ابھی فجر کی اذان بھی نہ ہوئی تھی کہ امت اللہ کی آنکھ کھل گئی۔
اس کی شادی کو پانچ سال ہو چکے تھے۔ اس کا شوہر اشتیاق سرگودھا میں ٹرانسپورٹ کا کاروبار کرتا تھا اور اللہ کے فضل سے گھر میں کوئی تنگی نہیں تھی۔ آج اسے میانوالی جانا تھا، کیونکہ اس کے والد بیمار تھے اور پچھلے چار دن سے کھانسی نے انہیں گھیر رکھا تھا۔
اشتیاق نے کہا تھا کہ امی کو فون کر لو، میں پیسے بھجوا دیتا ہوں، تم خود نہ جاؤ آرام کرو۔
لیکن امت اللہ کے لیے یہ ممکن نہ تھا۔ وہ اس کے باپ تھے… وہی بوڑھے ہاتھ جنہوں نے اسے چلنا سکھایا تھا، وہی آنکھیں جن میں اس کی شادی کے دن آنسو تھے۔
وہ سرگودھا سے میانوالی کا سفر تھا، تقریباً سوا تین گھنٹے کا راستہ۔ امت اللہ نے نیلے رنگ کا سوٹ پہنا اور ہاتھ میں چمڑے کا بیگ لیا جس میں اشتیاق نے ڈھائی لاکھ روپے رکھوائے تھے۔ اس نے کہا تھا: ابا کو دے دینا، اپنا علاج کرائیں، اور تمباکو چھوڑ دیں۔
بس چل پڑی… کھیت، نہریں اور گرد آلود راستے گزرتے گئے مگر اس کا ذہن اپنے باپ کے گرد گھوم رہا تھا۔
رفیق احمد…
سارا شہر انہیں رفیق ماسٹر کے نام سے جانتا تھا۔ گورنمنٹ ہائی سکول میں تیس سال تک پڑھاتے رہے، ننگے پاؤں مسجد جاتے، کسی سے اونچی آواز میں بات نہ کرتے۔ بیوی کے انتقال کے بعد دونوں بیٹیوں کو اکیلے پالا تھا۔
امت اللہ انہی خیالوں میں گم تھی کہ اچانک بس نے بریک لگائی۔
“میاں وٹو، بس روک دو۔”
“ابھی شہر دور ہے۔”
“بس تھوڑا پانی لینا ہے۔”
بس میانوالی کے قریب پہنچی تو ابھی کچھ وقت باقی تھا۔ امت اللہ نے سوچا کہ باپ کے لیے پان لے لے، جیسا وہ ہر بار لاتی تھی۔
ڈرائیور نے کہا کہ آگے چھوٹا اسٹینڈ ہے، وہاں رک سکتے ہیں۔ بس رکی تو امت اللہ کی نظر باہر پڑی…
تیز دھوپ، گرد، اور ایک ادھیڑ عمر شخص جو ایک پرانی گاڑی صاف کر رہا تھا۔ اس کی کمر جھکی ہوئی تھی، بال سفید تھے، کپڑوں پر پسینہ اور مٹی کے دھبے تھے۔
امت اللہ کا دل جیسے رک گیا۔
وہ اس کا باپ تھا… رفیق ماسٹر۔
وہ یقین نہ کر سکی، مگر وہی چہرہ، وہی آنکھیں، وہی سادگی۔
اس نے دیکھا کہ اس کے باپ نے جیب سے پانچ سو کا نوٹ نکالا، دیکھا اور دوبارہ جیب میں رکھ لیا۔ امت اللہ سمجھ گئی کہ یہ وہی رقم تھی جو اس نے دو ماہ پہلے بھیجی تھی۔
وہ شخص جس نے ساری زندگی عزت سے پڑھایا، آج دوسروں کی گاڑیاں صاف کر رہا تھا۔
امت اللہ کے ہاتھ کانپنے لگے۔ اس کا بیگ بھاری لگنے لگا… ڈھائی لاکھ روپے۔ مگر وہ نیچے نہ اتر سکی۔
آخر اس نے ڈرائیور سے کہا: “چلیں۔”
بس چل پڑی، مگر اس کی آنکھوں میں آنسو بہتے رہے۔
جب وہ گھر پہنچی تو رفیق ماسٹر دروازے پر مسکرا رہے تھے، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
“آ گئی بیٹا؟ میں کھانا بنوانے کا سوچ رہا تھا۔”
امت اللہ نے خاموشی سے زمین پر بیٹھ کر ان کے پاؤں پکڑ لیے۔
“ابا… میں نے سب دیکھ لیا ہے۔”
رفیق ماسٹر کا چہرہ زرد پڑ گیا۔
امت اللہ نے بیگ کھولا اور ڈھائی لاکھ روپے ان کے ہاتھ میں رکھ دیے۔
“ابا، آپ بوجھ نہیں ہیں… آپ وہ درخت ہیں جس کے سائے میں ہم نے زندگی پائی ہے۔”
رفیق ماسٹر کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
“میں نہیں چاہتا تھا کہ تمہیں پتہ چلے… میں تم پر بوجھ نہیں بننا چاہتا تھا۔”
شام کو جب اشتیاق کو سب بتایا گیا تو اس نے صرف اتنا کہا:
“ابا کو فون دو۔”
اور پھر کہا:
“اب سے وہ کہیں نہیں جائیں گے… ان کی عزت ہماری عزت ہے۔”
رفیق ماسٹر نے آہستہ سے کہا:
“اللہ تم دونوں کو خوش رکھے۔”
رات کو امت اللہ نے دیکھا کہ اس کے باپ نے وہ پرانی قمیض دھو کر رکھ دی تھی جس پر محنت اور دھوپ کی مٹی لگی ہوئی تھی۔
وہ قمیض صرف کپڑا نہیں تھی… وہ ایک باپ کی قربانیوں کی کہانی تھی۔
