بادشاہ اور کسان

بادشاہ اور کسان

بہت پرانے وقتوں کی بات ہے، ایک ملک پر ایک بہت بڑا اور طاقتور بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کے پاس دولت، فوج، محلات اور دنیا کی ہر نعمت موجود تھی، لیکن اس کے باوجود وہ ہمیشہ پریشان، اداس اور بے چین رہتا تھا۔ اسے رات کو نیند نہیں آتی تھی اور اس کا دل کسی کام میں نہیں لگتا تھا۔
بادشاہ نے ملک بھر کے بڑے بڑے حکیموں، ڈاکٹروں اور جادوگروں کو بلایا کہ وہ اس کی اس بے چینی کا علاج کریں۔ سب نے بہت کوشش کی لیکن کوئی بھی بادشاہ کو دلی سکون اور خوشی نہ دے سکا۔
آخر کار، ایک بوڑھا عقل مند درویش بادشاہ کے دربار میں آیا۔ اس نے بادشاہ کی حالت دیکھی اور کہا، “عالی جاہ! آپ کی اس بیماری کا ایک ہی علاج ہے۔ آپ اپنے پورے ملک میں کسی ایسے انسان کو تلاش کریں جو دل سے سچا اور مکمل طور پر خوش ہو۔ جب وہ مل جائے، تو بس ایک رات کے لیے اس کی قمیض (Shirt) پہن کر سو جائیں، آپ کی تمام پریشانی اور بے چینی دور ہو جائے گی۔”
بادشاہ نے فوراً اپنے وزیروں اور سپاہیوں کو حکم دیا کہ وہ پورے ملک میں سب سے خوش انسان کو ڈھونڈ کر لائیں۔ سپاہی امیروں، تاجروں، وزیروں اور سرداروں کے پاس گئے، لیکن ہر کوئی کسی نہ کسی وجہ سے پریشان تھا؛ کوئی دولت بڑھانے کی فکر میں تھا، کوئی بیماری سے تنگ تھا، تو کوئی خاندانی جھگڑوں سے پریشان تھا۔
کئی دنوں کی تلاش کے بعد، سپاہی ایک چھوٹے سے گاؤں کے کھیتوں سے گزر رہے تھے۔ وہاں انہوں نے ایک کسان کو دیکھا جو پھٹے پرانے کپڑے پہنے، مٹی میں لت پت، تیز دھوپ میں گانے گاتے ہوئے ہنسی خوشی ہل چلا رہا تھا۔ سپاہی اس کے پاس گئے اور پوچھا، “کیا تم اپنی زندگی سے خوش ہو؟”
کسان نے مسکرا کر جواب دیا، “میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں، مجھ سے زیادہ خوش اور مطمئن انسان اس دنیا میں کوئی نہیں ہے۔ مجھے کسی چیز کا کوئی غم یا خوف نہیں ہے۔”
سپاہی خوشی سے اچھل پڑے کہ انہیں خوش انسان مل گیا۔ انہوں نے کسان سے کہا، “ہمارے بادشاہ بہت بیمار ہیں اور انہیں تمہاری قمیض چاہیے۔ تم جو قیمت مانگو گے، تمہیں ملے گی۔”
کسان زور سے ہنسا اور بولا، “میرے بھائیو! میں تو آپ کو اپنی قمیض خوشی سے دے دیتا، لیکن سچ یہ ہے کہ میرے پاس تو پہننے کے لیے کوئی دوسری قمیض ہے ہی نہیں، یہ جو پھٹے پرانے کپڑے آپ دیکھ رہے ہیں، یہی میرا کل اثاثہ ہیں۔”
سپاہی حیران رہ گئے اور واپس جا کر یہ سارا ماجرا بادشاہ کو سنایا۔ یہ سن کر بادشاہ کی آنکھیں کھل گئیں اور اسے سمجھ آ گیا کہ خوشی کا تعلق محلوں، دولت، یا قیمتی لباس سے نہیں ہوتا، بلکہ خوشی کا تعلق دل کے اطمینان اور شکر گزاری سے ہوتا ہے۔ اس دن کے بعد سے بادشاہ نے لالچ چھوڑ دی اور جو کچھ اس کے پاس تھا، اس پر شکر کرنا سیکھ لیا۔
——————————
## کہانی کا اخلاقی سبق (Moral of the Story)

قناعت اور شکر گزاری ہی اصل دولت ہے۔ (Contentment is the greatest wealth)
سچی خوشی اور سکون باہر کی دنیا میں نہیں، بلکہ انسان کے اپنے دل کے اندر ہوتا ہے۔



Leave a Reply

NZ's Corner