ماہی گیر اور سیاح ۔۔۔۔۔۔۔۔ایک دلچسپ کہانی

ماہی گیر اور سیاح ۔۔۔۔۔۔۔۔ایک دلچسپ کہانی

ایک گاؤں میں ایک سیاح کی ملاقات ساحل پر ایک ماہی گیر سے ہوئی۔
ماہی گیر دن بھر کا شکار لے کر گھر جا رہا تھا کہ راستے میں سیاح نے اسے روک کر بات شروع کر دی۔

سیاح: تمہیں اس طرح کی مچھلیاں پکڑنے میں کتنا وقت لگا؟
ماہی گیر: زیادہ وقت نہیں لگا۔

سیاح: تو پھر تم زیادہ دیر رک کر اور مچھلیاں کیوں نہیں پکڑ لیتے؟
ماہی گیر: یہ تھوڑا سا شکار میری اور میرے گھر والوں کی ضرورت کے لیے کافی ہے۔

سیاح: تم باقی وقت میں کیا کرتے ہو؟
ماہی گیر: میں دیر تک سوتا ہوں، اپنے بچوں کے ساتھ کھیلتا ہوں، اور اپنے گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارتا ہوں۔

سیاح نے فوراً بات کاٹی اور بولا:
“میرے پاس MBA کی ڈگری ہے، میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں۔ تمہیں ہر روز زیادہ وقت تک مچھلیاں پکڑنی چاہئیں۔ پھر اضافی مچھلیاں بیچ کر ایک بڑی کشتی خرید لینا۔”

ماہی گیر: اس کے بعد؟

سیاح: پھر تم اور زیادہ مچھلیاں پکڑ سکو گے، مزید کما سکو گے، اور دوسری، تیسری کشتیاں خرید لوگے۔ ایک دن تمہارے پاس کشتیوں کا پورا بیڑا ہوگا۔ پھر تم اپنی مچھلیاں سیدھا بڑی کمپنیوں کو بیچو گے، شاید اپنا پلانٹ بھی کھول لو۔ اس کے بعد تم شہر جا کر اپنا بڑا کاروبار سنبھالو گے۔

ماہی گیر: اس میں کتنا وقت لگے گا؟
سیاح: بیس… شاید پچیس سال۔

ماہی گیر: اور اس کے بعد؟

سیاح: پھر تم لاکھوں کما سکو گے، ریٹائر ہو جاؤ گے، ساحل کے قریب کسی چھوٹے سے گاؤں میں رہو گے، دیر تک سوؤ گے، اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزارو گے، تھوڑی بہت مچھلیاں پکڑو گے اور سکون کی زندگی گزارو گے۔

ماہی گیر مسکرایا اور بولا:

“جناب! میں تو یہ سب ابھی بھی کر رہا ہوں…
تو پھر اپنی زندگی کے پچیس سال صرف اسی سکون کو پانے کے لیے کیوں ضائع کروں؟”

ہم اکثر مستقبل کی دوڑ میں آج کی خوشیاں کھو دیتے ہیں۔
اصل خوشی زیادہ حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ جو موجود ہے اس پر شکر اور اطمینان میں ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner