Tag Archives: #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ دو چھوٹے مینڈک جنگل سے نکل کر کسی گاؤں کی طرف جا رہے تھے۔ بھوک اور تھکن سے نڈھال تھے، مگر زندگی کی تلاش میں آگے بڑھ رہے تھے۔رات کے اندھیرے میں وہ ایک گھر کے کچن میں جا گھسے۔ وہاں ایک بڑا سا برتن رکھا تھا جو تازہ دودھ سے بھرا ہوا تھا۔ دودھ کی خوشبو نے دونوں کو بے اختیار کر دیا۔اچانک دونوں کا پاؤں پھسلا اور “چھپاک” سے وہ سیدھے دودھ کے برتن میں جا گرے۔شروع میں تو ہنستے رہے، سمجھا کہ آسانی سے نکل آئیں گے۔ لیکن جیسے ہی باہر نکلنے کی کوشش کی، حقیقت سامنے آ گئی… برتن بہت گہرا تھا اور دیواریں اتنی پھسلن والی کہ اوپر جانا ناممکن لگ رہا تھا۔ایک مینڈک گھبرا گیا۔ وہ ہانپتے ہوئے بولا: “بس بھائی… اب نہیں بچ سکتے۔ جدوجہد کا کوئی فائدہ نہیں۔ ہم ختم ہو گئے ہیں۔”اور اس نے کوشش…

Read more

ایک شہر میں ایک نہایت امیر شخص رہتا تھا۔ اس کے پاس دولت کی کوئی کمی نہ تھی۔ عالی شان محل، قیمتی گاڑیاں، نوکر چاکر، فیکٹریاں… دنیا کی ہر آسائش اس کے قدموں میں تھی۔ مگر اتنی دولت کے باوجود وہ ایک ایسی تکلیف میں مبتلا تھا جس نے اس کی زندگی جہنم بنا دی تھی۔ اس کی آنکھوں میں ہر وقت شدید درد رہتا تھا۔دن رات جلنے اور چبھنے کا احساس اسے سکون سے جینے نہیں دیتا تھا۔ اس نے ملک کے بڑے بڑے ڈاکٹرز کو دکھایا، مہنگی دوائیں کھائیں، سینکڑوں انجکشن لگوائے، مگر درد تھا کہ کم ہونے کے بجائے بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ آخرکار سب ڈاکٹر ہار مان گئے۔تب کسی نے مشورہ دیا کہ ایک بزرگ حکیم ہیں جو ناممکن بیماریوں کا علاج بھی کر دیتے ہیں۔ بزرگ کو بلایا گیا۔انہوں نے خاموشی سے اس امیر آدمی کو دیکھا، اس کی باتیں سنیں، پھر مسکرا کر…

Read more

پرانے وقتوں کی بات ہے ایک گاؤں میں ایک آسودہ حال شخص رہا کرتا تھا۔ اس کا جانوروں کا باڑہ تھا وہ جانوروں کا دودھ بیچتا، گھی، مکھن بیچتا۔ مال و دولت کی فراوانی تھی۔ پھر ایک دن اس کے جانوروں میں ایک ایسی بیماری آئی کہ ایک ایک کر کے سب جانور مر گئے۔ وہ بہت پریشان ہوا، وہ خوشحال تھا گھر میں کافی مال جمع تھا۔ روزمرہ کے اخراجات کے لیے وہ مال استعمال ہونے لگا رفتہ رفتہ گھر کی تمام قیمتی اشیاء بک گئی اور بات فاقوں تک آگئی۔ وہ بہت پریشان تھا ایک دن اس کی بیوی نے اسے کہا کہ دوسرے گاوں کا سردار تمہارا دوست ہے، تم اس کے پاس جاؤ اور اسے اپنی پریشانی بتاؤ اور مدد کا کہو۔ یہ بات اس کے دل کو لگی اگلے ہی دن وہ صاف ستھرا لباس پہن کے دوسرے گاوں اپنے دوست سے ملنے چلا گیا۔اس…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے، ایک چالاک لومڑی جنگل میں خوراک کی تلاش میں اِدھر اُدھر پھر رہی تھی کہ اچانک اس کا پاؤں پھسلا اور وہ ایک گہرے کنویں میں جا گری۔ کنواں پانی سے بھرا ہوا تھا۔ لومڑی نے بڑی کوشش کی، دیواروں پر پنجے مارے، چھلانگیں لگائیں، مگر کنویں کی پھسلن بھری دیواریں اُس کی ہر تدبیر کا مذاق اُڑاتی رہیں۔وہ مایوس ہو کر ایک کونے میں بیٹھی ہی تھی کہ کچھ دیر بعد ایک بکری وہاں آنکلی۔ گرمی کی شدت سے اُس کا گلا سوکھ رہا تھا۔ اُس نے کنویں میں جھانکا تو لومڑی کو پانی میں کھڑا دیکھا۔بکری نے حیرت سے پوچھا: “ارے بہن لومڑی! یہ پانی کیسا ہے؟”لومڑی کی آنکھوں میں مکاری کی چمک دوڑ گئی۔ اُس نے نہایت میٹھے لہجے میں جواب دیا: “اے بکری! میں نے اپنی زندگی میں ایسا شیریں اور ٹھنڈا پانی کبھی نہیں پیا۔ یہ تو گویا جنت کی…

Read more

ایک گاؤں میں ایک کسان کے سنہری گندم کے کھیت میں ایک ننھی چڑیا نے اپنا گھونسلا بنا رکھا تھا، جہاں وہ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ سکون سے رہتی تھی۔ وقت گزرتا گیا اور گندم کی فصل پک کر تیار ہو گئی۔ کھیت سنہری چادر کی طرح لہلہا رہا تھا، اور کٹائی کا وقت قریب آ پہنچا تھا۔ ایک دن کسان اپنے بیٹے کے ساتھ کھیت میں آیا، فصل کو غور سے دیکھا اور بولا: “بیٹا! ہماری گندم پک چکی ہے، آج شام پڑوسیوں کے گھر جانا اور کہنا کہ کل صبح ہماری فصل کاٹنے میں مدد کریں۔” یہ سن کر چڑیا کے ننھے بچے خوفزدہ ہو گئے۔ شام کو جب ان کی ماں واپس آئی تو وہ گھبراتے ہوئے بولے: “ماں! کسان کل لوگوں کو فصل کاٹنے کے لیے بلا رہا ہے، ہمارا گھونسلا تباہ ہو جائے گا، ہمیں فوراً یہاں سے چلے جانا چاہیے!” چڑیا مسکرائی…

Read more

ایک سرسبز گاؤں میں ایک بزرگ کسان اپنے تین بیٹوں کے ساتھ رہتا تھا۔ وہ کسان ساری زندگی محنت کرتا رہا تھا اور چاہتا تھا کہ اس کے بیٹے بھی محبت اور اتفاق سے زندگی گزاریں۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ تینوں بھائی ہر وقت آپس میں لڑتے رہتے تھے۔ کبھی کھیت کے کام پر جھگڑا، کبھی پیسوں پر بحث، اور کبھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراضی۔ پورا گاؤں ان کے جھگڑوں سے پریشان تھا۔ بوڑھا باپ اکثر انہیں سمجھاتا: “بیٹو! بھائی ایک دوسرے کا سہارا ہوتے ہیں، دشمن نہیں۔” لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگتی۔ وقت گزرتا گیا، اور ایک دن بوڑھا کسان شدید بیمار پڑ گیا۔ اسے محسوس ہوا کہ شاید اب اس کی زندگی زیادہ باقی نہیں۔ اس نے فوراً اپنے تینوں بیٹوں کو اپنے پاس بلایا۔ جب تینوں کمرے میں آئے تو باپ نے کمزور آواز میں کہا: “میں تمہیں زندگی کا سب…

Read more

دریا کے کنارے ایک سرسبز و شاداب جامن کا درخت کھڑا تھا۔ اُس کی گھنی شاخوں پر ایک چنچل اور ذہین بندر رہتا تھا۔ سارا دن وہ میٹھے رس بھرے جامن کھاتا، ہوا کے دوش پر جھولتا اور خوشی کے نغمے گنگناتا رہتا۔ایک روز دریا سے ایک مگرمچھ نکلا۔ بندر نے ازراہِ محبت اُس کی خاطر جامن توڑے۔ مگرمچھ نے جب وہ شیریں پھل چکھے تو دل باغ باغ ہوگیا۔ رفتہ رفتہ دونوں میں دوستی ہوگئی۔ روزانہ مگرمچھ کنارے آتا، بندر سے باتیں کرتا اور جامن لے کر واپس چلا جاتا۔مگرمچھ کی بیوی نہایت لالچی اور مکار تھی۔ جب اُس نے سنا کہ بندر روز میٹھے جامن کھاتا ہے تو اُس کے دل میں طمع جاگ اُٹھی۔ اُس نے شوہر سے کہا:“جو بندر اتنے میٹھے پھل کھاتا ہے، اُس کا دل کتنا لذیذ ہوگا! اگر تم اُس کا دل لا دو تو میری بیماری بھی دور ہو جائے گی۔”بیوی کے…

Read more

نیو یارک کا ایک مشہور و معروف وکیل شکار کی غرض سے ٹیکساس کے دیہی علاقے میں گیا۔ شکار کے دوران اس نے ایک مرغابی کو نشانہ بنایا، جو گولی لگنے کے بعد بدقسمتی سے باڑ کے اُس پار، ایک کسان کے کھیت میں جا گری۔ وکیل باڑ پھلانگ کر مرغابی لینے ہی والا تھا کہ اچانک ایک بوڑھا کسان ٹریکٹر پر نمودار ہوا۔ اُس نے پوچھا:“یہاں کیا کر رہے ہو؟” وکیل نے اعتماد سے جواب دیا:“میں نے ایک مرغابی کو گولی ماری ہے، جو تمہارے کھیت میں گر گئی ہے۔ اُسے لینے آیا ہوں۔” کسان نے سنجیدگی سے کہا:“یہ زمین میری ہے، اور تمہیں یہاں داخل ہونے کی اجازت نہیں۔” وکیل تپ کر بولا:“میں امریکہ کے نامور وکلاء میں شمار ہوتا ہوں۔ اگر تم نے مجھے مرغابی نہ لینے دی تو میں تم پر مقدمہ کر دوں گا، اور پھر تمہاری یہ ساری زمین میری ہو جائے گی!” بوڑھا…

Read more

برصغیر کی تاریخ میں برطانوی راج کا سب سے پیچیدہ اور گہرا پہلو صرف فوجی قبضہ یا سیاسی تسلط نہیں تھا بلکہ وہ سماجی انجینئرنگ تھی جس کے ذریعے انگریزوں نے ایک ایسا مقامی طاقتور طبقہ پیدا کیا جو ان کی حکومت کا محافظ، منتظم اور وارث بن گیا۔ پنجاب اس منصوبے کا سب سے اہم مرکز تھا۔ یہاں انگریزوں نے زمین، نہریں، فوج، مقامی سرداری، برادری، مذہب اور انتظامیہ کو آپس میں جوڑ کر ایک ایسا نظام قائم کیا جس کے اثرات آج بھی پاکستان کی سیاست، معیشت اور سماجی ڈھانچے میں موجود ہیں۔ اگر پنجاب کی جدید تاریخ کا گہرا مطالعہ کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ برطانوی حکومت نے صرف قبضہ نہیں کیا بلکہ اس نے ایک نیا اشرافیہ طبقہ تخلیق کیا جس کی بنیاد وفاداری، زمین اور طاقت پر رکھی گئی۔ 1849ء میں جب سکھ سلطنت ختم ہوئی اور پنجاب برطانوی حکومت کے قبضے میں…

Read more

ترکستان کے ایک سوداگر کی درھم کی ایک تھیلی راستہ میں کہیں گرپڑی۔ اس نے گاؤں میں منادی کردی کہ تھیلی جس کوملی ہو واپس کردے۔ تھیلی میں جس قدر درھم ہوں اس کے نصف انعام کا وہ حقدار ہوگا۔ اس تھیلی میں دوسودرہم تھے۔ یہ تھیلی کسی جہاز کے ملاّح کو ملی تھی منادی سن کر وہ اس آدمی کے پاس گیا اورتمام واقعہ بیان کر کے کہا۔ ’’اگراس تھیلی کا مالک نصف یعنی سودرھم حسب وعدہ دے تو اس کے بدلہ میں تھیلی واپس کرنے پر تیار ہوں۔ شرط یہ ہے کہ مجھے انعام پہلے مل جائے‘‘۔جب تھیلی کی خبرسوداگر کو ملی۔ جو بڑا لالچی تھا۔ تو اس نے خیال کیا کہ کسی طرح سے میں انعام کی رقم سے بھی بچوں اور میری پوری رقم مجھے مل جائے۔ اس لئے اس نے ایک ترکیب کی اورملاّح سے کہا کہ اس تھیلی میں ایک ہیرا تھا اگر وہ…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے، ایک بہت بڑا اور بے حد امیر تاجر ایک عظیم شہر میں رہتا تھا۔ اس کے محل سونے چاندی سے جگمگاتے تھے، نوکر چاکر ہر وقت اس کے حکم کے منتظر رہتے تھے، اور دنیا کی ہر آسائش اس کے قدموں میں پڑی تھی۔لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ اتنی دولت کے باوجود اس کے دل میں عجیب سی بے چینی رہتی تھی۔ راتوں کو وہ نرم بستر پر کروٹیں بدلتا رہتا، مگر سکون کی ایک لمحے کی نیند بھی اسے نصیب نہ ہوتی۔ اس کے چہرے سے خوشی غائب ہو چکی تھی۔ اس نے بڑے بڑے حکیموں، ڈاکٹروں اور عاملوں سے علاج کروایا، مگر دل کا بوجھ کم نہ ہوا۔ایک دن ایک مسافر نے اسے بتایا: “جنگل کے کنارے ایک درویش رہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ وہ ٹوٹے دلوں کو سکون دے دیتے ہیں۔” یہ سن کر تاجر فوراً اپنے خزانچی سے سونے…

Read more

ایک حسین وادی میں بہتی ندی کے کنارے ایک بہت ہی بڑا، گھنا اور شاندار چنار کا درخت کھڑا تھا۔ اس کی اونچی اونچی شاخیں آسمان سے باتیں کرتی تھیں، اور دور دور تک اس کا سایہ پھیلا ہوا تھا۔ جنگل کے پرندے اس پر گھونسلے بناتے، مسافر اس کے نیچے بیٹھ کر آرام کرتے، اور ہر آنے والا اس کی خوبصورتی کی تعریف کیے بغیر نہ رہتا۔ وقت گزرنے کے ساتھ چنار کے دل میں غرور آ گیا۔ وہ خود کو پورے جنگل کا بادشاہ سمجھنے لگا۔ اسی چنار کے نیچے ایک باریک سا بانس کا پودا اگا ہوا تھا۔ وہ نہ زیادہ اونچا تھا اور نہ ہی طاقتور، مگر ہمیشہ خاموش اور نرم مزاج رہتا تھا۔ جب بھی تیز ہوا چلتی، بانس جھک جاتا۔ کبھی دائیں، کبھی بائیں… جیسے ہوا کے ساتھ دوستی کر رہا ہو۔ چنار یہ منظر دیکھ کر زور زور سے ہنستا اور طنز سے…

Read more

ایک پُرسکون شام تھی۔ندی کا پانی آہستہ آہستہ بہہ رہا تھا، پرندے اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹ رہے تھے، اور ندی کنارے ایک صوفی بزرگ خاموشی سے اللہ کے ذکر میں مشغول بیٹھے تھے۔اچانک ان کی نظر پانی پر پڑی…انہوں نے دیکھا کہ ایک چھوٹا سا بچھو ندی کے تیز بہاؤ میں پھنس گیا ہے۔وہ بار بار پانی سے نکلنے کی کوشش کرتا، مگر لہریں اسے واپس بہا لے جاتیں۔بچھو بے بسی سے ہاتھ پاؤں مار رہا تھا۔صوفی بزرگ کا دل رحم سے بھر گیا۔انہوں نے فوراً اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تاکہ اس ننھی جان کو بچا سکیں۔لیکن جیسے ہی انہوں نے بچھو کو ہاتھ میں لیا…بچھو نے اپنی فطرت کے مطابق زور سے ڈنک مار دیا!درد کی تیز لہر بزرگ کے جسم میں دوڑ گئی۔ان کا ہاتھ کانپ گیا اور بچھو دوبارہ پانی میں جا گرا۔قریب کھڑے لوگ بول اٹھے:“چھوڑ دیں اسے!یہ ناشکرا جانور آپ ہی کو تکلیف دے…

Read more

ایک گاؤں میں ایک سیاح کی ملاقات ساحل پر ایک ماہی گیر سے ہوئی۔ماہی گیر دن بھر کا شکار لے کر گھر جا رہا تھا کہ راستے میں سیاح نے اسے روک کر بات شروع کر دی۔ سیاح: تمہیں اس طرح کی مچھلیاں پکڑنے میں کتنا وقت لگا؟ماہی گیر: زیادہ وقت نہیں لگا۔ سیاح: تو پھر تم زیادہ دیر رک کر اور مچھلیاں کیوں نہیں پکڑ لیتے؟ماہی گیر: یہ تھوڑا سا شکار میری اور میرے گھر والوں کی ضرورت کے لیے کافی ہے۔ سیاح: تم باقی وقت میں کیا کرتے ہو؟ماہی گیر: میں دیر تک سوتا ہوں، اپنے بچوں کے ساتھ کھیلتا ہوں، اور اپنے گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارتا ہوں۔ سیاح نے فوراً بات کاٹی اور بولا:“میرے پاس MBA کی ڈگری ہے، میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں۔ تمہیں ہر روز زیادہ وقت تک مچھلیاں پکڑنی چاہئیں۔ پھر اضافی مچھلیاں بیچ کر ایک بڑی کشتی خرید…

Read more

ایک سرسبز جنگل کے بیچوں بیچ ایک بہت بڑا اور خوبصورت تالاب تھا۔ اس کا پانی شیشے کی طرح صاف تھا، کناروں پر نرم گھاس اگتی تھی اور رنگ برنگے پھولوں کی خوشبو ہر وقت فضا میں پھیلی رہتی تھی۔ اسی تالاب میں تین مچھلیاں رہتی تھیں۔ تینوں گہری سہیلیاں تھیں، مگر ان کی سوچ ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھی۔ پہلی مچھلی نہایت عقلمند اور دور اندیش تھی۔ وہ ہمیشہ آنے والے خطرے کو پہلے ہی بھانپ لیتی اور ہر مشکل کا حل سوچ کر رکھتی تھی۔ دوسری مچھلی بہت حاضر دماغ تھی۔ وہ کہتی:“پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ جب مصیبت آئے گی تب اپنی عقل سے راستہ نکال لیں گے۔” تیسری مچھلی انتہائی سست اور لاپرواہ تھی۔ وہ ہر وقت یہی کہتی:“جو قسمت میں لکھا ہے، وہی ہوگا۔ زیادہ سوچنے سے کچھ نہیں بدلتا۔” ایک شام سورج غروب ہو رہا تھا اور تالاب سنہری روشنی میں نہا…

Read more

کٹ تو گئی اپنی حیات قدیر۔۔۔ لیکن بے ثمر کوفیوں میں گزری محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر اگر لکھنے بیٹھوں تو شاید الفاظ کم پڑ جائیں۔ بس اتنا کہوں گا زندہ قومیں ہمیشہ اپنے محسنوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتی ہیں لیکن جو سلوک ہم نے اپنے محسنوں کے ساتھ روا رکھا ہے شاید ہی اب کوئی ڈاکٹر عبدالقدیر بنا چاہئے گا۔ ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم۔۔۔ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان۔!  کٹ تو گئی اپنی حیات قدیر۔۔۔لیکن بے ثمر کوفیوں میں گزری۔۔              28 مئی یوم تکبیر۔۔۔!

ایک رات کو سلطان محمود بھیس بدل کر نکلا اور چوروں کی جماعت کے ساتھ ہوگیا۔ جب کچھ دیر ان کے ساتھ رہا تو انہوں نے پوچھا کہ اے رفیق تو کون ہے؟ بادشاہ نے جواب دیا کہ میں بھی تمہیں میں سے ایک چور ہوں۔ اس پر ایک چور نے کہا بھائیو! آؤ ذرا اپنا اپنا ہنر تو بتاؤ۔ ہر شخص بیان کرے کہ وہ کیا کیا کمال رکھتا ہے۔ ایک نے جواب دیا کہ میرے دونوں کانوں میں عجب کمال ہے کہ کتّا جو بھونکتا ہے تو میں سمجھ جاتا ہوں کہ لوگ فلاں شخص کی امارت کا کیا چرچا کرتے ہیں۔ دوسرے نے کہا میری آنکھوں میں یہ کمال ہے کہ جس کسی کو رات کے اندھیرے میں دیکھ لوں تو دن کے وقت اس کو پہچان لیتا ہوں۔ تیسرے نے کہا میرے بازو میں یہ قوت ہے کہ صرف ہاتھ کی قوت سے کومل لگاتاہوں۔ چوتھے…

Read more

ایک شخص نے چڑیا پکڑنے کےلئے جال بچھایا.. اتفاق سےایک چڑیا اس میں پھنس گئی اور شکاری نے اسے پکڑ لیا..چڑیا نے اس سے کہا.. ” اے انسان ! تم نے کئی ھرن ‘ بکرے اور مرغ وغیرہ کھاۓ ھیں ان چیزوں کے مقابلے میں میری کیا حقیقت ھے.. ذرا سا گوشت میرے جسم میں ھے اس سے تمہارا کیا بنے گا..؟ تمہارا تو پیٹ بھی نہیں بھرے گا.. لیکن اگر تم مجھے آزاد کر دو تو میں تمہیں بڑی ھی کام میں آنے والی نصیحتیں کرونگی جن پر عمل کرنا تمہارے لئے بہت مفید ھوگا..ان میں سے ایک نصیحت تو میں ابھی ھی کرونگی.. جبکہ دوسری اس وقت کرونگی جب تم مجھے چھوڑ دو گے اور میں دیوار پر جا بیٹھوں گی.. اس کے بعد تیسری اور آخری نصیحت اس وقت کرونگی جب دیوار سے اڑ کر سامنے درخت کی شاخ پر جا بیٹھونگی.. “اس شخص کے دل میں…

Read more

“تم لوگ ہر سال لینے آ جاتے ہو… کبھی خود بھی قربانی کر لیا کرو۔” محلے میں ہر سال اُس کے گھر سب سے بڑا جانور آتا تھا۔ لمبے سینگ…قیمتی نسل…گلے میں خوبصورت رنگین پٹہ…اور دروازے کے باہر تصویریں بنانے والوں کا ہجوم۔ عید سے کئی دن پہلے ہی لوگ کہنا شروع کر دیتے: “اس بار بھی اُن کی قربانی سب سے نمایاں ہوگی…” اور شاید یہی بات اُسے سب سے زیادہ پسند تھی۔ وہ جانور سے زیادہ اُس تعریف کا انتظار کرتا تھاجو قربانی کے بعد لوگوں کی زبانوں پر آتی تھی۔ عید کی صبح اُس کے گھر گوشت لینے والوں کی لمبی قطار لگ گئی۔ کوئی سفید شاپر لیے کھڑا تھا…کوئی پرانا برتن…اور کوئی اپنے بچوں کو ساتھ لایا تھا کہ شاید کچھ زیادہ گوشت مل جائے۔ اُسی بھیڑ میں ایک دبلا پتلا سا لڑکا بھی خاموش کھڑا تھا۔ عمر کوئی بارہ تیرہ سال…پاؤں میں گھسے ہوئے چپل…اور…

Read more

پرانے زمانے کی بات ہے۔ بخارا کے ایک مشہور شہر میں ایک نہایت دانا اور عقل مند قاضی رہتا تھا۔ لوگ اسے “قاضی فہیم” کے نام سے جانتے تھے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ بغیر مارپیٹ اور شور شرابے کے بڑے سے بڑا مسئلہ حل کر لیتا تھا۔ دور دور سے لوگ اپنے جھگڑے لے کر اس کے پاس آتے اور انصاف پا کر خوشی خوشی واپس جاتے۔ اسی شہر میں ایک بہت بڑا بازار تھا جہاں دور دراز کے تاجر اپنی قیمتی چیزیں فروخت کرنے آتے تھے۔ بازار میں ہر وقت لوگوں کا ہجوم رہتا، مگر کچھ مہینوں سے ایک عجیب مسئلہ پیدا ہوگیا تھا۔ تاجروں کی تھیلیاں، زیورات اور قیمتی سامان غائب ہونے لگا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ کسی نے کبھی چور کو دیکھا ہی نہیں تھا۔ لوگوں میں خوف پھیل گیا۔ ہر شخص دوسرے پر شک کرنے لگا۔ بازار کی…

Read more

80/612
NZ's Corner