Tag Archives: #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday

پرانے زمانے کے چور بھی علم و دلیل میں کم نہ تھے! (ایک حیرت انگیز واقعہ) امام ابن جوزی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب “کتاب الأذکیاء” میں ایک نہایت دلچسپ واقعہ نقل کیا ہے کہ انطاکیہ کے ایک قاضی کا واقعہ کچھ یوں ہے: ایک دن وہ قاضی شہر سے اپنے کھیتوں کی طرف جا رہے تھے کہ راستے میں ایک چور نے انہیں روک لیا۔ چور نے دھمکی دی: “جو کچھ بھی آپ کے پاس ہے میرے حوالے کر دیں، ورنہ نقصان اٹھانا پڑے گا!” قاضی نے نرمی سے کہا: “اللہ تیرا بھلا کرے! میں ایک عالم آدمی ہوں، دین میں علماء کی عزت کا حکم ہے، اور میں شہر کا قاضی بھی ہوں، مجھ پر رحم کرو۔” چور نے حیرت سے جواب دیا: “الحمدللہ! آج تو اللہ نے میرے ہاتھ ایک ایسا شخص دے دیا ہے جس سے لوٹ کر میں اپنا نقصان بھی پورا کر سکتا ہوں!”…

Read more

ایک لڑکا شہر سے پڑھ لکھ کر گاؤں واپس آیا گاؤں والوں کو بڑا شوق تھا کہ دیکھیں تعلیم سے آخر کیا فرق پڑتا ہے۔ چنانچہ چوہدری صاحب نے اسے بلایا اور پوچھا:“او پتر! یہ پڑھائی لکھائی آخر کام کیا آتی ہے؟” لڑکا مسکرا کر بولا:“چوہدری صاحب، پڑھائی سے انسان کی سوچ اور منطق مضبوط ہو جاتی ہے۔” چوہدری نے حیرانی سے پوچھا:“یہ منطق کیا ہوتی ہے بھلا؟” لڑکے نے کہا:“اچھا، میں مثال دے کر سمجھاتا ہوں…”پھر اس نے پوچھا: “چوہدری صاحب، آپ کے گھر پہ کتا ہے؟” چوہدری: “ہاں جی، ہے۔” لڑکا: “تو اس کا مطلب آپ کا گھر بڑا ہوگا، تبھی حفاظت کے لیے کتا رکھا ہے۔” چوہدری: “ہاں، گھر تو کافی بڑا ہے۔”لڑکا: “بڑے گھر کا مطلب نوکر چاکر بھی ہوں گے۔” چوہدری: “ہاں جی، وہ بھی ہیں۔”لڑکا: “اور نوکر چاکر ہیں تو آمدنی بھی اچھی ہوگی۔”چوہدری خوش ہو کر بولا: “بالکل ٹھیک!” لڑکا مسکراتے ہوئے بولا:…

Read more

ایک شہر کے ایک چھوٹے سے کونے میں سراج نامی ایک بوڑھا موچی رہتا تھا۔ وہ دن بھر لوگوں کے جوتے گانٹھتا اور جو چند پیسے ملتے، اس سے اپنے اور اپنی بیمار بیوی کے لیے روکھی سوکھی روٹی کا انتظام کرتا۔ سراج غریب ضرور تھا، لیکن اس کے چہرے پر ہمیشہ ایک عجیب سا اطمینان اور مسکراہٹ رہتی تھی۔ایک سرد شام، جب وہ اپنی دکان بڑھانے کی تیاری کر رہا تھا، ایک امیر تاجر وہاں سے گزرا۔ تاجر بہت پریشان حال لگ رہا تھا، اس کے چہرے پر تھکن اور ذہنی تناؤ واضح تھا۔ تاجر کی نظر سراج پر پڑی جو خوش دلی سے کوئی دھن گنگناتے ہوئے اپنے اوزار سمیٹ رہا تھا۔تاجر سراج کے پاس آیا اور کہنے لگا: “بابا! میں اس شہر کا سب سے امیر آدمی ہوں، میرے پاس گاڑی، بنگلہ اور بے حساب دولت ہے، لیکن میرے دل میں رتی برابر بھی سکون نہیں ہے۔…

Read more

سترھویں صدی میں مغلیہ سلطنت دنیا کی سب سے طاقتور سلطنتوں میں شمار ہوتی تھی۔ دہلی کے شاہی محل سونے، ہیرے جواہرات اور بے شمار خزانوں سے بھرے ہوئے تھے۔ ہزاروں سپاہی شاہی دروازوں پر پہرہ دیتے تھے اور پورے ہندوستان پر مغل بادشاہ کا حکم چلتا تھا۔ اس وقت تخت پر شاہ جہاں بیٹھا تھا، وہی بادشاہ جس نے اپنی محبوب بیوی ممتاز محل کی یاد میں تاج محل تعمیر کروایا تھا۔ باہر سے یہ سلطنت جتنی شاندار نظر آتی تھی، اندر سے اتنی ہی خطرناک سازشوں میں ڈوبی ہوئی تھی، کیونکہ شاہ جہاں کے چاروں بیٹے جوان ہو چکے تھے اور ہر ایک کے دل میں سلطنت کا تاج چمکنے لگا تھا۔ شاہ جہاں کا سب سے بڑا بیٹا دارا شکوہ تھا۔ وہ نرم مزاج، علم دوست اور صوفی خیالات رکھنے والا شہزادہ تھا۔ اسے کتابوں، فلسفے اور روحانیت سے دلچسپی تھی۔ وہ ہندو اور مسلمان فلسفے کو…

Read more

ایک دن ملک شام کا بادشاہ سیف الدولہ اپنے دربار میں رونق افروز تھا۔ بڑے بڑے عالم و فاضل اس کے سامنے بیٹھے تھے۔ اتنے میں ایک سیدھا سادا شخص تر کی لباس پہنے دربار میں داخل ہوا۔ بادشاہ نے اسے بیٹھنے کے لیے کہا۔ اس شخص نے بے باکی سے کہا: کہاں؟ کس جگہ؟ کیا میں اپنی حیثیت کے مطابق بیٹھوں ؟“ اس سوال پر بادشاہ کو بڑی حیرت ہوئی ۔ پھر کہا: ” ہاں اپنی حیثیت کے مطابق ۔“ یہ سن کر وہ شخص صفوں کو چیرتا ہوا بادشاہ کے تخت پر گیا اور اسے ہٹا کر خود بیٹھنا چاہا۔ بادشاہ کو اس شخص کی اس حرکت پر شدید غصہ آیا اور خادموں سے اپنی زبان میں کہا کہ یہ شخص بہت بے ادب ہے۔ مگر میں اس سے چند سوال کروں گا ، اگر یہ جواب نہ دے سکا تو اسے نہایت سخت سزا دوں گا۔ وہ…

Read more

جج : قتل کس نے کیا؟ملزم : میں نے قتل کیا جج : لاش کہاں ہے؟ ملزم : لاش میں نے جلادی جج : وہ جگہ دکھاؤ جہاں لاش جلائی تھی ملزم : میں نے وہ ساری زمین کھود دی جج : تو کھودی ہوئی مٹی کدھر ہے؟ ملزم : اس کی میں نے اینٹیں بنا دیں جج : تو وہ اینٹیں دکھاؤ ملزم : میں نے ان سے مکان بنا لیا جج : وہ مکان کدھر ہے؟ ملزم : زلزلے میں گر گیا جج : تو ملبہ کدھر ہے؟ ملزم : وہ میں نے بیچ دیا جج : کس کو بیچا؟ ملزم : پڑوسی کو جج : پڑوسی کو بلاؤ ملزم : وہ مارا گیا . جج : کس نے مارا؟ ملزم : میں نے مارا جج : تو لاش کدھر ہے؟ ملزم : لاش میں نے جلا دی جج : کھوتے دیا پترا … فیر شروع توں شروع…

Read more

ایک امیر کے پاس ایسا خوبصورت گھوڑا تھا کہ خوارزم شاہ کے گلّے میں بھی اس کا ثانی نہ تھا۔ ایک روز وہ امیر سوار ہو کر جارہا تھا۔ اتفاقاً خوارزم شاہ کی نظر اس پر پڑ گئی۔ اس کی دوڑ اور رنگ بادشاہ کی آنکھوں میں بھا گیا اور واپسی تک اسی گھوڑے پر ٹکٹکی لگی رہی۔ گھوڑے کے جس جوڑ بند پر نظر پڑتی تھی ایک سے ایک بہتر نظر آتاتھا۔ چستی، بشّاشی اور اٹھلا کر قدم مارنے کے علاوہ خدا نے اور نادرصفتیں بھی اس میں رکھی تھیں۔ بادشاہ نے غور کیا کہ کیا بات ہے جو اسی گھوڑے کی خوبی اور کشش میری عقل کو متحیر کررہی ہے۔ میں گھوڑوں سے سیرچشم اور بے پرواہوں اور میرے پاس ایسے ایسے دو سو گھوڑے موجود ہیں۔ ارے میں تو وہ ہوں کہ بادشاہوں کا چہرہ بھی مجھے پیادے کا چہرہ معلوم ہوتا ہے۔ یہ معمولی جانور کیوں…

Read more

ایک دانا شخص کو بادشاہ نے سزائے موت دے دیسر قلم کرنے سے پہلے بادشاہ نے شانِ بےنیازی سے پوچھا “مرنے سے پہلے کوئی آخری خواہش ھو تو بتاو”دانا شخص بولا “حضور والا میں ایک ایسا ھنر/فن جانتا تھا جس کا استعمال ساری زندگی نا کر سکا اب چاھتا ھوں کہ مرنے سے پہلے میں اپنے ھنر کو ایک مرتبہ استعمال کرلوں”بادشاہ نے اجازت دے دیجب ھنر کی تفصیلات پوچھی گئیں تو وہ بولا “حضور والا میں 3 سال کے اندر آپ کے گھوڑے کو اڑنا سکھا سکتا ہوں۔”بادشاہ چونکہ وعدہ کرچکا تھا اس لیے لامحالہ 3 سال کی مہلت دینی پڑگئی۔ کسی شخص نے دانا شخص سے پوچھا کہ 3 سال کی مہلت تو لے لی مگر گھوڑا کیسے اڑاؤ گے ؟؟اس نے جواب دیا۔دیکھ بھائی گھوڑا تو مجھے اڑانا نہیں آتامگر ھوسکتا ھے 3سال میں بادشاہ مرجائے یا ممکن ھے کہ میں خود ہی 3سال میں طبعی موت…

Read more

“ایک دیہاتی کا گدھا بیمار ہو گیا اور وہ کھانا پینا چھوڑ کر سست بیٹھ گیا۔ دیہاتی پریشان ہو کر اسے گاؤں کے ایک دیسی حکیم صاحب کے پاس لے گیا۔حکیم صاحب نے گدھے کا معائنہ کیا، پھر ایک لمبی سی نالی (پائپ) نکالی۔ انہوں نے نالی کا ایک سرہ گدھے کے منہ میں ڈالا، دوسری طرف ایک بڑی سی گولی رکھی اور دیہاتی سے کہا: ‘جیسے ہی میں اشارہ کروں، تم نالی کے اس سرے پر زور سے پھونک مارنا، تاکہ گولی گدھے کے گلے سے نیچے اتر جائے۔’دیہاتی نے کہا: ‘جی بہتر حکیم صاحب!’حکیم صاحب نے پائپ منہ میں لیا اور ابھی پوزیشن سنبھال کر اشارہ کرنے ہی والے تھے کہ… گدھے کو اچانک زور دار کھانسی آ گئی!گدھے کی کھانسی کے دباؤ سے پائپ کے اندر موجود وہ بڑی سی کڑوی گولی سیدھی حکیم صاحب کے حلق میں چلی گئی اور انہوں نے فوراً اسے نگل لیا!…

Read more

ایک لڑکا شہر سے پڑھ لکھ کر گاؤں واپس آیا گاؤں والوں کو بڑا شوق تھا کہ دیکھیں تعلیم سے آخر کیا فرق پڑتا ہے۔ چنانچہ چوہدری صاحب نے اسے بلایا اور پوچھا:“او پتر! یہ پڑھائی لکھائی آخر کام کیا آتی ہے؟” لڑکا مسکرا کر بولا:“چوہدری صاحب، پڑھائی سے انسان کی سوچ اور منطق مضبوط ہو جاتی ہے۔” چوہدری نے حیرانی سے پوچھا:“یہ منطق کیا ہوتی ہے بھلا؟” لڑکے نے کہا:“اچھا، میں مثال دے کر سمجھاتا ہوں…”پھر اس نے پوچھا: “چوہدری صاحب، آپ کے گھر پہ کتا ہے؟” چوہدری: “ہاں جی، ہے۔” لڑکا: “تو اس کا مطلب آپ کا گھر بڑا ہوگا، تبھی حفاظت کے لیے کتا رکھا ہے۔” چوہدری: “ہاں، گھر تو کافی بڑا ہے۔”لڑکا: “بڑے گھر کا مطلب نوکر چاکر بھی ہوں گے۔” چوہدری: “ہاں جی، وہ بھی ہیں۔”لڑکا: “اور نوکر چاکر ہیں تو آمدنی بھی اچھی ہوگی۔”چوہدری خوش ہو کر بولا: “بالکل ٹھیک!” لڑکا مسکراتے ہوئے بولا:…

Read more

ایک بادشاہ کے پاس ایک پالتو ہاتھی تھا، جو بہت ضدی تھا۔ وہ روزانہ بازار جاتا، دکانیں تباہ کرتا اور لوگوں کو تنگ کرتا۔ عوام ہاتھی کی اس غنڈہ گردی اور بادشاہ کی “سیاسی طاقت” سے سخت پریشان تھے، لیکن کسی میں شکایت کرنے کی ہمت نہ تھی۔سسپنس اور سیاست:ایک دن، بازار کے تاجروں نے مل کر ایک سیاسی حکمتِ عملی بنائی۔ انہوں نے طے کیا کہ سب مل کر دربار جائیں گے اور بادشاہ سے ہاتھی کی شکایت کریں گے۔ تاجروں نے ملا نصر الدین کو اپنا لیڈر بنایا۔ ملا نے کہا: “جب میں دربار میں کہوں گا کہ ‘عالی جاہ! آپ کا ہاتھی…’ تو تم سب پیچھے سے بولنا ‘روزانہ ہماری دکانیں اجاڑتا ہے، اسے قید کریں!’” سب مان گئے۔ دربار لگا۔ بادشاہ تخت پر جاہ و جلال سے بیٹھا تھا۔ ملا نصر الدین آگے بڑھے۔ جیسے ہی ملا نے بولنا شروع کیا: “عالی جاہ! آپ کا وہ…

Read more

چوہدری صاحب کی چوپال میں لوگ جمع تھے کہ یہ بحث چھڑی کہ مردوں کو عورتوں کے مکر سے ڈرنا چاہیے۔ شریف عورت کی اتنی ہی مہربانی ہے کہ وہ اپنے گھر کی عزت اور والدین کے وقار کی لاج رکھتی ہے، وگرنہ وہ بڑے بڑے عقلمندوں کو شکست دے سکتی ہے۔ چوہدری یہ بات سن کر کسمسایا، کیونکہ اس نے اپنی بیوی پر خوب رعب جمایا ہوا تھا۔ گھر آ کر اس نے اپنی بیوی سے پوچھا:“اگر عورت اپنے مکر پر آ جائے تو کیا وہ مجھ جیسے شخص کو بھی شکست دے سکتی ہے؟ کیا ایسا ہو سکتا ہے؟ کیا یہ سچ ہے؟” اس کی بیوی نے جواب دیا:“ہاں، یہ سچ ہے۔” چوہدری نے کہا:“تو پھر مکر کر، اور بڑا مکر کر!” اس کی بیوی مسکرا کر بولی:“نہیں، پہلے چھوٹے مکر سے آغاز کرتے ہیں۔ اگر آپ نے چھوٹا مکر برداشت کر لیا، تو پھر بڑا مکر بھی…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ اپنے مہمانوں کے لیے ایک بڑی ضیافت دینا چاہتا تھا۔ اس نے ان کے لیے ہر قسم کے کھانے تیار کروائے لیکن باورچیوں کے پاس پکانے کے لیے مچھلی نہیں تھی۔ اس لیے بادشاہ نے اعلان کیا کہ جو کوئی ضیافت سے پہلے مچھلی لے کر آئے گا اسے انعام دیا جائے گا۔ اعلان سننے کے بعد ایک ماہی گیر مچھلی لے کر محل پہنچا۔ محل کے دروازے پر ایک دربان کھڑا تھا۔ اس نے ماہی گیر کو اندر جانے سے روک دیا اور کہا کہ جب تک ماہی گیر انعام میں سے آدھا حصہ دینے کا وعدہ نہ کرے وہ اسے اندر نہیں جانے دے گا۔ ماہی گیر مان گیا۔ جب بادشاہ نے مچھلی دیکھی تو بہت خوش ہوا کیونکہ اب اس کی ضیافت مکمل ہو سکتی تھی۔ وہ ماہی گیر کو بہت سارا انعام دینا چاہتا تھا، لیکن ماہی گیر…

Read more

ایک دن شیخ چلی نے سوچا کہ اب وہ بہت عقل مند ہو گئے ہیں اور کوئی بھی انہیں بیوقوف نہیں بنا سکتا۔ اسی دوران گاؤں کے ایک آدمی نے مذاق میں کہا: “شیخ چلی! اگر تم سارا دن خاموش رہو تو میں تمہیں دس روپے دوں گا۔” دس روپے سن کر شیخ چلی فوراً مان گئے۔ انہوں نے دل میں کہا: “واہ! بغیر کچھ کیے دس روپے مل جائیں گے!” صبح سے شام تک وہ خاموش رہے۔ لوگ انہیں چھیڑتے، سوال پوچھتے، ہنساتے، مگر وہ ایک لفظ نہ بولتے۔ دوپہر کو ان کی والدہ نے پوچھا: “بیٹا، کھانا کھاؤ گے؟” شیخ چلی خاموش۔ دوستوں نے کہا: “شیخ چلی! تمہارے گھر کے پیچھے بندر ناچ رہا ہے!” مگر وہ پھر بھی خاموش رہے۔ شام کے وقت وہ آدمی آیا اور بولا: “شاباش شیخ چلی! تم واقعی خاموش رہے۔ یہ لو تمہارے دس روپے۔” شیخ چلی خوشی سے اچھل پڑے اور…

Read more

ایک دن شیخ چلی نے سوچا کہ وہ اب بہت بڑا عالم بن چکا ہے۔ اس نے ایک بڑی سی پگڑی باندھی، ہاتھ میں موٹی کتاب لی اور گاؤں کے چوک میں جا بیٹھا۔ لوگ حیران ہو کر پوچھنے لگے: “شیخ چلی! آج یہ کیا نیا کام شروع کر دیا؟” شیخ چلی نے گلا صاف کرتے ہوئے کہا: “آج سے میں گاؤں والوں کو عقل کی باتیں سکھاؤں گا!” سب لوگ جمع ہوگئے۔ ایک آدمی نے پوچھا: “اچھا شیخ صاحب، یہ بتاؤ اگر بارش ہو رہی ہو اور چھت ٹپک رہی ہو تو کیا کرنا چاہیے؟” شیخ چلی فوراً بولا: “بہت آسان ہے! بارش بند ہونے کا انتظار کرو!” لوگ ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ پھر ایک بچے نے پوچھا: “اگر کوئی کنویں میں گر جائے تو؟” شیخ چلی نے بڑی سنجیدگی سے کہا: “پہلے اس سے پوچھو کہ وہ تیرنا جانتا ہے یا نہیں!” سب لوگ ہنسنے لگے۔…

Read more

ابن کثیر میں ہے. ایک شخص بڑا نیک اور بھی تھا۔ اس کا باغ تھا وہ اللہ تعالیٰ کے حق کو ہمیشہ ادا کرتا تھا۔ اس باغ کی پیداوار میں سے اپنے بال بچوں اور باغ کے خرچ کو نکال کر باقی پیداوار کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کر ڈالتا تھا۔ اس لئے اللہ تعالی نے اس کے مال میں بڑی برکت دے رکھی تھی۔ اس کے انتقال کے بعد جب اس باغ کی وارث اس کی اولاد ہوئی تو باپ کے اس خرچ کا حساب کیا تو بہت ٹھہرا ان لوگوں نے آپس میں مشورہ کر کے یہ طے کیا کہ حقیقت میں ہمارا باپ بڑا ہی بے وقوف اور نادان تھا جو اتنی بڑی رقم مفت خوروں ، غریبوں اور مسکینوں میں بلا وجہ دے دیا کرتا تھا لہذا ہم ان غریبوں کے حق کو روکیں اور ان کو کچھ نہ دیں تو ہمارے پاس بہت…

Read more

ایک دن ملا نصر الدین کے پڑوسی کو کسی کام سے دوسرے گاؤں جانا تھا۔ وہ ملا کے گھر آیا اور بولا: “ملا جی! مجھے اپنی بیوی کو لانے دوسرے گاؤں جانا ہے، کیا آپ مجھے ایک دن کے لیے اپنا گدھا ادھار دے سکتے ہیں؟” ملا نصر الدین اپنے گدھے سے بہت پیار کرتے تھے اور اسے کسی کو نہیں دینا چاہتے تھے۔ انہوں نے فوراً ایک بہانہ بنایا اور جھوٹ بولتے ہوئے کہا: “بھائی! میں تو تمہیں گدھا دے دیتا، لیکن میرا گدھا تو یہاں ہے ہی نہیں۔ میرا بیٹا اسے صبح ہی لکڑیاں لانے کے لیے جنگل لے گیا ہے۔” پڑوسی مایوس ہو کر جانے ہی لگا تھا کہ اچانک گھر کے پیچھے بنے اصطبل سے گدھے کے زور زور سے ہینچنے (ڈھینچو ڈھینچو کرنے) کی آواز آئی۔ پڑوسی رک گیا اور غصے سے ملا کی طرف دیکھ کر بولا: “ملا جی! آپ مجھ سے جھوٹ بول…

Read more

حضرت موسیٰ علیہ السلام بچپن ہی سے فرعون کے محل میں پرورش پاتے رہے، لیکن جب آپ جوان ہوئے تو فرعون اور اس کی قوم قبطیوں کے ظلم و ستم کو دیکھ کر بے چین ہو گئے اور ان کے خلاف آواز بلند کرنے لگے۔ اس وجہ سے فرعون اور اس کی قوم، جو قبطی کہلاتی تھی، آپ کے دشمن بن گئے اور آپ نے فرعون کا محل بلکہ پورا شہر چھوڑ کر اطراف میں چھپ کر زندگی گزارنا شروع کر دی۔ ایک دن جب شہر کے لوگ دوپہر کے وقت آرام (قیلولہ) کر رہے تھے تو آپ خاموشی سے شہر میں داخل ہوئے۔ اس شہر کا نام “منف” تھا جو مصر کی حدود میں واقع تھا، اور “منف” دراصل “مافہ” تھا جو عربی میں بدل کر “منف” بن گیا۔ بعض مفسرین کے مطابق یہ فسطاط تھا اور بعض نے اسے حامین بتایا ہے جو مصر سے تقریباً دو کوس…

Read more

ایک رات ملا نصر الدین اپنے کمرے میں گہری نیند سو رہے تھے کہ اچانک باہر گلی میں دو آدمیوں کے لڑنے کی زور زور سے آوازیں آنے لگیں۔ سردی کا موسم تھا، اس لیے ملا نے اپنے اوپر ایک گرم کمبل اوڑھا ہوا تھا۔جب لڑائی کی آوازیں بند نہ ہوئیں، تو ملا نصر الدین سے رہا نہ گیا۔ انہوں نے اپنا وہی کمبل اپنے گرد لپیٹا اور یہ دیکھنے کے لیے باہر گلی میں نکل آئے کہ آخر ماجرا کیا ہے۔ملا جیسے ہی گلی میں پہنچے، وہاں لڑنے والے دونوں آدمیوں کی نظر ملا کے قیمتی اور گرم کمبل پر پڑی۔ اس سے پہلے کہ ملا ان سے لڑائی کی وجہ پوچھتے، ان میں سے ایک آدمی نے بجلی کی تیزی سے ملا کا کمبل کھینچا اور دونوں چور اندھیرے میں بھاگ گئے۔ اصل میں وہ کوئی سچے لڑاکا نہیں بلکہ چور تھے جنہوں نے ملا کو باہر نکالنے…

Read more

ایک دن بہلول نے حضرت جنید بغدادیؒ سے پوچھا:“شیخ صاحب! کیا آپ کھانے کے آداب جانتے ہیں؟” حضرت جنید بغدادیؒ نے فرمایا:“بسم اللہ پڑھنا، اپنے سامنے سے کھانا، چھوٹا لقمہ لینا، دائیں ہاتھ سے کھانا، اچھی طرح چبا کر کھانا، دوسرے کے لقمے پر نظر نہ رکھنا، اللہ کو یاد کرنا، آخر میں الحمدللہ کہنا اور کھانے سے پہلے اور بعد ہاتھ دھونا۔” بہلول یہ سن کر اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا:“لوگوں کے مرشد ہو، مگر کھانے کے آداب نہیں جانتے!” یہ کہہ کر وہ آگے چل دیے۔حضرت جنیدؒ بھی ان کے پیچھے چل پڑے۔ مریدوں نے عرض کیا:“حضور! وہ تو دیوانہ ہے۔”لیکن شیخ پھر بھی ان کے پاس پہنچ گئے۔ سلام کیا۔بہلول نے جواب دیا اور پوچھا:“کون ہو؟” فرمایا:“جنید بغدادی… جو کھانے کے آداب نہیں جانتا۔” بہلول نے پوچھا:“اچھا، بولنے کے آداب جانتے ہو؟” حضرت جنیدؒ نے فرمایا:“مخاطب کے مطابق بات کرنا، بے موقع اور فضول گفتگو سے بچنا،…

Read more

80/584
NZ's Corner