینٹ کے نیچے رکھ دو صبح بچہ واپس آجائے گا حلانکہ عامل صاحب کو…

Read more

کہتے ہیں کہ ایک دور افتادہ گاؤں میں ایک نہایت غریب کسان رہتا تھا۔ اس کی کل متاع ایک جھونپڑی، چند بوسیدہ اوزار اور ایک بوڑھا گدھا تھا، جس نے عمر بھر اس کے ساتھ دھوپ، بارش اور فاقوں کے دن گزارے تھے۔وقت کا پہیہ گھوما اور ایک دن کسان اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔اس کے تین بیٹے تھے۔ وراثت تقسیم ہوئی تو بڑے بھائیوں نے زمین، گھر اور مویشی لے لیے، جبکہ سب سے چھوٹے بیٹے کے حصے میں صرف وہی کمزور اور بوڑھا گدھا آیا۔بڑے بھائی اس پر ہنسنے لگے۔“تمہاری قسمت میں تو صرف یہ گدھا لکھا تھا!”مگر لڑکا مایوس نہ ہوا۔ اس نے محبت سے گدھے کی گردن تھپتھپائی اور بولا:“دوست! دنیا ہمیں کچھ نہیں سمجھتی، مگر شاید ہماری قسمت ابھی جاگی نہیں۔ آؤ، شہر چلتے ہیں اور اپنی تقدیر آزماتے ہیں۔”اگلی صبح وہ گدھے کو ساتھ لے کر روانہ ہو گیا۔شہر پہنچ کر اس نے…

Read more

کہتے ہیں کہ ایک زمانے میں ایک بادشاہ تھا جس کے دل میں طاقت کا غرور اور خواہشات کا طوفان موجزن رہتا تھا۔ ایک دن اس کے کانوں میں ایک کسان کی بیوی کے حسن و جمال کے چرچے پڑے۔ لوگ کہتے تھے کہ وہ نہ صرف بے حد خوبصورت ہے بلکہ عقل و فہم میں بھی اپنی مثال آپ ہے۔بادشاہ کے دل میں اسے دیکھنے کی خواہش جاگی۔ اس نے فوراً گھوڑا تیار کرایا اور چند خادموں کے ساتھ کسان کے گاؤں کی طرف روانہ ہو گیا۔کسان نے جب بادشاہ کو اپنے دروازے پر دیکھا تو گھبرا گیا۔ ادب سے سر جھکا کر بولا:“حضور! میرے غریب خانے کو عزت بخشی، کیا حکم ہے؟”بادشاہ نے مسکراتے ہوئے کہا:“ہم نے سنا ہے تمہارا کھیت بہت سرسبز ہے۔ آج رات ہم وہیں قیام کرنا چاہتے ہیں۔”کسان سمجھ گیا کہ بادشاہ کی نیت کھیت سے زیادہ کسی اور طرف ہے، مگر وہ بے…

Read more

گاؤں نورپور میں ایک شخص رہتا تھا جس کا نام اللہ دتہ تھا۔ اس کے پاس نہ بڑی زمین تھی، نہ کوئی دکان، نہ دولت کے انبار۔ اس کی کل کائنات ایک مضبوط گھوڑا، ایک پرانا سا ٹانگا اور لوگوں کا اعتماد تھا۔ وہ روز صبح سورج نکلنے سے پہلے اٹھتا، گھوڑے کو سنوارتا، ٹانگا تیار کرتا اور گاؤں سے شہر کی طرف روانہ ہو جاتا۔ شام ڈھلے واپس آتا تو اس کے ٹانگے پر کبھی کسان بیٹھے ہوتے، کبھی مزدور، کبھی طالب علم اور کبھی شہر کے بابو لوگ۔ عجیب بات یہ تھی کہ گاؤں میں اس سے کہیں زیادہ خوبصورت ٹانگے بھی تھے، زیادہ تیز گھوڑے بھی تھے اور کم کرایہ لینے والے لوگ بھی تھے، مگر پھر بھی مسافر اسی کے ٹانگے کا انتظار کرتے تھے۔ لوگ کہتے تھے:“اللہ دتہ صرف ٹانگا نہیں چلاتا، دل بھی چلاتا ہے۔”وہ زیادہ بولتا نہیں تھا۔اگر کوئی کسان بیٹھتا تو وہ…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گھنے جنگل میں ایک چوہا رہتا تھا۔ وہ ہمیشہ پریشان اور بے چین رہتا تھا۔ جنگل کے تقریباً تمام جانور کسی نہ کسی کام میں مصروف رہتے تھے۔ کوئی خوراک جمع کرتا، کوئی اپنا گھر بناتا اور کوئی اپنے بچوں کی پرورش میں لگا رہتا، مگر چوہے کے پاس کرنے کو کوئی خاص کام نہ تھا۔ جنگل کے جانور اکثر اسے طعنے دیتے۔“کب تک فارغ پھرو گے؟” “زندگی صرف خواب دیکھنے کا نام نہیں، کچھ کرنا بھی پڑتا ہے!”لیکن چوہا ہمیشہ سینہ تان کر ایک ہی جواب دیتا: “تم لوگ دیکھ لینا، میں کوئی بہت بڑا کام کروں گا۔ ایسا کام کہ پورا جنگل میرا نام لے گا۔” اس کی ایک گلہری دوست تھی جو اسے دل سے چاہتی تھی۔ وہ اکثر اسے سمجھاتی: “بڑے کام اچھی بات ہیں، مگر ان کی شروعات چھوٹے قدموں سے ہوتی ہے۔ پہلے کچھ سیکھو، پھر کوئی…

Read more

ایک کسان تھا۔ اس کے گھر میں چوہوں کی ایسی بھرمار تھی کہ جیسے گھر نہیں، چوہوں کی سلطنت ہو۔ دن ہو یا رات، کہیں اناج کے ڈبے کترے جا رہے ہوتے، کہیں کپڑے اور کہیں لکڑی کے صندوق۔ کسان نے ہر تدبیر آزما لی، مگر چوہے کم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے تھے۔ آخر ایک دن وہ شہر سے ایک بلی لے آیا۔بلی جوان، پھرتیلی اور شکار میں ماہر تھی۔اس کے آتے ہی چوہوں پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ جو چوہے برسوں سے بے خوف گھومتے تھے، اب بلوں میں چھپنے لگے۔ہر روز کئی کئی چوہے اس کا شکار بنتے۔ کچھ ہی ہفتوں میں چوہوں کی تعداد اتنی کم ہو گئی کہ لوگ مذاق میں کہتے: “یہ اب چوہوں کا گھر نہیں، بلی کا محل بن گیا ہے۔” پڑوس میں ایک اور بلی رہتی تھی۔ وہ ہر شام دیوار پر آ بیٹھتی اور پوچھتی: “بہن، آج کتنے شکار کیے؟”…

Read more

ایک بوڑھا شخص ٹرین میں سفر کر رہا تھا، اتفاقاً ڈبہ ابھی خالی تھا۔ پھر 8~10 لڑکے اس ڈبے میں آئے اور بیٹھ کر انہوں نے تفریح کرنی شروع کر دی.! ایک نے کہا، “آؤ ، زنجیر کھینچیں”۔ ایک اور نے کہا – ” اس جرم پر 500 روپے جرمانہ اور 6 ماہ قید کی سزا لکھی ہے۔ ” تیسرے نے کہا – ”  ہم بہت سارے لوگ ہیں  500 روپے چنده کر کے جمع کروا دیں گے.! ” چندہ جمع کیا گیا تو 500 کی بجائے 1200 روپے جمع ہوگئے۔ جس میں 500 کا ایک نوٹ ، پچاس کے 2 نوٹ  باقی سب 100 کے نوٹ تھے.!🙆چندہ پہلے لڑکے نے جیب میں رکھ لیا ۔ “زنجیر کھینچنے سے پہلے ایک بولا،  “اگر کوئی پوچھے گا تو کہیں دینگے گے کہ بوڑھے نے اسے کھینچا تھا ۔ تب اپنے کو پیسہ بھی نہیں دینا پڑے گا۔ اور ان روپیوں سے…

Read more

زمانۂ قدیم کی بات ہے۔ ایک مال دار تاجر اپنے کاروباری سفر پر نکلا، مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ گھنے اور پُراسرار جنگل میں راستہ بھول بیٹھا۔ دن گزرتے گئے، سورج طلوع ہوتا اور ڈوب جاتا، مگر منزل کا سراغ نہ ملتا۔ پانچ دن اور پانچ راتیں وہ جنگل کی بھول بھلیوں میں مارا مارا پھرتا رہا۔آخرکار مایوسی کے عالم میں اس نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر پکارا:“اے خدا کے بندو! جو کوئی مجھے اس جنگل سے نکلنے کا راستہ دکھا دے، میں اپنی ایک بیٹی کا نکاح اس سے کر دوں گا!”ابھی اس کی آواز درختوں کے سائے میں گونج ہی رہی تھی کہ اچانک زمین کے قریب سے ایک باریک سی آواز سنائی دی:“میں تمہیں راستہ دکھاؤں گا!”تاجر نے حیرت سے اِدھر اُدھر دیکھا تو کیا دیکھتا ہے! ایک ننھا سا کانٹے دار چوہا اس کے سامنے کھڑا تھا۔تاجر دل ہی دل میں…

Read more

زمانۂ قدیم میں ایک گھنے جنگل کے بیچوں بیچ ایک ایسا میدان تھا جہاں جانور اکثر اپنی طاقت کے جوہر دکھایا کرتے تھے۔ ایک دن اسی میدان میں ایک ہاتھی اور ایک گینڈا آمنے سامنے آ کھڑے ہوئے۔دونوں اپنی اپنی طاقت کے قصیدے خود پڑھتے تھے۔ہاتھی فخر سے اپنی سونڈ لہراتا اور کہتا:“جنگل میں اگر کوئی پہاڑ چلتا پھرتا ہے تو وہ میں ہوں!”گینڈا اپنی ناک کا سینگ آسمان کی طرف اٹھا کر جواب دیتا:“اور اگر کوئی آندھی زمین پر دوڑتی ہے تو وہ میں ہوں!”باتوں باتوں میں بحث بڑھی، بحث سے تکرار ہوئی، اور تکرار سے نوبت لڑائی تک جا پہنچی۔آخر فیصلہ ہوا کہ ایک زبردست مقابلہ کیا جائے تاکہ دنیا جان لے کہ دونوں میں اصل بڑا کون ہے۔جنگل میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔لومڑیاں تماشہ دیکھنے کو بے تاب تھیں، بندر درختوں پر نشستیں سنبھال رہے تھے، اور طوطے تازہ تبصرے تیار کر…

Read more

ایک دن ایک اژدہا ایک ریچھ کو گھسیٹتا ہوا لے جا رہا تھا۔ اتفاق سے ایک بہادر اور طاقتور پہلوان وہاں سے گزرا۔ جب اس نے ریچھ کی بے بسی دیکھی تو اس کی مدد کے لیے آگے بڑھا۔ اپنی قوت اور فنِ کشتی کے کمال سے اس نے اژدہے کا مقابلہ کیا، اسے زیر کر لیا اور آخرکار مار ڈالا۔ یوں ریچھ موت کے منہ سے بچ گیا۔ریچھ اس احسان پر بے حد شکر گزار ہوا۔ وہ پہلوان کے ساتھ ایسے لگ گیا جیسے وفادار ساتھی ہو۔ پہلوان بھی تھکا ہوا تھا، اس لیے ایک درخت کے سائے تلے آرام کرنے کے لیے لیٹ گیا۔ ریچھ محبت اور عقیدت کے جذبے سے اس کے پاس پہرہ دینے لگا۔اسی دوران ایک راہ گیر وہاں سے گزرا۔ اس نے ریچھ کو پہلوان کے پاس بیٹھے دیکھا تو حیران ہو کر پوچھا:“بھائی، یہ ریچھ تمہارے ساتھ کیا کر رہا ہے؟”پہلوان نے سارا…

Read more

اے بات ماننے والے! بھولے پن کی ایک کہانی سن۔ ایک اعرابی نے اونٹ پر ایک بوریا اناج کی بھری اور دوسرے میں ریت بھر کر اونٹ پر لاد دیا اور خود ان دونوں کے اوپر ہو بیٹھا۔ راسے میں ایک باتونی صاحب ملے اور ہمدردی سے سفر کی حضرکی باتیں کرتے رہے۔ پھر پوچھا کہ کیوں میاں! دونوں بوریوں کیا بھرا ہوا ہے؟ اعرابی نے کہا کہ ایک میں تو گیہوں ہے اور دوسرے میں ریت بھری ہے۔پوچھا کہ آخر تو نے اس بوریاکو بھرا ہی کیوں؟ جواب دیا تاکہ دونوں طرف بوریے ہم وزن رہیں اور وزن صرف ایک ہی طرف نہ رہے۔ بولے بوریے میں سے آدھے گیہوں نکال کر دوسری میں پاسنگ کے طور پر ڈال دے۔ دونوں طرف وزن برابر ہوجائے گا اور اونٹ پر بھی بوجھ نہ رہے گا۔ اعرابی نے کہا کہ شاباش اے صاحبِ ہنر! ایسی عمدہ عقل اور اچھی رائے کے…

Read more

یہ ایک سچی اور دل کو چھو لینے والی ایمان افروز کہانی ہے جو توکل، دیانت داری اور اللہ کی غیبی مدد پر یقین کو تازہ کرتی ہے:ایک مرتبہ ایک غریب لکڑہارا جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر شہر کی طرف جا رہا تھا۔ شدید گرمی اور تپتی دھوپ کی وجہ سے وہ بہت تھک چکا تھا۔ راستے میں ایک گھنے درخت کے نیچے وہ آرام کرنے کے لیے رک گیا۔ اس نے لکڑیوں کا گٹھا ایک طرف رکھا اور وہیں بیٹھ گیا ابھی وہ سستانے ہی لگا تھا کہ اس کی نظر درخت کی جڑ کے پاس مٹی میں دبے ہوئے ایک چمڑے کے تھیلے پر پڑی۔ لکڑہارے نے تجسس کے مارے مٹی ہٹائی اور تھیلا باہر نکالا۔ جب اس نے تھیلے کا منہ کھولا تو اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ وہ تھیلا سونے کے قیمتی سکوں سے بھرا ہوا تھا۔لکڑہارا انتہائی غریب تھا، اس کے گھر…

Read more

پرانے وقــتوں كـى بات ہے كہ ايک بادشاه كے دربار ميں ايک اجنبى حاضر هوا اور بادشاه سے نوكرى كا طلبگار هوا – بادشاه نے جب اسكى قابليت دريافت كى تو اسنے بتايا كہ وه سياسى (عربى مين سياسى كا مطلب هوتا هى كه افهام و تفهيم سى مسئلى كا حل نكالنى والا اور معامله فهم آدمى) ہے – بادشاه كے پاس پہلے ہى سياستدانوں كى لمبی قطار تهى ليكن اتفاق سے اسكے اصطبل كا مسئول يا ذمه دار فوت هو چكا تها چنانچہ بادشاه نے اسے اپنے خاص اصطبل كا مسئول بنا ديا-كچھ دن بعد بادشاه نے اس شخص سے اپنے سب سے عزیز گهوڑے كے بارے ميں دريافت كيا تو اس نے كہا كہ يه گهوڑا نسلی نہیں ہے – بادشاه نے وه گهوڑا بڑا مہنگا خريدا تها چنانچہ بادشاه نے اس شخص كو حاضر كرنے كا حكم صادر كيا جو دور كہيں جنگل ميں گهوڑے سدهانے اور…

Read more

چاچا! فالسہ کیا حساب دے رہے ہو ؟”صاحب جی تازہ فالسہ صرف دو سو روپے کلو کار والے کا منہ بن گیا۔دو سو روپے؟؟ اگر کسی کی مدد نہیں کر سکتے، تو کم از کم اسے اپنی باتوں سےدکھ نہ پہنچائیں۔۔ جون کی تپتی ہوئی دوپہر تھی اور سورج آگ برسا رہا تھا۔   سڑک کے کنارے، پچپن سالہ چاچا برکت اپنی ریڑھی پر گہرے جامنی رنگ کے چمکتے ہوئے تازہ فالسے سجائے کھڑا تھا۔وہ مسلسل پنکھا جھلتے ہوئے گاہکوں کو متوجہ کرنے کے لیے آواز لگا رہا تھا: “ٹھنڈے میٹھے فالسے… گرمی کا توڑ فالسے!” چاچا برکت اندر سے شدید پریشان تھا۔ اس کا کرائے کا چھوٹا سا مکان تھا، مالک مکان دو بار کرائے کا تقاضا کر چکا تھا اور اوپر سے اس بار بجلی کا بل پورا چھ ہزار روپے آیا تھا، جس نے اس کے ہوش اڑا دیے تھے۔ گھر میں راشن ختم ہونے کو تھا…

Read more

ایک سرسبز و شاداب وادی کے بیچوں بیچ ایک قدیم تالاب تھا۔ اس تالاب کے نیلگوں پانی میں مینڈکوں کی ایک بڑی بستی آباد تھی۔ ہر طرف آزادی ہی آزادی تھی؛ نہ کوئی حاکم، نہ کوئی پابندی، نہ کسی کا حکم چلتا تھا اور نہ کسی کی گردن پر جبر کا طوق تھا۔مگر انسان ہو یا مینڈک، نعمت جب مسلسل میسر رہے تو اس کی قدر آنکھوں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔چنانچہ ایک دن مینڈکوں کی مجلسِ شوریٰ منعقد ہوئی۔ بوڑھے مینڈک کنول کے پتوں پر بیٹھے تھے اور نوجوان مینڈک جوشِ خطابت میں اچھل کود کر رہے تھے۔ایک جذباتی مینڈک نے تقریر جھاڑی:“یہ بھی کوئی زندگی ہے؟ نہ کوئی بادشاہ، نہ کوئی دربار! قومیں اپنے حکمرانوں سے پہچانی جاتی ہیں اور ہم ہیں کہ بے سہارے پھر رہے ہیں!”مجمع نے زور دار ٹرّ ٹرّ کے ساتھ تائید کی۔بالآخر سب نے مل کر دیوتا کے حضور فریاد کی:“اے دیوتا! ہمیں…

Read more

‏یہ سن 1996 کی بات ہےجب لاہور کے اک تھیٹر میں کام کرنے والے میاں بیوی والدین بننے والے تھے اک دن روٹین کے چیک اپ کیلئے ہسپتال گئےتو ان کی خوشی کی انتہاء نہ رہی جب انہیں بتایا گیا کہ ان کے ہاں جڑواں بیٹوں کی ولادت ہوگیخیر سے بچے ہوگئےدلچسپ بات یہ کہ بچے ہمشکل بھی تھےوہ دونوں وقت کے ساتھ بڑے ہوئےتو انہیں یہ جان کر بہت صدمہ ہوا کہ ان کا اک بچہ گونگا ہے علاج کیلئے بہت گھومےمگر اتنا جان پائے کہ بچہ قابل علاج تو ہے مگر اس کیلئے امریکہ جانا پڑے گادونوں نے دن رات محنت کیمگراتنے پیسے جمع کر پائے کہ والدین میں سے صرف اک ہی بچے کے ساتھ ہی جایا جا سکتا تھاماں تھی، بیمار بچے کو کیسےخود سے جدا کر کے علاج کروا سکتی تھیآخر ماں اور بچے کا ویزہ لگوایا گیااک دن وہ امریکہ روانہ ہوگئےخاتون ائیرپورٹ سے…

Read more

ایک بادشاہ کے دربار میں ایک خوش آواز گویّا آیا۔ اس نے ایسا سُریلا گانا چھیڑا کہ پورا دربار خاموش ہو گیا…بادشاہ جھوم اٹھا بادشاہ نے وزیر سے کہا:“اس گویّے کو ہیرے دے دو!” یہ سنتے ہی گویّا اور دل سے گانے لگا۔ بادشاہ پھر بولا:“اسے موتی بھی عطا کرو!” اب تو گویّے کی آواز میں اور بھی جادو آ گیا بادشاہ خوش ہو کر چلایا:“اشرفیاں بھی دے دو!” گویّا اب پوری جان لگا کر گا رہا تھا…سر، لے، آواز… سب عروج پر تھے بادشاہ جوش میں آ کر بولا:“اسے جاگیر بھی دے دی جائے!” بس پھر کیا تھا…گویّا خوشی خوشی گھر پہنچا اور بیوی بچوں کو بتایا: “ہماری قسمت بدل گئی!بادشاہ نے سونا، چاندی، اشرفیاں، موتی، ہیرے، حتیٰ کہ جاگیر تک دینے کا اعلان کیا ہے!” گھر میں جشن شروع ہو گیا مگر… ایک دن گزرا…پھر دوسرا…پھر تیسرا… نہ سونا آیا…نہ چاندی…نہ اشرفیاں…نہ جاگیر… آخرکار گویّا دوبارہ دربار پہنچا…

Read more

بہت پرانے وقتوں کی بات ہے، ایک ملک پر ایک بہت بڑا اور طاقتور بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کے پاس دولت، فوج، محلات اور دنیا کی ہر نعمت موجود تھی، لیکن اس کے باوجود وہ ہمیشہ پریشان، اداس اور بے چین رہتا تھا۔ اسے رات کو نیند نہیں آتی تھی اور اس کا دل کسی کام میں نہیں لگتا تھا۔بادشاہ نے ملک بھر کے بڑے بڑے حکیموں، ڈاکٹروں اور جادوگروں کو بلایا کہ وہ اس کی اس بے چینی کا علاج کریں۔ سب نے بہت کوشش کی لیکن کوئی بھی بادشاہ کو دلی سکون اور خوشی نہ دے سکا۔آخر کار، ایک بوڑھا عقل مند درویش بادشاہ کے دربار میں آیا۔ اس نے بادشاہ کی حالت دیکھی اور کہا، “عالی جاہ! آپ کی اس بیماری کا ایک ہی علاج ہے۔ آپ اپنے پورے ملک میں کسی ایسے انسان کو تلاش کریں جو دل سے سچا اور مکمل طور پر خوش…

Read more

ایک غریب آدمی کے مکان کی چھت ٹوٹ گئی تھی اور وہ اُس پر گھاس پھونس بچھا رہا تھا کہ اتفاق سے ایک سخی امیر بھی اُدھر آ نکلا اور کہا۔ بھلے آدمی! اس گھاس پھونس سے بارش کیا رُکے گی۔ پکی چھت بنوا لو تو ٹپکنے کا اندیشہ جاتا رہے۔‘‘ غریب نے جواب دیا۔ ’’جناب! آپ کا فرمانا تو بے شک بجا ہے اور میں بھی جانتا ہوں۔ مگر حضور! میرے پاس پکی چھتبنوانے کے لیے دام کہاں؟‘‘امیر نے پوچھا۔ ’’پکی چھت پر کیا لاگت آئے گی؟‘‘غریب نے جواب دیا۔ ’’جناب! ڈیڑھ سو روپے تو لگ ہی جائیں گے۔‘‘ یہ سن کر امیر نے جھٹ جیب میں سے ڈیڑھ سو روپے کے نوٹ نکال اُس غریب کے حوالے کر دیے کہ جاؤ اس سے اپناکام چلاؤ۔ جب امیر نوٹ دے کر چلا گیا تو غریب کے پیٹ میں چوہے دوڑنے لگے کہ یہ تو بڑا سخی دولت مند تھا۔…

Read more

60/612
NZ's Corner