Tag Archives: #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday

برصغیر کی تاریخ میں برطانوی راج کا سب سے پیچیدہ اور گہرا پہلو صرف فوجی قبضہ یا سیاسی تسلط نہیں تھا بلکہ وہ سماجی انجینئرنگ تھی جس کے ذریعے انگریزوں نے ایک ایسا مقامی طاقتور طبقہ پیدا کیا جو ان کی حکومت کا محافظ، منتظم اور وارث بن گیا۔ پنجاب اس منصوبے کا سب سے اہم مرکز تھا۔ یہاں انگریزوں نے زمین، نہریں، فوج، مقامی سرداری، برادری، مذہب اور انتظامیہ کو آپس میں جوڑ کر ایک ایسا نظام قائم کیا جس کے اثرات آج بھی پاکستان کی سیاست، معیشت اور سماجی ڈھانچے میں موجود ہیں۔ اگر پنجاب کی جدید تاریخ کا گہرا مطالعہ کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ برطانوی حکومت نے صرف قبضہ نہیں کیا بلکہ اس نے ایک نیا اشرافیہ طبقہ تخلیق کیا جس کی بنیاد وفاداری، زمین اور طاقت پر رکھی گئی۔ 1849ء میں جب سکھ سلطنت ختم ہوئی اور پنجاب برطانوی حکومت کے قبضے میں…

Read more

ترکستان کے ایک سوداگر کی درھم کی ایک تھیلی راستہ میں کہیں گرپڑی۔ اس نے گاؤں میں منادی کردی کہ تھیلی جس کوملی ہو واپس کردے۔ تھیلی میں جس قدر درھم ہوں اس کے نصف انعام کا وہ حقدار ہوگا۔ اس تھیلی میں دوسودرہم تھے۔ یہ تھیلی کسی جہاز کے ملاّح کو ملی تھی منادی سن کر وہ اس آدمی کے پاس گیا اورتمام واقعہ بیان کر کے کہا۔ ’’اگراس تھیلی کا مالک نصف یعنی سودرھم حسب وعدہ دے تو اس کے بدلہ میں تھیلی واپس کرنے پر تیار ہوں۔ شرط یہ ہے کہ مجھے انعام پہلے مل جائے‘‘۔جب تھیلی کی خبرسوداگر کو ملی۔ جو بڑا لالچی تھا۔ تو اس نے خیال کیا کہ کسی طرح سے میں انعام کی رقم سے بھی بچوں اور میری پوری رقم مجھے مل جائے۔ اس لئے اس نے ایک ترکیب کی اورملاّح سے کہا کہ اس تھیلی میں ایک ہیرا تھا اگر وہ…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے، ایک بہت بڑا اور بے حد امیر تاجر ایک عظیم شہر میں رہتا تھا۔ اس کے محل سونے چاندی سے جگمگاتے تھے، نوکر چاکر ہر وقت اس کے حکم کے منتظر رہتے تھے، اور دنیا کی ہر آسائش اس کے قدموں میں پڑی تھی۔لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ اتنی دولت کے باوجود اس کے دل میں عجیب سی بے چینی رہتی تھی۔ راتوں کو وہ نرم بستر پر کروٹیں بدلتا رہتا، مگر سکون کی ایک لمحے کی نیند بھی اسے نصیب نہ ہوتی۔ اس کے چہرے سے خوشی غائب ہو چکی تھی۔ اس نے بڑے بڑے حکیموں، ڈاکٹروں اور عاملوں سے علاج کروایا، مگر دل کا بوجھ کم نہ ہوا۔ایک دن ایک مسافر نے اسے بتایا: “جنگل کے کنارے ایک درویش رہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ وہ ٹوٹے دلوں کو سکون دے دیتے ہیں۔” یہ سن کر تاجر فوراً اپنے خزانچی سے سونے…

Read more

ایک حسین وادی میں بہتی ندی کے کنارے ایک بہت ہی بڑا، گھنا اور شاندار چنار کا درخت کھڑا تھا۔ اس کی اونچی اونچی شاخیں آسمان سے باتیں کرتی تھیں، اور دور دور تک اس کا سایہ پھیلا ہوا تھا۔ جنگل کے پرندے اس پر گھونسلے بناتے، مسافر اس کے نیچے بیٹھ کر آرام کرتے، اور ہر آنے والا اس کی خوبصورتی کی تعریف کیے بغیر نہ رہتا۔ وقت گزرنے کے ساتھ چنار کے دل میں غرور آ گیا۔ وہ خود کو پورے جنگل کا بادشاہ سمجھنے لگا۔ اسی چنار کے نیچے ایک باریک سا بانس کا پودا اگا ہوا تھا۔ وہ نہ زیادہ اونچا تھا اور نہ ہی طاقتور، مگر ہمیشہ خاموش اور نرم مزاج رہتا تھا۔ جب بھی تیز ہوا چلتی، بانس جھک جاتا۔ کبھی دائیں، کبھی بائیں… جیسے ہوا کے ساتھ دوستی کر رہا ہو۔ چنار یہ منظر دیکھ کر زور زور سے ہنستا اور طنز سے…

Read more

ایک پُرسکون شام تھی۔ندی کا پانی آہستہ آہستہ بہہ رہا تھا، پرندے اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹ رہے تھے، اور ندی کنارے ایک صوفی بزرگ خاموشی سے اللہ کے ذکر میں مشغول بیٹھے تھے۔اچانک ان کی نظر پانی پر پڑی…انہوں نے دیکھا کہ ایک چھوٹا سا بچھو ندی کے تیز بہاؤ میں پھنس گیا ہے۔وہ بار بار پانی سے نکلنے کی کوشش کرتا، مگر لہریں اسے واپس بہا لے جاتیں۔بچھو بے بسی سے ہاتھ پاؤں مار رہا تھا۔صوفی بزرگ کا دل رحم سے بھر گیا۔انہوں نے فوراً اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تاکہ اس ننھی جان کو بچا سکیں۔لیکن جیسے ہی انہوں نے بچھو کو ہاتھ میں لیا…بچھو نے اپنی فطرت کے مطابق زور سے ڈنک مار دیا!درد کی تیز لہر بزرگ کے جسم میں دوڑ گئی۔ان کا ہاتھ کانپ گیا اور بچھو دوبارہ پانی میں جا گرا۔قریب کھڑے لوگ بول اٹھے:“چھوڑ دیں اسے!یہ ناشکرا جانور آپ ہی کو تکلیف دے…

Read more

ایک گاؤں میں ایک سیاح کی ملاقات ساحل پر ایک ماہی گیر سے ہوئی۔ماہی گیر دن بھر کا شکار لے کر گھر جا رہا تھا کہ راستے میں سیاح نے اسے روک کر بات شروع کر دی۔ سیاح: تمہیں اس طرح کی مچھلیاں پکڑنے میں کتنا وقت لگا؟ماہی گیر: زیادہ وقت نہیں لگا۔ سیاح: تو پھر تم زیادہ دیر رک کر اور مچھلیاں کیوں نہیں پکڑ لیتے؟ماہی گیر: یہ تھوڑا سا شکار میری اور میرے گھر والوں کی ضرورت کے لیے کافی ہے۔ سیاح: تم باقی وقت میں کیا کرتے ہو؟ماہی گیر: میں دیر تک سوتا ہوں، اپنے بچوں کے ساتھ کھیلتا ہوں، اور اپنے گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارتا ہوں۔ سیاح نے فوراً بات کاٹی اور بولا:“میرے پاس MBA کی ڈگری ہے، میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں۔ تمہیں ہر روز زیادہ وقت تک مچھلیاں پکڑنی چاہئیں۔ پھر اضافی مچھلیاں بیچ کر ایک بڑی کشتی خرید…

Read more

ایک سرسبز جنگل کے بیچوں بیچ ایک بہت بڑا اور خوبصورت تالاب تھا۔ اس کا پانی شیشے کی طرح صاف تھا، کناروں پر نرم گھاس اگتی تھی اور رنگ برنگے پھولوں کی خوشبو ہر وقت فضا میں پھیلی رہتی تھی۔ اسی تالاب میں تین مچھلیاں رہتی تھیں۔ تینوں گہری سہیلیاں تھیں، مگر ان کی سوچ ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھی۔ پہلی مچھلی نہایت عقلمند اور دور اندیش تھی۔ وہ ہمیشہ آنے والے خطرے کو پہلے ہی بھانپ لیتی اور ہر مشکل کا حل سوچ کر رکھتی تھی۔ دوسری مچھلی بہت حاضر دماغ تھی۔ وہ کہتی:“پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ جب مصیبت آئے گی تب اپنی عقل سے راستہ نکال لیں گے۔” تیسری مچھلی انتہائی سست اور لاپرواہ تھی۔ وہ ہر وقت یہی کہتی:“جو قسمت میں لکھا ہے، وہی ہوگا۔ زیادہ سوچنے سے کچھ نہیں بدلتا۔” ایک شام سورج غروب ہو رہا تھا اور تالاب سنہری روشنی میں نہا…

Read more

کٹ تو گئی اپنی حیات قدیر۔۔۔ لیکن بے ثمر کوفیوں میں گزری محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر اگر لکھنے بیٹھوں تو شاید الفاظ کم پڑ جائیں۔ بس اتنا کہوں گا زندہ قومیں ہمیشہ اپنے محسنوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتی ہیں لیکن جو سلوک ہم نے اپنے محسنوں کے ساتھ روا رکھا ہے شاید ہی اب کوئی ڈاکٹر عبدالقدیر بنا چاہئے گا۔ ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم۔۔۔ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان۔!  کٹ تو گئی اپنی حیات قدیر۔۔۔لیکن بے ثمر کوفیوں میں گزری۔۔              28 مئی یوم تکبیر۔۔۔!

ایک رات کو سلطان محمود بھیس بدل کر نکلا اور چوروں کی جماعت کے ساتھ ہوگیا۔ جب کچھ دیر ان کے ساتھ رہا تو انہوں نے پوچھا کہ اے رفیق تو کون ہے؟ بادشاہ نے جواب دیا کہ میں بھی تمہیں میں سے ایک چور ہوں۔ اس پر ایک چور نے کہا بھائیو! آؤ ذرا اپنا اپنا ہنر تو بتاؤ۔ ہر شخص بیان کرے کہ وہ کیا کیا کمال رکھتا ہے۔ ایک نے جواب دیا کہ میرے دونوں کانوں میں عجب کمال ہے کہ کتّا جو بھونکتا ہے تو میں سمجھ جاتا ہوں کہ لوگ فلاں شخص کی امارت کا کیا چرچا کرتے ہیں۔ دوسرے نے کہا میری آنکھوں میں یہ کمال ہے کہ جس کسی کو رات کے اندھیرے میں دیکھ لوں تو دن کے وقت اس کو پہچان لیتا ہوں۔ تیسرے نے کہا میرے بازو میں یہ قوت ہے کہ صرف ہاتھ کی قوت سے کومل لگاتاہوں۔ چوتھے…

Read more

ایک شخص نے چڑیا پکڑنے کےلئے جال بچھایا.. اتفاق سےایک چڑیا اس میں پھنس گئی اور شکاری نے اسے پکڑ لیا..چڑیا نے اس سے کہا.. ” اے انسان ! تم نے کئی ھرن ‘ بکرے اور مرغ وغیرہ کھاۓ ھیں ان چیزوں کے مقابلے میں میری کیا حقیقت ھے.. ذرا سا گوشت میرے جسم میں ھے اس سے تمہارا کیا بنے گا..؟ تمہارا تو پیٹ بھی نہیں بھرے گا.. لیکن اگر تم مجھے آزاد کر دو تو میں تمہیں بڑی ھی کام میں آنے والی نصیحتیں کرونگی جن پر عمل کرنا تمہارے لئے بہت مفید ھوگا..ان میں سے ایک نصیحت تو میں ابھی ھی کرونگی.. جبکہ دوسری اس وقت کرونگی جب تم مجھے چھوڑ دو گے اور میں دیوار پر جا بیٹھوں گی.. اس کے بعد تیسری اور آخری نصیحت اس وقت کرونگی جب دیوار سے اڑ کر سامنے درخت کی شاخ پر جا بیٹھونگی.. “اس شخص کے دل میں…

Read more

“تم لوگ ہر سال لینے آ جاتے ہو… کبھی خود بھی قربانی کر لیا کرو۔” محلے میں ہر سال اُس کے گھر سب سے بڑا جانور آتا تھا۔ لمبے سینگ…قیمتی نسل…گلے میں خوبصورت رنگین پٹہ…اور دروازے کے باہر تصویریں بنانے والوں کا ہجوم۔ عید سے کئی دن پہلے ہی لوگ کہنا شروع کر دیتے: “اس بار بھی اُن کی قربانی سب سے نمایاں ہوگی…” اور شاید یہی بات اُسے سب سے زیادہ پسند تھی۔ وہ جانور سے زیادہ اُس تعریف کا انتظار کرتا تھاجو قربانی کے بعد لوگوں کی زبانوں پر آتی تھی۔ عید کی صبح اُس کے گھر گوشت لینے والوں کی لمبی قطار لگ گئی۔ کوئی سفید شاپر لیے کھڑا تھا…کوئی پرانا برتن…اور کوئی اپنے بچوں کو ساتھ لایا تھا کہ شاید کچھ زیادہ گوشت مل جائے۔ اُسی بھیڑ میں ایک دبلا پتلا سا لڑکا بھی خاموش کھڑا تھا۔ عمر کوئی بارہ تیرہ سال…پاؤں میں گھسے ہوئے چپل…اور…

Read more

پرانے زمانے کی بات ہے۔ بخارا کے ایک مشہور شہر میں ایک نہایت دانا اور عقل مند قاضی رہتا تھا۔ لوگ اسے “قاضی فہیم” کے نام سے جانتے تھے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ بغیر مارپیٹ اور شور شرابے کے بڑے سے بڑا مسئلہ حل کر لیتا تھا۔ دور دور سے لوگ اپنے جھگڑے لے کر اس کے پاس آتے اور انصاف پا کر خوشی خوشی واپس جاتے۔ اسی شہر میں ایک بہت بڑا بازار تھا جہاں دور دراز کے تاجر اپنی قیمتی چیزیں فروخت کرنے آتے تھے۔ بازار میں ہر وقت لوگوں کا ہجوم رہتا، مگر کچھ مہینوں سے ایک عجیب مسئلہ پیدا ہوگیا تھا۔ تاجروں کی تھیلیاں، زیورات اور قیمتی سامان غائب ہونے لگا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ کسی نے کبھی چور کو دیکھا ہی نہیں تھا۔ لوگوں میں خوف پھیل گیا۔ ہر شخص دوسرے پر شک کرنے لگا۔ بازار کی…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی گاؤں میں چار اندھے دوست رہتے تھے، جنہوں نے زندگی میں کبھی ہاتھی نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی انہیں معلوم تھا کہ ہاتھی کیسا ہوتا ہے۔ ایک دن گاؤں میں ایک سرکس آئی جس کے ساتھ ایک بڑا ہاتھی بھی تھا۔چاروں دوستوں نے فیصلہ کیا کہ وہ خود جا کر ہاتھی کو چھوئیں گے تاکہ معلوم کر سکیں کہ ہاتھی حقیقت میں کیسا دکھتا ہے۔ وہ ہاتھی کے پاس پہنچے اور باری باری اسے چھونے لگے۔پہلے اندھے نے ہاتھی کی سونڈ کو ہاتھ لگایا اور فوراً بولا: “ارے! ہاتھی تو ایک موٹے سانپ کی طرح ہوتا ہے!”دوسرے اندھے نے ہاتھی کے پاؤں کو چُھوا اور پہلے والے کو جھڑکتے ہوئے بولا: “تم بالکل غلط کہہ رہے ہو، ہاتھی سانپ جیسا نہیں بلکہ ایک مضبوط اور گول ستون (پیلر) کی طرح ہوتا ہے!”تیسرے اندھے نے ہاتھی کے بڑے کان کو ہاتھ لگایا اور…

Read more

پرانے زمانے کی بات ہے کہ ایک شخص اپنی بستی میں محبت کرنے والے انسان کے طور پر جانا جاتا تھا۔ اس کی دنیا بہت چھوٹی تھی، مگر اسی چھوٹی سی دنیا میں اس کے لیے سب کچھ موجود تھا۔ ایک بیوی، دو بچے، ایک چھوٹا سا گھر، اور ان سب کے لیے دھڑکتا ہوا اس کا دل۔ وہ صبح سویرے کام پر نکلتا، شام کو تھکا ہارا واپس آتا، مگر جیسے ہی بچے دوڑ کر اس سے لپٹتے، اس کی ساری تھکن غائب ہو جاتی۔ وہ اکثر لوگوں سے کہا کرتا تھا: “میری جنت یہی ہیں، اگر یہ خوش ہیں تو مجھے اور کچھ نہیں چاہیے۔” وہ اپنے بچوں کے لیے نئے کپڑے لاتا، بیوی کی چھوٹی چھوٹی خواہشیں پوری کرتا، اور ان کے آرام کے لیے اپنی ہر خواہش قربان کر دیتا۔ مگر ایک چیز تھی… جسے وہ ہمیشہ ٹالتا رہتا تھا۔ اپنے رب کو۔ نماز اس کے…

Read more

ایک گھنے جنگل کے بیچ ایک اونچے پہاڑ کی چوٹی پر ایک طاقتور عقاب نے اپنا گھونسلا بنا رکھا تھا۔ وہاں اس نے اپنے چار انڈے محفوظ رکھے ہوئے تھے۔ایک دن اچانک زوردار زلزلہ آیا… زمین ہلنے لگی… درخت کانپنے لگے… اور انہی جھٹکوں میں ایک انڈا گھونسلے سے نکل کر پہاڑ سے لڑھکتا ہوا نیچے ایک مرغیوں کے فارم میں جا گرا۔مرغیوں نے جب وہ بڑا سا انڈا دیکھا تو حیران رہ گئیں۔ آخر ایک بوڑھی اور رحم دل مرغی بولی:“یہ اب ہمارے پاس امانت ہے، ہم اس کی حفاظت کریں گے۔”وہ مرغی روز اس انڈے کو اپنے پروں میں چھپا کر گرم رکھتی رہی۔ کچھ دنوں بعد انڈا ٹوٹا… اور اس میں سے ایک خوبصورت عقاب کا بچہ باہر نکلا۔مگر افسوس… وہ عقاب مرغیوں کے درمیان پلا بڑھا، اس لیے خود کو بھی مرغی ہی سمجھنے لگا۔وہ زمین کھود کر دانے چگتا…مرغیوں کی طرح کُڑ کُڑ کرتا…اور تھوڑا…

Read more

ایک قدیم شہر میں ایک بادشاہ نے اعلان کروایا کہ محل کے نیچے ایک خفیہ کمرہ موجود ہے، جہاں بے شمار خزانہ رکھا گیا ہے۔ مگر اس کمرے کا دروازہ صرف اسی شخص پر کھلے گا جو بغیر دھوکے اور فریب کے وہاں تک پہنچ سکے۔ یہ سن کر دو آدمی آگے بڑھے۔ایک اندھا تھا اور دوسرا بہرا۔ نگہبان انہیں دیکھ کر ہنسنے لگے اور بولے:“یہ دونوں تو پہلے ہی ناکام ہیں۔” اندھے نے سکون سے کہا:“میں راستہ نہیں دیکھ سکتا، مگر قدموں کی نیت پہچان لیتا ہوں۔”بہرے نے جواب دیا:“میں آوازیں نہیں سن سکتا، مگر آنکھوں کے دھوکے کو سمجھ لیتا ہوں۔” دونوں نے ایک دوسرے کا سہارا بن کر سفر شروع کر دیا۔ راستے میں دیواروں سے آوازیں آنے لگیں:“ادھر آؤ… خزانہ یہیں ہے!”مگر بہرا نہ رکا۔ کچھ آگے زمین پر سنہری روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ اندھا ٹھہر گیا اور بولا:“یہ چمک حقیقت نہیں، یہ جلد بازی کی…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک عظیم سلطنت پر جلال الدین نام کا بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ وہ بہادر تو تھا ہی، مگر اپنی عقل اور حاضر جوابی کی وجہ سے بھی مشہور تھا۔ اسے عجیب و غریب سوالات پوچھنے کا بہت شوق تھا۔ وہ اکثر اپنے وزیروں اور درباریوں کو مشکل معمہ دے دیتا، اور جو جواب نہ دے پاتا اسے شرمندگی اٹھانا پڑتی۔ وقت گزرنے کے ساتھ بادشاہ کو اپنی عقل پر بہت غرور ہوگیا۔ اب وہ سمجھنے لگا تھا کہ پوری سلطنت میں کوئی شخص اس سے زیادہ عقل مند نہیں۔ ایک دن اس نے پورے شہر میں اعلان کروایا: “جو شخص میرے تین سوالوں کے صحیح جواب دے گا، اسے ہزار سونے کے سکے انعام میں دیے جائیں گے۔ لیکن اگر جواب نہ دے سکا تو اسے ایک ماہ تک شاہی خدمت کرنی ہوگی۔” یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے شہر میں پھیل…

Read more

گدھا اور کنواں یک بوڑھے کسان کا پسندیدہ گدھا غلطی سے ایک گہرے اور خشک کنویں میں گر گیا۔ جانور گھنٹوں درد سے چلاتا رہا جبکہ کسان سوچتا رہا کہ اب کیا کیا جائے۔ آخر کار، یہ دیکھ کر کہ کنواں بالکل سوکھا ہوا ہے اور گدھا بھی بہت بوڑھا ہو چکا ہے، کسان نے ایک مشکل فیصلہ کیا۔ اس نے سوچا کہ گدھے کو اسی کنویں میں دفن کر دینا ہی اس کی تکلیف کا واحد حل ہے۔اس نے اپنے پڑوسیوں کو مدد کے لیے بلایا۔ سب نے اپنے ہاتھوں میں بیلچے اٹھائے اور کنویں میں مٹی ڈالنا شروع کر دی۔شروع میں تو گدھے کو اندازہ ہو گیا کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اور وہ بری طرح چیخا چلایا۔ لیکن مٹی کے چند بیلچے گرنے کے بعد، وہ اچانک بالکل خاموش ہو گیا۔کسان نے جب کنویں کے اندر جھانکا تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ…

Read more

فرعون کے وزیر “ہامان” کا نام تورات اور انجیل میں کیوں ذکر نہیں کیا گیا…؟جبکہ قرآن نے اسے پوری باریکی اور درستگی کے ساتھ ذکر کیا ہے… اور اس کے پیچھے ایک ایسا معجزہ ہے جو عقل کو دنگ کر دیتا ہے! قرآن کریم میں فرعون کی زبان سے یہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: “يَا هَامَانُ ابْنِ لِي صَرْحًا لَعَلِّي أَبْلُغُ الْأَسْبَابَ” یہ ایک واضح آیت ہے جو ثابت کرتی ہے کہ: ہامان، فرعون کی حکومت کے بڑے عہدیداروں میں سے تھا۔ وہ فرعون کے اقتدار کے ستونوں میں سے ایک ستون تھا۔ لیکن اصل حیرت انگیز بات (سرپرائز) کہاں ہے؟تورات یا انجیل میں کہیں بھی ہامان کا ذکر فرعون کے مشیر کے طور پر، یا قدیم مصر کے ساتھ اس کے کسی تعلق کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا! (تورات میں ہامان کا ذکر بابل کے بادشاہ کے وزیر کے طور پر آتا ہے، مصر کے فرعون کے ساتھ نہیں)۔…

Read more

پرانے وقتوں کی بات ہے۔ ایک شہر میں ایک رحم دل اور نہایت عقلمند قاضی رہا کرتے تھے۔ ان کے انصاف کے چرچے دور دور تک تھے۔ وہ مجرم کو ایسی سزا دیتے کہ وہ دوبارہ جرم کا نام بھی نہ لیتا۔ ایک دن ایک امیر تاجر بھاگتا ہوا عدالت میں پہنچا۔ اس کا چہرہ زرد تھا اور آواز کانپ رہی تھی۔  “قاضی صاحب، میں لٹ گیا۔ میری دکان سے ہیروں کی پوٹلی چوری ہو گئی۔ مجھے پورا یقین ہے کہ یہ کام میرے چار ملازموں میں سے ہی کسی کا ہے، کیونکہ دکان کی چابی صرف انہی کے پاس رہتی ہے۔” قاضی صاحب نے تحمل سے سنا اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا: “تاجر صاحب، پریشان نہ ہوں۔ چور کل صبح تک خود اپنا جرم مان لے گا۔” اس کے بعد قاضی نے چاروں ملازموں کو فوراً عدالت میں طلب کیا۔ چاروں کے ہاتھ میں ایک ایک لکڑی…

Read more

60/584
NZ's Corner