نادان کی دوستی

نادان کی دوستی

ایک دن ایک اژدہا ایک ریچھ کو گھسیٹتا ہوا لے جا رہا تھا۔ اتفاق سے ایک بہادر اور طاقتور پہلوان وہاں سے گزرا۔ جب اس نے ریچھ کی بے بسی دیکھی تو اس کی مدد کے لیے آگے بڑھا۔ اپنی قوت اور فنِ کشتی کے کمال سے اس نے اژدہے کا مقابلہ کیا، اسے زیر کر لیا اور آخرکار مار ڈالا۔ یوں ریچھ موت کے منہ سے بچ گیا۔
ریچھ اس احسان پر بے حد شکر گزار ہوا۔ وہ پہلوان کے ساتھ ایسے لگ گیا جیسے وفادار ساتھی ہو۔ پہلوان بھی تھکا ہوا تھا، اس لیے ایک درخت کے سائے تلے آرام کرنے کے لیے لیٹ گیا۔ ریچھ محبت اور عقیدت کے جذبے سے اس کے پاس پہرہ دینے لگا۔
اسی دوران ایک راہ گیر وہاں سے گزرا۔ اس نے ریچھ کو پہلوان کے پاس بیٹھے دیکھا تو حیران ہو کر پوچھا:
“بھائی، یہ ریچھ تمہارے ساتھ کیا کر رہا ہے؟”
پہلوان نے سارا واقعہ سنایا۔ راہ گیر نے فوراً کہا:
“دیکھو، نادان دوست دانا دشمن سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ اس ریچھ پر بھروسہ نہ کرو۔”
مگر پہلوان نے اس کی بات کو حسد سمجھا اور بولا:
“تم اس کی وفاداری دیکھنے کے بجائے اس سے جل رہے ہو۔”
راہ گیر نے بہت سمجھایا:
“میں تمہارا خیر خواہ ہوں۔ نادان کی محبت بظاہر میٹھی لگتی ہے مگر انجام میں نقصان دیتی ہے۔ اس کے ساتھ جنگلوں میں نہ جاؤ۔ میرا دل کسی خطرے کی خبر دے رہا ہے۔”
لیکن پہلوان نے ایک نہ سنی۔ آخرکار راہ گیر مایوس ہو کر وہاں سے چلا گیا۔
کچھ دیر بعد پہلوان گہری نیند سو گیا۔ ریچھ پوری لگن سے اس کی نگہبانی کرنے لگا۔ اتنے میں چند مکھیاں آ کر پہلوان کے چہرے پر بیٹھ گئیں۔ ریچھ نے انہیں اڑا دیا۔ مگر مکھیاں بار بار واپس آ جاتیں اور وہ بار بار انہیں بھگاتا۔
کافی دیر تک یہی سلسلہ چلتا رہا۔ آخر ریچھ تنگ آ گیا۔ اس نے سوچا کہ ان ضدی مکھیوں کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دینا چاہیے۔
وہ دوڑتا ہوا قریب کے پہاڑ پر گیا اور ایک بھاری پتھر اٹھا لایا۔ واپس آ کر دیکھا تو مکھیاں پھر پہلوان کے چہرے پر بیٹھی ہوئی تھیں۔
ریچھ نے پوری قوت سے پتھر اٹھایا اور یہ سوچ کر کہ مکھیوں کو کچل دے گا، سیدھا سوئے ہوئے پہلوان کے چہرے پر دے مارا۔
مکھیاں تو اڑ گئیں، مگر پہلوان کا چہرہ چکنا چور ہو گیا اور اس کی جان بھی نہ بچ سکی۔
یوں ایک وفادار مگر نادان دوست نے وہ نقصان پہنچایا جو شاید کوئی دشمن بھی نہ پہنچا سکتا۔
اسی لیے کہا جاتا ہے کہ نادان کی محبت ریچھ کی محبت
جیسی ہوتی ہے؛ بظاہر مخلص، مگر انجام میں تباہ کن۔

Leave a Reply

NZ's Corner